غذا اورحفظانِ صحت

غذا اورحفظانِ صحت

غذا اورحفظانِ صحت
غذا اورحفظانِ صحت

غذا اورحفظانِ صحت

از:مجدد الطب

 

 

اثر خامہ:حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

حفظانِ صحت کے اہم عناصرحسبِ ذیل تین ہیں۔

۱۔ صحت کے قیام کیلئے بدل مایتحلل کی جوضرورت ہے وہ ایک مسلمہ امرہے اوربدل مایتحلل ہمیشہ اغذیہ واشربہ سے حاصل کیاجاتاہے۔اس لئے حفظانِ صحت میں سب سے اول چیزاغذیہ واشربہ ہیں کہ ان کواپنی ضرورت کے مطابق صحیح اصولوں پر استعمال کیاجائے اور ان سے بدل مایتحلل حاصل ہو۔

۲۔ غذاکے بعد دوسری اہم چیزیہ ہے کہ انسان کے جسم میں غذاکھانے کے بعدجوفضلات اکٹھے ہوتے ہیں ان کا باقاعدگی کے ساتھ اخراج ہوتارہے۔ اس کی صورت جسم کواعتدال کے ساتھ حرکت دینے اورکام میں لگانے سے عمل میں آتی ہے جس میں ورزش بھی شامل ہے کیونکہ سکون محض جسم میں فضلات کوروک دیتاہے۔

۳۔ انسان اپنی قوتوں کوضرورت سے زیادہ خرچ ہونے سے بچائے اورضرورت سے زیادہ جسمانی ،دماغی محنت اور حرکت سے یہ قوتیں ضائع ہونے لگتی ہیں۔

یہ تینوں باتیں اگر اعتدال پرقائم رہیں توصحت انسانی کی حفاظت اچھے طریق پرہوسکتی ہے۔اس مقصد کیلئے اسباب ستہ ضروریہ جن کاذکر گزشتہ صفحات میں کیاگیاہے بہت حدتک کافی ہیں لیکن بعض اہم باتوں کاذکر مندرجہ بالاتین اصولوں کے متعلق کیاجاتاہے جوصحت کیلئے بے حدمفیدہیں۔

۱۔اغذیہ واشربہ: غذاکی مقدار میں اعتدال کوقائم رکھنااورغذاکے استعمال کے بعد کچھ سکون کرناضروری ہے۔

نوٹ: غذاکھانے سے قبل یہ ضروری ہے کہ بھوک شدت سے لگی ہوئی ہو۔بغیربھوک کے کبھی غذاکی طرف ہاتھ نہیں بڑھاناچاہیے۔بھوک میں بھی اس امرکوملحوظ رکھاجائے کہ وہ دو قسم کی ہوتی ہے۔(۱)اشتہائے صادق۔ (۲) اشتہائے کاذب۔

اشتہائے صادق کی صفات یہ

ہیں کہ جسم میں فرحت ہوگی اور وہ ہلکااور گرم معلوم ہوگا۔ غذاکھاتے ہوئے لذت محسوس ہوگی۔اشتہائے کاذب میں یہ باتیں نہ ہوں گی بلکہ کمزوری محسوس ہوگی۔دل میں گھٹنے کی سی حالت پائی جائے گی اورکھانے میں بے دلی سی قائم رہے گی۔ کھانے کے بعدجسم بے حد سست اور بوجھل رہے گا۔بلکہ بعض اوقات حرکت کرنے کوجی نہیں چاہتا۔ہرغذاپہلی غذاکے ہضم ہونے کے بعد کھانی چاہیے اگرچہ بھوک ہی کیوں نہ لگی ہوئی ہواور اشتہائے صادق کی تمام علامات پائی جائیں کیونکہ ہرغذاجوہم کھاتے ہیں اس کے ہضم ہونے میں کم سے کم چھ سات گھنٹے خرچ ہوتے ہیں اس کے بعد وہ غذامعدے اورچھوٹی آنتوں سے اترکربڑی آنتوں میں چلی جاتی ہے۔اگر چھ سات گھنٹے سے قبل کھا لیاجائے توطبیعت جوپہلی غذا کی طرف مصروف ہوتی ہے اس کو ہضم کئے بغیرچھوڑدے گی اور دوسری طرف مصروف ہوجائے گی۔اس سے پہلی غذامیں تعفن وفسادپیداہوجائے گا اگر دوسری کی طرف توجہ نہ دے تواس میں تعفن اور فسادکاپیداہوناضروری ہے۔

ایک وقت میں مختلف غذاؤں کااکٹھاکھانادرست نہیں ہے۔اغذیہ میں بعض لطیف اوربعض کثیف ہوتی ہیں اور طبیعت لطیف اغذیہ کوجلدی ہضم کرلیتی ہے اور ثقیل اغذیہ دیرتک اندرپڑی رہتی ہیں۔نیزبعض اغذیہ ایک دوسری کی ضدہوتی ہیں مثلاً مچھلی اور دودھ،ترشی اوردودھ،ستواوردودھ،انگوراور سری کاگوشت،اناراورہریسہ ،چاول اور سرکہ ان کوایک ساتھ کھانے سے پرہیزکرناچاہیے۔

اگرغذاچرب ہوتواس کے ساتھ نمکین یاچرپری چیزیں کھائی جائیں اور اسی طرح اس کے برعکس بہتریہ ہے کہ ہمیشہ ایک ہی غذانہ کھائی جائے بلکہ تبدیلی کے ساتھ کھائی جائے۔ بھوک کاروکنامناسب نہیں کیونکہ ایساکرنے سے معدے کی طرف خراب موادکرتے ہیں ۔غذادن کے معتدل وقت میں کھانی چاہیے۔موسم سرمامیں دوپہر کے وقت اور موسم گرمامیں صبح وشام کھانامناسب ہے۔کھانے سے مراد یہاں پیٹ بھرکرکھانااور پورا کھانامراد ہے۔

ایک ہی قسم کے کھانے باربارکھانے سے اورایک ہی ذائقہ باربار استعمال کرنے سے جسم میں نقصان پیداہوتاہے مثلاً ترش غذاؤں کے بکثرت اور متواتراستعمال سے بڑھاپاجلد آتاہے۔نزلہ زکام اکثررہتاہے اعضاء میں خشکی پیداہوجاتی ہے اور اعصاب کمزورہوجاتے ہیں۔اسی طرح نمکین چیزیں بدن کولاغراوردل میں ضعف پیداکرتی ہیں۔میٹھی چیزیں بھوک کوضعیف اوربدن کولاغرکرتی ہیں۔ان کی مضرت کوترش غذاسے ، ترش غذاکی مضرت کومیٹھی غذاسے دفع کرناچاہیے۔اکثرپھیکاکھانے سے بھوک جاتی رہتی ہے اوربدن میں سستی پیداہوجاتی ہے۔اس لئے اس کی مضرت کونمکین اورچرپری چیزوں کے استعمال سے دوررکھناچاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.