علاج میں بدرقوں کی حقیقت

 علاج میں بدرقوں کی حقیقت
بدرقوں کی حقیقت۔ 
طب قدیم میں ایک ہی دوا کو مختلف بدرقوں کے ساتھ مختلف امراض کے لئے استعمال کرنا عام دستور طب تھا۔مثلا ایک دوا کے بارہ میں لکھا ہوتا ہے اس دوا کو عرق سونف کے ساتھ کھایا جائے تو یہ فائدہ ہو گا۔گڑ سے دیا جائے تو اس سے یہ فائدہ ملے ۔عرق اجوائن سے فلاں بیماری میں کام لیا جاسکتا ہے اس حقیقت سے ابھی پردہ اٹھنا باقی ہے کہ یہ طریق علاج کس نے اور کب دستور طب میں شامل کیا لیکن اس کا استعمال اس قدر ہے کہ کوئی مطب اس سے مستثنی دکھا ئی نہیں دیتا،طب کی قدیم کتب کے مطالعہ اورجدید کیمسٹری کے تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے معمولی تغیر و تبدل اور کیمیائی تبدیلی دوا کے خواص و اثرات میں فرق ڈال دیتی ہے ایک ایٹم نکالنے یا شامل کرنے سے کسی بھی چیز کی بنادی خواص کی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔سادہ ترین مثال پھٹکڑی ہے جو تمام طرق علاج میں شامل ہے اسے ایلومینیم سلفیٹ کہا جاتا ہے۔طبی خواص کے ساتھ ساتھ اس سے دیگر امور زندگی سے متعلقہ شعبہ جات میں اسے ستون کی حیثیت حاصل ہے ۔کاغذ کی کلف کاری۔لکڑی کے گودے کو لیس دار بنانے استعمال کیا جاتا ہے۔پارچہ بافی میں بہت کار آمد۔پانی کے ساتھ عمل کرکے ایلمونیم ہائڈرواکسائڈ بنتی ہے جو کپڑوں کے ریشوں میں مضبوطی کا سبب بنتی ہے۔آلودہ پانی کو صاف کرنے کے لئے پھٹکڑی مشہور چیز ہے۔اس کے ذریعہ سے بہت سی چیزوں کی شناخت کرسکتے ہیں۔ اسی طرح گندھک کی مثال ہے سلفر ڈائی اکسائڈ گندھک کے جلنے سے پیدا ہوتی ہے۔علاوہ ازیں رنگ و بو سے بھی بہت سی اشیاء کی شناخت کی جاتی ہے۔اس کا تیزاب جدید کیمسٹری اور میڈیکل میں رہڑ کی ہڈی کی حیثیت کا حامل ہے۔لہسن و پیاز میں بو اور آنسو لانے کی خاصیت بھی گندھک کی وجہ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔رائی۔سے نکلنے والی بو بھی گندھک کی وجہ سے ہوتی ہے۔یہی بو نیولے(جانور) سے بھی آتی ہے سانپ و نیولے کی لڑائی قدیم انسانی دلچسپی کا باعث بنی ہوئی ہے۔سانپ کے زہر کی تعدیل نیولہ اپنی پونچھ منہ میں لیکر کرتا ہے اس کی پونچھ میں سلفری اثرات بہت زیادہ ہوتے ہیں(غدی عضلاتی) اثرات ہوتے ہیں سانپ کے پاس اس کا کوئی توڑ نہیں ہوتا جب سانپ مغلوب ہوجاتا ہے تو نیولہ اس کا ٹکڑ ے ٹکڑے کردیتاہے ۔انڈہ خراب ہونے پر اس کی مخصوص گندھک کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ہمارے جسم حصے بالوں اور ناخنوں کو جلانے سے جو مخصوص بو آتی ہے وہ انہی سلفری اثرات کا نتیجہ ہوتی ہے۔معلوم دنیا میں زیادہ ترچار مختلف قسم کے ایٹم پائے جاتے ہیں یعنی کاربن ۔ہائڈروجن ۔آکسیجن اور نائٹروجن۔یہ جانوداروں کے زندہ رہنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔یہی چاروں مختلف تناسب سے مل کر بے شمار مرکبات بناتے ہیں۔مثلاََ شورہ ۔گندھک۔کاربن دن رات مشاہدات سے گزرنے والی چیزیں ہیں اگر انہیں خاص تناسب سے ملایا جائے تو بارود حاصل ہوتا ہے ۔طب میں ان سے بے شمار ادویات تشکیل دی جاتی ہیں۔طبیب لوگ ایک مرکب اعصابی امراض یعنی بلغی امراض اور خون کی کمی میں استعمال کرتے ہیں کتابوں اس مرکب کو کئی ناموں سے درج کیا گیا ہے ۔ہم نے بھی اس سے بہت فائدہ اٹھایا تھا ۔وہ یہ ہے ۔پھٹکڑی۔ہیرا کسیس۔شورہ قلمی۔سب کو ہموزن لیکر آگ ر کھ دیں ناگوار دھواں خارج ہوگا اس سے بچیں۔ جب مواد سرخی مائل ہوجائے تو اتار کر پیس لیں ۔ایک چٹکی صبح دہی کے ساتھ دیدیں۔خون کی کمی رنگت کا پھیکا پن۔لیکوریا۔نزلہ زکام۔منہ سے رال بہنا۔یا جسمانی رطوبتوں کا حد اعتدال سے تجاوز کرنے میں اکسیر صفت ہے۔یہ سالوں سے استعمال کیا جارہا ہے آج جب میں سطور لکھ رہا ہوں تو میرے سامنے علم الکیمیا نامی کتاب رکھی ہوئی ہے جس میں مختلف تیزابوں کی ساخت پر بحث کی گئی ہے یہی اجزاء سب سے پہلے تیزاب گندھک کی تیاری میں استعمال ہوئے تھے جس نے کیمسٹری کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا تھا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.