میری زندگی کے بیتےبیس سال

میری زندگی کے بیتےبیس سال

میری زندگی کے بیتےبیس سال

میری زندگی کے بیتےبیس سال
میری زندگی کے بیتےبیس سال

میری زندگی کے بیتےبیس سال

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی @ﷺکاہنہ نولاہور پاکستان

یہ کوئی بیس سال پرانی بات ہے کہ مجھے لوگوں کی آراء اور ان کی پسند و ناپسند کا بہت خیال تھا،بہت ساری چیزیں اس لئے ترک کردی تھیں کہ لوگ کیا کہیں گے؟،گناہوں بچنا اللہ کی توفیق سے ممکن ہے،اگر گناہ ہوجائیں تو اللہ نے اس کا حل سچی توبہ کا نسخہ دیا ہے،بسا اواقات انسانی دل پر انوار الیہہ کا اس قدر ہجوم ہوتا ہے کہ خوامخواہ اپنے کئے اعمال پر شرمندگی ہونے لگتی ہے اور تنہائی میں آنکھیں چھلک پڑتی ہیں۔1992 میں فراغت تعلیم کے بعد امامت درس تدریس مساجد و مدارس کی خدمات میں منہمک ہوگئے یہ ذمہ داریاں اس قدر نازک ہوتی ہیں کہ انسان کو حرام تو رہیں ایک طرف کچھ مباح و ناجائز چیزیں سے بھی انسان دست بردار ہوجاتا ہے،جن باتوں عام معاشرہ بخوشی کرتا ہے ہماری لائن کے لوگ اس کے قریب بھی نہیں جاسکتے اس میں اللہ کی رضا اور دین کی اتباع کا عمل دخل کم لوگوں کی پسند و ناپسند کادھیان رکھنا پڑتا ہے۔
انسانی فطرت کہیں نہ کہیں سے راہ نکال لیتی ہے،جن چیزوں کو عوام کی نگاہ میں بطور پرہیزگاری ترک کردیا جاتاہے تنہائی میں موقع ملنے پر دل کی بھڑانس نکال لی جاتی ہے ۔اس روش میں تقوی و طہارت سے زیادہ مقام ومنصب کو دخل ہوتا ہےکیونکہ جن لوگوں پر نیکی و تقوی کی دھاک بٹھانی ہوتی ہے،ان کے نزدیک یہ باتیں مناسب نہیں ہوتیں اس لئے ان سے پرہیز لازم ہوتا ہے۔جو چیزیں عوام کی طلب و ڈیمانڈ ہوتی ہیںچاہے ان کا دین سے دور بھی تعلق نہ ہو وہ فرائض منصبی میں شامل ہوتی ہیںکیونکہ متعلقین اورمعاونین کی یہ خواہش و ڈیمانڈ ہوتی ہے۔
ایک مدرس ۔خطیب امام وغیرہ کی زندگی کس قدر کانٹوں کا سیج ہوتی ہے اس کا اندازہ کوئی حساس انسان اس کا بہتر تجزیہ کرسکتا ہےیہ لوگ قلیل تنخواہ محدود وسائل میں کثیر الوسائل اداروں سے کہیں بڑھ کے کام کر جاتے ہیں،یہ ان کی تربیت اور فنا فی اللہ و فنا فی الرسول کی جیتی جاگتی مثال ہے۔
کچھ باتیں جنہیں دین ومذہب کی علامت سمجھا جاتا ہے یعنی شعائر مسلک کہا جاسکتا ہے اگر کوئی صاحب علم کتنا بھی جید عالم و محقق ہو مسالک کے درمیان جگہ نہیں بنا سکتا ،اسے جگہ و مقام بنانے کے لئے کسی نہ کسی مسلک و مذہب کی بنائی ہوئی قبا زیب تن کرنی پڑے گی۔جوعالم ان خود تراشیدہ شعایر و علامات کی پیروی نہیں کرے گا وہ عالم کہلانے کا حق نہیںہوگامثلاََدیوبندی/بریلوی۔اہل حدیث۔تبلیغی جماعت۔دعوت اسلامی /اہل تشیع وغیرہ یہی مسالک و مذاہب ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں،کتنا بھی بڑا عالم فاضل ہو ان مسالک و مذاہب کی قبا زیب تن کئے بغیر مقام امامتٍ کا مستحق قرار نہیں دیا جاسکتا۔
ان کی کھینچی ہوئی آڑی ترچھی لیکروں کی پیروی اور ان کی مکمل دلائل کے ساتھ ترویج دین کی خدمت کہلائے گی۔دین اسلام کو محدود ذہنوںنے محدود سمجھ کر رحمت خداوندی کو بھی محدود بنا دیا ہے۔
میری زندگی کے جوماہ وایام امامت وخطابت میں گزرےو قہقری زہداور تصنع پرہیزگاری کےتھے جن میں خدا کا کم لوگ کہا کہیں گے کا زیادہ خوف تھا،مساجد مدارس کی تعمیر و ترقی میں حصہ بقدر جثہ لیا،حیرت انگیز بات یہ ہے ان دس سالوں میں جس بارہ میں زیادہ خوف”لوگ کیا کہیں گے؟”کا رہا۔دس سال بعد کچھ افتاد پڑی جسے مذہبی حلقوں کی زبان میں سلسلہ حق کی نشانی،اسلاف کی سنت کہیں گے۔قانونی معاملات سے سابقہ پڑا۔مجھے اس وقت دو پریشانیوں کا سامنا تھ ایک قانونی چارہ جوئی کا دوسرا “لوگ کیا کہیں گے”میں ے جتنی جدسو جہد لوگوں کو مطمئن کرنے کے لئے کی ہے،خدا لگتی بات تو یہ کہ اس میں سے دس فیصد حقیقی خدا خوفی کی ہوتی تو کوئی چھوٹی موٹی ولایت کا دعوی دار ہوچکاہوتامیں نے جہاں بھی اس خوف سے دامن بچایا کہ “لوگ کیا کہیںگے اسی قدر لوگوں کے سامنے مجھے صفائیاں پیش کرنی پڑیں”
مجھے ایک دوست ملا۔ یہ بچپن میں میرے ساتھ شریک تعلیم رہا تھاکہنے لگا کیوں پریشان بیٹھے ہو۔میں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا کہ جو کچھ میرے ساتھ ہوچکا ہے میں لوگوں سے کہا کہوں گا؟کس کس کو بتلائونگا کہ میرا ان کیسوں اور مقدمات سے کوئی تعلق نہیںہے؟ وغیرہ۔اس نے میری بات غور سے سنی اور کہنے لگا مین کہتا ہوں تمہارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ،ایسے بہت سارے لوگ بھی اس کی گواہی دیں گے۔جب میں کچھ مطمئن ہوا تو چہرہ مہرہ دیکھ کر انداز ہ کرلیا کہ مین اس کیفیت سے باہر آچکا ہوں،تو پہلو بدلا ۔مجھ سے سوال کیا ،مجھے ایک بات بتائو ۔کتنے لوگ ایسے ہیں جوتمہیں نیک خیال کرتے ہیں اور تمہارے نیکی کی گواہی دے سکتے ہیں؟یہ سوال غیر متوقع اور چونکا دینے والا تھا۔قطعی طورپر پر میں اس کے لئے تیار نہ تھا،میں گہری سوچ میں ڈوب گیا کہ ان لوگوں کی نشان دہی کروں جو میری نیکی کی گواہی دے سکیں،مجھے حیرت ہوئی کہ میرا جسم پیسنے سے شرابور ہوگیا،ایسا لگا کہ مجھے صحرا میں پانی کی دوبوندیں تلاش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔میری قوت فیصلہ جواب دے گئی کہ کیونکہ واہموں کا جو ہجوم میرے سرپے سوار اور سوچوں پر مسطولی تھا وہ چھٹ چکا تھا ۔مجھے اس ہجوم افکار میں ایک بھی چہرہ ایسا دکھائی نہ دیا جسے نامزد کرسکوں کہ فلان شخص ایسا ہے جسے میری نیک نامی پر پورا بھروسہ ہے۔بس ایک تازیانہ پڑا اور ہوش ٹھکانے آگئے،جو سوالیہ پرچہ اس نے مجھے تھمایا تھا مجھے بغیر لکھے واپس کرنا پرا ،مجھے زمین گھومتی محسوس ہوئی ،پھر مسکراتے ہوئے گویا ہوئے جن لوگوں کے لئے سدا زندگی ہلکان ہوتے ہیں کہ “لوگ کیا کہیں گے”کے چکر میں اپنی زندگی کو تباہ کرکے رکھ دیتے ہیں۔بھائی اگر تجھے کوئی نیک سمجھتا یا تجھ میں کوئی بھلائی دیکھتا تو تیری مدد کے لئے اپنا کردار ضرور ادا کرتا ،جو چیز تیرے ذہن میں خناس کی طرح جم کے رہ گئی تھی اس کی صفائی ضروری ہے کہ “لوگ کیا کہیں گے”۔کہنے لگے لوگوں کو کیا پڑی کہ تجھے نیک یا بد کہیں ان کے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ تجھے نیک و بد ثابت کریں۔تم جو ذہن بنا لیتے ہواسی دائرہ میں لوگوں کی باتیں بھی تمہارے کان سنتے ہیں اسی قسم کی محفل میں جاتے ہو ایسی ای باتیں سنتے ہو۔اس لئے تم سمجھتے ہو یہ لوگ تمہیں نیک سمجھ رہے ہیں ،ایسا ہرگز نہیں ہے۔
اس کے بعد میرے ذہن سے ایک زنگ سا اُتر گیا۔آج مجھے اس کی پروا نہیں ہوتی کہ لوگ کہا کہیں گے؟التبہ کام کرنے سے پہلے سوچتا ضرور ہوں کہ اس میں اللہ کی رضا دین و دنیا میں سے کوئی ایک بھلائی،میری ذات یا قوم کے لئے کچھ بہتری ہو اپنے کام سے پورا انصاف کرتا ہوں۔بہت سے لوگ اعتراض کرتے ہیں تنقید کرتے ہیں،کیڑے نکالتے ہیں ،یہی بات مجھے اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ شرارتی قسم کے لوگ اگر واویلا کررہے ہیں تو اس کام میں ضرورایسی بات ہے جس سے انہیں تکلیف پہنچ رہی ہے۔میں اپنے کام خود کرنے کا عادی ہوں ۔اگر کسی کے ذمہ کوئی کام لگاتا ہوں،اوروہ نہیں کرتا تو مجھے غصہ نہیں آتا کیونکہ جب میں اپنے کام کے لئے وقت نہیں دے سکا تو دوسرا کیوں مجھے وقت دےگا؟
ایک دو سالوں سے سرکاری کاموں کے سلسلہ میں مجھے سرکاری دفاتر میں جانا پڑتا ہے وہاں مفت کام کرنا کرانا اپنے راستے میں کانٹے بکھیرنے والی بات ہے،ایک آدھ کام کرالوگے پھر ایسی رکاوٹیں حائل کردی جائیں گے کہ اپنے کام کے بارہ میں تم خود پریشان ہوجائوگے۔اس لئے سرکاری اہلکاروں سے بات چیت کرکے مناسب خرچ میں بہترین کام ہوجاتا ہے،قانونی تحفظ تہارے کاغذات کرتے ہیں ان کی محنت کا پھل مٹھائی کی صورت میں ان کے پاس پہنچ جاتا ہے یہ سلسلہ یوں ہی چلارہا ہے اور چلتا رہے گا۔عمومی طورپر جب مجھے قانونی پیچدگی کا حوالہ دیا جاتا ہے تو ان سطور پے اوپر سراکاری ضمانت سے جارہ شدہ قانونی کرنسی نوٹ رکھ دیتا ہوں ،اس نوٹ کے نیچے وہ قانون بخوشی دب جاتا ہے۔
اب مجھے جینے کا ڈھنگ آگیا ہے کہ نیکی ثابت کرنے کے بجائے عملی اقدام کرو ۔لوگ اپنی ضرورت کے مطابق نیک و بد کا لقب خود دے ڈالیں گے۔اب مجھے اس کی پروا نہیں ہوتی کہ لوگ کیا کہیں گے؟اب مجھے یہ فکر رہتی ہے کہ اپنے ذمہ کا کام کیا ہے کہ نہیں؟۔لوگوں سے کئے گئے وعدوں پر پورا اترتا ہوں کہ نہیں ۔نیکی اور بدی کا خود ساکتہ کوف دل سے کوسوں دور بھاگ چکا ہے۔جب سے میں “لوگ کیا کہیں گے”سے آزاد ہوا ہوں زندگی جینے لگا ہوں۔بہت سے ایسے کام ہیں جنہیں کرتے ہوئے ہمت جواب دے جاتی ہے،خوف خدا مجھے لرزہ براندام کردیتا ہے۔اس لئے میں باوجود وسائل و قدرت ہونے کے ان کاموں سے دست بردار ہوجاتا ہوں۔کچھ کام میرے میدان عمل میں آتے ہیں وہاں اپنی مرضی سے لوگوں کے کام کرتا ہوں تو اس نیکی و لذت کا احساس کئی دن تک مسرور رکھتا ہے۔

 

 

 

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.