غذاکادرمیانی وقفہ روزہ اور وقفہ غذا

غذاکادرمیانی وقفہ روزہ اور وقفہ غذا

غذاکادرمیانی وقفہ روزہ اور وقفہ غذا
غذاکادرمیانی وقفہ
روزہ اور وقفہ غذا

غذاکادرمیانی وقفہ
روزہ اور وقفہ غذا

رشحات قلم۔۔مجد د الطب صابر ملتانی

پیش کردہ:حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

 

ظاہرہ تویہ معلوم ہوتاہے کہ جب تک ایک وقت کی کھائی ہوئی غذاخون بن کرجزوبدن نہ بن جائے اس وقت تک دوسری غذانہیں کھانی چاہیے کیونکہ جوغذاہضم ہورہی ہے اس کی طرف پورے جسم وروح اور خون ورطوبت کی توجہ ہے۔جب بھی اس ہضم کے دوران میں غذاکھائی جائے گی توجوتوجہ اول غذاکی طرف ہے وہ یقینا نئی غذاکی طرف لگ جائے گی۔اس طرح اول غذاپوری طرح ہضم ہونے سے رہ جائے گی اور جہاں وہ رہ گئی ہے وہاں پڑی رہنے سے متعفن ہوجائے گی۔اور یہ تعفن باعث امراض ہوگااور یقینا طاقت پیداکرنے کی بجائے ضعف پیداکرے گی۔اگر طبیعت دوسری غذاکی متوجہ نہیں ہوگی تو یقیناوہ بغیر ہضم ہوئے پڑی رہے گی اور متعفن ہوجائے گی۔اب اصولاًاور فطرتاً پندرہ سولہ گھنٹے اس پر عمل کرنا انتہائی مشکل ہے۔اس لئے اطباء اور حکماء نے اس وقت کو زیادہ اہمیت دی ہے جس وقت ہضم میں تیزی اور طبیعت کی توجہ زیادہ ہو یہ صورت اس وقت تک قائم رہتی ہے ۔ جب تک غذاچھوٹی آنتوں سے بڑی آنتوں میں اترجائے اس عرصہ میں تقریباً پانچ سات گھنٹے لگ جاتے ہیں ۔ دوسرے معنوں میں اس طرح سمجھ لیں کہ

جب تک غذا کے ہضم میں خون کی مختلف رطوبات شامل ہوتی رہتی ہیں اس وقت تک دوسری غذانہیں کھانی چاہیے کیونکہ اس طرح وہ رطوبات جو ہضم غذامیں شامل ہوتی رہتی ہیں رک جاتی ہیں اور اس طرح وہ خراب اور نامکمل رہ جاتی ہیں ۔گویا چھ سات گھنٹے وقفہ ہر غذا کے درمیان لازمی اور یقینی امر ہے ورنہ صحت کا قائم رہناناممکن ہے ۔

روزہ اور وقفہ غذا:

اسلام میں روزہ فرض ہے۔ہرسال پورے ایک ماہ کے روزے ہر بالغ اور صحیح الدماغ انسان پر فرض ہیں۔ہر روزہ کی ابتدا صبح سورج نکلنے سے تقریباً ڈیرھ گھنٹہ پہلے شروع ہوتاہے اور سورج غروب ہونے کے ساتھ ختم ہوجاتاہے۔اس حساب سے روزے کاوقفہ تیرہ چودہ گھنٹے سے پندرہ سولہ گھنٹے بن جاتاہے ۔اس وقفہ پر اگر غورکیاجائے توپتہ چلتاہے کہ ہرسال میں ایک ماہ کے روزے رکھنا ہضم غذا کے مکمل نظام کوچلانااور قائم کرناہے۔ اس طرح سارے جسم کی مکمل صفائی ہوجاتی ہے اور خون کیمیائی طورپرمکمل ہوجاتاہے اور تمام اعضاء کے افعال اور انسجہ درست ہوجاتے ہیں ۔

روزہ اور کنٹرول غذا: روزے میں سب سے زیادہ اہمیت یہ ہے کہ وقت مقررہ کے بعد نہ روزہ رکھاجاسکتاہے اور نہ ہی وقتِ مقررہ سے پہلے کھولا جا سکتا ہے ۔گویا روزہ رکھ لینے کے بعد ہرقسم کاکھاناپینا بالکل بندبلکہ کھانے پینے کی چیزوں کودیکھنا بھی اچھاخیال نہیں کیاجاتا۔اس لئے دوسروں کو تاکید ہے کہ روزہ دار کے سامنے کھانااور پینا نہیں چاہیے ۔ گویاماہ رمضان میں غذا پورے طورپر کنٹرول ہوجاتی ہے البتہ مسافر اور مریض کوغذاکی اجازت ہے اور ان کوتاکید ہے کہ وہ اپنے روزوں کی گنتی سکون اور صحت کے زمانے میں پوری کرسکتے ہیں۔

اگراس حقیقت کوسامنے رکھاجائے کہ قرآن حکیم کانزول ماہ رمضان میں ہواتو تسلیم کرناپڑے گاکہ اسلام کی ابتدا کنٹرول غذاسے ہوتی ہے اور جولوگ کنٹرول غذاکرتے ہیں ا ن کو متقی اور پرہیزگارکہتے ہیں جیسے قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔

’’روزے تم پر فرض ہیں جیسے پہلے لوگوں پر فرض تھے تاکہ تم متقی اور پرہیزگاربن جاؤ”

جولوگ جائز اوراپنی حلال کی کمائی اللہ تعالیٰ کی مرضی(کنٹرول)کے بغیر نہیں کھاتے وہ دوسروں کی دولت کی طرف کیسے آنکھ اٹھاکر دیکھ سکتے ہیں۔بس یہی تقویٰ اور پرہیزگاری ہے۔

اس تقویٰ اور پرہیزگاری اور اطاعت ورضاالہیٰ کومدنظررکھیں اور اس طرف غورکریں کہ

ان اللہ لایحب المسرفین
ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ بلاضرورت خرچ کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

اللہ تعالیٰ جوتمام طاقتوں کاخالق ہے جس سے ان کی محبت نہ رہے گی توپھر اس کوطاقت کیسے حاصل ہوسکتی ہے۔اس لئے غذا میں ضرورت کااحساس اور تصور انتہائی ضروری بات ہے اور عین حقیقت وفطرت ہے۔ باقی رہاغذا کاتوازن یعنی کس قسم کی غذاکھانی چاہیے۔اس کیلئے مزاج و ماحول اور قوت کومدنظررکھنا پڑتاہے۔یہ سب کچھ بالاعضاء ہی تسلی بخش طریق پر عمل میں آسکتاہے جس کی تحقیقات علم الغزا میں بیان کی جا سکتی ہیں۔البتہ اس حقیقت کو مدنظررکھیں کہ کسی قسم کی غذاہواس لئے انتہائی ضروری ہے کہ وہ حلال اورطیب ہو جیسے قرآن حکیم میں لکھاہے۔

کلوحلال طیب
ترجمہ:حلال اور پاکیزہ چیزیں کھاؤ۔

جس سے مراد اللہ تعالیٰ کانام لیاگیاہویااللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق حاصل کی گئی ہو۔ طیب سے مراد ہے کہ اس شے میں نہ صرف خوشبو ہوبلکہ اس میں تازگی کی بھی خوشبوہو۔ یہاں پر یہ مقام قابلِ غور ہے کہ طیب شے کوحلال کے ساتھ بیان کیاگیاہے۔یعنی اگر وہ شے طیب نہیں ہے تو یقینا نجس ہے جس کا درجہ حرام کے بالکل قریب ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.