لعاب دہن کے طبی خواص طب نبوی کی رو سے

لعاب دہن کے طبی خواص طب نبوی کی رو سے

لعاب دہن کے طبی خواص طب نبوی کی رو سے

لعاب دہن کے طبی خواص طب نبوی کی رو سے
لعاب دہن کے طبی خواص طب نبوی کی رو سلعاب دہن کا استعمال

 

لعاب دہن کے طبی خواص طب نبوی کی رو سے

تحریر

حکیم قاری محمد یونس شاہد میولعاب دہن کا استعمال

لعاب دہن کا استعمال

۔
آشوب چشم میں علی کی آنکھوں پر لعاب لگایا۔خیبر کے موقع پر۔
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: ابولیلیٰ رات میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کیا کرتے تھے، اور علی رضی اللہ عنہ گرمی کے کپڑے جاڑے میں اور جاڑے کے کپڑے گرمی میں پہنا کرتے تھے، ہم نے ابولیلیٰ سے کہا: کاش آپ ان سے اس کا سبب پوچھتے تو بہتر ہوتا، پوچھنے پر علی رضی اللہ عنہ نے (جواباً) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غزوہ خیبر کے موقع پر اپنے پاس بلا بھیجا، اس وقت میری آنکھ دکھ رہی تھی، اور (حاضر خدمت ہو کر) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری آنکھیں آئی ہوئی ہیں، میں مبتلا ہوں، آپ نے میری آنکھوں میں لعاب دہن لگایا، پھر دعا فرمائی: ”اے اللہ اس سے سردی اور گرمی کو دور رکھ“۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس دن کے بعد سے آج تک میں نے سردی اور گرمی کو محسوس ہی نہیں کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایسے آدمی کو (جہاد کا قائد بنا کر) بھیجوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں، اور وہ میدان جنگ سے بھاگنے والا نہیں ہے“۔ لوگ ایسے شخص کو دیکھنے کے لیے گردنیں اونچی کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا، اور جنگ کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں دے دیا (تخریج الحدیث: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10213، ومصباح الزجاجة: 49)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/99، 133)

آنکھ کی دوبارہ بحالی
حضور نبی کریم ﷺ کے لعاب دہن کی برکات

سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آنکھ مانگنا
سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کی چشمِ مبارک غزوۂ بدر کے دوران ضائع ہو گئی اور آنکھ کا ڈھیلا اپنے اصل مقام سے باہر نکل کر باہر چہرے پر لٹک گیا۔ تکلیف کی شدّت کو مدِّنظر رکھتے ہوئے چند صحابہ رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ کیوں نہ آنکھ کی رَگ کاٹ دی جائے تاکہ تکلیف کچھ کم ہو جائے۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے ساتھیوں کے مشورے پر عملدرآمد سے پہلے محسنِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرضِ حال و اِلتجاء کا فیصلہ کیا۔ سرورِ انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر جب بپتا سنائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں اِستعانت و اِستغاثہ کیا تو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آنکھ کو کاٹنے کی اِجازت دینے کی بجائے اپنے دست ِمبارک سے آنکھ کو دوبارہ اُس کے اصل مقام پر رکھ دیا جس سے اُن کی بینائی پھر سے لوٹ آئی۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میری ضائع ہونے والی آنکھ کی بینائی کسی طرح بھی پہلی آنکھ سے کم نہیں بلکہ پہلے سے بھی بہتر ہے۔ اِس حدیثِ اِستغاثہ کو اِمام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے دلائل النبوۃ میں یوں رقم کیا ہے :
عَنْ قَتَادَة بْنِ النُّعْمَانَ، أَنَّه أُصِيْبَتْ عَيْنَه يَوْمَ بَدْرٍ، فَسَالَتْ حَدَقَتُه عَلَی وَجَنَتِه، فَأَرَادُوْا أَنْ يَقْطَعُوْهَا، فَسَأَلُوْا رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فَقَالَ : لَا، فَدَعَا بِه، فَغَمَزَ حَدَقَتَه بِرَاحَتِه، فَکَانَ لَا يَدْرِيْ أَيُّ عَيْنَيْهِ أُصِيْبَتْ.
سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اُن کی آنکھ غزوۂ بدر کے دوران ضائع ہو گئی اور ڈھیلا نکل کر چہرے پر آ گیا۔ دیگر صحابہ رضی اللہ عنہ نے اُسے کاٹ دینا چاہا۔(مُسند اَبو يعلی، 3 : 120)(دلائل النبوّه، 3 : 100)(طبقات اِبنِ سعد، 1 : 187)(تاريخ اِبنِ کثير، 3 : 291)(الاصابه فی تمييز الصحابه، 3 : 225)
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دُعا فرمائی اور آنکھ کو دوبارہ اُس کے مقام پر رکھ دیا۔ پس حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کی آنکھ اِس طرح ٹھیک ہو گئی کہ معلوم بھی نہ ہوتا تھا کہ کون سی آنکھ خراب ہوئی تھی۔صحابی رسول ﷺ فرمایا کہ میری اس آنکھ جس کو حضور ﷺ کا لعاب دہن لگا ساری زندگی آشوب چشم میں مبتلا نہ ہوئی اور میری موت تک اس کی بینائی قائم رہی ۔
۔ ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس آنکھ میں اپنا لعاب لگایا تھا اس کے نتیجے میں وہ دونوں میں سے حسین تر ہو گئی۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، الجزء الثالث صفحہ239 ومن بنی ظفر…… قتادۃ بن النعمان داراحیاء التراث العربی بیروت 1996ء)(اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ لابن اثیر جلد4صفحہ370-371، قتادہ بن نعمان، دارالکتب العلمیہ بیروت2008ء)
لعاب دہن صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ، کو غارثور میں سانپ کے ڈسنے پر ایڑھی پر لگایا گیا آرام آگیا۔

غار ثور میں داخلہ

حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رات بھر اپنے پیروں کی انگلیوں پر چلتے رہے تاکہ قدموں کے نشان نہ ثابت ہوں جس کے سبب آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قدمین مبارکہ جا بجا زخمی ہو گئے، جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے آپ کے قدموں کی تکلیف دیکھی تو آپ کو کندھوں پر اٹھالیا اور غار کے دھانے تک لے آئے، وہاں آپ کو اتارا، پھر عرض کیا : ’’ پہلے میں غار میں جاتا ہوں ، اگر کوئی چیز ہوگی تو آپ سے پہلے مجھے نقصان دے گی، ابوبکر اندر گئے اور اسے اچھی طرح صاف کیا ، غار میں موجود تمام سوراخوں کو (ایک کپڑے کے ذریعے) بند کیا، کوئی موذی شےنہ پائی تو آپ کو اٹھاکر غارمیں لے آئے اور سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ کی گود میں سررکھ کر استراحت فرمانے لگے۔البتہ غار میں ایک سوراخ باقی رہ گیا اور اسی میں سانپ تھا، آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو ڈر ہوا کہ کہیں کوئی موذی شے نکل کر رسولِ خدا صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوتکلیف نہ پہنچائے انہوں نے اس پر اپنے پاؤں کی ایڑی رکھ دی، تواس سوراخ میں موجودسانپ نے آپ کے پاؤں پر ڈس لیا، آپ نے جنبش نہ کی کہ کہیں حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آرام میں خلل واقع نہ ہوجائے مگر تکلیف کے سبب آنسو چھلک پڑے اور دو عالم کے مالِک و مختار، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نرم ونازک مبارک رخسار کے بوسے لینے لگے ۔آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بیدار ہوگئے اور فرمایا : اے ابو بکر !کیا بات ہے؟‘‘عرض کیا : ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!سانپ نے ڈس لیا ہے۔‘‘ فرمایا : ’’ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہ مَعَنَا یعنی اے ابوبکر!غم نہ کرو، بے شک اللہ تعالٰی ہمارے ساتھ ہے۔‘‘پس آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اس بات سے اللہ تعالٰی نے ابوبکر کے دل پر سکون نازل کردیا۔ اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے اس حصے پر اپنا لعاب دَہن (یعنی تھوک شریف)لگایا توفوراً آرام مل گیا۔‘‘
(مشکاۃ المصابیح، کتاب المناقب والفضائل، الفصل الثالث، الحدیث : ۶۰۳۴، <
کڑوے کنوئیں میں لعاب دہن شامل ہوا میٹھا ہوگیا،
بیرحاء کنویں سے تو حضرت نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا پانی نوش فرمانا ثابت ہے اور بئر اِہاب ایک کنواں ہے مدینہ طیبہ سے جانب مغرب میں ہے اس کنویں میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنا لعاب مبارک ڈالا تھا اس کنویں کو مدینہ طیبہ کا زمزم کہا جاتا تھا اور اُس کا پانی بہت لوگ مثل ماء زمزم کے شہروں اور اطرافِ عالَم میں لے جایا کرتے تھے جیسا کہ ارشاد الساری الی مناسک ملا علی قاری ، ص: ۷۴۱و ص: ۷۴۲/ میں بسط و تفصیل سے ہے اس کنویں کے پانی کو شفاء کی امید سمجھ کر پینا بلاشبہ درست ہے۔
حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے گھر میں ایک کنواں تھا۔ آپ نے اس میں اپنا لعاب دہن ڈال دیا تو اس کا پانی اتنا شیریں ہو گیا کہ مدینہ منورہ میں اس سے بڑھ کر کوئی شیریں کنواں نہ تھا(زرقانی ج۵ ص ۲۴۶

-: لعابِ دہن
آ

پ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا لعابِ دہن (تھوک) زخمیوں اور بیماریوں کے لئے شفاء

اور زہروں کے لئے تریاقِ اعظم تھا۔ اس کا زہر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لعابِ دہن سے اتر گیا اور زخم اچھا ہو گیا۔۔ حضرت رفاعہ بن رافع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی آنکھ میں جنگ بدر کے دن تیر لگا اور پھوٹ گئی مگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لعاب دہن سے ایسی شفا حاصل ہوئی کہ درد بھی جاتا رہا اور آنکھ کی روشنی بھی برقرار رہی۔(زاد المعاد غزوه بدر)
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چہرے پر تیر لگا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس پر اپنا لعاب دہن لگا دیا فوراً ہی خون بند ہو گیا اور پھر زندگی بھر ان کو کبھی تیر و تلوار کا زخم نہ لگا۔(اصابه تذکره ابو قتادہ)
کسی بیمار کے جسم کی جلد خراب ہوجاتی تو حضور ﷺ کا لعاب دہن لگا یا جاتا تو جلد خوشبودار بن جاتی اور جلد کی بیماری دور ہوجاتی۔ لعاب دہن کی برکات بے شمار ہیں لیکن صرف دنیا والوں کو بتا نے کے لیے چند برکات کا ذکر کر دیا ہے ۔صحابہ کرام کو لعاب دہن سے بڑی محبت تھی۔ حضرت غروہ بن مسعود ، حضرت مسعود اور حضرت مردان رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول پاکﷺ حدیبیہ سے تشریف لائےحدیث بیان کرتے ہوئے نبی کریمﷺ نے جب بھی لعا ب دہن پھینکا تو وہ ان میں سے کسی آدمی کے ہاتھ پر گرا جسے وہ اپنے منہ اور جسم پر مل لیتا ۔

لکنت زبان ٹھیک ہونا۔

کنزالعمال:جلد ہفتم:حدیث نمبر 777 مکررات 0 متفق علیہ 0
٣٦٨٦٢۔۔۔ بشیر بن عقربہ (رض) کی روایت ہے کہ میرے والد عقربہ (رض) غزوہ احد میں شہید کر دئیے گئے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا میں رو رہا تھا آپ نے فرمایا : اے حبیب ! کیوں رو رہے ہوں کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کر میں تمہارا والد ہوں اور عائشہ تمہاری ماں ہے میں نے کہا : جی ہاں یا رسول اللہ ! میرے باپ آپ پر قربان جائیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا آپ کے یاتھ پھیرنے کا نشان سیاہ تھا جب کہ باقی سارا جسم سفید تھا میری زبان میں لکنت تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے منہ میں تھوکا جس سے لکنت جاتی رہی مجھ سے میرا نام پوچھا : میں نے کہا : میرا نام بحیر ہے فرمایا : بلکہ تمہارا نام بشیر ہے۔ (رواہ البخاری فی تاریخہ وابن مندہ)
سیدنا ابو ذر غفاریؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریمؐ سے سنا: کہ زمزم کا پانی مبارک اور برکتوں والا ہے، بھوک میں کھانے کا کام دیتا ہے اور بدن کو غذائیت فراہم کرتا ہے۔رسول کریمؐ کا ارشاد پاک ہے کہ زم زم کائنات ارضی کا بہترین پانی ہے، جو بھوک میں کھانا اور ہر مرض میں شفا ہے۔زم زم پینے کے بعد پانی کو چہرے پر ملنا اور سر پر ڈالنا بھی آپؐ کی سنت مبارکہ ہے۔امام ترمذیؒ فرماتے ہیں کہ زم زم پینے والا اگر شفا کی نیت سے زم زم پئے تو شفا حاصل ہوتی ہے۔ اصلاح اخلاق کے لئے پئے تو حسن خلق پیدا ہوتا ہے، سینہ کی تنگی میں پئے تو شرح صدر حاصل ہوتا ہے۔ ظلمت دل مٹانے کو پئے تو نورانیت پیدا ہوتی ہے۔ تکالیف میں پئے تو آرام حاصل ہوتا ہے۔ غرضیکہ پیتے وقت جو نیت کرلی جائے، اس کے مطابق فوائد و برکات حاصل ہوتے ہیں۔ مدینہ کے تاجدار، رسول کریمؐ جب زم زم کے کنویں پر تشریف لائے زم زم کا ایک ڈول نکالا، اس میں سے پانی نوش جاں فرمایا، پھر اور سیراب ہوکر پیا، پھر اپنے منہ سے ایک گھونٹ کی اس ڈول میں کلی فرما دی اور پھر وہ ڈول زم زم کے کنویں ڈال دیا۔صحابہؓ منتظر تھے کہ آپؐ کا بچا ہوا زم زم کا متبرک پانی ہمیں ملے گا، لیکن کونین کے آقاؐ کی شفقت دیکھئے۔

کمزور اونٹ اور لعاب دہن کی برکت

29969 ۔۔۔ معاذ بن رفاعہ بن رافع اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : میں اور میرا بھائی خلاد بدر کی طرف جانے کے لیے گھر سے نکلے اور ہم اپنے ایک کمزور سے اونٹ پر سوار تھے حتی کہ جب ہم روحاء کے قریب پہنچے اونٹ بیٹھ گیا میں نے کہا : یا اللہ اگر ہم مدینہ واپس آگئے اس اونٹ کو ذبح کرکے لوگوں میں تقسیم کریں گے ہم یہیں پریشانی کے عالم میں تھے کہ اتنے میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس سے گزرے فرمایا : تمہیں کیا ہوا ؟ ہم نے اپنی پریشانی کے متعلق آپ کو آگاہ کیا کہ ہمارا اونٹ کمزور ہے وہ بیٹھ گیا ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سواری سے نیچے اترے اور وضو کیا پھر وضو کے پانی میں تھوکا پھر ہمیں اونٹ کا منہ کھولنے کا حکم دیا ہم نے اونٹ کا منہ کھولا آپ نے منہ میں پانی انڈیلاپھر اونٹ کے سرپر پانی ڈالا پھر گردن پر پانی ڈالا پھر گردن پر پانی ڈالا پھر دونوں کندھوں کے درمیان بالائی حصہ پر پانی ڈالا پھر کوہان پر ڈالا پھر سرینوں پر ڈالا پھر دم پر وضو کا پانی ڈالا پھر فرمایا : یا اللہ ! رافع اور خلاد کی سواری کو ہمت عطا فرما ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگے بڑھ گئے ہم بھی کوچ کرنے کے لیے کھڑے ہوگئے اور اونٹ پر سوار ہو کر چل دیئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نصف راستے کی مسافت پر ہم نے جالیا پھر ہم سواروں کے آگے آگے جانے والی جماعت میں شامل ہوگئے جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں دیکھا ہنس پڑے اور ہم آگے بڑھ گئے حتی کہ ہم بدر پہنچ گئے جب بدر کی وادی کے قریب ہوگئے اونٹ بیٹھ گیا ہم نے کہا : الحمد اللہ ! ہم نے اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت صدقہ کردیا ۔ (رواہ ابو نعیم)

لعاب مبارک اور زمزم
کہ پوری امت کو یاد رکھا اور اپنا مقدس لعاب دہن زم زم کے کنویں میں ڈال دیا، تاکہ ساری امت اس میں سے پیتی رہے۔ نور علی نور ہوگیا۔ زم زم کتنا مبارک پانی ہے اور پھر اس میں وہ لعاب شامل ہوگیا، جو سانپ کے کاٹے کے سبب سیدنا صدیق اکبرؓ کی ایڑی میں لگا تو ایڑی میں شفا ہوگئی۔ وہ مبارک لعاب دہن جو سیدنا علی المرتضیٰؓ کی دکھتی آنکھوں میں لگا تو خدا کے کرم سے شفا ہوگئی۔ وہ مبارک لعاب دہن جو ایک کنویں میں ڈالا گیا، جس کا پانی بہت کم اور نیچے تھا تو وہ لبالب ہوگیا۔ وہ مبارک لعاب دہن جو سیدنا حسنین کریمینؓ، ابن بن زبیرؓ کے منہ میں تحنیک (نومولود کے لئے گھٹی) کے لئے ڈالا گیا تو خدا نے ان کے سینوں کو روشن کردیا۔ وہ مبارک لعاب دہن کہ لٹکے مشکیزہ سے آپؐ نے پانی پیا تو ام ہانیؓ نے برکت کے لئے اس مشکیزہ کا وہ چمڑا کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیا تھا جہاں آقائے کون و مکان، سید الرسلؐ کا مبارک لعاب دہن لگا تھا۔ جان محبوب دو عالمؐ پر ہر جان قربان، ہر روح فدا ہر گل تصدق اور ہر گلشن قربان۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.