قدیم عربی نظام طب پر ایک نظر حکیم ظل الرحمن۔ پیش کردہ:۔حکیم قاری محمد یونس شاہد میو منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

قدیم عربی نظام طب پر ایک نظرحکیم ظل الرحمن۔پیش کردہ:۔حکیم قاری محمد یونس شاہد میو منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

قدیم عربی نظام طب پر ایک نظر

قدیم عربی نظام طب پر ایک نظر حکیم ظل الرحمن۔ پیش کردہ:۔حکیم قاری محمد یونس شاہد میو منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان
قدیم عربی نظام طب پر ایک نظر
حکیم ظل الرحمن۔
پیش کردہ:۔حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

قدیم عربی نظام طب پر ایک نظر

حکیم ظل الرحمن۔
پیش کردہ۔
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کاہنہ نو لاہور پاکستان

اکثر مولفین کی رائے کے مطابق قرون وسطی کا اطلاق پانچویں صدی میں رومی شہنشاہیت کے خاتمہ کے بعد سے پندرہویں صدی کے وسط تک ہوتا ہے۔ اس کی ابتدا میں عالم انسانی کا سب سے مہتم بالشان واقعہ اسلام کا ظہور، تمام دنیا میں اس کی بسرعت اشاعت اور عرب میں ایک نئی روح اور وحدت کا قیام ہے۔
622ء میں اسلامی نظام قائم ہونے کے بعد جہاں عرب میں ذہنی، فکری اور سیاسی انقلاب بپاہوا۔ وہاں تہذیب و ثقافت، زبان و ادب اور علم و فن نے دہ ارتقائی منزلیں طے کیں، جن کی نظیر پیش کرنے سے گزشتہ تاریخ قاصر ہے۔ طبیعی علوم میں طب اور علم الادویہ پر اس کے اثرات سب سے زیادہ نظر آتے ہیں۔ ان کی توسیع و اشاعت میں جو شاندار خدمات وہاں انجام پائیں وہ تاریخ کے صفحات پر بھری ہوئی ہیں۔ ان کا یہ عہد نہ صرف عربی طب وعلم الادویہ کے لیے بلکہ طب کی پوری تاریخ کے لیے سرمایہ افتخار ہے۔
عرب طب کے مطالعہ میں عام طور پر عباسی عہد کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ عہد اس سے قبل عرب طب مور خین کی خصوصی دلچسپی کا موضوع نہیں بن کی ہے۔ عبای عہد میں بھی چند شہرہ آفاق اطباء مثلا علی بن ر بن طبری، محمد بن زکریارازی، ابو سہل تھی اور ابن سیناتک مطالعہ محدود ہے۔ اس عہد کے دوسرے اطباء کی تصانیف اور ان کے کارنامے اپنی رونمائی و اظہار کے لیے
۔۔۔۔
محققین کی توجہ کے منتظر ہیں۔ ان مشاہیر اور خود ابن سینا پر تنقیدی کام کے نقطہ نظر سے قدیم طلمی سرمایہ کے جائزہ کی ضرورت پوری طرح محسوس کی جانی چاہئے۔ ابن سینا کے ماخذ کی تلاش اور قدیم ذخائر کوکھنگالے بغیر ابن سیناکی فنی قدر و منزلت کا تعین اور اس کی ذاتی تحقیق اضافہ کے بارے میں کچھ کہنا صحیح نہیں ہوگا۔
عربوں کے عہد زریں (عبد عباسی) آٹھویں صدی سے قبل عربی طب کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ دور قبل از اسلام، دور نبوی و خلافت راشدہ، اور دور اموی۔ در اصل تینوں دور خالص عربی اور دیسی طب سے تعلق رکھتے ہیں۔ عربی طب کا صحیح اطلاق بنوامیہ تک رہا۔ اس کے بعد قدم
عربی نظام طب ختم ہو کر عہد عباسی سے طب کا ایک نیادور شروع ہوا جس میں مقامی اثر سے زیادہ مصر و بابل، یونان وروم اور ایران و ہند کے اثرات کی کار فرمائی تھی۔ اس دور کو عربی کے مقابلہ میں اسلامی سے تعبیر کرنازیادہ قرین صحت ہے۔ ان تینوں ادوار کا جائزہ عرب طب کے مطالعہ میں بنیادی اہمیت کا حامل ہوگا اور اس سے بعد کی ترقیات کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

عہد قبل از اسلام ۔

دوسری ہم عمر اقوام کے مقابلہ میںلغت اور زبان کے سواعربوں کا علوم سے رشتہ استوار نہیں تھا اور علمی، تہذبی اور طبی لحاظ سے وہ کوئی ممتاز حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ ظہور اسلام سے سیکڑوں سال پہلے سے گو وہ ایک نظام طب کے مالک چلے آرہے تھے اور علم الحشائش والعقاقیر کی صورت میں ان کے ہاں طب کی روایت ضرور قائم تھی، جس میں ان کی ذاتی معلومات و تجربات کے ساتھ کلدانی طب کے اثرات کی کسی قدر آمیزش پائی جاتی تھی(1)۔ لیکن دوسری علمی و فنی معلومات کی طرح ان کی طبی معلومات نہایت مختصر اور حدود تھیں، جزیرۃ العرب کے جغرافیائی محل وقوع سے زیادہ اہل عرب کی مخصوص ذہنی و فکری تربیت کی وجہ سے یونانی، مصری، ہندی یہاں تک کہ ایرانی علوم کا اور وہاں بہت کم نظر آتا ہے۔ اگرچہ دوسرے ممالک سے ان کے تجارتی روابط کا سلسلہ زمانہ دراز سے قائم تھا اور ہندستان کے ساحلی علاقوں تک ان کے تجارتی قا فلے آتے تھے۔ ہندستان سے جو تجارتی اشیاء عرب جاتی تھیں ان میں صندل، کافور، جوزبو، قرنفل، نار جیل، کہا بہ، یاقوت، مروارید فلفل، رصاص (قلعی) تاڑی،قسط، بید(2)، ہیل، ریوند چینی، جاوتری، دار چینی، توتیا،زنجبیل، ہلیلہ، بلیلہ، بھلانوہ، فوفل، نارگی، لیموں اورنیل میں طبی استعمال کی چیزیں تھیں۔


عرب قدیم میں علاج کے دوقسم کے طریقے پائے جاتے تھے۔

(1)- طريقہ الکہان: اس میں جادو،منتر، دعا، تعویز، کعبہ میں جانوروں کی قربانی اور نذرونیاز کے ذریعہ ازالہ مرض کی کوشش کی جاتی تھی۔ بدوی عرب جو جادو اورسحر سے کام لیتے تھے تکلیف کی جگہ عام طور پر اپنا لعاب دہن لگاتے تھے۔ ای جی براؤن نے مثال کے طور پر عربی شاعر جریر کا یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ اس نے اپنی بیٹی ام غیلان کی شادی ابلق نام کے ایک سات سے صرف اس لے کر دی تھی کہ اس نے اپنے سحر کے ذریعے جریر کو مر ضی شری (پتی،الرجی)سے نجات دلائی تھی(3)۔ اس قسم کے معالجے نفسیاتی علاج کے زمرے سے تعلق رکھتے ہیں۔

(2)طریقہ علاج حقیقی:

اس میں جڑی بوٹیوں سے علاج کے ساتھ ہی اعمال اليد (سر جری) سے کام لیا جاتا تھا۔ فصد، حجامت، کئی اور بتر وغیرہ ان کے معمولات میں شامل تھے ۔ داغ دینے اور عمل کی کووہ آخری علاج سمجھتے تھے۔ ,آخر الدواء الکئی: ان کا مشہور مقولہ تھا۔
انہی دو طریقوں کے مطابق اطباء کے پاس علاج کے دصندوق رہنے تھے۔ ایک میں عقا تیر اور جڑی بوٹیاں اور دوسرے میں جنتر اور تعویزسے متعلق چیزیں ہوتی تھیں۔
ان کے معالجات میں حول کے علاج میں گھومتے ہوئے چکی کے پاٹ پر مستقل نظر جمائے رکھنا ہے۔ ان کے خیال میں ایسا کرنے سے آنکھ سیدھی ہو جاتی ہے۔ اسی طرح خدر کا مریض جس کے اعضا میں حرکت کی طاقت نہیں رہتی ہے اگر اپنے محبوب ترین کو بلائے تو اس سے مرض میں فائدہ ہوتاہے۔خود سرزمین عرب میں جو دوائی پودے پائے جاتے تھے ان میں مر(مکی) بلسان، جھائو، مقل(مکی)سناء (مکی) زنجبیل، یاسمین ،نحل، نیلوفر، فوہ، اجوائن خراسانی،فلفل،صبر ، بادنجان، انار، لوز(بادام)، پستہ، سیب، بہی، کشمش، انجیر، گل سرخ، شقائق النعمان، بنفشہ،،نرگس، صمغ عربی، کندر، اذ خر وغیرہ ہیں۔(4)
عربوں کی قبل از اسلام تاریخ کا واحد ذریعہ ان کے شعراء کا کلام یا سید سلیمان ندوی کے الفاظ میں ”عرب جاہلیت کا سب سے محفوظ سرمایہ قرآن پاک ہے جو اس وقت سے آج تک ہر تحریف و تغیر سے پاک موجود ہے(5)۔ لیکن قرآن کا یہ موضوع نہیں ہے تاہم قرآن میں ضمنی طور پر جو باتیں بیان کی گئی ہیں ان سے بعض طبی معلومات اخذ کی جاسکتی ہیں۔
قرآن نے نہ صرف تزکیہ نفس اور تصفیہ روح کے لیے بلکہ بدن اور طب و حفظان صحت سے متعلق ہدایات دی ہیں۔ قرآن میں متعدد ایسی آیات ہیں جو لوگوں کی بہتری اور ان کی جسمانی، دماغی اور روحانی اصلاح سے تعلق رکھتی ہیں۔ ”إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ (سورہ البقرة، آیت ۳) لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ” (سورة النساء، آیت ۴۳) شراب اور دیگر منشیات خون، مردار جانور، لحم خنزیر کے استعمال کی ممانعت، كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ (سورہ البقرہ، آیت(172)اچھی غذاؤں کے استعال کی ہدایت، وَكُلُواْ وَٱشْرَبُواْ وَلَا تُسْرِفُوٓاْ (سوره الاعراف31)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھانے پینے میں اعتدال کالحاظ ، شہد کے لیےفِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ ۗ (سورہ النحل، آیت ۱۹) اور فولاد کے لیےوَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ(سورہ الحدید، آیت ۲۵) اور اسی طرح دوسرے طبی احکام و مسائل بیان کئے گئے ہیں۔
قرآن میں شہد کے علاوہ دوسری دواؤں مثلا انجیر، انار، زیتون، مروارید، مرجان ،ز قوم ، دودھ وغیرہ کے نام بھی آئے ہیں۔ ہماری دلچسپی کاخاص پہلویہ ہے کہ ان میں بعض ہندی الاصل دوائیں ہیں۔ چنانچہ کافور کو جوکپور کا معرب ہے، مسک کو جو موشکا سے مستعار لیا گیا ہے اور ززنجبیل کو جوزنجابرر کی بدلی ہوی شکل ہے، قرآنی الفاظ بننے کا شرف حاصل ہے۔ احادیث میں بھی ہندی ادویہ قسط ہندی، عود ہندی، تمر ہندی کے نام ہندی نسبت کے ساتھ ملتے ہیں۔ تمرہندی نے عربی ہی کے واسطے سے یورپ پہنچ کر Tamerind کی شکل اختیار کی۔ طب کے تعلق سے یہ قدیم عربی معلومات ہیں جو ہمیں کچھ اس دریعہ سے حاصل ہوتی ہیں۔
قرآن نے علم کی طرح جسمانی صحت کو پوری اہمیت دی ہے۔قَالَ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ ۖ (۲۔۲۴)قرآن نے حفظان صحت اور مرض کا پورا خیال رکھا ہے۔ مذہبی اعمال میں دوران مرض احتیاط چھوٹ اور پرہیز کی ہدایت کی ہے۔ معذور لوگوں مثلانابینا اور لنگڑے افراد کے ساتھ مریض کو فرض کی ادائیگی سے مستنسنی کیا ہے۔ لَّيْسَ عَلَى ٱلْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى ٱلْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى ٱلْمَرِيضِ حَرَجٌ (النور، آیت ۹۱) زمانہ مرضی اور مسافرت میں روزہ سے باز رکھاہےفَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ(البقرة آیت ۱۸۴) اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں اس تعداد کو پورا کرے۔
حج کے مناسک میں بھی مریض کو چھوٹ دی گئی ہے {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ) (البقرہ، آیت ۱۹۷) اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا کسی کے سر میں کوئی تکلیف ہو اسے چاہے کہ روزہ، صدقہ یا قربانی کے ذریعہ اس کا فدیہ ادا کرے۔ حالت احرام میں سرمنڈوانے کی ممانعت ہے۔ لیکن اگر سر میں کوئی تکلیف ہے تواس آیت کے ذریعہ سر منڈوانے کی اجازت دی گئی ہے۔ تاکہ مسامات کھل جائیں مواد دور ہو سکے اور دو الگانے کی گنجائش ہو(6)خود آنحضرت کے بارے میں بخاری میں ابن عباس کے حوالہ سے ملتاہے کہ انہوں نے بحالت احرام شقیقہ کے سبب سر میں پچھنہ لگویا تھا۔
اسی طرح مرض اور ضرر کی صورت میں وضویا غسل کے بجائےتمیم یعنی مٹی سے کام لینے کی اجازت دی گئی ہے(وَإِنْ كُنتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ الْغَائِطِ أَوْ لامَسْتُمْ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيداً طَيِّباً)(النساء، آیت ۳۳)اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو……………………… اور پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے کام لو“۔ تدارک مرض اور حصول شفا کے سلسلے میں قرآن کی یہ آیتیں بے حد معنی آفریں ہیں ان سے حفظان صحت، پرہیز اور استفراغ مادہ کی بنیادی ہدایتیں ملتی ہیں،قرآن نے انسانی زندگی کو بچانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ جس نے ایک انسان کی زندگی بچائی اس نے گویاپوری انسانیت کوبچایاوَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا (سوره مائده، آیت ۳۲)تخلیق انسان، تشکیل جنین اور مدارج نشو و نما پر قرآن نے جس بلیغ اور سائنسی انداز میں معلومات پیش کی ہیں وہ دور حاضر میں سائنسی اور طبی ماہرین کے لیے باعث حیرت ہیں۔ خلق الانسان من علق (سوره اقرا) لقد خلقنا الانسان في أحسن تقویم (سورہ تین، آیت۴)ہم نے انسان کوبہترین شکل و ساخت پر پیدا کیا۔ خلق من ماء دافق يخرج من بين الصلب والترائب (سورہ طارق، آیت ۵ تاے) انسان کو ایک اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیاہے جو پیٹ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے
{وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ (12) ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ (13) ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنْشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ (14)} [المؤمنون: 12 – 14] (سورہ مومنون، آیت ۱۴۳۴)”ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے بنایا، پھر اسے ایک محفوظ جگہ میں نطفہ بنا کر رکھا، پھر نطفہ کا لوتھڑا بنایا، پھر لوتھڑے کی بوٹی بنائی، پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا، پھر اسے ایک دوسری مخلوق بنا کر کھڑا کر دیا۔ پس بڑاہی برکت والا ہے اللہ سب خالقوں سے اچھاخالق ۔
شعراء عرب کا کلام نہایت اہم طبی ماخذ ہے۔ اس ذخیرہ ادب میں جو بیش قیمت مواد محفوظ ہے اس سے طبی تاریخ دانوں کو ادویہ پر تحقیق کا ایک نیا میدان فراہم ہو سکتا ہے۔ دوسری تیسری صدی ہجری میں جس طرح اطباءطب و ادویہ پر قابل قدر کام کر رہے تھے، ادباء لغت کی تدوین کے سلسلہ میں کلام عرب میں وار ونباتات، حشائش و عقا قبر کے اسامی کو قلم بند کرنے کے ساتھ ساتھ ضمنا ان کے خواص و اثرات کا بھی تذکرہ کرتے جاتے تھے ۔ دیسی عربی طب کے مفردات کے مطالعہ میں قدیم زبان و لغت کی بنیاد اس ادبی سرمایہ سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا ادویہ کے بارے میں عربوں کی قدیم معلومات کا یہ ایک مستند ذریعہ ہے۔ مثال کے طور پر امراء القیس کے معلقہ کا
كمشہور شعر ہے
كأني غداةَ البَيْنِ يومَ تَحَمَّلوا … لدى سَمُراتِ الحَيِّ ناقِفُ حَنْظَلِ۔
الدر المصون في علوم الكتاب المكنون (1/ 66)
عرب میں مشہور تھا کہ خطل کے پھل کو توڑ کر اس کے نہ نکالنے (النقف) میں آنکھوں سے پانی بہنے لگتا ہے۔ جب تک اس نباتیاتی خاصیت پر نظر نہ ہو شعر میں بند کی تشبیہ کی داد نہیں دی جاسکتی ہے۔یالبید بن ربیعہ کے معلق کا شعر ہے ۔
فتوسَّطا عرضَ السَّريَّ وصدَّعا۔۔۔مسجورة ً متجاوراً قُلاَّمُهَا
جب تک قلام کی حقیقت معلوم نہ ہو جو ایک قسم کی گھاس ہے، اس شعر کا | سمجھنا دشوار ہے۔ نباتات کے سلسلہ میں ادبی سرگرمیوں کے علمبردار اہل لغت تھے، جنہوں نے قرآن و حدیث نیز کلام عرب میں مذکور نباتیاتی حوالوں کی لغوی تحقیق کی۔ اس قسم کی ادبی تحقیقات صدر اسلام ہی سے شروع ہو گئی تھیں۔ مگر با قاعدہ تصنیف و تالیف کا کام دوسری صدی ہجری سے شروع ہوا۔ غالباََ عربی زبان کی پہلی لغت “کتاب العین(7)» خلیل بن احمد فراہیدی (۷۰۔۵۹ /۷۸۹۔ ۷۷۴ھ) نے تصنیف کی۔ مگر یہ عام قاموس تھی بعد میں ادباء نے مخصوص و متفرق اشیاء کے ناموں کی قوامیس مرتب کرنا شروع کیں، چنانچہ فلکیات کے سلسلہ میں “کتب انواء” اور حیاتیات کے سلسلہ میں مختلف حیوانات و نباتات پر کتابیں لکھی گئیں۔ یہ گویا تاریخ طبیعی کے سلسلہ میں مسلمانوں کی کاوشوں کا آغاز تھا، لیکن نباتات سے پہلے حیوانات کی قوامیس کا ذکر ملتا ہے، جیسے ابو مالک عمرو بن کر کر ہ کی کتاب الخیل، ابوذیاد کلابی کی کتاب الابل، ابوخیرہ کی کتاب الحشرات ، ربعہ بصری کی کتاب” ما قيل في الميات” وغیرہ۔
نباتیات کے سلسلہ میں سب سے پہلے جس مصنف کی تالیف کا ذکر ملتا ہے وہ نضر بن شمیل (وفات ۵۲۰۳ /۸۱۸) ہے۔ عرب ادباء کی دو جماعتیں تھیں۔بصریین اور کوفیین۔ نضر بن شمیل بصری جماعت سے تعلق رکھتا تھااس جماعت بصریین کے جن افراد نے اس موضوع پر کتابیں لکھیں ان کے نام حسب ذیل ہیں: ۔
(1)نضربن شمیل:اس نے لغت پر متعدد اجزاء پر مشتمل ایک مبسوط کتاب لکھی تھی۔ اس کا پانچواں جزو نباتات پر تھا۔ ابن ندیم اس کی تصانیف کے ذکر میں لکھتا ہے اس کی کتابوں میں کتاب الصفات کے نام سے ایک ضخیم کتاب ہے جو متعدد اجزاء پر مشتمل ہے اس کا پانچواں جز” زرع“کرم (انگور) اور ترکاریوں اور درختوں کے ناموں سے متعلق ہے(8) نضر بن شملی کی خوشہ چینی کوفی جماعت کے ادیب ابو عبید قاسم بن سلام نے کی تھی۔ اس کا ذکر آگے آرہاہے۔
2۔ اسی زمانہ کا ایک کثیر التصنيف لغوی اور ادیب ابو عبيد معمر بن ،مثنی (وفات ۴۱۰ھ /۸۲۵ء) تھا۔ اس نے مختلف ابواب کے تحت قوامیس مرتب کیں، ان میں ایک قاموس کانام “کتاب الزرع” ہے۔ اس کی تصانیف میں کتاب الحیوان، کتاب النخیل، کتاب الابل بھی ہیں۔(9)
. ۳- ابوزید سعید بن اوس انصاری (وفات ۴۱۵ھ /۸۳۰ء) ابو عبیدہ کے متوسلین میں تھا۔ اس نے بھی متعدد قوامیس مرتب کیں، جن میں سے دو نباتات پر تھیں ایک کتاب النبات والشجر ، دوسرے کتاب التمر ۔ ان کے علاوہ کتاب الابل والشاء اور کتاب البن بھی ہماری دلچپسی کی ہیں۔(10)حسب تصریح ابن خلکان، محمد بن سعد نے طبقات میں ابوزید کی کتاب النبات کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے۔ ابوزید کی ادب میں مفید تصنيفات ہیں۔۔ میں نے نباتات میں اس کی بہترین کتاب دیکھی ہے، جس میں عجیب و غریب نباتات جمع کئے گئے ہیں۔“
۴- اصمعی: ابوزید کا معاصر تھا۔ اس کا نام عبد الملک بن قریب (وفات ۵۲۱۳ /۲۲۸ء) ہے۔ اس نے بھی متعدد قوامیس مرتب کی تھیں جن میں
ایک نباتات پر تھی کتاب النباتات والشجر “۔ اس کی دوسری کتابوں میں كکتاب الشاء، کتاب الخیل، کتاب الابل ہیں۔
5۔ احمد بن حاتم (وفات ۸۳۵ / ۵۲۳۱ ء) ابو عبیدہ اور ابوزید سے روایت کرتا ہے۔ اس کی مرتبہ قوامیس میں دو نباتات پر ہیں۔ کتاب الشجر والنبات اور کتاب الزرع والنخل۔ حیوانات پر بھی یہ دو کتابوں کا مصنف ہے۔ کتاب الابل اور کتاب الخیل۔(12)
6 ۔ ابوحاتم سجستانی (وفات ۵ ۵۲ /۱۲۸ء) ابو عبیدہ، ابوزید اور اصمعی کے شاگردوں میں تھا۔ اس کا شمار لغت و شعر کے بڑے عالموں میں ہے۔ متعدد قوامیس مرتب کی ہیں۔ جن میں سے مندرجہ ذیل نباتات پر ہیں۔
ا۔ کتاب الشجر -2۔ کتاب النخلہ ۳۔ کتاب الزرع4۔ کتاب الکرم ۵۔ کتاب العشب والبقل۔
(ب)۔ کوفی جماعت میں پہلا شخص جس کے متعلق نباتیات پر لکھنے کا تذکرہ ملتا ہے، ابن الاعرابی (۲۳۱۔ ۱۵۰ھ /۸۴۵-۹۷ء) ہے۔ وہ قاسم بن معن اور مفضل ضمی کا شاگرد تھا۔ ابوالعباس ثعلب نے لکھا ہے کہ اس کی مجلس میں کم و بیش سو آدمی بغرض استفادہ شریک ہوتے تھے۔ حافظہ کا یہ عالم تاکہ ہرشخص کے سوال کا جواب بغیر کتاب دیکھے دیتا تھا۔ اس نے نباتیات پر متعدد کتابیں لکھیں ہیں۔
کتاب صفۃ النخل۔ کتاب صفۃ الزرع۔ کتاب النبات۔ کتاب النبت والبقل۔
2۔ ابو عبد القاسم بن سلام (وفات ۵۲۲۴ /۸۳۸ء) کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ اس نے ابن الا عرابی، ابو زیاد کلانی، ابو عمر شیبانی، کسائی، فراء، اصمعی، ابو عبیدہ اور ابوزید سے روایت کی ہے۔ اس کی کتاب “غرب المصنف“ نضر بن شمل کی کتاب الصفات سے ماخوذ تھی، جس کا پانچواں جزو نباتات پر تھا ۔ ؟
۳۔ ابن السکیت (وفات ۲۴۹ھ/۸۹۰ء) اد باء بغداد میں تھا۔ ادب ولغت میںتبحر سے زیادہ تاریخ میں اپنی صاف گوئی کے لیے مشہور ہے۔
عباسی خلیفہ متوکل بالله نے اس سے پوچھا کہ تجھے میرے بیٹے زیادہ عزیز ہیں یا حضرات حسنین۔ اس نے کہا کہ حسنین تو بڑی چیز ہیں مجھے تو ان کا غلام قنبر بھی زیادہ پیارا ہے) اس نے متعدد قوامیس ترتیب دی تھیں، جن میں “کتاب النبات والشجر “نباتیات پر تھی۔(15)
4- مفضل بن سلمہ۔ متوکل باللہ کے ندیم فتح بن خاقان کے متوسلین میں سے تھا۔ ابن الاعرابی کا شاگرد ہے۔ اس نے خلیل بن احمد فراہیدی کی کتاب العین کا استدراک لکھا تھا(16)۔ یہ بھی عربی ادب کے کثیر التصنيف قاموس نگاروں میں ہے۔ اس کی مرتب کردہ قوامیس میں سے کتاب الزرع والنباتات وانخل وانواع الشجر “نباتیات پر تھیں۔(17)
(ج) ادباء کی ایک تیسری جماعت تھی، جس نے بصریین اور کوفیین دونوں کے مذہب کو ملادیا تھا۔ ان میں درج ذیل شخصیتیں خاص ہیں۔
ا۔ ابو حنیفہ الدینوری (وفات ۴۸۱ھ /۸۹۴ء) بہت اہم مصنف ہے۔ ادب کے علاوہ تاریخ ، ہندسہ ، ہیئت، حساب، علوم ہند اور نباتیات میں بھی بید طولی رکھتا تھا اس کی کتاب النبات کو بہت شہرت حاصل ہے۔ ابن ندیم نے لکھا ہے کہ اس کی وجہ سے علماء اس کی فضیلت کا لو ہاہانتے تھے(18)۔ خاص بات یہ کہ اقسم کی کتابوں سے آگاہی اور ان کا اثر طبی مصنفین کے یہاں نظر نہیں آتا ہے لیکن ادبی ذخیر ہ کی یہ واحد کتاب ہے، جس کے حوالے کثرت سے اطباء نے پیش کئے ہیں اور ان کی طرف سے اس کی فنی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔
۲- اس مخلوط انداز فکر کا ایک اور نمائندہ ابو موسی سلیمان بن محمد الحامض تھا۔ یہ ثعلب کے تلاتذہ میں تھا لیکن اس نے بصریین سے بھی استفادہ کیا تھا۔
اس کی مرتبہ قوامیس میں سے ایک نباتات پر تھی۔ ابن ندیم نے اس کا نام کتاب النبات بتایاہے(19)
3۔اسی مکتب فکر کا تیسرا نمایندہ ابو عبد اللہ المضتجع تھا۔ جو ثعلب کا شاگرد تھا۔ اس کے علاوہ اس نے اور ادباء سے بھی استفادہ کیا تھا، ابن ندیم نے اس کی تصانیف میں نباتات پر کتاب الشجر والنبات کا ذکر کیا ہے۔(20)
(د) ادباء لغت کے علاوہ زبان وادب کے دوسرے ماہرین نے بھی نباتیات پر کتابیں تصنیف کی ہیں:
۔1 ۔ ان میں ایک ممتاز شخصیت ابوالقاسم البستی ہے۔ ابن ندیم نے اس کی تصانیف میں اس موضوع پر ایک کتاب کا تذکرہ کیا ہے۔ جس کا نام کتاب الاشجار والنبات ہے۔(21)
2۔ ان میں ایک نام محمد بن حبیب ہے جس کی کتاب النبات کے علاوہ ایک کتاب الخیل بھی ہے۔(22)
3۔ اسی طبقہ کا ایک فرد المرزبانی (۳۶۸-۵۲۹۷ /۱۹۰۹۹۸۸) تھا، جو ابن ندیم کا ہم عمر اور اس کے قول کے مطابق بڑاہی راست گو مورخ تھا۔ اس کی ادبی تصانیف میں ابن ندیم نے کتاب الانوارالثمار کو بتایا ہے۔ جو تقر یا پانچ سو اوارق میں تھی۔ اس میں گلاب ، نرگس اور دوسرے پھولوں کے متعلق جو اشعار کہے گئے ہیں، ان کے بارے میں جو آثار و اخبار ملتے ہیں، انہیں جمع کیا گیاہے۔ اس کے بعد پھلوں اور کھجوروں کا ذکر ہے، نیز ان کے متعلق جو منظوم و منثور کلام ہے ایسے جمع کیا ہے۔(23)
عرب میں تعلیم و تعلم کی ساری روایت قلم کاغذ کے بجائے چونکہ زبانی تھی اسی لیے دوسرے علوم کی تالیفات کی طرح کوئی بھی کتاب نہیں تصنیف کی گئی تھی۔ مزید برآں صفحات تاریخ میں کسی طبیب کا تذکرہ بھی محفوظ نہیں ہے۔ ان کے ہاں قدیم طبیب کے طور پر اگر چہ لقمان بن عاد کانام ملتا ہے، جس کے علم و حکمت کے بارے میں قرآن نے بھی شہادت دی ہے۔ ولقد آتينا لقمان الحكمة (سوره لقمن، آیت۲) اسی طرح زہیر بن جناب الحمیری اور ابن حذیم ان کے درمیان محترم اور مشہور طبیب گزرے ہیں ابن حذيم حذاقت فن میں وہاں بطورمثل شہرت رکھتا تھا۔ اس کو اطب العرب کہا گیا ہے۔ اوس بن حجر نے اس کے لیے کہا تھا ۔
فهل لكم فيها إلي فإنني ۔۔۔۔۔طبيب بما أعيا النطاسي حذيما (لسان العرب)
لیکن ان دونوں طبیبوں کے متعلق ہم کچھ جانے سے قاصر ہیں۔
ابن قفطی اور ابن ابی اصیبعہ جیسے طبی مورخین نے پہلے عرب طبیب کی حیثیت سے جس کا حال درج کیا ہے وہ حارث بن کلدہ ثقفی ہے، جو عہد نبوی
سے تعلق رکھتا ہے۔ اس طرح قدیم عرب اطباء کے ناموں پر ایسا پردہ پڑا ہوا ہے کہ ہمارے لیے ان سے واقف ہونے کی کوئی صورت ممکن نہیں ہے۔ حارث محض ایک بدوی طبیب اور عطائی تم کا معالج نہیں تھا، بلکہ با قاعدہ تعلیم یافتہ اور عرب میں طب یونانی کا پہلا نقیب تھا۔ اس نے جندیشاپور کے طبی مدرسہ میں جس کی زبان عربی نہیں تھی، طب کی تعلیم حاصل کی تھی۔ اس سے عربوں میں طبی تعلیم کی ضرورت کے احساس اور دوسری قوموں کے مقابلہ میں نسبتا ایران اور جندیشاپور کے طبی مدرسہ کے اثرات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ایران اور روم کی سرحدیں یوں بھی عرب ممالک سے مل رہی تھیں اور دوسرے ممالک کی بہ نسبت ایران سے ان کا تعلق قائم ہو نا آسان تھا۔ ایران کے علاوہ یمن میں بھی اس کی تعلیم کا حوالہ ملتا ہے۔ چنانچہ ابن جلجل(25) اور قاضی صاعد(26) نے فارسی کے ساتھ یمن میں طبی تعلیم پانے کاذکر کیا ہے۔ حصول تعلیم کے بعد اس نے ایران میں مطب بھی کیا اور اس کے اور یہ کافی دولت بھی کمائی(27)۔
حارث کو ایرانی شہنشاہ نوشیرواں کے دربار میں باریابی اور شرف ہم کلائی کا موقع ملا تھا۔ نوشیرواں سے اس کا طبی مکالمہ بہت دلچسپ اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ ابن ابی اصیبعہ نے اسے نقل کیا ہے۔ حارث نے حتی الامکان دوا سے بچنے اور استعمال کی صورت میں صرف ضرورت کے وقت تک جاری رکھنے کی سفارش کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بلا ضرورت دوا کا استعال بھی موجب مرض ہو تا ہے۔ اس مکالمہ میں تخمہ ، فصد، حمام، حقنہ ، دوا، غذا پانی اور پر ہیز پر اس نے اظہار خیال کیا ہے۔ پھلوں میں انار اور اترج پھولوں میں بنفشہ اور گلاب اور ترکاریوں میں کاسنی اور کا ہو کی اس نے خاص طور پر تعریف کی ہے(28)۔ حارث کے اس مکالمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب اطبا ءنظریہ اخلاط اور مزاج کے علمبردار تھے۔ حارث سے ایک مرتبہ عمر فاروق نے پو چھا طب کیا ہے؟ ۔ اس نے کہا پر ہیز ۔ ”قال عمر بن الخطاب لحارث بن کلدہ وھوکان طبيب العرب ماالطب قال الازم“
دوسرا عرب طبیب نضر بن حارث ہے، جس کے متعلق عام طور پر سمجھا گیا ہے کہ وہ حارث بن کلدہ ثقفی کا بیٹا تھا(29) ای جی براؤن نے مرزا محمد قزوی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ انہوں نے بدلا ئل ثابت کیا ہے کہ وہ حارث بن کلدہ ثقفی کا نہیں حارث بن علقمہ بن کلد ہ کابیٹا تھا(30)۔ قزوینی کے دلائل گو راقم الحروف کی نظر سے نہیں گزرے لیکن اس کی یہ تحقیق میرے نزدیک اس لیے درست ہے کہ نضر بن حارث ابو سفیان کا دوست تھا اور غزوہ بدر میں اپنی سخت اسلام دشمنی کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا، وہ اعتبار تفاوت عمر حارث بن کلدہ ثقفی کا بیٹا نہیں ہو سکتا، جو نہ صرف رسول اللہ اور خلفاء اربعہ بلکہ امیر معاویہ کے عہد تک زندہ رہا۔ جس نے رسول اللہ کے حکم سے سعد بن ابی وقاص کا علاج کیا، جس سے حضرت عمر نے طبی استفسار فرمایا اور بدر کے تقريبا ۴۵ سال بعد امیر معاویہ نے اس سے طبی مشورہ حاصل کیا۔صناجۃ الطرب میں
اس کا شجرہ سامنے آنے سے اس کی مزید تصدیق ہوتی ہے۔ نضربن حارث بن علقمہ بن کلدہ بن عبد مناف بن عبد الدار بن قصی۔(31)
اس کی وفات کے بارے میں اختلاف ہے بعض لوگوں نے شروع اسلام میں فوت ہونے کا لکھا ہے۔(32) اور سال وفات ۳ام / ۲۳۴ ء اور ۲۰ھ/ ۷۴۰ء بیان کیا ہے ۔ لیکن عام طور پر مورخین نے اسے امیر معاویہ کے عہد تک زندہ بتایاہے (34)۔
قدیم عربی طب عطائیت کے زیر اثر تھی ادویہ و معالجہ کے علاوہ نظریات و فلسفہ طب اسی طرح دوسرے طبی موضوعات سے قدیم عربوں کی واقفیت کا کوئی ثبوت فراہم نہیں ہوتا ہے۔ عرب میں جن دواؤں کا استعمال عام تھاان پر کی طبی کتاب سے بھی شہادت نہیں مل سکے گی۔ شعراء عرب کے کلام کے علاوہ اس سلسلہ میں دوسرا مستند ماخذ کتاب احادیث ہیں جن سے قدیم عربی طب اور عرب میں مروج دواؤں کے بارے میں معلومات سامنے آتی ہیں۔


حواشی:
(1)! تاریخ التمدن الا سلامی جلد اول صفحہ ۱۹ :
(2)المسالک والممالک ابن خرداز بہ صفحہ71۔
ـ(3) ار بین میڈیسین بر اون صفحہ17
(4)صناعۃ الطرب صفہ ۲۹۹ ۔
ـ(5) عربوں کی جہاز رانی صفحہ ۳۰ ۔
(6)اس کے پس منظر میں یہ واقعہ ہے کہ آنحضرت عمرہ کی ادائیگی کے لیے تشریف لےجارہے تھے، حالت احرام میں ایک صحابی کعب بن عجرہ کو سر میں جوئیں پڑنے سے تکلیف میں دیکھا آپ نے دریافت کیاایوذيک ہوامک، کیا تمہیں جو ئیں تکلیف دے رہی ہیں۔ انہوں نے عرض کیا جی ہاں! اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور احرام کی حالت میں سر منڈھانے کی اجازت دی گئی۔
(7)۔ اس کتاب کی قدر و منزلت کا یہ عالم تھا کہ ابن ندیم کے مطابق یہ تصنیف جو 184 اجزاء
پر مشتمل تھی، کسی تاجر کے ذریعہ خراسان سے نصرہ کے بازار میں پہنچی اور پچاس دینار میں بکی
(الفہرست صفحہ ۴۲)
(8)الفہرست ابن ندیم صفحہ ۵۴
(9)الفہر ست ابن ندیم صفحہ ۵۴
(10)الفہرست صفحہ 55
(11)الفہرست صفحہ55۔
(12)الفہرست صفحہ 56
(13)الفہرست صفحہ ۵۸
(14)الفہرست صفحہ ۵۲
(15)الفہرست صفحہ73۔
(16)سابقہ کلام سے جو و ہم پید اہو اسے دور کرنا۔
(17)تا(23)الفہرست دیکھئے
(24) نطاس یونانی لفظ کا معرب ہے جس کے معنی عالم طبیب کے ہیں۔
(25) طبقات الاطباء ۵۴
(26) طبقات الامم
(27) مختصر الدول
(28)عیون الابنا جلد اول ۱۱۰
(29)حارث بن کلد ثقفی کے ایک بیٹے کا نام نافع ملتا ہے جس نے حضرت عمر سے بصرہ میں
تجارتی کاروبار شروع کرنے کی اجازت چاہی تھی اور حضرت عمر نے حاکم بصر و عتبہ بن
غزوان کواس کے لیے سفارشی خط لکھا تھا (الاخبار الطوال صفحہ117)
(30)ار بین میڈیسن۔ ای ،جی، براؤن
(31)صناجۃ الطرب صفحہ ۴۲۷
(32)مختصر الدول صفحہ ۱۵۹
(33)صناجۃ الطرب
(34)- تاریخ ملت عرب۔ فلپ ہی صفحہ ۳۸۷ ۳۴
(35)طبقات الامم۔ طبقات الاطباء صفحہ ۵۴
(فکر و نظر۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ۔ جلد26، شمار ہ ۱۹۸۹ )

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.