مولانا محمد الیاس اور تحریک دعوت و تبلیغ ۔

مولانا محمد الیاس اور تحریک دعوت و تبلیغ ۔

مولانا محمد الیاس اور تحریک دعوت و تبلیغ ۔

مولانا محمد الیاس اور تحریک دعوت و تبلیغ ۔
مولانا محمد الیاس اور تحریک دعوت و تبلیغ ۔

مولانا محمد الیاس اور تحریک دعوت و تبلیغ ۔

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
مولانا محمد الیاس صاحب 1303ھ۔ میں کاندھلہ میں پیدا ہوئے اور قرآن مجید کی تعلیم کا آغاز وہیںحافظ منگتو کے پاس ہوا ،پھر حافظ قرآن اپنے والد ماجد مولوی محمد اسماعیل کے پاس بستی نظام الدین میں کیا، اس کے بعد فارسی اور عربی کی ابتدائی کتابیں اپنے والد کے پاس دہلی میں اور حکیم محمد ابراہیم سے کاندھلہ میں پڑھیں ۔ان کے بڑے بھائی مولوی محمد یحییٰ 1334 ہجری نے باپ سے عرض کی کہ الیاس کی تعلیم باقاعدہ نہیں ہو رہی ہے، میں ان کوگنگوہ لیے جاتا ہوں، چنانچہ مولوی محمد الیاس 1314 یا 1315 میں گنگا پہنچے ۔

گنگو اس زمانے میں علماء و صلحاء کا مرکز تھا، مولانا رشید احمد گنگوہی کی شخصیت کی وجہ سے رشد وہدایت کا چشمہ رواں تھا ،مولانا محمد الیاس گنگوا میں آٹھ نو سال رہے، مولانا محمد یحییٰ اپنے بھائی کی باحسن وجوہ تربیت فرماتے تھے۔ جو کتابیںوہ پڑھ لیتے تھے وہ دوسرے طلبہ کو پڑھاتے تھے، اس طرح استعداد اورقابلیت میں پختگی ہو جاتی تھی ،تربیت کا انداز یہ تھا کہ جب مولانا رشید احمد گنگوہی کے فیض یافتہ علماء گنگو ہ جاتے تو بعض اوقات مولانامحمدالیاس کے اسباق ختم ہو جاتے تھے اور ہدایت ہوتی تھی کہ ان علماء کی صحبت میں بیٹھواور تربیت حاصل کرو۔

مولانا رشید احمد گنگوہی بالعموم طلبہ کو بیعت نہیں کرتے تھے مگر مولانا محمد الیاس کے غیر معمولی حالات کی وجہ سے ان کو بیعت کرلیا ،درد سر اور سخت علالت کی وجہ سے درمیان میں تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو جاتا مگر پھر شروع ہو جاتا ،1326۔ہجری میں شیخ الہند مولانا محمود حسن کے درس میں شرکت کے لئے دیوبند پہنچے، ترمذی اور بخاری شریف کی سماعت کی،پھر کئی سال بعد اپنے بھائی مولوی محمد یحی کے حدیث کے دورے میں شریک ہوئے اور مولانا گنگوہی کے انتقال کے بعد مولانا خلیل احمد انبیٹھوی سے تکمیل سلوک کی اور اجازت و خلافت سے سرفراز ہوئے۔

شوال 1328ھ میں مولانا محمد الیاس مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور میں مدرس مقرر ہوئے اور1332ھ ہجری میں مولانامحمدالیاس حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔

جب ربیع الثانی 1436 میں ان کے بڑے بھائی مولانا محمد صاحب کا دہلی میں انتقال ہوگیا تو بعض مخلصین نے مولانا محمد الیاس اصرار کیا کہ بستی نظام الدین اولیاء دہلی میں قیام کریں ۔اور اپنے والد اور بھائی کے مدر سے اور مسجد کو آباد رکھیں، ان لوگوں نے مدرسے کی اعانت
و خدمت کا وعدہ بھی کیا اور مصارف کے لیے کچھ امداد بھی مقرر کر دی۔ مولانا محمد الیاس نے مولانا خلیل احمد کی اجازت اور مشورے سے وہاں رہنا قبول کرلیا ،اور ایک سال کی رخصت مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور سے لے لی،رخصت کی درخواست درج ذیل ہے۔

بحضرت مہتمم صاحب بعد سلام مسنون

آنکہ سانحہ انتقال اخوی جناب مولانا مولوی صاحب کی وجہ سے بندہ کو نظام الدین کے مدرسےکا انتظام اور خبر گیری کے واسطے وہاں کچھ قیام کی ضرورت ہےکیونکہ اکثر اہل شہر ومحبان بندہ و خیر خواہان متقاضی ہیں کہ بالفعل بندہ وہاں اقامت کرے اور جو منافع و اشاعت علوم حضرت والد صاحب اور برادر مرحوم کی سعی اور تعلیم سے ان کو ردہ اور گنوار لوگوں میں اور علوم سے نہایت ہی بعید۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.