طب نبوی ﷺمیں عرق النساء کا علاج

طب نبوی ﷺمیں عرق النساء کا علاج

طب نبوی ﷺمیں عرق النساء کا علاج
اور عید قربان کے موقع پرفائد اٹھائیں۔

طب نبوی ﷺمیں عرق النساء کا علاج
طب نبوی ﷺمیں عرق النساء کا علاج

:حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی @ﷺکاہنہ نولاہور پاکستان

عمومی طور پر شیاٹیکا کی بیماری بائیں ٹانگ میں حملہ آور ہوتی ہے ۔اس میںتجرباتی طور پر چربی کا استعمال فائدہ دیتا ہے۔جیسا کہ حدیث میں جنگلی بکرے کے فوائد میں بیان کیا گیا ہے۔جو لوگ قربانی میںدنبے یا چکتی والے لے لے کی قربانی کررہے ہیں وہ عرق النساء ۔ جوڑوں کے درد۔جسم کا کھچائو۔پٹھوں کے اکڑائو سے نجات پاسکتے ہیں۔دبنے کی چکتی کی چربی ایسے مریضوں کو فائدہ پہنچائے گی۔
شیاٹیکا ایک تکلیف دہ اور بعض صورتوں میں ناقابل علاج مرض بھی بن جاتا ہے اور آپریشن کے بعد بھی انسان خود کو تندرست محسوس نہیں کرتا


شیاٹیکا کو طب میں عرق النسا ء کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔اس کو عموماً نام کی وجہ سے عورتوں کی بیماری سمجھا جاتا ہے حالانہ یہ مردوں میں بھی یکساں معروف ہے۔
شیاٹیکا( عرق النساء) کمر میں آخری مہروں کے پاس عصبی نظام کے مہروں کے نیچے دب جانے سے ہوتا ہے جس کی وجہ سے درد ٹانگ میں جاتا ہے اور پھر پاؤں میں پہنچ جانے کے بعد انسان کو چلنے پھرنے سے معذور کردیتا ہے۔اسکا علاج ادویات کے علاوہ ٹونے ٹوٹکوں سے بھی کیا جاتا ہے ۔جس سے مریض کا وقت برباد ہوتا ہے۔
یاد رکھنا چاہئے کہ شیاٹیکا( عرق النساء) میں رگوں پر دباؤ کی وجہ سے انسانی دماغ پر بہت بُرا اثر ڈالتا ہے۔ تکلیف کی وجہ سے ایسا انسان نیم پاگل بھی ہوجاتا ہے۔


اللہ کے رسول ﷺ نے شیاٹیکا( عرق النساء) کا بہت ہی عمدہ علاج تجویز فرمایا تھا جس کو اختیار کیا جائے تو انشاء اللہ شفا کاملہ نصیب ہوگی ۔شیاٹیکا( عرق النساء) کا طب نبوی ﷺ سے علاج سنن ابن ماجہ کی اس حدیث سے ملتا ہے جو محمد بن سیرینؓ نے حضرت انس بن مالکؓ سے بیان کی تھی۔آپؓ فرماتے ہیں ’’ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا کہ عرق النساء کا علاج جنگلی بکرے کی ران میں ہے۔ران کو مہرا کیا جائے ،پھر اس کی یخنی تین حصہ کردی جائے ۔اس کے بعد تین دن تک یخنی کا استعمال نہار منہ کیا جائے‘ روزانہ نہار منہ ہونا چاہیے‘‘۔


محقیقین واطبا کرام کا کہنا ہے کہ جنگلی بکرے کے گوشت میں پہاڑوں پر پائی جانے والی ایسی جڑی بوٹیوں کا اثرموجود ہوتا ہے جو وہ خوراک کے طور پر چرتا رہتا ہے ۔میدانی اور فارمی بکرے کے گوشت میں یہ افادیت مفقود ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.