مفسر کے لئے طب سیکھنا کیوں ضروری ہے؟

مفسر کے لئے طب سیکھنا کیوں ضروری ہے؟

مفسر کے لئے طب سیکھنا کیوں ضروری ہے؟

ہماری کتاب:علماء اور طلباءکے لئے طب سیکھنا کیوں ضروری ہے۔۔۔سے اقتباس

مفسر کے لئے طب سیکھنا کیوں ضروری ہے؟
مفسر کے لئے طب سیکھنا کیوں ضروری ہے؟

مفسر کے لئے طب سیکھنا کیوں ضروری ہے؟

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی @ﷺکاہنہ نولاہور پاکستان

قران کریم کی تفہیم کے لئے تفاسیر کا مطالعہ کیا جاتا ہے اگر مفسر طب نہیں جانتا ہوگا تو وہ مضامین جو قران کریم میںطبی لحاظ سے بیان ہوئے ہیں تشنہ رہیں گے، لکھنے والا اگر فن طب سے نابلد ہوگا تو ان مقامات کو کس طرح بیان کرے گا؟ یا ان کی تفسیرکیسے کرے گا؟ جو انسانی صحت کے محافظ فن طب سے متعلق ہونگے۔
قران کریم کا اعجاز ہے کہ جو مصنف و مولف نے اس پر تفسیر لکھی اپنے ذوق کو ملحوظ خاطر رکھا اہل علم و فن کو جس جہت یا جس فن کے لحاظ سے کسی تفسیر کی ضرورت پیش آئی انہوں نے مطالعہ کے لئے منتخب فرمالیا مثلاََ فصاحت و بلاغت اور زبان کی چاشنی کی ضرورت محسوس ہوئی تو علامہ زمحشری کی الکشاف ۔بیضاوی کی معالم التنزیل کو منتخب کرلیا۔فلسفہ اور علوم غریبہ کی ضرورت محسوس ہوئی تو امام فخرالدین رازی کی تفسیر کبیر کو کھول لیا۔نحو کی باری آئی تو ابولاحیان اندلسی کی بحر محیط اٹھا لی۔تصوف و معارف کے متلاشی۔۔۔۔اور فقہ و مسائل دینیہ کی ضرورت محسوس ہوئی تو تفسیر مظہری کی ورق گردانی شروع کردی۔سائنس و جدید شبہات کی تحقیق کے لئے رشید رضا کی المینار اٹھا لی۔۔کتاب الاحکام کے لئے الجصاص ۔ روایات و اسناد کے لئے طبری اور قرطبی کا سہارا لیا وغیرہ اس بارہ میں راقم الحروف نے بھی جسارت کرتے ہوئے”قران کریم سے اخذ کردہ طبی نکات”نامی کتاب لکھی ہے تاکہ اس قافلہ حق کے ساتھ ادنی سی مناسبت پیدا ہوجائے۔
قران کریم میں پنہا طبی نکات و اشارات کو سمجھ کران کی تشریح و توضیح اور ان کی نکات کی غرض و غائت سمجھنا ایک مفسر کی اہم ذمہ داری ہے کیونکہ اس کے قلم سے نکلنے والے الفاظ اور اس کے ذہنی افکار کی عکاسی الفاظ کی صورت میں ڈھلتی ہے وہی قلم و قرطاس کی مدد سے صدیوں تک راہنمائی کرتے ہیں ایک مفسر کے قلم سے کھینچے گئے خطوط کی مدد سے قارئین و ناقدین علمیت و قابلیت اور قران فہمی کی صلاحیت کا اندازہ کرتا ہے ۔اپنی علمی تشنگی کا سامان سیرابی مہیا کرتاہے۔
قران کریم میں جمادات،حجریات نباتات،شہد ،دودھ،پھل اناج۔،حیوانات اکل و شرب ، زندگی اور موت کے مہیں مسائل بکثرت بیان ہوئے ہیں صحت و سقم پر پر مغز اور سیر حاصل بحث موجود ہے ان فوائد و نکات کو وہی مفسر بیان کرسکتا ہے جو فن طب سے واقفیت رکھتا ہو گا اس کے علاوہ پاکی و نظافت ۔وضو غسل کے مسائل،سفر میں انسانی طاقت کا تخمینہ۔ عورتوں کے مسائل حیض و نفاس عدت،مرض کی صورت میں عبادات میں تخفیف،پیدائش سے لیکر جوانی بوڑھا اور مرتے وقت بلکہ اس کے بعد کے مسائل خالص فن طب سے تعلق رکھتے ہیں ان کی غرض و غائت تک صرف ایک حاذق حکیم ہی پہنچ سکتاہے۔
حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد ماجدحضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے بارہ میں فرماتے ہیں ’’ہر فن میں ایک ایک آدمی کو تیار کردیا تھا،اس فن کے طالب کواسی کے سپرد فرمادیتے اور خود بیان حقائق و معارف اور ان کی تدوین و تحریر میں مصروف رہتے، حدیث کا مطالعہ اور درس فرماتے تھے جس چیز کا کشف ہوتاتھا اس کو لکھ لیتے تھے،بیمار بہت کم ہوتے تھے ، جد بزرگوار اور عم محترم(جو طبیب بھی تھے)لوگوں کا علاج کرتے تھے والد صاحب نے اس شغل کو موقوف کیا البتہ طب کی کتابوں کا مطالعہ کر تے تھے(تاریخ دعوت و عزیمت جلد۵)
مفسرین کرام نے اپنی کتب طب و صحت پر بقدر ضرورت لکھا ہے قدماء کے رشحات قلم آج بھی موجود ہیں اور عصر حاضر میں بھی یہ طرز عمل بدلا نہیں ہے۔ حضرت مولانا محمد شفیع رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اعتدال کے لفظی معنی ہیں برابر ہونا یہ لفظ عدل سے مشتق ہے اس کے معنی بھی برابر کرنے کے ہیں وصف اعتدال کی یہ اہمیت کہ اس کو انسانی شرف وفضیلت کا معیار قرار دیا گیا، ذرا تفصیل طلب ہے، اس کو پہلے ایک محسوس مثال سے دیکھئے، دنیا کے جتنے نئے اور پرانے طریقے جسمانی صحت وعلاج کے لئے جاری ہیں طب یونانی ، ویدک، ایلوپیتھک ، ہومیو پیتھک وغیرہ سب کے سب اس پر متفق ہیں کہ بدن انسانی کی صحت اعتدال مزاج سے ہے اور جہاں یہ اعتدال کسی جانب سے خلل پذیر ہو وہی بدن انسانی کا مرض ہے خصوصاً طب یونانی کا تو بنیادی اصول ہی مزاج کی پہچان پر موقوف ہے انسان کا بدن چار خلط خون ، بلغم ، سودا، صفرا، سے مرکب اور انہی چاروں اخلاط سے پیدا شدہ چار کیفیات انسان کے بدن میں ضروری ہیں گرمی ، ٹھنڈک ، خشکی اور تری ، جس وقت تک یہ چاروں کیفیات مزاج انسانی کے مناسب حدود کے اندار معتدل رہتی ہیں وہ بدن انسانی کی صحت وتندرستی کہلاتی ہے اور جہاں ان میں سے کوئی کیفیت مزاج انسانی کی حد سے زیادہ ہوجائے یا گھٹ جائے وہی مرض ہے اور اگر اس کی اصلاح وعلاج نہ کیا جائے تو ایک حد میں پہنچ کر وہی موت کا پیام ہو جاتا ہے ، ۔معارف القرآن مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ جلد 1صفحہ نمبر: 371)
امام شافعیؒایک جگہ وضو کے پانی پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔أكره الماء المشمس إلا من جهة الطب۔تفسير الإمام الشافعي (3/ 1157)
امام قرطبی علاج و معالجہ کا بارہ میں طویل بحث فرماتے ہیں۔تفسير القرطبي (2/ 231)
امام راغب اصفہانی علم تفسیر پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیںوإما بشرف أغراضها وكمالها، كصناعة الطب۔۔تفسير الراغب الأصفهاني (1/ 36) یعنی طب کا علم بھی تفسیر کی طرح شرف کا حامل ہے۔ دوسری جگہ لکھتے ہیں:طب بدنی کا موضوع ہے کہ وہ جڑی بوٹیوں اور ادویات کے ذریعہ صحت کے لوٹانے کا بندوست کرتا ہے اور غذا و خوراک کے ذریعہ وہ صحت کو برقرار کھنے کی تدبیر کرتا ہے۔اسی طرح طب دینی ہے جسکے ذریعہ سے عقل و صحت کو قائم رکھا جاتا ہے۔اور ایسے استدلات اختیار کئے جاتے ہیں جن کی مدد سے معجزات و نبوات کی ممعرفت حاصل کی جاتی ہے(تفسير الراغب الأصفهاني (1/ 77)
امام رازی اپنی تفسیر میں وضو اور تیمم پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیںلَا يُكْرَهُ ذَلِكَ مِنْ جِهَةِ الشَّرْعِ، بَلْ مِنْ جِهَةِ الطِّبِّ ۔۔تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير (11/ 311)یعنی شرعی طورپر اس میںکوئی قباحت موجود نہیں ہے لیکن طبی طورپر احتیاط لازم ہے۔ایک جگہ وہ پھلوںپر پحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں وَرَأَيْتُ فِي كُتُبِ الطِّبِّ»۔تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير (20/ 237)یعنی امام صاحب کتب طب کے مطالعہ کے دوران حاصل ہونے والے نتائج کو تفسیری استدلال کے طورپر پیش فرمارہے ہیں۔
علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ ایک جگہ فرماتے ہیں۔
اس جواب کا خلاصہ وحاصل شیخ کمال بن ابی شریف نے اپنی کتاب ”المسامرة“ میں ذکر کیا ہے، جو صاحب کتاب ”الفتح،، و”التحریر،، علامہ محقق ابن ہمام حنفی کی مشہور کتاب ”المسایرة“ کی شرح ہے ،اسی طرح شیخ زین الدین قاسم بن قطلوبغا نے بھی ”المسایرة“ پر اپنی تصنیف کردہ شرح میں اس جواب کا خلاصہ پیش کیا ہے۔اب میں ان دو حضرات کی تلخیص کا خلاصہ کچھ تصرف وزیادتی کے ساتھ پیش کرتا ہوں:
”قرآن کریم میں پیش کردہ ادلہ وحجج بمنزلہ دوا کے ہیں، ایک ماہر طبیب ادویہ کو طبائع وامزجہ کے مواقع اور ان میں موجود قوت وضعف اور حرارت وبرودت کے تفاوت کے پیش نظر استعمال کرتا ہے اور جو طبیب اس تفاوت کی رعایت نہ کرے تو اس کی طبابت سے دوا بجائے اصلاح بدن اور نفع بخش ثابت ہونے کے جسم کے فساد کا سبب اور قوائے بدن کے لیے ضرر رساں ہوجاتی ہے ،اسی وجہ سے ماہر طبیب مریض کی ذاتی نوعیت کو جانچ پرکھ کر اس کے مزاج کے موافق دوا تجویز کرتا ہے ۔
حضرت ابو قلابہ سے ” وقیل من راقٍ “ کے بارے میں روایت ہے کہتے ہیں۔ اس سے مراد طبیب ہے۔ ابن ابی شیبہ:جلد ہفتم:حدیث نمبر 8 )

Leave a Reply

Your email address will not be published.