مشروبات

مشروبات

مشروبات

مشروبات
مشروبات

۔۔۔
مشروبات
از :مجددالطب

:حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

مشروبات:

مشروبات میں مندرجہ ذیل تین چیزیں خاص طورپرشریک ہیں۔ (۱)پانی۔(۲)دودھ۔(۳)شراب

۱۔پانی: پانی اکثرپیاس کے وقت پیاجاتاہے اور یہ پیاس کھانے کے دوران بھی لگتی ہے اور بعدمیں بھی اور بغیرکھانے کے بھی۔پانی پینے کاوقت پیاس ہے خواہ غذاکے ساتھ ہویااس کے بعد۔

نوٹ:

جاننا چاہیے کہ پیاس دوقسم کی ہوتی ہے۔(۱)صادق پیاس(۲)کاذب پیاس۔صاد ق پیاس کامقصد یہ ہوتاہے کہ وہ معدہ میں پڑی ہوئی غذا کو رقیق بنائے اور اس کوباریک شریانوں میں گذرنے کاذریعہ بنے۔غذاکے دوران میں بھی جب پیاس لگتی ہے تواس کی دوصورتیں آتی ہیں۔اول معدے میں تیزی اور سوزش پیداکرنے والی اغذیہ کی بے چینی اور دوسرے معدے میں انتہائی خشکی جو غذاکے کھانے سے اکثربڑھ جاتی ہے اور طبعیت اس کو رقیق کرنے کیلئے پانی طلب کرتی ہے۔کاذب پیاس کی پہچان یہ ہے کہ اگرپیٹ بھرکر تسلی کے ساتھ پانی پی لیاجائے اورپھربھی پیاس نہ بجھے۔ اس کی وجہ عام طورپرشوربلغم یالیسدارموادکی معدہ میں زیادتی ہوتی ہے جس کوطبعیت رفع کرناچاہتی ہے۔ لیکن ٹھنڈاپانی پینے سے بلغم اوربھی جم جاتی ہے اور شورمادہ میں زیادتی ہوجاتی ہے۔اسی طرح تخمہ اورہیضہ میں بھی پیاس کی شدت ہوتی ہے جس کی وجہ غذاکاکچاہونااورمعدہ میں سوزش اور متعفن مواد کی موجودگی ہوتی ہے۔اس کا علاج یہ ہے کہ پانی کیلئے کچھ دیرتوقف کیاجائے اورتوقف ناممکن ہوتوگرم پانی تھوڑاتھوڑادیاجائے یابغیردودھ کے چائے دی جائے۔مرض میں شدت ہوتو مناسب علاج کیاجائے۔بعض دفعہ دماغی اوراعصابی سوزش میں بھی شدید پیاس لگتی ہے ۔ اس کابھی مناسب علاج کیاجائے۔بعض اوقات ترمیوؤں کے استعمال ،سخت ورزش، محنت،حمام اور جماع کے بعد پیاس لگے توپانی سے روکناچاہیے۔جہاں تک ممکن ہونہارمنہ پانی نہیں پیناچاہیے۔

۲۔دودھ:؎

دودھ غذامیں شامل ہے اور اس کوغذاکے طورپریاغذاکے ہمراہ استعمال کرنا چاہیے۔یہ ہرگزنہ کیاجائے کہ اس کوپانی کے طورپراور بغیر غذا کے استعمال کیاجائے۔ دودھ استعمال کرنے کابہترین وقت صبح کاناشتہ ہے۔ناشتے کے ہمراہ اس کواستعمال کرنے سے صحت پر بہت اچھااثرپڑتاہے دودھ ہمیشہ نیم گرم ہواور اس کوہلکا شیریں بھی کرلینا چاہیے۔اس طرح بعض لوگ دودھ میں پانی ملاکراس کی لسی بھی پیاس کے وقت پیتے ہیں ۔ اس کے متعلق یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کے اثرات اپنے اندر دودھ کی غذائیت کے ہیں۔البتہ اس میں برودت زیادہ پیداہوجاتی ہے۔اور اس کے کثرت استعمال سے معدہ ٹھنڈااور سوئے مزاج باردکے امراض پیداہوجاتے ہیں اول تو اس کااستعمال کرناہی نہیں چاہیے لیکن جب یہ استعمال کی جائے توغذااور اس کے درمیان کافی وقفہ ہوناچاہیے۔

دہی کی لسی:

دہی کی لسی بھی غذامیں شریک ہے اور اس کوبھی ہمیشہ غذاکے مقام یااس کے ہمراہ استعمال کرناچاہیے۔ اس کے بکثرت استعمال سے حرارت غریزی کم ہوجاتی ہے اور نفخ شکم کی شکایت پیداہوجاتی ہے۔اس کااستعمال دوپہر کوغذاکے ہمراہ کرناچاہیے۔

شراب:

شراب کااستعمال بغیر طبیب کی مرضی کے کبھی نہیں کرناچاہیے کیونکہ اس میں فوائد بہت کم اور نقصانات بہت زیادہ ہیں۔اس کاسب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس کے استعمال سے نفسانی خواہشات بھڑک اٹھتی ہیں جو کسی صورت بھی نہیں بجھتی ہیں۔جس سے طبیعت انتہائی منقبض ہوکردل کیلئے بے حد نقصان کاباعث ہوتی ہے۔جہاں تک اس کے فوائد کاتعلق ہے اس کو اکثراعتدال سے قلیل مقدارمیں ضرورت کے مطابق طبیب حاذق کے مشورہ سے استعمال کیاجائے توتمام جسم کے اعضاء میں نشووارتقاء اورقوت کی صلاحیت پیداہوجاتی ہے اور ساتھ ہی گندے فضلات کوچھانٹ دیتی ہے اور جسم میں صالح رطوبات کوجذب کرنے صلاحیت پیداکرتی ہے لیکن ان فوائد کے ساتھ ساتھ جب اس کے اثرات بڑھتے جاتے ہیں توانہی چیزوں کیلئے سخت نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔اس کے اثرات بڑھنے کاسبب یہ ہوتاہے کہ اس کوایک دفعہ شروع کرنے کے بعد خواہ وہ دواکے طورپرہی کیوں نہ کیاجائے چھوڑنامشکل ہو جاتاہے۔گویایہ تھوڑے ہی عرصہ میں ایک ایسی عادت بن جاتی ہے جس کاچھوڑناتقریباً ناممکن ہے۔اس کوچھوڑنابھی بجائے فوائدکے باعث صدنقصان ہے۔

حرارت غریزی ورطوبت غریزی:

علم حفظان صحت کاجہاں تک انسان کے جسم سے تعلق ہے اس کیلئے یہ نہایت ضروری ہے کہ انسان کے اعضائے جسم اور ان کے افعال کاپوری طرح علم ہو۔یہ علم اسی وقت سے شروع ہوجاتاہے جب انسان کانطفہ قرارپاتاہے ۔ کیونکہ اگر اس دوران میں بھی اس نطفے کی نگرانی نہ کی جائے تواس کے ضائع ہونے کااحتمال ہوتاہے۔ جس چیز کے انسان کے حفظان صحت میں نگرانی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ اس کامزاج ، طبیعت اورطاقت کااعتدال ہے اور یہی چیزقرارنطفہ سے انسان کی موت تک مدنظررہتی ہے۔سوال پیداہوتاہے کہ یہ مزاج ،طبیعت اور طاقت شے کیاہے اور ان کی نگرانی کیسے ہوسکتی ہے۔یہ ایک نہایت اہم سوال ہے اور صحت کے قیام کیلئے اس کاذہن نشین کرناسب سے پہلی بات ہے۔ جاننا چاہیے کہ نطفہ قرار پاتے وقت کرم منی،حرارت غریزی اور رطوبت غریزی کامجموعہ ہوتاہے۔یہ نطفہ ایک جسم ہے جس کی پرورش رطوبت غریزی اور حرارت غریزی سے عمل میں آتی ہے۔انہی دونوں چیزوں سے اس کوغذاملتی ہے اور اس میں نشووارتقاء اور تصفیہ کاعمل جاری رہتاہے۔یہ دونوں چیزیں اگراعتدال سے اپناعمل جاری رکھیں تونطفہ صحت کے ساتھ نشووارتقاء کے مراحل طے کرلیتاہے ۔ اور اگران کاتوازن قائم نہ رہے تونطفہ کے ضائع ہونے میں کوئی شبہ نہیں جس کی صورت یہ ہے کہ اگر ان میں کوئی ایک بڑھ جائے تودوسری کوفناکردے گی جس سے نطفے کی غذائیت یا تصفیہ و پرورش میں خلل واقع ہوجائے گااور نطفہ ضائع ہوجائے گا۔مثلاً اگرحرارت بڑھ جائے تورطوبت کوجلادے گی اور رطوبت کی زیادتی حرارت کوختم کر دے گی ۔اسی توازن سے جسم انسان زندہ رہتاہے اور اگر اس میں نمایاں فرق واضح ہوجائے توانسان کی صحت نہ صرف خراب بلکہ بعض اوقات تباہ ہوجاتی ہے۔

بدل مایتحلل:

نطفے کی حرارت ورطوبت اس قدرقلیل ہوتی ہے کہ انہی سے انسان کے جسم کاکم وبیش ساٹھ ستر سال تک زندہ رہنامحال ہے۔اس لئے قدرت نے ان دونوں کے قیام وتقویت اورامدادکیلئے بیرونی طورپربھی رطوبت و حرارت کاانتظام کردیاہے جواس حرارت غریزی کامعاون ہوتا ہے اوراس تھوڑی بہت حرار ت ورطوبت غریزی کوجونطفہ قرارپانے کے بعد خرچ ہوناشروع ہوجاتی ہے پوراکرتارہتا ہے اورانسان کی ضرورت کوپورا کرتا رہتا ہے۔ اس رطوبت اورحرارت کوجوانسان کی ضروریات کوپوراکرتی رہتی ہے بدل مایتحلل کہتے ہیں۔

سوال پیداہوتاہے کہ بدل مایتحلل حرارت غریزی اوررطوبت غریزی کی کمی کوپوراکرتاہے یادماغ پرخرچ ہوکران کاقائم مقام بن جاتاہے۔

اعتراض: یہاں پر یہ اعتراض واردہوتاہے کہ اگر بدل مایتحلل خودحرارت غریزی اور رطوبت غریزی کی کمی کو پورا کرتاہے یعنی خودحرارت ورطوبت غریزی بن جاتاہے توپھر حرارت غریزی اور رطوبت غریزی جن کوحرارت اصلی اور رطوبت اصلیہ بھی کہتے ہیں اور جن سے اعضائے اصلیہ تیار ہوتے ہیں۔ان کی کوئی ہستی نہ رہی کیونکہ ہم ان کو مصنوعی طورپر تیارکرسکتے ہیں اوراگروہ حرارت اور رطوبت جوان کابدل مایتحلل بنتی ہے وہی کام انجام دے سکتی ہے جوحرارت غریزی اور رطوبت غریزی انجام دیتی ہے توبڑھاپاکیوں آتاہے اور موت کیوں واقع ہوتی ہے۔

جواب: اس کاجواب یہ ہے کہ حرارت غریزی اور رطوبت غریزی کابدل مایتحلل نہیں بن سکتا۔جو رطوبت اور حرارت بدل مایتحلل کے طورپرخرچ ہوتی ہے وہ صرف ایک ضرورت ہے جوپوری کی جاتی ہے اور اس سے رطوبت و حرارت غریزی کی مددکی جاتی ہے تاکہ وہ جلدی تحلیل ہوکرختم نہ ہوجائے۔ اس کی مثال ایک چراغ کی ہے جس کی روشنی،بتی اور تیل تینوں بیک وقت کام کرتی ہے۔چراغ کی روشنی حرارت غریزی،بتی رطوبت غریزی اور تیل بدل مایتحلل ہے۔یہ بدل مایتحلل جہاں ایک طرف چراغ کی روشنی کوقائم رکھتاہے وہاں دوسری طرف اس کی بتی کوبھی جلنے نہیں دیتا صحت کی حفاظت کیلئے یہ ضروری ہے کہ حرارت غریزی چراغ کی روشنی کی طرح اعتدال سے جلتی رہے اور اس کی رطوبت غریزی بھی یک دم فنانہ ہوجائے۔یہ وہ اعتدال ہے جودونوں میں رکھاجاتاہے۔اگررطوبات بڑھ جائیں توحرارت کاختم ہونااغلب ہے اورحرارت کی زیادتی سے رطوبات کا جل جانالازمی ہے۔

خون:

نطفہ جب تک علقہ نہیں بنتااس وقت تک وہ اپنی غذااپنے اندرکی رطوبت سے حاصل کرتاہے اور جب علقہ بن جاتاہے تواس کاتعلق رحم سے پیداہوجاتاہے اوراپنی غذاماں کے رس سے حاصل کرتاہے۔پیدائش کے بعد اس کو اول یہ غذاماں کے دودھ سے اور پھر دنیاوی اغذیہ اور اشربہ سے حاصل ہوتی رہتی ہے جس سے اس کابدل مایتحلل پورا ہوتارہتاہے۔

ان امور سے ثابت ہواکہ طبیب انسانی صحت کی حفاظت توکرسکتاہے لیکن اس پریہ فرض عائد نہیں ہوتاکہ وہ انسان کاشباب برقراررکھے یااس کوایک طویل عمرتک زندگی دے سکے۔موت کوروک دیناتواس کے بس کابالکل روگ نہیں کیونکہ نطفہ قرارپانے کے بعدحرارت غریزی اور رطوبت غریزی کچھ نہ کچھ ضرورخرچ ہوتی رہتی ہے اور عمر کے ساتھ ساتھ ان میں ایک خاص قسم کی کمی ہوتی رہتی ہے۔جس طرح تیل جلنے کے سے اس کی بتی تھوڑا تھوڑاجلنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتی رہتی ہے یہاں تک کہ وہ ختم ہوجاتی ہے یہی صورت انسانی زندگی کی ہے کہ وہ آخر میں حرارت غریزی اور رطوبت غریزی کے ختم ہونے کے بعد ختم ہوجاتی ہے۔ہمیشہ کیلئے شباب اور زندگی ناممکنات میں سے ہے۔

اطباء کے فرائض صرف حفظانِ صحت کے اصولوں کاذہن نشین کراناہے تاکہ صحت قائم رہے البتہ جب مرض پیدا ہوجائے تواس کوصحت کی طرف لوٹانا اس کاکام ہے۔صحت کے قیام کیلئے اہم چیزحرارت غریزی اور رطوبت غریزی کی پوری نگرانی اور ان کے بدل مایتحلل کوصحیح طریقوں پرپوراکرنا ہے اور یہ کوشش بھی جاری رکھناہے کہ رطوبت اصلیہ میں کوئی فساد یاتعفن پیدانہ ہونے دے۔اگروہ اپنے مقاصد میں کامیاب رہاتواپنی طبعی عمرکوپہنچے گااور اس کی قوت اور صحت صحیح حالت پرقائم رہے گی۔

موت:

موت کی دواقسام ہیں۔(۱)طبعی۔(۲)غیرطبعی۔طبعی موت وہ ہے جوحرارت اور رطوبت غریزی کے پورے طورپرخرچ ہونے کے بعد واقع ہو۔ جس کے متعلق اطباء کا خیال ہے کہ وہ سواسوسال سے ڈیڑھ سوسال تک ہونی چاہیے کیونکہ ان کااندازہ ہے کہ انسان پچیس تیس سال تک اپنی جوانی کوپہنچتاہے اور اس کواس کے بعدپانچ گنا عرصے تک زندہ رہناچاہیے اوراگراس دوران میں وہ کسی مرض کاشکارہوجاتاہے یاڈوب جاتاہے یا پھانسی لگ جاتاہے یاگرکرمرجاتاہے تویہ اس کی غیرطبعی موت ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.