علاج امراض کا اسلام سے پہلےکا تصور

علاج امراض کا اسلام سے پہلےکا تصور

علاج امراض کا اسلام سے پہلےکا تصور

علاج امراض کا اسلام سے پہلےکا تصور
علاج امراض کا اسلام سے پہلےکا تصور

علاج امراض کا اسلام سے پہلےکا تصور

تحریر:۔حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

قبل از اسلام عالم معمورہ بالخصوص صحت و امراض کے بارہ میں جو تصورات تھے طلوع اسلام کے بعد۔ ان میں بہت سے تغیرات آئے،اسلام کی آمد دنیا میں سب سے بڑا انقلاب تھا جس نےہر میدان اور ہر سوچ میں تغیر پیدا کیا اور ہر طرف انقلاب برپاء کیا ۔ اسلام کےسب سے پہلے مخاطب عرب تھے اس لئے ان کی سوچوں میں بہت گہرے نقوش ابھرے۔
اسلام نے اپنے متبعین کو بتایا کہ صحت و مرض انسانی زندگی کا حصہ ہیں لیکن ان میںتاثیر ڈالنے والا اور دوا میں شفائی اثرات پیدا کرنے والا وہی ہے جس نے پیدا کیا اور جو اسے زندگی دے رہا ہے۔اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔لیکن اگر کوئی مناسب طریقہ اختیار کرتا ہے تو مطلوبہ نتائج اس کی جھولی میں آگرتے ہیں۔یہ قانو قدرت کے خلاف ہے کہ کسی محنت رائیگاں جائے۔لیس للانسان الاماسعی۔۔قران کریم نے صحت کے ساتھ غذا کا تصور دیا ہے۔کلو والشربوا۔لیکن ساتھ میں ایک آفاقی قانون بھی بتادیا کہ والا تسرفوا ۔ ۔ کہ حد سے کوئی بھی تجاوز کرتی ہے تو اس کے اثرات قابو سے باہر ہوجاتے ہیں۔
جب سے انسان اس دنیا میں بطور نائب آیا ہے، اس وقت سے امراض و علاج کا سلسلہ کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے، ہر آنے والا دن امراض کی نت نئی پیداواری کے ساتھ ساتھ علاج کے بھی جدید طریقے اپنائے جارہے ہیں،تحقیقات کا عمل ہر آن جاری ہے،انسان اپنے انداز سے صحت و امراض کے قوانین مقرر کرتا ہے، اور قدرت کے اپنے ہی اصول ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہر روز نئ تحقیق سامنے آتی ہے اور پورے تیقن سے دعوی کیا جاتا ہے کہ فلاں مرض کا شافی علاج دریافت کرلیا گیا ہے،فالج کی شافی دوا بنالی گئی ہے،اس کے بعد مارکیٹ میں اس کا غلغلہ پیدا ہوتا ہے،کچھ دنوں بعد کسی کونے سے کسی دوسری دوا کے بارہ یہی شور بلند ہوتا ہے، پہلے دوا رد کی جاچکی ہوتی ہے اس کی جگہ نئی دوا آجاتی ہے،یہ سلسلہ یوں ہی چلا آرہا ہے ،جدید میڈیائی دور میں تشہیری کام بہت آسان ہوگیا ہے۔
عربوں میں امراض بالخصوص فالج کا جو تصور علاج پایا جاتا تھا، عمومی طورپر غیر علمی تھا لیکن تجرباتی تھا،جیسے آج بھی دیہاتوں میں بہت سے ٹوٹکے ایسے موجود ہیںجو مہلکات تک میںمفید ہیں،بظاہر معمولی اجزاء اور ان پڑھ لوگوں سے زبانی روایت ہوتے ہیں لیکن ان کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں،اسی طریقے سے عربوں میں علاج کا تصور غیر علمی ضرور تھا لیکن عملی تھا ، ہم تک کچھ باتیں کسی نہ کسی طرح سے در آئی ہیں، ان کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ عربوں میںروایتی طب پائی جاتی تھی، جس کے اصول و قواعد مقرر نہ تھے۔یہ سلسلہ یوں آگے بڑھتا رہا ،یہ سلسلہ دنیا کے بہت سے ممالک میں خود ہمارے ہاں ابھی تک دیہاتوں میں موجود ہے ۔آمد اسلام سے انسانی قلوب و اذھان پر بہت گہرے اور انقلابی اثرات مرتب ہوئے ،لہذا امراض و شفا ء سے متعلق تصورات میں بھی نمایاں اثرات مرتب ہوئے۔
قبل از اسلام علاج و معالجہ میں دستیاب و معلوم وسائل اور جڑی بوٹیاں استعمال کی جاتی تھیں لیکن وہ کسی کلیہ قاعدہ کے مطابق نہ تھیں،امراض کا تعلق انسانی جسم سے ہے اور انسانی جسم اس وقت بیمار ہوتا ہے جب غذا و خوراک میں بے اعتدالی پیدا ہوتی ہے،کم کھانے سے اتنے امراض جنم نہیں لیتے مگر بسیار خوری امراض کے لئے دعوت عام ہے۔اسلام کے ابتدائی ایام میں ہر طرح سے معاشی تنگی تھی،کھانے پینے کی اشیاء کی قلت اور آسودگی والی سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں،اس لئے ہمیں خیر القرون میں امراض کا ذکر کم کم ملتا ہے ، جیسے جیسے مالی آسودی ہوتی گئی ،غذاوخوراک میں بھی تنوع و قسام پیدا ہوتے گئے،جہاں ایک وقت میں کئی کئی غذائی دسترخوان کی زینت بنیں وہاں امراض اور نت نئی جسمانی تکالیف کو کوئی نہیں روسکتا۔جب کھانوں میں غذا اور جسمانی طلب و ضرورت کے بجائے لذت و چٹخارے کو فوقیت دی جانے لگے، تو سمجھو صحت رخصت ہوئی اور امراض کی آمد ہوئی۔
قابل توجہ امر یہ ہے کہ آج تک مرض کی متفقہ تعریف متعین نہ ہوسکی۔کہ مرض کہتے کسے ہیں؟آپ اطبائے سابقہ اور فلاسفہ کی طویل ابحاث کو پڑھ لیں کہ مرض کی حقیقی تعریف اور علاج کے تعین میں کس قدر تضادات موجود ہیں۔لیکن مریض کو ان تعریفات سے کیا لینا دینا انہیں تو اپنے دکھ کا حل چاہئے۔ان کی ضرورت جہاں سے بھی پوری ہو ان کی بلا سے ۔ علاج کہیں سے بھی ہو معالج کوئی بھی ہو۔انہیں تو اپنی غرض سے مطلب ہے۔
حقیقی شفاء کے فیصلے تو کہیں اور ہوتے ہیں ۔جب مرض کا وقت پورا ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسباب مہیا کردیتے ہیں۔
؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے بندو! دوا علاج کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا مرض نہیں بنایا جس کی شفاء اس کے ساتھ نہ بنائی ہو سوائے بڑھاپے کے(سنن ابن ماجہ کتاب الطب)کوئی طریقہ علاج اس سے بہتر مرض کی تعریف کرہی نہیں سکتا۔جو چیز لاعلاج بتائی گئی ہے (بڑھاپا)جیسے سابقہ ادوار میں اطباء و معالجین اس کے حل کرنے میں ناکام رہے آج بھی جدید سائنس اس کا حل پیش کرنے سے قاصر ہے۔۔
لیکن جو چیزیں محسوسات ہیں جن میں کسی ہنر و فن میں مہارت کی ضرورت نہیں ہے وہ سردی گرمی۔خشکی۔تری وغیرہ ہیں۔عمومی طورپر مشرقی طرق علاج میں یہ چیزیں کسی نہ کسی صورت میں موجود ہیں۔صدیوں سے فراعنہ مصر۔قدیم چین و ہند۔اور ایرانی و جاپان سب لوگ کسی نہ کسی انداز میں موسمی اثرات اور غذائی بے ضابطگی کو تسلیم کرتے ہیں۔ان کا علاج غذا سے شروع کرتے ہوئے ادواتکی وادی سے جراحی کے نشتر تک جا پہنچتا ہے۔
اخلاط کا تصور اسلام سے بہت پہلے کا ہے ، جسے مشہور یونانی حکیم جالینوس نے پیش کیا تھا،یہ دوسری صدی عیسوی کی بات ہے،(موسوعة تاريخ العلوم العربية رشدي راشد ج2 ،ص1163)لیکن کچھ محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ زرتشتیوں کی مقدس کتاب”اوستا” میں ا خلاط کا ذکر موجود ہے محققین اس بارہ میں پختہ رائے دینے میں تذبذب کا شکار ہیں کہ اخلاط کا موجد ایرانیوں کو تسلیم کیا جائے یا یونانیوں کو؟(نظریات و فلسفہ طب یونانی، عربی، طب، آیورویدا اور قدیم چینی طب)
عربوں میں موجود تھا کیونکہ کچھ اطباء ایسے موجود تھے جو طبی میدان میںاس وقت تک کے معلوم طبی قوانین سے واقف تھےانہوں نے طبی تعلیم ان اداروں سے حاصل کی تھی جو اس وقت طبی قواعد کے مطابق تعلیم و تعلم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے۔
الشاعر زهير بن أبي سلمى المزني حكيم الشعراء في الجاهلية، توفيّ الشاعر قبل بعثة الرسول محمد -صلى الله عليه وسلم- بسنة؛ لكن أبناءه كعب وبجير أدركوه وأسلمواالعرب استفادوا من علوم،اليونان ثم قدمواإضافات كبيرة استفادت منها البشر ية یعنی زہیر بن اسلمی المزنی جوکہ جاہلیت میں شاعر حکیم تھے ۔یہ نبیﷺکی بعثت سے پہلے اس دنیا سے رخصت ہوئے لیکن ان کے دوبیٹے کعب اور بجیرنے اسلام کا زمانہ پایا اور دولت ایمان سے دامن بھرا، انہوں نے یونانی علوم حاصل کئے اور اپنی فہم و فراست اور تجربات کی بنیاد پر بہت سے مفید8 اضافے بھی کئے جن سے لوگوں نے استفادہ کیا ۔كمال السامرائي،مختصر تاريخ الطب العربي،ج1، ص201

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.