مرض درجہ بدرجہ

مرض درجہ بدرجہ

مرض درجہ بدرجہ

مرض درجہ بدرجہ
مرض درجہ بدرجہ

 

مرض درجہ بدرجہ

از :مجددالطب

پیش کردہ:حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

دموی اورکیمیائی تغیرات بھی اپنے اندر حقیقت رکھتے ہیں لیکن اس حقیقت سے انکارنہیں کیاجاسکتا کہ جسم انسان میں خون کی پیدائش اوراس کی کمی بیشی انسان کے کسی نہ کسی عضوکے ساتھ متعلق ہے اس لئے جسم انسان میں دموی اور کیمیائی تبدیلیاں بھی اعضائے جسم کے تحت آتی ہیں۔اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ جسم میں ایک بڑی مقدارمیں زہریلی ادویات اوراغذیہ سے موت واقع ہوجاتی ہے لیکن ایسے کیمیائی تغیرات بھی اس وقت تک پیدا نہیں ہوتے جب تک جسم کاکوئی عضو بالکل باطل نہ ہوجائے۔

دیگر اہم علامات:

نزلہ کی طرح دیگر علامات بھی چند اہم علامات میں تقسیم ہوجاتی ہیں۔اگر ان اہم علامات کوذہن نشین کرلیاجائے تونزلہ کی طرح جن مفرداعضاء سے ان کاتعلق ہوگاان کے ساتھ ہی وہ ایک مرض کی شکل اختیار کر لیں گے۔ورنہ تنہاان علامات کو امراض کانام نہیں دیاجاسکتا وہ اہم علامات درج ذیل ہیں۔

1۔سوزش 2۔ورم 3۔بخار 4۔ضعف

سوزش :

سوزش ایک ایسی جلن ہے جو کیفیاتی ونفسیاتی اور مادی تحریکات سے جسم کے کسی مفردعضو میں پیداہوجائے ۔سوزش میں سرخی اور دردوحرارت لازم ہوتی ہے۔تحریک سے سوزش تک بھی چندمنزلیں ہیں۔

۱۔لذت۔۲۔بے چینی ۔۳۔سوزش ۔

کبھی طبیعت انہی علامات میں سے کسی ایک پر رک جاتی ہے اور کبھی گزرکر سوزش بن جاتی ہے ۔

ورم: و

رم کی علامت سوزش کے بعد پیداہوتی ہے ۔اس میں سوزش کی علامات کے ساتھ سوجن بھی ہوتی ہے اور جب سوجن زیادہ ہوجائے یازدت اختیارکرلے تو حرارت بخارمیں تبدیل ہوجاتی ہے ۔جسم کے پھوڑے اور پھنسیاں اور دانے وغیرہ بھی اورام میں شریک ہیں۔سوزش وا ورام کا تفصیلی مطالعہـ’’تحقیقات سوزش واورامـ‘‘ میں کیاجا سکتاہے

بخار:

بخار ایک ایسی اور غیر معمولی حرارت ہے جس کو حرارتِ غریبہ(بیرونی)بھی کہتے ہیں جوجزوخون کے ذریعہ قلب سے تمام بدن میں پھیل جاتی ہے جس سے بدن کے اعضاء میں تحلیل اور ان افعال میں نقصان واقع ہوتاہے۔ غصہ اور تھکان کی معمولی گرمی بخار کی حد سے باہرہے کیونکہ اس سے کوئی غیرمعمولی تبدیلی بدن انسان میں لاحق نہیں ہوتی۔اس کو عربی میں حمیٰ فارسی میں تپ کہتے ہیں۔ بخارکاتفصیلی مطالعہ ’’تحقیقات حمیات‘‘ میں کیاجا سکتا ہے۔

ضعف:

جسم کی ایک ایسی حالت کانام ہے جس میں گرمی کی زیادتی سے کسی مفرد عضو میں تحلیل پیداہوجائے۔ضعف کے مقابلے طاقت کاتصور کیا جاسکتاہے۔ ضعف کا تفصیلی مطالعہ ’تحقیقات اعادہ و شباب‘‘ میں کیاجاسکتاہے

مفرداعضاء کاباہمی تعلق:

مفرداعضاء کاباہمی تعلق بھی ہے اس تعلق سے تحریکات ایک عضو سے دوسرے عضو کی طرف منتقل ہوتی ہیں مثلاً جب غدد میں تحریک ہے تو اس امرکو ضرور جانناپڑے گاکہ اس تحریک کاتعلق عضلات کے ساتھ ہے یااعصاب کے ساتھ ہے،کیونکہ اس تحریک کاتعلق کسی نہ کسی دوسرے عضو کے ساتھ ہوناضروری ہے کیونکہ مزاجاً بھی کبھی کوئی کیفیت مفردنہیں ہوتی جیسے گرمی یاسردی کبھی تنہا نہیں پائی جائیں گی وہ ہمیشہ گرمی تری، گرمی خشکی ہوگی،اسی طر ح سردی تری یاسردی خشکی ہو گی ۔ یہی صورت اعضاء میں بھی قائم ہے یعنی غدی عضلاتی (گرم خشک)یاغدی اعصابی (گرم تر ) وغیرہ وغیرہ۔

البتہ اس میں اس امرکوذہن نشین کرلیں کہ اول تحریک عضوی(مشینی)ہوگی اوردوسری تحریک کیمیائی خلطی ہو گی۔جب کسی مفردعضو میں تحریک ہوگی تواس کاتعلق جس دوسرے مفردعضو سے ہوگااس کی کیمیائی صورت خون میں ہوگی۔مثلاً غدی عضلاتی تحریک ہے تواخلاط میں خشکی پائی جائے گی۔ جب غدی اعصابی تحریک ہوگی توخون میں تری پائی جائے گی۔وغیرہ وغیرہ۔ ان کایہ سلسلہ قائم رہے گا۔

مفرد اعضاء کے تعلق کی چھ صورتیں:

مفرد اعضاء صرف تین ہیں لیکن ان کاآپس میں تعلق ظاہرکیاجائے توکل چھ صورتیں بن جاتی ہیں۔

(1)۔اعصابی غدی (2)۔اعصابی عضلاتی (3)۔عضلاتی اعصابی (4)۔عضلاتی غدی (5)۔غدی عضلاتی (6)۔غدی اعصابی

یادرکھیں کہ جولفظ اول ہوگاوہ عضوکی تحریک ہے اورجولفظ بعد میں ہو گاوہ کیمیائی تحریک کہلاتا ہے ۔ چونکہ کیمیائی تحریک ہی صحت کی طرف جاتی ہے اس لئے ہرعضوکی تحریک کے بعد اس سے جو کیمیائی اثرات پیداہوں گے انہی کوبڑھاناچاہیے بس اسی میں شفاہے یہی وجہ ہے کہ ہومیوپیتھی میں بھی ری ایکشن کی علامات کوبڑھایاجاتاہے،اس مقصد کیلئے قلیل بلکہ اقل مقدار میں بھی دوانہ صرف مفید ہو جاتی ہے بلکہ اکسیراورتریاق کاکام دے دیتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.