میرا داغستان

میرا داغستان

میرا داغستان
میرا داغستان
Mera Dagistan Rasool Hamza Thof ماں بولی کی اہمیت کوئی رسول حمزہ توف سے پوچھے!!! داغستان کے ملک الشعراء رسول حمزہ توف ”میرا داغستان“ میں لکھتے ہیں کہ میری مادری زبان ”آوار“ ہے اگرچہ میں روسی میں شاعری کرتا ہوں اور ہمارے ہاں ایک گالی ایسی ہے جس پر قتل ہو جاتے ہیں ”کہ جا تو اپنی مادری زبان بھول جائے“ اور یاد رہے بقول رسول صرف ستر ہزار افراد آوار زبان بولتے ہیں۔ رسول حمزہ توف ایک مرتبہ پیرس کے کسی ادبی میلے میں شریک ہوئے اور ان کی آمد کی خبر پا کر ایک مصور اُن سے ملنے آیا اور کہنے لگا کہ میں بھی داغستان کا ہوں، میری مادری زبان آوار ہے اور اب ایک مدت سے پیرس میں رہائش رکھتا ہوں۔ ایک فرانسیسی خاتون سے شادی کر کے یہیں کا ہو چکا ہوں۔ میں داغستان کے فلاں گاؤں کا رہنے والا ہوں لیکن شاید تیس برس ہو گئے میں یہاں فرانس میں ہوں۔ جانے میری ماں زندہ ہے یا مر چکی ہے۔۔۔ رسول حمزہ توف نے داغستان واپسی پر اس کی ماں کو تلاش کر لیا اور اس بڑھیا کو علم ہی نہ تھا کہ اس کا بیٹا ابھی تک زندہ اور فرانس میں خوش و خرم ہے تو اس نے رو رو کر برا حال کر لیا، رسول سے پوچھتی رہی کہ مجھے بتاؤ کہ اس کے بالوں کی رنگت کیسی ہے۔ اس کے رخسار پر جو تِل تھا کیا اب بھی ہے، اس کے بچے کتنے ہیں اور پھر یکدم اس بڑھیا نے پوچھا ’’رسول! تم نے میرے بیٹے کے ساتھ کتنا وقت گزارا؟‘‘ ”ہم صبح سے شام تک بیٹھے کھاتے پیتے رہے اور داغستان کی باتیں کرتے رہے، رسول نے جواب دیا۔“ ’’اور کیا تم یہ تمام عرصہ آوار زبان میں باتیں کرتے رہے؟‘‘ ’’نہیں‘‘ رسول نے کہا ’’ہم فرانسیسی میں باتیں کرتے رہے۔ وہ آوار زبان بھول چکا ہے۔‘‘ داغستانی بڑھیا نے اپنے سر پر بندھا رومال کھول کر اپنے چہرے پر کھینچ کر اسے روپوش کر لیا کہ وہاں روایت ہے کہ جب کسی ماں کو اپنے بیٹے کی موت کی خبر ملتی ہے تو وہ اپنا چہرہ ڈھانپ لیتی ہے۔ ”رسول! اگر وہ اپنی مادری زبان بھول چکا ہے تو میرے لیے وہ زندہ نہیں، مر چکا ہے!!!“ مستنصر حسین تارڑ کے ایک کالم سے
DOWNLOAD

Leave a Reply

Your email address will not be published.