موالید ثلاثہ کااستعمال

موالید ثلاثہ کااستعمال

موالید ثلاثہ کااستعمال

موالید ثلاثہ کااستعمال
موالید ثلاثہ کااستعمال

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موالید ثلاثہ کااستعمال
از
مجدد الطب

پیش کردہ: حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی :سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کاہنہ نو لاہور

اشیاء کی تین اقسام

قدرت نے اپنی فطرت کی تکمیل کےلئےدنیابھرکی اشیاءکوصرف تین اقسام میں تقسیم کر دیاہےتاکہ ان کے افعال واثرات کوسمجھنے میں آسانی اور سہولت رہے۔اول جمادات،دوئم نباتات،سوئم حیوانات جن کو موالید ِثلاثہ کانام دیا گیاہے۔جمادات کائنات وزندگی کی ابتدائی صورت ہے جس کی نشووارتقاء سے نباتات کی صورت پیداکی ہے۔ جمادات اور نباتات میں نمایاں فرق ہے۔جمادات میں مٹی،پتھرسے لے کرنمک اورگندھک اور ہرقسم کی دھاتیں اورپارہ تک پائے جاتے ہیں۔اگرچہ مٹی کاتیلاورپتھرکا ست (سلاجیت)بھی قدرت نے پیداکئے ہیں لیکن نباتات میں جوفولادوچونااورنمکیات وگندھک،تیل وشکر،پھلوں کے رس اورمیوہ جات کےروغن پیداکردئیے ہیں وہ جمادات میں بالکل نہیں پائے جاتے پھراسی نباتات کوحیوانات کی خوراک بنادیاہےلیکن حیوانات میں جو خوبیاں قدرت نے پیداکی ہیں وہ فطرت کی نشووارتقاء میں کمال درجہ رکھتی ہیں۔ حیوانات میں گوشت وچربی اوردودھ اورگھی کے خزانے اورندیاں بہا دی ہیں۔یہ چیزیں نباتات میں ناپیدہیں اور ان کے ساتھ ہی حیوانی چونا،حیوانی فولاد،گندھک،حیوانی نمکیات اورحیوانی رطوبات،دودھ اور شہدکے اپنے نشووارتقاءکادرجہ انتہائی کمال پہلو ہے۔

موالید ثلاثہ کااستعمال
جہاں تک موالید ِ ثلاثہ(جمادات،نباتات اورحیوانات)استعمال کرنے کاتعلق ہےاورمیں سےجمادات میں صرف کھانے کانمک بطورغذااستعمال ہوتاہے اورباقی تمام جمادات ان میں پتھروجواہرات ہوں یالوہایاسونااورسمیات وپارہ تمام ادویات میں استعمال ہوتے ہیں،نباتات میں اغذیہ بھی ہیں اورادویہ بھی شامل ہیں۔اغذیہ میں اناج وسبزیاں، پھل اور میوے،تیل وشکرسب ہمارے روزانہ کھانے پینے میں شامل ہیں۔ادویہ میں زہریلی اور غیرزہریلی جڑی بوٹیاں۔ان کے پھول وپھل اور ان کے پتے اورشاخیں سب شریک ہیں جن کےمتعلق پوری تمیزاورپہچان کتب میں لکھ دی گئی ہے۔اسی طرح حیوانات میں جن حیوانات کے جسم میں زہراورتعفن نہیں ہے ان کاگوشت چربی اوردودھ وگھی انسانی غذامیں استعمال ہوتاہے۔جہاں تک ان اشیاء کے جزوِبدن ہونے کاتعلق ہےجمادات توجزوِبدن ہوتے ہیں۔نباتات بہت کم جزوِبدن ہوتے ہیںاوراور زیادہ مقدارمیں جسم سے خارج ہوجاتے ہیں لیکن حیوانات جوقابلِ غذاہیں زیادہ تر جزوبدن ہوتے ہیںاور بہت کم ان کا فضلہ خارج ہوتاہے۔جولوگ گوشت وچربی بہت کم استعمال کرتے ہیں ان کی غذا میں حیوانی دودھ وگھی اورشہدہوتاہے۔اورجوگوشت وچربی کھاتے ہیں وہ پرندوں کے انڈے اورمچھلی بھی کھاتے ہیں اوریہ اشیاءبھی گوشت میں شامل ہیں۔دنیامیں غذاکے طورپرجوشے سب سے زیادہ کھائی جاتی ہے وہ کسی نہ کسی شکل میں گوشت ہوتاہے۔دوسرے درجہ پر دودھ ہے اور تیسرے درجہ میں پھل اورمیوہ جات ہیں اورآخری درجہ میں اناج ہیں۔گوشت اوردودھ کے زیادہ استعمال سے ثابت ہوتاہے کہ اجزاءئے لحمیہ جودونوں میں پائے جاتے ہیں انسانی غذاکاسب سے نہ صرف بڑاجزوہیں بلکہ ضروری جزاوربے حد مفید ہیں۔بچہ کی پرورش دوسالوں تک دودھ پرہوتی ہے اور پھرتمام عمردودھ یااس کے مختلف اجزاء مکھن وگھی،دہی وپنیروغیرہ کسی نہ کسی رنگ میں روزانہ کھاتاپیتارہتاہے۔جب یہ دونوں اشیاءمیسرنہ ہوں توغذاکاتوازن بگڑجاتاہےاورانسانی صحت بگڑنااورگرناشروع ہو جاتی ہے۔گوشت اوردودھ کے اجزاءکی ضرورت پھلوں اوراناجوں سے ہرگزپوری نہیں ہوتی۔ اگرچہ ان میں اجزاءئے لحمیہ کسی نہ کسی حدتک موجودہوتے ہیں لیکن نباتاتی اجزاءئے لحمیہ حیوانی اجزاءئے لحمیہ کا مقابلہ کسی صورت میں نہیں کرسکتے۔یہی فرق تیل وگھی اوربناسپتی گھی اوراصل گھی کاہوتاہے۔

ماڈرن سائنس کی غذاکے متعلق تحقیقات

فرنگی طب نے اغذیہ کاتجزیہ کرکے ثابت کیاہے کہ انسانی غذامیں کم ازکم ان چار اجزاءکاہوناضروری ہے۔ 1)۔اجزاءئے لحمیہProtein)) ۔ 2۔ اجزاءئے روغنیہ( Fates )۔3۔اجزاءئے شکریہ ونشاستہ (Carbohydrates)۔4۔ نمکیات(Salts) اوران کے ساتھ پانچویں شے پانی شریک ہے اوراس نے ثابت کیا ہےکہ گوشت وانڈہ اوردودھ میں کم وبیش یہ پانچوں اجزاء پائے جاتے ہیں۔اگرچہ یہ اجزاء اناجوں، سبزیوں،پھلوں اورمیوہ جات میں پائے جاتے ہیںلیکن ہر ایک میں تمام اجزاء شریک نہیں ہوتے اس لئے اس کو مکمل غذانہیں کہا جا سکتااور جب تک غذاکے مکمل اجزاء جسمِ انسان میں داخل نہ ہوں اس وقت تک نہ ہی مکمل اورصالح خون بنتاہے اور نہ ہی صحت قائم رہ سکتی ہے۔اس لئے صحت وطاقت اور زندگی کےلئےغذاکاصحیح توازن بے حد ضروری ہے۔ان تحقیقات سے یہ ثابت ہوتاہے کہ گوشت اور دودھ(Protein)اجزاءئے لحمیہ کوغذا میں اولین اہمیت حاصل ہے۔

اشیاء کے صرف تین اثرات

خداوندِکریم نے دنیا میں جس قدر اشیاء پیداکی ہیں ان کاشمارناممکن ہےلیکن حکماء نے ان کوموالیدثلاثہ جمادات ونباتات اور حیوانات تین اقسام میں تقسیم کردیاہے اوران کانمایاں فرق حکماء اورعقلمندوں کے سامنے ہے جس سے ان کےافعال واثرات اورخواص وفوائد حاصل کرنے میں نہ صرف سہولتیں ہوتی ہیں بلکہ ا ن کے استعمال میں آسانیاں پیداہوگئی ہیں۔

موالیدثلاثہ کی تقسیم کی طرح ہم نے بھی دنیاکی بے شماراشیاء کے فوائدوخواص کوجاننے کےلئے انہیں مفرداعضاء (انسجہ)کے تحت صرف تین اثرات میں تقسیم کردیاہے تاکہ ان کے افعال واثرات کوسمجھنے میں مشکلات پیدانہ ہوں اورانہی تین اثرات وافعال کوضرورت کے مطابق آئندہ پھیلایاجاسکتاہے اس طرح علاج میں کسی قسم کی غلطی کا امکان بہت کم ہوتاہے اورعوام بھی سہولت سے ہرشے کویقین سے استعمال کرکے مستفید ہوسکتے ہیں۔جاننا چاہئے کہ دنیا بھر میں موالید ثلاثہ کی شکل میں جس قدر اشیاء پائی جاتی ہیں وہ اپنے اندرصرف تین اثرات رکھتی ہیں۔ خالقِ مطلق نے چوتھا اثرپیداہی نہیں کیا۔البتہ انہی تین اثرات کوخلط ملط کرنے سے سینکڑوں اورہزاروں رنگ بنائے جاسکتے ہیں۔وہ تین اثرات کھار،ترشی اورنمک ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ نمک بھی کھاراورترشی کامرکب ہے۔

دنیا بھر کی کسی شے کواستعمال کریں اس کے اثرات وافعال میں کھاری پن ہوگایاترشی کی کیفیت یانمکین حالت پائی جائے گی۔جب ہم ان تینوں چیزوں کوبارباراستعمال کرتے اور تجربہ ومشاہدہ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں تو پتہ چلتاہےکہ کھارکے استعمال سے جسم میں رطوبت اورٹھنڈک بڑھ جاتی ہےاوران کااخراج بھی زیادہ ہوتاہے۔ترشی کے استعمال سے جسم میں خشکی اورجوش بڑھ جاتے ہیں اورریاح کے اثرات نمایاں ہوجاتے ہیں۔اسی طرح نمک کے استعمال سے جسم میں حرارت اور تیزی زیادہ ہوجاتی ہے اور جسم میں نرمی پیداہوجاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.