عامل بننے کی خواہش ؟

عامل بننے کی خواہش ؟

 عامل بننے کی خواہش ؟
عامل بننے کی خواہش ؟

عامل بننے کی خواہش ؟

تحریر
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

عامل اور عمل آج کل اس قدر پر کشش الفاظ بن چکے ہیں کہ ہر کوئی کسی نہ کسی درجہ میں متأثر ہوجاتا ہے ، عملیات کی دنیا میں بھی قدم رکھنا چاہتا ہے سب سے پہلے خود سے سوال کرے ،کیا وہ اس کا اہل ہے؟اس کی طبیعت میں عملیات کے لئے کشش پائی جاتی ہے؟ انسان اسی میدان میں کامیابی حاصل کرتا ہے جس میں طبعی میلان پایا جائے ، پاک و ہند میں پوری قوم جس بیماری میں مبتلا ہے وہ نقالی ہے، عملیات ہی پر کیا منحصر ہر میدان میں یہ وبا پائی جاتی ہے ۔اگر کسی نے سبزی کی دکان کھولی ہے تو دیکھا دیکھی کئی لوگ اس میدان میں چھلانگ لگا دیں گے۔کسی نے کپڑے کا کاروبار کرلیا تو سب لوگ اسی طرف جھکنے لگ جائیں ،عملیات ایک ہنر اور فن ہے جس طرح دوسرے فنون حاصل کئے جاتے ہیں عملیات کو بھی اسی طرح سیکھا اور سکھایا جاتا ہے ، عملیات ایک گہرا سمندر ہیں جسے ماہرین نے متعدد شاخوں میں تقسیم کیا ہے،اگر کوئی چاہتا ہے کہ عملیات کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرلے یہ بہت مشکل اور دشوار کام ہے،اس لئے میدان عملیات میں کسی ایک عمل کوپختگی سے حاصل کرلے اور کا عملی مظاہرہ کرے یہ ان بہت سارے عملیات سے افضل ہے جو عامل کو کامیابی سے ہمکنار نہ کرسکیں، عملیات میں وہ لوگ زیادہ کامیاب ہوتے ہیں جن کی قوت متخیلہ مضبوط ہوتی ہے ۔جو یکسوئی میں مہارت حاصل کرلیں گے وہ عملیات کے میدان میں مہارت کا ثبوت پیش کریں گے ۔جو لوگ بال کی کھال اتارتے ہیں ،فلسفیانہ ذہن رکھتے ہیں ہر سوال پر کیوں کا لفظ بولتے ہیں عمومی طورپرمیدان عملیات میں کم ہی کامیابی حاصل کرپاتے ہیں کوئی بھی عمل چلہ وظیفہ اس انداز میں کرو کہ لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے اہل بن جاؤ اتنا ہی کافی ہے،جولوگ سارے عملیات وظائف کرنے کے چکر میں پڑ جاتے ہیں وہ کسی میدان میں بھی کامیاب نہیں ہو سکتے ،جو ایک دو عملیات سیکھ کر میدان عمل میں اتر جاتے ہیں وہ مریدوں اور سائل کے دلوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیتے ہیں۔

قوت ارادی

عقل مند آدمی خواہشات سے مغلوب ہوکر کسی مدعا کے حصول کے لئے اندھا دھند کارروائی نہیں کرتے بلکہ کسی کام کاارادہ کرنے سے قبل گذشتہ تجربات پر غورکرتے اور نتائج پر دھیان کرکے ارادہ کرتے ہیں در اصل قوی اور مفید ارادہ بھی یہی ہے کہ عقل حافظہ،فکر و وہم کو پورے طورپر بروئے کارلانے کے بعد کیا جائے اعلی درجہ کی قوت ارادی دو یا دو سے زیادہ مختلف مقاصد میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے وقت ظاہر ہوتی ہے یعنی نفس ناطقہ کے سامنے دویا دو سے زیادہ مدعا کی تصویریں حاضر ہوں اور پھر ان ذرائع اور وسائل کو اختیار کیا جائے جو مختلف مدعا کے لئے ضروری ہیں جب انسان کسی شئے کی بھلائی یا برائی پر غور کررہا ہوتا ہے تو اس کے تاثر سے اس قدر جذبات و خواہشات میں جوش پیدا ہوتا ہے اور پھر وہ اس غرض سے تامل کرتا ہے کہ مقاصد کے نفع و نقصان،راحت و رنج کا صحیح اندازہ کرلے اس وقت خواہشات میں تناقض اور جھگڑا واقع ہوتا ہے اور انسان کی قوت فیصلہ کسی ایک کو مدعا قرار دیکر ا س کے حصول پر آمادہ ہوکر اپنی قوت کو مستحکم کردیتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.