لفظ کُن کی حقیقت

لفظ کُن کی حقیقت

لفظ کُن کی حقیقت

لفظ کُن کی حقیقت
لفظ کُن کی حقیقت

لفظ کن کی حقیقت

تحریر
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

اللہ تعالیٰ نے انسان کواپنے دست قدرت سے بنایا ہے اس کے اندر اپنی روح پھونکی ہے (القران الکریم)اس کے بعد اسے دنیا میں نیابت خداوندی کا امین بنا کر بھیجا ہے،اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء کو اپنے حکم اور اپنے امر کنُ سے تخلیق کیاہے، جو لوگ لفظ کن کی حقیقت و ماہیت سے واقف ہیں جانتے ہیں کہ کن سے مراد ایک معینہ مدت ہے ۔اس کا تعین تخلیق کے اعتبار سے ہوگا،کام کی نوعیت کے اعتبار سے وقت کا تعین کیا جاتا ہے ایک مہتم بالشان کام کو کرنے اور ایک معمولی کام کے سرانجام دینے میں مدت مختلف ہوتی ہے۔

قاعدہ کلیہ

اللہ اس دنیا میں اللہ کا نائب ہے یہ قاعدہ کلیہ ہے جو کام اصل کا ہوتاہے وہی نائب کا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے قدرت کاملہ سے ہر آن و ہر لمحہ نئی سے نئی تخلیق کرتا رہتا ہے {كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ} [الرحمن: 29]۔اسی طرح انسان اپنی حیثیت کے اعتبار سے ہمہ وقت لفظ کن کو عملی جامہ پہنانے میں مصروف عمل رہتا ہے اس کائنات میں کتنے اسرار رموز پنہا ہیں، انسان اپنی کاوش سے انہیں ظاہر کرتا رہتا ہے۔بے شمار چیزیں انسانی بنائی ہیں انسانی کاوش کو ہم ان معنوں میں تو نہیں لے سکتے جن معنوں میں مذہبی رو سے لینا چاہئے لیکن کائنات آب گل میں انسانی کی مینا کاریوں سے ایک جہان آباد ہے ۔قدرت کا اپنا انداز تخلیق ہے انسان کا اپنا، قدرت کا کن ان معنوں استعمال ہوگاجو اس کے لئے مخصوص ہیں اور انسانی کاوشوں کو اس انداز میں داد دینا ہوگی جس کی وہ مستحق ہیں۔
انسان جو سوچ سکتا ہے وہ کر بھی سکتا ہے، سوچی ہوئی چیز سمجھو انسانی ذہن کا کن ہے ،وہ سوچ میں آتے ہی تخلیق ہوگئی ،اس کا عملی مظاہرہ اس وقت ہوتا ہے جب اسے مادی شکل میں پیش کردیاجاتا ہے ۔جن لوگوں کے ذہن میں کن سے مراد اسی لمحہ چیز کا موجود ہوجانا ہے صحیح نہیں ہے کیونکہ قران کریم نے زمین و آسمان کی مدت تخلیق چھ یوم بیان کی ہے۔ان ایام ستہ کی طوالت کا اندازہ کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ ہمارے اندازوں کے لئے پیمانہ چاہئے پیمانہ ایک مادی چیز ہے جس سے غیر مادی چیز کو نہیںمانپا جاسکتا، اوقات کو مدت قران کریم نے مختلف مقامات پر بیان کی ہے وہاں ایک دن کی مدت ہماری گنتی کے لحاظ سے پچاس ہزار سال قرار دی گئی ہے [المعارج: 4] یہاں بھی کن کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔قصہ کوتاہ کسی بھی کام و عمل کی مدت منصوبہ اورنوعیت کے اعتبار سے ہوگی نہ کہ سننے والے کی سوچ کے مطابق،سوچنے والا خالق نہیں ہوتا کسی سوچ کو عملی جامہ پہنانے والا خالق کی صفات کا حامل ہوتا ہے۔

خلیفۃالارض کا تصور

یہ ایک درویش کا عطیہ ہے انسان خلیفۃ الارض کا تصور کرلے تو اعمال میں حیرت انگیز اثرات ابھر نے لگتے ہیں ایک مصنف اپنے تجربات میں یوں لکھتے ہیں’’یہ بہت پرانی بات ہے جو انہوں (استاد محترم)نے فرمائی،جب کوئی عمل کرنے بیٹھو۔تعویذ لکھنے بیٹھو،دم کرنے کا ارادہ کرو،دعا کے لئے ہاتھ اٹھاؤ۔ظیفہ کرنے بیٹھو غرض کہ کوئی بھی کام یا مقصد ہو تصور کرو’’میں خلیفۃ الارض‘‘یعنی میں زمین میں اللہ کا نائب ہوں، اس یقین و اعتماد کے ساتھ تصور ہوکہ جو کہہ رہا ہوں ایسا ہی ہوگا۔غرور و تکبر سے حفاظت کے لئے یہ کہنا بہتر ہوگا کہ جو کچھ میرا اللہ چاہ رہا ہے وہی ہورہا ہے میں بھی وہی چاہ رہا ہوں جو اللہ کی مرضی ہے اور جو میں کررہا ہوںوہی ہورہا ہے ،جو قلم سے لکھا جارہا ہے اللہ کی مرضی سے لکھا جارہا ہے‘‘ (عامل بننے کے راز27)

آپ کے تصور کی گہرائی

آپ کے تصور میں جس قدر گہرائی اور یکسوئی ہوگی اس قدر اثرات نمایاں ہونگے ،اتنی ہی سرعت سے کام ہونگے،انسانی ذہن تخلیقی صلاحیت کا حامل پیدا کیا گیا ہے، جو چیز اس کے اندر سماجائے سمجھو وہ ہوگئی، جولوگ کہتے ہیں کہ وسائل کے فقدان کی وجہ سے اپنے حصول مقاصد میں ناکام رہے ،ناکامی تو ایک اضافی تصور ہے نکھار وہیں پیدا ہوتا ہےجہاں لگن اور تجربہ کار فرما ہو ،جو اپنے مقاصد کے حصول میں سنجیدگی نہیں دکھاتے در حقیقت وہ ان نتائج کے خواہاں نہیں ہوتے جن کا ذکر وہ زبان سے کررہے ہوتے ہیں ،اس دنیا میں بغیر معاوضہ کوئی چیز حاصل نہیں ہوتی ،انسان جس قدر قیمتی چیز کا متمنی ہوگا اسے اتنی ہی زیادہ قیمت ادا کرنی ہوگی، بلا معاوضہ ملنے والی چیز بے قدر ٹہرتی ہے۔ تبلیغی لوگ کہتے ہیں جب تک مال،جان،وقت نہ لگے کسی چیز کی اہمیت واضح نہیں ہوتی۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *