مصری طب Egyptian Medicine اڑون اسمتھ ، بر دی نوشتہ:3

مصری طب Egyptian Medicine
اڑون اسمتھ ، بر دی نوشتہ:3

مصری طب Egyptian Medicine اڑون اسمتھ ، بر دی نوشتہ:3
مصری طب Egyptian Medicine
اڑون اسمتھ ، بر دی نوشتہ:3

۔۔۔۔مصری طب Egyptian Medicine
اڑون اسمتھ ، بر دی نوشتہ:3

تحریر: حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی :سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کاہنہ نو لاہور

اڑون اسمتھ ، بر دی نوشتہ
Edwin Smith’s Papyrus or Surgical Papyrus
تعارف
اب تک کی کھوج میں تاریخ طب سے متعلق کم وبیش سات (7) بردی نوشتے ملے ہیں ۔ جن میں جراحیات کے تعلق سے سب سے زیادہ مشہور اور اہم اڑون اسمتھ ، بردی نوشتہ ہے۔ یہ بردی نوشتہ مصری طب (Egyptian Medicine) سے تعلق رکھتا ہے جس میں سترہویں صدی قبل مسیح (17h cent BC) کی طبی معلومات درج ہے۔ 1862ء میں ایک امریکن اون اسمتھ نے یہ برای نوشتہ ایک مصری تاجر سے خریدا تھا۔ اس کی دریافت کے بارے میں تحقیق یہ ہے کہ شہرتھیبیس (Thebes) میں ایک قبر سے یہ برآمد ہوا تھا۔ پھر اس بروی نوشتے کی افادیت اور مشمولات پرحقیق ہوئی اور 1920ء میں اس کو دو جلدوں میں شائع کیا گیا۔ جس کے ذریعہ دنیا نے مصری طب کے بارے میں بہت کچھ جانا۔ شکل و شباہت (physical appearance)
یہ بردی نوشتہ لپٹی ہوئی حالت میں (folded form) میں پایا گیا تھا جس کا قطر ( 33cm. (diamete تھا اور اس کو کھولنے کے بعد اس کی لمبائی4.7om نالی گئی۔ لیکن اس کا ابتدائی کچھ حصہ ضائع ہو گیا اس لیے اندازہ ہے کہ اس کی حقیقی لمبائی 5mt کے قریب رہی ہوگی۔
33 cm.
– طول:.cm
4.70




عبارت دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں جو معلومات ہے وہ نقل کی ہوئی ہے۔ جس کا حقیقی ماخذ (original source) اہرام مصر کے زمانے سے بھی قبل کا لگتا ہے۔ قیاس ہے کہ یہ معلومات 3000BC کی ہے منتقل ہوتی رہی اور آخر کار بردی نوشتہ کی شکل میں محفوظ ہوگئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
متن (Text)
نوشتہ کی اگلی پچھلی دونوں جانب عبارت موجود ہے جو کالم (columm) اور سطور (inces) پرمشتمل ہے۔ اگلی جانب 17 کام ہیں جس میں 377 سطریں ہیں اور پچھلی جانب کالم ہیں جس میں 92 سطر میں ہیں ۔ کل ملا کر 469 سطر میں بنتی ہیں۔ پہلی جانب کے بقیہ حصے میں فہرست مندرجات اور جادوئی منتر وغیر ہ درج ہیں۔
ای بر دی نوشتے میں جو معلومات درج ہیں اس میں بیشتر کا تعلق علم الجراحت سے ہے۔ اس میں بدن کی شرت و منافع الاعضاء سے تعلق بھی بہت کچھ موجود ہیں ۔ اس میں الفظ دماغ ملتا ہے اور دماغ کے پیچ خم اور اس کی اغشیہ کی تفصیل ہے۔ دماغ کو جسم کا کنٹرولر بتایا گیا ہے۔ قلب سے نبض کاتعلق او نبض کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔
حالانکہ بیماری کے زیادہ اسباب جادو ٹونا وغیرہ میں گھرےنظر آتے ہیں کیونکہ قدیم مصر جادو اور سحر جیسے تو ہمات کا بڑا مرکز تھا لیکن امراض کا علاج بالخصوص بدریعہ جراحت حیرت انگیز ترقی کا پتہ دیتا ہے۔ مصر کے قدیم جراحت نہ صرف بدن انسان کی تشریح سے واقف تھے بلکہ آپریشن کی تکنیک اور آلات جراحی کے استعمال پر بھی عبور رکھتے تھے۔
اس نوشتے میں بذریعہ جراحت مکمل طور پر درست کیے ہوئے کیس (cases) درج ہیں جن کی ترتیب سرتا پا(head to toe) رکھی گئی ہے۔ آغازسر (head ) اور جمہ (skull) کے امراض سے ہوتا ہے اور پھر بالترتیب ناک (nose)، چہرہ (face)، کان (ear) گردن (neck)، عظم الترقوہ (clavicle) عظم العضد (humerus)، صدر (chest)، شانہ ( shoulder ) اور نخاع (spinalcord) متعلق معلومات درج ہیں۔ اس کے بعد عبارتقطع ہوگیا ہے۔ اور اطراف اسفل (lower extremity) کے امراض موجود نہ ہونے کے باعث تحر پر نامکمل سی لگتی ہے۔ لیکن جس ترتیب اور فصیل کے ساتھ بیان جاری تھا اس سے لگتا ہے کہ ممکن ہے کہ اکابروی تو شتے کی دوسری جلد (second volume) بھی رہی ہو، جو بھی نظروں سے اوجھل ہے یا پھر کہیں ضائع ہوگئی۔ اک بروی تو شتے میں کل ملا کر اڑتالیس(48) کیس درج ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Head : 1-14 Skull overlying soft tissues and brain : 1-10 Nose: 11-14 Maxillary region : 15-17 Temporal region : 18-22 Ear, mandible, lips and chin : 23-27 Throat and meck (Cervical vertebrae): 28-33 Clavicle : 34-35 Humerus : 36-38 cases Sternum, overlying soft tissues and true ribs : 39-46 cases Shoulders : 47 Spinal column : 48
ہے۔
مذکورہ بالا تمام cases کوجس منظم طریقہ سے بیان کیا گیا ہے اس کی ترتیب درج ذیل
1-Title, 2-Examination, 3-Diagnoses 4- Treatment (unless a fatal case, considerd untreatable) 5- Glossary (a little dictionary of obscure terms, if any, used in the discussion of the case)
. Title : کے تحت مرض کی تشرت کی گئی ہے جیسے،”Wound on the head” ۔ • Examination :کے تحت زخم کی کیفیت درج ہے جیسے۔ Gaping wound”
penetrating to the bone”
• Diagnoses: کے تحت زخم کی نوعیت درج ہے جیسے Lacerated or Crushed”
wound”
• Treatment : کے تحت زنم کے علاج سے متعلق استادان بجث درج ہے۔
مری کی تشخیص کے ساتھ جراح کی طرف سے درج ذیل تین (3) باتوں میں سے ایک بات بھی ہوئی ہے۔
(i) An ailment which I will treat. (ii) An ailment with which I will contend. (iii) An ailment not to be treated.
نظر یہ ہے کہ اڑون اسمتھ ، بردی نوشته طبی نقطہ نظر سے انتہائی اہم تاریخی ماخذ ہے جس سے نہ صرف قدیم مصری طب کے بارے میں معلوت ملتی ہیں بلکہ یہی اندازہ ہوتاہے کہ پرانے زمانہ میں علم جراحت کتناا فروغ پایا تھا۔ اس دور کے جراح اپنے فن میں حیرت انگیز مہارت رکھے تھے وپ لوگ انسانی ڈسکشن میں بھی ماہر تھےعلم تشیح اور منافع الاعضاء کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔

Hakeem Qari Younas

Assalam-O-Alaikum, I am Hakeem Qari Muhammad Younas Shahid Meyo I am the founder of the Tibb4all website. I have created a website to promote education in Pakistan. And to help the people in their Life.
View All Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *