قدیم ایران کا نظریہ طب(1)

قدیم ایران کا نظریہ طب(1)

قدیم ایران کا نظریہ طب(1)

ہزاروں سال پرانی ایرانی طبی تاریخ کا مخفی پہلو

قدیم ایران کا نظریہ طب(1)
قدیم ایران کا نظریہ طب(1)

قدیم ایران کا نظریہ طب(1)

تحریر: حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی :سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کاہنہ نو لاہور

قدیم ایرانی طب کے ماخذ

قدیم ایران میں طب کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے اوستا کی کتابوں کو پڑھنا ضروری ہے ، خاص کر چھٹی کتاب وندیداد کو جو بیماریوں کے بھوتوں کو دور کرنے کے لیے تطہیر( پاکی) کی ضروری رسوم پر مشتمل ہے۔ یہ ان قدیم کتابوں میں سے ہے جن کا مطالیہ معلوم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ طبی نظریات و تصورات کی بنیاد کیا ہے۔
ناپاکی کے تصور کے نتیجہ میں کوڑھیوں کو آبادیوں سے دور رکھنے کے لیے ان کتابوں میں سخت قوانین موجود تھے۔یقین نہ رکھنے کے باوجودکہ ہم جس بیماری کو: سفید داغ” کے نام سے موسوم کرتے ہیں وہ درحقیقت وہی بیماری ہے جس کو ہم کوڑھ سمجھتے ہیں۔ جسم اور دماغ کی تطہیر پردندی داد میں اسی طرح توجہ دلائی گئی ہے جس طرح کہ ا نجیل میں۔

امراض و موت کا تصور

جن لوگوں کے کام مردہ انسانوں یا مردہ جانوروں سے تعلق رکھتے تھے، ان کے لیے تطہیر کے ان تمام طریقوں کو جن کا انہیں حکم دیاگیا تھا ، جادو کے تصورات سے اور امراض کو خراب روحوں سے تعبیرکیا گیا تھا۔ بیماریوں کا علاج اہورا مژدہ اوراس کے پاک کلمات،دعا اوراد ، پاک نام کی تسبیح اور منتروں کے چاپ پر ہرعلاج کے لیے ضروری بنیادی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ جگہیں جہاں مردوں کو اکٹھا کیا جا تا ہے اوروہی جگہیں ہیں، جہاں خراب روحیں جمع ہو تی ہیں اور انسان کوبلائوںاور بیماریوں میں مبتلا کرتی ہیں اورمصائب کے ان اسباب کا مقابلہ کرنے کے لیے صرف پاک اورادسے مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسری چیزانکوبھگا نہیں سکتی۔ اس سےیہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ اودستاکی قدم طب کی بنیاد اس تصورپر تھی کہ تمام بیماریوں کی بنیاد پھوتوں پر ہے اور علاج کی بنیادجادو کے تصورات پر تھی ، جو رفتہ رفتہ مذہبی اعتقاد کی شکل اختیارکرلیتی ہے۔جہاں طبی علاج کا سوال ہے یہ کام صرف مژدا کے پجاریوں یعنی منتخب لوگوں تک محدود وخصوص تھا، دندی داد میں ایسے طبیبوں کے لئے جو علاج معالجہ میں غلطی کریںسزاؤں کا تذکرہ : طبیبوں کے لیے (مریضوں کی مطابقت میں بدلتی ہوئی)

طبیبوں کے لئے امتحانی مراحل

اجرت کا تذکرہ اور علاج کرنے کی اجازت حاصل کرنے سے قبل طبیبوں کے لئے امتحان کاتذکرہ موجود ہے جس طرح ا س بات کے لیے تاریخ کا تعین کرنا ممکن نہیں ہے کہ اوستاکب دائرہ تحریرمیں لائی گئی ، اسی طرح اس طبی پیشہ کے اس وقت کے معیار کی ابتدابھی اس قوم کی تاریخ سے بہت پرانی ہے، اس وقت سے اس کی جغرافیائی حدودطے پاچکی تھیںاور اس کاتمدن بہت آگے بڑھ چکا تھا مردوں کوجلانا ممنوع تھا۔ لاشیں کھلی ہوا اور دھوپ میں ڈال دی جاتی تھیں تا کہ گدھ ان کوکھالیں
یہ طریقہ اب بھی زرتشت کے قدیم مذاہب کے ماننے والے پارسیوں میں رائج ہے اور اس مذہب کے ماننے والے ہندستان میںبھی ہیں۔ یہ قانون جس پرسختی سے عمل ہوتاتھا، اس خیال کے تحت تھاکہ لاشوں کو زمیںدفن کرنے سے زمین کی صفائی متاثرہوگی اور لاشوں کو جلانازمین کی پاکی کے منافی تھا ۔ہیروڈوٹس نے بیماروں خاص کر کوڑھیوں کو دوسرے لوگوں سے علیحدہ اوردور رکھنے اورمردوں کو کھلا چھوڑ دینے کا ذکر کیا ہے،تاکہ کوے اور دیگر مردہ خور ان کوکھائیں۔
فردوسی کا شانامہ ، جو999ء میں تکمیل کو پہنچا ، باوجو د کہ وہ ایک فرضی داستان ہے، اس میں قدیم ایرانی طب کے متعلق بعض قابل قدر روایات کا ذکر موجود ہے۔ ان روایات میں بہت سے حوالے شامل ہیں ، مثال کے طورپروہ لوگ قدیم ایران میں جن کے زخم نشتر کی مدد سے درست کیے گئے، اور وہ الگ بھی جونباتات اور زخموںبھرنے والی دیگر دواؤں کا استعمال کرتے تھے ۔ حمل کے دوران اور ولادت کے وقت عورتوں کی نگہداشت کے متعلق قواعد مکمل حیثیت میں اس وقت موجود تھے۔

اسقاط حمل

اسقاط حمل کاعلاج گائے کے پیشاب سے کیا جاتا تھا اور اس کا استعمال بیرونی طورپر بھی ہو ناتھا اور اس کا ڈوش بھی دیا جاتا تھا۔
لوگوں کو اسقاط کرانے والی دوائوں کا علم تھا اورمجرمانہ اسقاط کے لیے سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔ عورت سےحیض کے ایام اورحمل کے آخری دنوں میں مباشرت کرنا ممنوع تھا۔قیصری دور میں دردروزہ کو زائل کرنے کے لیے حاملہ کر شراب پلا کر خوش وخرم رکھےنے کا شامنامہ میں کیاگیا ہے۔
فردوسی کا بیان ہے جمشید نے زمین کو کرخت و غیرمتمدن حالات میں پایا لیکن اس کی دانشمندانہ ہدایات کے تحت ایک بہتر نظام قائم کیا گیا۔ لوگوں کو مکان بنانا سکھا یاگیا اور بتایا گیا کہ وہ غاروں میں زندگی بسر کرنے پر قناعت نہ کریں۔ لوگوں کو زمین کے اندر چھپے ہوئے خزانوں کو تلاش کرنا سکھایا گیا آخر کارعلاج و معالجہ کے طریقے معلوم کیے گئے۔ زیادہ حقیقت بینی کے اصول پر زمانہ ماقبل تاریخ میں ایران کی طب کی حیثیت پرغورکرنا قیاس اوراندازہ کے لیے بہت دلچسپ ہے، لیکن وہ تاریخی حیثیت سے کوئی قیمت نہیں رکھتا تمام صورتوں میں ان کے نظریات اور ترقی کے لیے ان کے طریقے وہی تھےجو دیگرپر انی یا معاصر قوموں کے تھے ، جیسے
آشوری اور بابلی قبیلے اور اقوام ، بین النہرين(میسوپوٹامیہ)کے میدان کے باشندے اور ایران کی پہاڑیوں کی وادیوں میں آبا دلوگ – بابل اور آشوریہ کے باشندوں نے اس سے قبل شام اور ایران کے باشندوں کی رکھی ہوئی بنیادوں ہی اپنی تعمیرات قائم کی ہوں گی۔ یہ بات صاف اور واضح ہے کہ ایرانیوں نے538ء قبل از مسیح کو فتح کیا اوراس سے قبل ہی میدانوںمیں آباداپنی ہمسایہ قوم کے بہت سے طبی اور صفائی کے متعلق اصولوں کواپنالیا تھا زرتشت کی پیدائش کی تار یخ کے متعلق صحیح معلومات نہیں ہیں۔

اوستا کی تعلیمات

اوستایا زرتشتی انجیل یاسنا، یاشت، دندی دادربنداہشن پر مشتمل ہے اور کہا جاتا ہے کہ اکیسں کتابیں یادس لاکھ اشعار پرمشتمل ہے۔ یہ باتیں خدا نے زرتشت پر واضح کی تھیں اور زرتشت نے اپنے عقیدہ کے سر پرست بکتر یہ کےگشتاسپ پریہ باتیں واضح کیں۔ ان کتابوں کے ایسے تھے جوطب سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے تحتی اصول قدرت کے قانون کے عقائد کی بنیادںپر ہیں .قدرت کی جنگ ہر وقت جاری رہتی ہے۔ یہ جنگ اندر ایک سانپ ازی سے لڑرہے ہیں، جو دیوی کو اٹھاکر لے گیا اوراس کو بادلوں کی تہوں میں قید کیے ہوئے ہے اوردو اصول یعنی اچھے اصول اور خراب اصول مسلسل ایک دوسرے کا مقابلہ کررہے ہیں ،لیکن برائی کے دیوتاکوزمین پر برائیاں لانے کے اختیارات دیے گئے ہیں ، خوش قسمتی سے انسانوں کے لیے ان کے علاج بھی موجودہیں جو اچھائی دیوتانے بھیجے ہیں جس طرح برائی کے دیوتا موت اوربیماریاں پیداکرتے ہیں ، اسی طرح آریاما ان پر فتح حاصل کرتا ہے اورآسمانی بارش ایسے پودے اور درخت اگاتی ہے جن میں بیماریوں کو دورکرنے اور موت کو روکنے کی خاصیت ہوتی ہے۔

صحت و امراض کا مذہبی تصور

کہا جاتا ہے کہ بعد میں انگرہ مینیو کے پیداکئے ہوئے سانپ کو جو برائی کی سب سے بڑی طاقت تھی تھری ٹونا نےقتل کر دیا۔ اسی بنا پر اسے طب کا موجدسمجھا جاتا ہے
اس کواہورا مژدہ(خیر کی سب سے بڑی طاقت )نے علاج میں کام آنے والے دسں ہزار پودےدئے۔ ایک اور روایت میں اس کوہائوما کاپ جاری کہا گیا ہے، جسے زندگی اور موت کے ذرائع خیال کیا جاتا تھا۔ تمام بیماریاں آہی نام کے سانپ سے پیدا ہوتی تھیں۔ اسی طرح تھِری ٹونا طب کا دوگونہ سرپرست بن گیا تھا. وہ سانپ کا قاتل بھی تھا اور ہائوما کا پجاری بھی۔ ارواح خبیثہ سے بیماریاں پیدا ہونے کا نظریہ ساسانیوں کے دور میں بھی قائم رہا اور بہترین علاج پاک کلمات وظائف کے ذریعے غیبی طاقتوں کی مددحاصل کرنا سمجھا جاتا رہا۔ یہی وجہ تھی کرطبی پیشہ میں لوگوں کے کاموں کو منظم کرنے اوران کو ہدایت دینے کی ذمہ داری سب سے بڑے پجاری پر عائد ہوتی تھی۔ ارواح خبیث کا انسانوں پر مسلط ہوجا نا دشمن کے جادو اور نظر بد کے باعث بھی ہو سکتا تھا۔ ایسے معاملات میں مریض پجاری کو طلب کرتا، جو غالبا آشا دہشتا آریاما یا ہائوما کی مدح میں اشعار پڑھتا۔ساتھ ہی پجاری ایک سفید کپڑا مریض کے جسم پر سر سے پائوں تک ہلاتا اور وقتا فوقتاان خبيث ارواح کے نام لیتا جن پیراس کو شک ہوتا اور ان کوقابومیں کرنے کی کوشش کرتا۔ آشنا دہشتا شفا دینے والی روحانی طاقت تھی اوراس پجاری کے لیے دنیا وی ذریعہ ہوتا تھا۔

طبعی اسباب امراض کا تصور

یہ بات بھی پوری طرح مانی جاتی تھی کہ طبعی اور قدرتی اسباب بھی اپنا کام کرتے ہیں۔ سردی اور گرمی، عفونت اور گرد، بھوک اور پیاس، تفکرات اور پیری، یہ سب ہی چیزیں قدرتی بیماریوں کا سبب سمجھا جاتاتھاخون کا جسم میںبیماریاں بھی سبب سمجھی جاتی تھیں۔کثرت لذات اور بری عادتوں کو بیماریوں کا سبب سمجھا جاتاتھا۔ خون کو جسم میں بیماریاں پھیلانا بھی تسلیم کیا جا چکا تھا۔ چھوت چھات کیڑے مکوڑے(somniti) کے زریعہ وبائوں کا پھیلنا بھی۔ معالجین کو تنبیہ تھی کہ وہ ایک مریض سے دوسرے مریض تک بے احتیاطی کےساتھ نہ آئیں جائیں تاکہ وہ تندرست لوگوں میں خودایک نئی وبا پھیلانے کا سبب نہ بن جائیں۔

پیدائش و موت اور اسقاط حمل کے قوانین

اوستا کے قوانین اوررسومات کا بڑاحصہ پیدائش اورموت کے افعال سے متعلق ہے۔ ان قوانین کی روسے ااسقاط حمل ممنوع تھا۔ اسقاط کرانے کی سزا
وہی تھی جوقتل عمد کی سزا تھی اور یہ پجاری اور طبیب دونوں کے خلاف عائد ہوتی تھی اوستامیں بتایاگیاہے کر جنین میں استقرار حمل کے چارماہ دس روز کے بعد جان پڑتی ہے ۔ ااسقاط کرانےکا پیشہ عموما عورتوں نے اختیار کررکھا تھا جس عورت کا حم ساقط ہوتا ، خواہ اس کا سبب کچھ بھی ہوتا، اس پر یہ پابندی عائد ہوتی تھی کہ وہ آگ اور پانی
سے کم ازکم بیس قدم دور رہے۔ اسقاط سے عورت کی صحت کوجو نقصان پہنچا تھا ، اس کی تلافی کے لیے اس کو ایک میٹھی ہلکی شراب :مدہو: پلائی جاتی تھی ، جس کا استعمال وضع حمل کے بعد بھی جاری رہتا۔ ایک بارکااسقا طاحمل کا علاج گائےکا پیشاب حلق کے نیچے اتار کر اوربچہ دانی میںچکنائی کو دھونے کے لیے اس کادوش دے کر بھی کیاگیا۔ ایسی عورت کو جس کا حمل ساقط ہوجائے کھانا تودیا جاتا تھا، لیکن پانی نہیں دیاجاتا تھا۔ اگر اس کوبخار ہوتا تو اس کو چوتھے روز تھوڑا سا پانی پینے دیاجا کیونکہ اس کی زندگی بچانا پہلا کام تھا۔کسی پاک صاف انسان کی اجازت سے وہ اتنا پانی پی سکی تھی جس سے طا قت حاصل ہوتی لیکن اس کی سزاچارسوضر بات تھی۔ اگر اخراج دسویں روز بھی بند نہ ہوتا تھا تو سوچینوٹیوں کی قربانی دی جاتی۔
بعض دوائوں کی حمل ساقط کرنے کی تاثیر سے لوگوں کو پوری واقفیت تھی اور مجرمانہ اسقاط کرانے والوں کے لیے سخت سزائیںمقرر تھیں۔
اوستا میں اس قسم کی جن دواؤں کا ذکر کیا گیا ہے، وہ بنگا(بھنگ )شستا(جویاتو سونا یا کوئی زرد پودا یا کوئی رقیق شے تھی)گھانا( جوہلاک کردئے)لفرابش پاتا(جو پھل کو اس طرح گرادے کہ وہ پاش پاش ہوجائے )تھیں۔
آج ان میں سے کسی ایک کی بھی شناخت یقین کے ساتھ نہیں کی جا سکتی ۔ اسقاط حمل کرانے میں مرد اور عورت دونوں کوبراب ر مجرم سمجھا جاتا تھا اور اس عورت کوبھی جواسقاط کرانے کا عمل انجام دے یادوائیں فراہم کرے۔
اتنے ہی زیا دہ پیچیدہ قانون تھے جو حیض یارحم سے دیگر اخراج کے متعلق تھے۔ ان سے یہ ظاہرہوتاہے قدیم ایرانیوں کی نگاہ میں پانی کی اہمیت اور اس کا احترام آگ سے کم نہ تھا۔جواسقاط حمل کو روکنے کے لیے قانون نافذ تھے۔ ان کے علا وہ ایسی حاملہ عورتوں کی نگہداشت کے متعلق بھی قانون بھی تھےجو بغیر کسی سر پرست کے رہ جاتی تھیں۔ انتہا یہ کہ کتوں کو بھی نگہداشت کی حددمیں لےآیا گیاتھا۔

ایرانی اور کتوں کی اہمیت

درحقیقت أوستاہی مشرق کی ایسی واحدکتاب ہے جس میں کتوں کے ساتھ انتہائی رحم دلی ظاہر کی گئی ہے۔ ایرانیوں کے رسم و رواج کے مطابق بعض تقریبات کی تکمیل کے لیے کتوں کی موجودگی ضر ور تھی۔ کتا نہ صرف ایک پاک جانورسمجھا جا تا تھا ،بلکہ کسی ناپاک چیز کی طرف اس کے گھورنے سے سمجھا جاتا تھا اس ناپاک چیزکی نجاست ختم ہوگئی۔
تاہم کتے انسانوں کے لیے بڑی مصیبت کاذریعہ بھی ہوسکتے تھے۔ کتے کے کاٹنے سے جوجنونی کیفیت پیدا ہوتی ہے وہ یقینا ایسی ابتدائی بیماریوں میں سے ہو گی جس نے اپنی طرف انسانوں کی توجہ مبذول کرائی۔

وبائی امراض کا تصور

زرتشت نے وبائی خطرے خطرےکو پوری طرح محسوس کیا ہے۔ زرتشت کے عہد میں صحت عامہ سے تعلق رکھنے والی دوائیں اپنی انتہا کو پہنچیں. رسمی تطہیر کے لیےجوقواعد مقرر تھے، وہ حفظان صحت کے طریقوں سے اس قدرووابسطہ تھے کہ بیماریوں کی روک تھام کی تدابیر اختیار کرنے میں ان قواعد سے الگ رہنا ناممکن ہوجاتا تھا۔آگ مٹی ، پانی اور سبزیوں کی بے حرمتی نہیں کی جاسکتی تھی۔رسموں کونا پاک کرنے میں موت کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ مردہ جسمکو چھونا غلاظت پیدا کرنا تھا اوراس کے لیے اعلی درجہ کی تطہیر کی ضرورت ہوتی تھی ، جس کو باشنوم نوشباکہتے تھے ۔تطہیرکاعمل موت سے پہلے شروع ہوجا تاتھا۔جان بلب انسان کے ہونٹوں کوگائے کے پیشاب سے دھویا جا تا تھا، موت واقع ہونے کے بعد اورپورے جسم پرگائے کا پیشاب ڈالا جاتا تھا جس کو ایک نائب پجاری ادنی دستا نے پہن کردھوتا تھا. لاش کو زمین میں دفن کرنا ممنوع تھا۔

لاشوں کے لئے قواعد و قوانین

لاشوں کو رکھنے کے لیے خاص قسم کے مینار تعمیر کیے جاتے تھے ، جن کودرخما یاخاموشی کا مینار کہا جاتا تھا۔ اس میں لاش کو چھت سے لگا کر پیتل کے ٹکڑوں سے یا پتھر باندھ بند کر دیتے تھے ،تاکہ کوئی جانو رلاش کے کسی حصہ کو اٹھا کرنہ لے جائے اور پانی نباتات کو گندہ کر کے بیماریاں نہ پھیلائے۔ ان میناروں کی تعمیری احتیاط اور ضابطہ سے کام لیا جا تا تھا تاکہ انسانی لاش پوشیدہ رہے ۔آگ اور پانی کے احترام میں فرق نہ آئے
لاش کوسڑا گلاڈالنے کا طریقہ :ہوا ، زمین اورپانی کی بے حرمتی کرنے والا طریقہ تھا اور اس طرح یہ سہ چند حقارت آمیزخیال کیا جانا تھا۔سڑےہوئے عناصر پانی میں مل کرا ور فضا میں پھیل کروبائی امراض پیدا کرتے تھے، اس لئےہر حکمراں کایہ فرض وہ قانون کے ذریعہ لاشوںگلنے سڑنے سے،بچائے مرغی خانوں سے گردو غبارہٹادیا جاتا تھا اورمویشیوں کو گھروںسے کافی فاصلے پر رکھا جاتا تھا، گھروں میں عام اڑنے والی عام مکھیوں کو تمام گھنائونےکیڑوں سے زیادہ خطرناک سمجھا جاتا تھا اور ان کو جان داروں میں متعدی بیماریوں اورموت کاذریعہ سمجھا جاتا تھا۔
كکتوں اور انسانوں کی ایسی ہڈیوں کو جن سے چربی بامغز بہہ رہا ہو۔زمین پر پھینکنے کی سزااس ہڈی کی مقدار کے مطابق ملے کی جاتی تھی

پانی کی اہمیت

مٹی کی طرح پانی کے بارے میں بھی سمجھا جا تا تا کہ وہ آسانی سے آلودہ جاتا ہے ۔ لاش چھونے کے بعد رسوم تطہیر کی تکمیل کے بغیر پانی کو چھو لینا بہت سنگین جرم تھا۔
طبی اور نیم طبی کاموں کی انجام دہی ایک خاص گروہ کے لیے مخصوص تھی۔ طبیب پجاریوں ہی میں سے لیے جاتے تھے۔ پجاریوں کا طبقہ ایران کے چاروں طبقوں میں سب سے بلند تھا۔ باقی تین طبقے سپاہیوں، کاشتکاروں اور مزدوروں کے تھے۔ کبھی کبھی کاشت کار خصوصا جن کوطب اور نباتات میں خاص مہارت حاصل ہوجاتی تھی، اپنے آبائی طبقہ سے بلند تر ہوکرطب کے پیشہ میں لے لیے جاتے تھے۔ پجاریوں کا طبقہ مذہب اور طب دونوں کی عصری تعلیم حاصل کرتا تھا۔ نصاب تعلیم کمل ہوجانے پر پر شخص اپنے رجحان کے مطابق یہ طے کرتا کہوپ مذہبی تعلیم حاصل کرے گا یاطبی تعلیم۔ وہ لوگ جن سے خاص طور پرمذہبی فرائض متعلق ہوتے تھے ، ان کی مجوسی کہا جاتا تھا اور وہ جن کے فرائض طبی ہوتے تھے، اتھروان کہلاتے تھے۔

طبی تعلیم کے مراکز

طبی تعلیم کے بہت سے مرکز رہے ہوں گے سب بڑے اسکول غالبا وہ تھے جو،رے ،حمدان اوراسطخرفارس میں تھے۔ ان تینوں شہروں میں ہسپتال بھی ضروررہے ہونگے کیوں کہ یہ حکمرانوں کی ذمہ داری سمجھی جاتی تھی کہ وہ خاص مرکزوں پرہسپتال قائم کریںاور ان ہسپتالوں میں دوائوں اور طبیبوں کا اہتمام کریں تعلیم طب میں نظری تولیم اور عملی تجربہ شامل تھا۔ یہ تعلیم کئی سال جاری رہتی تھی۔ اسکولوں سے تین قسم کےمعالج نکلتے تھے ۔تقدس سے علاج کرانے والے ، صحیفہ سے علاج کرنے والے اورنشتر سے علاج کرانے والے ۔ ان میں سے پہلی قسم کے معالج بہت ہی اعلی تربیت یافتہ ہوتے تھے۔

تطہیر کا تصور

تطہیر کے خالص مذہبی طریقوں کے علاوہ تقریبات میں ایسے طریقے اور نظریات استعمال کیے جاتے تھے جو آج کل عفونت دور کرنے اورحفظ ماتقدم کے اصولوں کی بنیاد ہیں ۔ سورج کوالائش دور کرنے کی پہلی بڑی طاقت سمجھا جاتا تھا، اسی لیےکاش کورات میںخاموشی کے میناروں تک لے جانا منع تھا، کیونکہ ایسے وقت لاش کو لے جانے سے ، جب کہ سورج کی شعائیں اس پر نہ پڑ رہی ہوں، لاش لے جانے والوں اور جنازہ کے ہمراہ چلنے والوں کے لیے چھوت چھات کے خواہ مخواہ خطرات پیدا ہوتے تھی ۔اسی طرح دو گڑھے، جہاں لاشوں کی وہ ہڈیاںاکھٹی کی جاتی تھیں جن کا گوشت گدھ کھا ان کو صاف کردیتے تھے، اس طرح بنائے جاتے تھے کر سورج کی کرنیں ان کے اندرونی حصوں تک پہنچ سکیں۔ وہ لباس بھی جوخون یاقے سے آلودہ ہوتے تھے اگر وہ چمڑے کے ہوتے تھے ان کو تین ماہ تک دھوپ میں رکھاجاتا تھا اورا گرکپڑے کے ہوتے تھے تو چھ ماہ تک۔
وہ لباس جن کو کسی متعدی بیماری کے مریض نےپہنا ہوتا، ان کے متعلق حکم تھا کہ انھیں پوری طرح تباہ کر دیا جائے اورجو شخص ایسے کپڑوں کو خفیہ طور پر فروخت کرتا، وہ مجرم اورسخت سزا کا مستوجب سمجھاجاتا تھا۔ اکثر ایسے معاملات میں کپڑوں کوگومیزیابیل کے پیشاب سے دھوناتطہیر کا اطمینان بخش طریقے سمجھا جاتا تھا۔
پرانے زمانے میں اور یقینا آج کل بھی پیشاب کے متعلق یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس میں عفونت دور کرنے کی طاقت ہے لاشوں کے چھو جانے سے جو آلودگیاں
پیدا ہوتی ہیں، ان کی صفالی کے لیے گومیزبہت اہمیت رکھتا ہے۔ پانی میں کوئی گندی چیز ڈالنے کی اجازت نہ د ے کر اور اس کی قدرتی پاکیزگی کوختم نہ کرنے کی اجازت نہ د ےکر پانی کی خالص حیثیت کو برقرار رکھا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ ہر شخص کا فرض سمجھا جاتا تھا اگر وہ پانی میں کوئی گندی چینر پڑی دیکھے تواس کو
ہٹاد خواہ وہ کسی دوسرے شخص نے ڈالی ہو۔
وندی داد میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ مردہ چیز کے گرنے سےپانی کافی حد تک خراب ہوسکتا ہے متبرک کتابوں میں اس بات کا حوالہ ملتا ہے علاج و معالجہ کرنے کی اجازت دینے کے لئے امیدواروں کی مہارت کی جانچ کرنے کے قاعدے موجود تھے۔ جراحوں کو بہت سخت امتحان دینا پڑتا تھا. اس کے بعد ان کوجراحی کرنے کی اجازت دی جاتی تھی۔

قواعد جراحی

قواعد کے مطابق نوجوان جراحواں کو پہلے تین عمل جراحی غیرزرتشتیوں پر کرنے پڑتے تھے۔ اگر وہ نا کام ہوجاتا تھا تو پھر ان کو علاج معالجہ کی اجازت نہیں دی جاتی تھی، لیکن اس کے عمل جراحی اگر کامیاب ہوجاتے تواس کو زرتشتیوںپر عمل جراحی کرنے کی اجازت مل جاتی پھراگر کوئی کیس غلط بھی ہوتا تو اس کے لئے کسی سزا کا خطرہ نہ تھا۔ ان قواعد میں زرتشتیوں کےقوانین حمورابیHammurabi) کے قانون سے اس قدر قریب ہیںاس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایرانیوں نے اپنے طبی قواعدواصول آشوریوں (Assyrians)کے قواعد و اصول کی بنیادوں پر مرتب کیے ۔ گو قانونا زرتشتیوں کو غیر زرتشتیوں کا علاج کرنے کی آزادی تھی، تاہم حقیقت اس کے بالکل برعکس رہی ہے۔
اوستا میں گھومنے پھرنے والے پجاری طیبوں کا ذکر ملتا ہے لیکن کسی مقیم طبیب کا تذکرہ نہیں ہے کشتی طبیبوں کے علاج معالیجہ کارواج زرتشتیوں میں اسلامی دورمیں بھی ضروررائج رہا ہوگا۔
پجاری طبیب اپنے ساتھ زیادہ آلات نہ رکھتے تھے۔ ان کا اہم ترین آلہ ایک برتن ہوتا تھا جس میں وہ ہاما تیار کرتے تھے۔ یہ ایک متبرک پوداتھا جس میں بعض صحت بخش خاصتیں تھیں ۔ ہندومت کی روایات میں بھی اس کاذکرملتا ہے، وہاں اس کا نام سونا (9ons) ہے،یعنی نچوڑا ہوا رس۔غالبا یہ رس منشی ہوتا تھا اوربیمار کو خدا کے قریب محسوس کراتاتھا گشتی طبیبوں کے پاس دسرا آلہ ایک چھوٹا کوزہ ہوتا تھاجس کو وہ مدنی حفظان صحت کے اصول توڑنے والوں پر استعمال کرتےتھے
او ر جس سے بیماری پیدا کرنے والی پلید روحوں کو بھگاتے تھے ان کے پاس ایک سلاخ یا چاقو بھی ہوتا تھا وہ مضرت رساں کیڑوں اور سانپوں کو تباہ کرتے تھے

Leave a Reply

Your email address will not be published.