عبادات! انسانی صلاحیتوں کے لئے ضروری ہیں

عبادات! انسانی صلاحیتوں کے لئے ضروری ہیں

عبادات!
انسانی صلاحیتوں کے لئے ضروری ہیں

عبادات! انسانی صلاحیتوں کے لئے ضروری ہیں
عبادات!
انسانی صلاحیتوں کے لئے ضروری ہیں

 

عبادات :انسانی صلاحیتوں کے لئے ضروری ہیں

حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو

پہلے کاانسان جب حقیقی مقام و مرتبہ سے پھسلاتو اسے اپنے مام پر لانے کے لئے پیدا کرنے والے نے ایسے منتخب بندے بھیجے جو بظاہر تو انہی میں سے تھے لیکن ان کی صفات میں بہت تفوق پایاجاتا تھا انہیں قدرت نے منتخب کرکے بھیجا کہ جاکر گرے ہوئے انسانوں کو ان کا مقام و مرتبہ بتائو،ان منتخب نمایئندوں میں ایسی صلاحتین موجود تھیں کہ انہیں مخفی مخلوقات سے رابطہ کرنے اور پیغام ربی وصول کرنے میں کسی سم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا ان نورانی ہدایات کو یہ اپنی قومی زبان میں ادا کیا کرتے تھے۔ان لوگوں کے دماغ اعلی درجے کے تھے اور جو مام انہیں دیا گیا تھا درت کے خزانوں میں اعلی جوہر تھا نبوت

سے بڑھ کر کوئی اعلی چیز نہیں ہے ۔

 

جادوگروں نے کم فہمی یا کم علمی کی بطنا پر ان لوگوں کی مخالفت کی یا ان کے سامنے خم ٹھونک کر سامنے آگئے لیکن منہ کی کھائی،اور ناکام ہوئے اس کے علاوہ ان کی صلاحیتیں جس طریقے سے پروان چڑھی تھیں اس مین کمزوریہ اور کجی موجود تھی اس طریقے میں انسان اپنے اصلی مقام سے گر گیا تھا ادیان سماوی نے انسانی صلاحیتوں کو اعلی پیمانے پر ابھرنے کے مواقع فراہم کئے ہیں انہیں اس انداز میں پروش کرنے کے طریقے تعلیم کئے ہیں کہ انسان کااصلی مام و جوہر کھل کر سامنے آتا ہے اور اس کی انا بھی مجروح نہیں ہوتی۔شرائع آسمانی ہر اس رخ کو موڑدیتی ہیں جس میں نقصان کا پہلو موجود ہو ۔جادو کے نام پر ابھرنے والی طاقت کو جس انداز اور طریقے سے بروئے کار لایا جاتا تھا یا لایا جارہا ہے اس میں ایک نفرت انگیز پہلو موجود ہے جاسے کوئی بھی صاحب عقل تسلیم نہیں کرسکتااور انداز اور سوچ کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔اگت نیت بدل جائے تو مقاصد بھی بدل جاتے ہیںثواب و خطا کا دارومدار نیتوں پر موقوف ہوتا ہے۔

 

عبادات سے رب کو تو کچھ فائدہ نہیں ہوتامگر عابد کو اس میں بیشماردفوائد ملتے ہیں انتشار ذیہنی ختم ہوکر اط،منان کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے ۔یہی وہ کیفیت ہے جو کسی بھی کام،کو اچھے انداز میں پائے تکمیل تک پہنچاتی ہے اورانسان حقیقی انداز میں اپنے کام سے لطف اندوز ہوتا ہے۔زیادہ اور بے ڈھنگی عبادت سے کم مگر اعلی درجے کی عبادت بہتر ہے کیونکہ ادھورے چھوڑے ہوئے کاموں سے معمولی کیا ہوا مکمل کام بہتر ہوتاہے۔نمازاور دیگر عبادات کو اس نظر سے دیکھا جائے جو انکی حقیقی غرض وغایت ہے تو حقیقت کھل کر سامنے آجائیگی کہ جوکام کام ایک انسان دماغی صلاحیتوں کو بیدار کرنے کے لئے طویل طریوں پر عمل پیرا ہوکر کرتا ہے وہی چیز اچھے اور اعلی انداز میں معمولی وقت میں عبادت کرکے پیدا کی جاسکتی ہے۔اسلام نے اس وقت کے حصول سے ممانعت نہیں کی بلکہ اس غلط روش اور طریقے کو مسترد کیا گیا ہے جو جادو کے نام پر صدیوں سے انسانی ذہن پر چھایا ہواہے۔

 

جب انسان حقیقی انداز میں عبادات کو اپنا لیتا ہے تو اس کے سامنے وہ راہیں دیکھنے کو ملتی ہیں جو دوسرے طریقے سے بمشکل وا ہوتی ہیں۔انسان عبادت میں اپنے دماغی قویٰ کو بہتر انداز میں استعمال کرتا ہے اور اگر انسان کو وہ کیفیت نصیب ہوجائے جسکا تقاضہ کیا جارہا ۔ان تعبداللہ کانک تراہ۔تو کسی چلے اور وظیفے کی محتاجی نہیں رہتی،یہی تو وہ نکتہ ہے جہاں سے قوتوں کا ظہور ہوتا ہے یکسوئی پیدا ہوتی ہے جہاں انسانی ذہن اس انداز میں کام کرنے لگتا ہے کہ اسے اپنی حقیقت دکھائی دینے لگتی ہے، جن لوگوں نے مذہبی روح کو سمجھا ان کا کہنا تھا کہ نماز وہ چیز ہے جس کے ذریعہ سے سب کچھ مل سکتا ہے ۔

 

احادیث و رجال کی کتابوں میں بکثرت واقعات موجود ہیں کہ نماز میں جو ان حضرات کی کیفیت ہوا کرتی تھی اس استغراق تک پہنچنے کے لئے دوسرے طریقوں سے عمر بھر وہ کیفیت نصیب نہیں ہوسکتی جب انسان یکسو ہوجاتا ہے جو سوچتا ہے اس کی سوچ مادی شکل اختیار کرجاتی ہے۔اصحاب محمدﷺ نے ایسی کیفیات پیدا کرلی تھیں کہ نماز کی حالت میں جسم میں پیوستہ تیر کھینچ لئے گئے انہیں خبر تک نہ ہوئی۔جب انسان اس مقام تک رسائی حاصل کرلیتا ہے تو باخبر دنیا میں ہلچل مچ جاتی ہے۔

 

اس کے علاوہ یہ صاف شفاف انداز ایسا ہے جس سے کسی نازک طبع کو کراہت پیدا نہیں ہوسکتی کیونکہ تمام نفائس کو ان عبادات میں سمودیا گیا ہر وہ بات جسے پاکیزگی و نفاست کہا جاسکے اختیار کرنے کی ہدایات موجود ہیں۔ان عبادات کو ایسی ہستی نے مقرر کیا ہے جو اس بات سے باخبر ہے کہ پاکی کا کیا مقام ہے۔اور اس سے انسانی طبیعتوں کے علاوہ ملائکہ کو بھی تکلیف ہوتی ہے بالفاظ دیگر کہ وہ ہستیاں جنہیں پیدا کرنے والے نے اس بات پر پابند کیا ہے کہ نظام کائنات کو چلانا ہے بدبوبدنیتی گندے طریقے انہیں ایذا ء پہنچاتے ہیں لہذا روحانی طور پر ایسا انداز اختیار کیا جائے جو نفیس طبائع کے لئے گرانی کاسبب نہ بن سکے۔

میرا مقصد اس تحریر یہ ہرگز نہیں ہے کہ میں پڑھنے والوں کو جادوئی توعلیم پر ابھارہا ہوں یا اس کی تحریص پیدا کررہاہوں حاشا وکلا ایسی بات ہرگز نہیں لیکن بات کو سمجھانا مقصود ہے کہ جس جادو سے ہر دوسرا انسان نالاں و خائف ہے اس کی حقیقت ہے کیا ؟کیا کوئی دوسری راہ ایسی موجود نہیں کہ انہیں قوتوں کو پیدار کرکے ان سے مستفید ہوا جاسکے یا ایک جادو گر کے شرسے محفوظ رہا جاسکے۔جادو جس انداز میں جاری و ساری ہے اور اس کا جو تصور انسانی ذہنوں میں پایا جاتا ہے واقعی اس قابل ہے کہ اسے کراہت کی نگاہ سے دیکھا جائے اور اسے حرام کے زمرے میں جگہ دی جائے۔شرئع آسمانی نے جو فیصلہ جادو کے بارہ میں دیا یہ اسی قابل تھا یا کم از کم وہ طریقہ جس پر چل کر ایک جادوگر اپنی صلاحتیوں کو بیدار کرتا ہے بہت قبیح اور نفرت انگیز ہے ۔

 

لیکن کسی ابل نفرت چیز کو صرف اس لئے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ اسے حرام ٹہرایا گیا ہے۔بقول امام شاطبی جس چیز کو حرام قرار نہیں دیا گیا ہو وہ فی نفسہ مباح ہے اور شریعت نے اگر کسی چیر کو حرام قراردیاہے تو اسے کسی سبب اور علت کی بناپر حرام قراردیاگیا ہے ۔جادو کے اندر جو قبائح موجود تھے یا جو راستہ دماغی صلاحیتوں کی بیداری کے لئے استرعمال کیاجاتاتھا وہ بالکل غیر فطری تھا اس کے بعد ان طاقتوں کو منفی انداز میں استعمال کیاجاتا تھا یا جادو کے بارہ میں یہ بات ذہنوں میں پختہ ہوچکی تھی کہ جادو سوا نقصان کے کچھ نہیں کرسکتا اس لئے جادو کا نام سنتے ہی ایک نفرت انگیز تصور ابھرتاتھا،مثلاَ۔ قتل و غارت ایک برا کام ہے لیکن مقصد بدلنے اور نیت کی تبدیلی اسی قتل وغارت کو عین منشائے خداوندی قرار دیا جاتا ہے اور اسی قتل و غارت میں شریک جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تواسے شہید قرار دیاجاتا ہے کیونکہ اس نے جو اندازقتل و غارت کااختیار کیا تھا اسے استحسان کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،

 

بس یہی صورت ان دماغی خفیہ طاقتوں کی ہے کہ نیت کے بدلنے اور اسے اچھے اور مستحسن انداز میں بیدار کرکے استعمال کرنے کی کہیں ممانعت موجود نہیں ہے۔
مقاصد بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں وہی یکسوئی جس سے ان طاقتوں کو جلا بخشی گئی تھی اگر حلال اچھے انداز میں انہیں بیدار کیاگیا ہے تو یہی طریقہ عین عبادت کے زمرے میں آتا ہے اور اگر اس کا کوئی ایسانداز اختیار کیاگیا جس میں شرف انسانی کی توہین تھی تو اسی بیداری دماغ کو غیر مستحسن کہا گیا ہے بات جنتی سلجھانے کی کوشش کی جارہی ہے الجھتی جارہی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.