طب مفرداعضاء از:مجدد الطب ؒ

طب مفرداعضاء
از:مجدد الطب ؒ

طب مفرداعضاء
طب مفرداعضاء

طب مفرداعضاء
از:مجدد الطب ؒ

 

پیش کردہ:حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

تعریف: یہ ایک ایسی تحقیق ہے جس سے ثابت کیاگیاہے کہ امراض کی پیدائش مفرد اعضاء(گوشت،پٹھے اورغدد) میں ہوتی ہے اور اس کے بعد مرکب اعضاء کے افعال میں افراط وتفریط اورضعف پیداہوتاہے۔علاج میں بھی مرکب اعضاء کی بجائے مفرداعضاء کو مدنظررکھناچاہیے کیونکہ انسان کے تمام مرکب اعضاء مفرداعضاء کی بافتوں اور انسجہ(Unit) سے مل کربنتے ہیں۔

یہ علمی نظریہ ایک ایسافلسفہ ہے جس سے جسم انسان کومفرداعضاء کے تحت تقسیم کردیا ہے۔اعضائے رئیسہ دل، دماغ اور جگرمفرداعضاء ہیں جوعضلات ، اعصاب اور غددکے مراکزہیں۔جن کی بناوٹ جداجدااقسام کے انسجہ (Tissues)سے بنی ہوئی ہے اور ہرنسیج بے شمارزندہ حیوانی ذرات(Cell) سے مرکب ہے۔حیوانی ذرہ انسانی جسم کی اولین بنیاد(First Unit)ہے۔ہرحیوانی ذرہ اپنے اندرحرارت وقوت اور رطوبت(Heat, Energy and Force)رکھتاہے۔جس کے اعتدال کانام صحت ہے۔جب اس حیوانی ذرہ کے افعال میں افراط وتفریط یاضعف واقع ہوتا ہے تو اس کے اندرکی حرارت وقوت اور رطوبت میں اعتدال قائم نہیں رہتاپس اسی کانام مرض ہے۔اس حیوانی ذرہ کااثرنسیج پر پڑتاہے۔اس کے بعد مفرد اعضاء کے تعلق سے اعصاب وغدداورعضلات وغیرہ کے مطابق گزرتا ہوااپنے متعلقہ عضورئیس میں ظاہرہوتاہے ان میں افراط وتفریط اورضعف کی شکل میں امراض وعلامات پیداہوتی ہیں۔علاج کی صورت میں انہی مفرداعضاء کے افعال درست کردینے سے ایک حیوانی ذرہ سے لے کرعضورئیس تک کے افعال درست ہوجاتے ہیں۔بس یہی طب مفرداعضاء ہے۔

طب مفرداعضاء کی تحقیق کامقصد:

طب مفرداعضاء کی ضرورت اور تحقیق کامقصد یہ تھاکہ طب قدیم کی کیفیات ، مزاج اوراخلاط کی مفرد اعضاء سے تطبیق دے دی جائے تاکہ ایک طرف ان کی ا ہمیت واضح ہوجائے اوردوسری طرف یہ حقیقت سامنے آجائے کہ کوئی طریق علاج جس میں کیفیات ومزاج اور اخلاط کومدنظر نہیں رکھاجاتاوہ نہ صرف غلط ہے بلکہ وہ غیرعلمی(Unscientific)اورعطایانہ علاج ہے۔اس میں یقینی شفانہیں ہے اور وہ عطایانہ طریق علاج ہے۔جیسے فرنگی طب ہے جس میں کیفیات ومزاج اور اخلاط کوکوئی اہمیت حاصل نہیں ہے اس لئے انہی مقاصدکے تحت ہم نے طب مفرداعضاء کی بنیاد احیائے فن اورتجدیدطب پررکھی ہے۔ہم نے طب مفرداعضاء کے ساتھ کیفیات ومزاج اوراخلاط کے اثرات کے بغیر عمل میں نہیں آسکتے ۔اس لئے ان کے اثرات کومدنظررکھنا ضروری ہے تاکہ اعضاء کے افعال کودرست رکھاجاسکے۔اگر اثرات کومدنظررکھاجائے تو پھر لازم ہے کہ مفرداعضاء کے مطابق ادویہ اوراغذیہ اورتدابیرکوعمل میں لایا جائے۔ گویامفرداعضاء کے افعال بالکل کیفیات ومزاج اوراخلاط کے اثرات کے مطابق ہیں۔

اس تحقیق وتطبیق سے افعال مفرداعضاء اور کیفیات ومزاج اور اخلاط سے ایک طرف ان کی اہمیت سامنے آگئی ہے اور طب قدیم میں زندگی پیداہوگئی ہے تودوسری طرف اعضاء کے افعال کی علاج میں ضرورت سامنے آگئی ہے۔اس طرح تجدیدطب کاسلسلہ قائم کردیاگیاہے اور ساتھ ہی علم الادویہ میں بھی سی صورت کوثابت کیاگیاہے۔وہ بھی صرف انہی مفرداعضاء پراثرکرتی ہیں جن سے امراض وعلامات رفع ہوجاتی ہیں۔پوری طرح صحت صحیح ہوجاتی ہے۔ کیونکہ ہماری تحقیق ہے کہ کوئی دوابھی مفرداعضاء کی بجائے سیدھی امراض وعلامات پراثرانداز نہیں ہوسکتی۔

طب مفرداعضاء کی تشریح:

نظریہ مفرداعضاء بالکل نیانظریہ ہے۔تاریخ طب میں اس کا کہیں اشارہ تک نہیں پایا جاتااس نظریہ پرپیدائش امراض اورصحت کی بنیادرکھی گئی ہے،اس نظریہ سے قبل بالواسطہ یابلاواسطہ پیدائش امراض مرکب اعضاء کی خرابی کوتسلیم کیاجاتارہاہے۔مثلاً معدہ وامعاء ،شش ومثانہ۔آنکھ ومنہ،کان وناک بلکہ اعضائے مخصوصہ تک کے امراض کوان کے افعال کی خرابی سمجھا جاتا ہے ۔ یعنی معدہ کی خرابی کواس کی مکمل خرابی ماناگیاہے۔جیسے دردمعدہ،سوزش معدہ،ورم معدہ،ضعف معدہ اوربدہضمی وغیرہ پورے معدہ کی خرابی بیان کی جاتی ہے۔لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ معدہ ایک مرکب عضوہے اور اس میں عضلات واعصاب اورغدد وغیرہ ہرقسم کے اعضاء پائے جاتے ہیں اورجب مریض ہوتا ہے تووہ تمام اعضاء جومفردہوتے ہیں بیک وقت مرض میں گرفتارنہیں ہوتے بلکہ کوئی مفردعضومریض ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ معدہ میں مختلف قسم کے امراض پیداہوتے ہیں۔

جب معدہ کے مفرداعضاء میں سے کوئی گرفتارمرض ہوتاہے۔مثلاًمعدہ کے اعصاب مرض میں مبتلاہوتے ہیں تواس کی دیگر علامات بھی اعصاب میں ہوں گی اوران کااثردماغ تک جائے گا ۔ اسی طرح اگراس کے عضلات مرض میں مبتلاہوں گے توجسم کے باقی عضلات میں بھی یہی علامات پائی جائیں گی اوراس کااثر قلب تک چلاجاتاہے۔یہی صورت اس کے غددکے مرض کی حالت میں پائی جاتی ہے،یعنی دیگرغددکے ساتھ جگروگردوں کوبھی متاثر کرتے ہیں یابالکل معدہ کے مفرداعضاء اعصاب غددوعضلات کے برعکس اگردل،دماغ اورجگروگردہ میں امراض پیدا ہو جائیں تومعدہ وامعاء اور شش ومثانہ بلکہ آنکھ ومنہ اورناک وکان میں بھی علامات ایسی ہی پائی جائیں گی۔

اس لئے پیدائش امراض اورشفائے امراض کیلئے مرکب عضوکی بجائے مفرد عضوکو مدنظررکھنا یقینی تشخیص اوربے خطاعلاج کی صورتیں پیداہوجاتی ہیں۔ اس طرح ایک طرف کسی عضوکی خرابی کا علم ہوجاتا ہے تودوسری طرف اس کے صحیح مزاج کاعلم ہو جاتاہے،کیونکہ ہرمفردعضوکسی نہ کسی کیفیت ومزاج بلکہ اخلاط کے اجزاءء سے متعلق ہے۔ یعنی دماغ واعصاب کامزاج ترسردہے اور ان میں تحریک سے جسم میں سردی تری اوربلغم بڑھ جاتے ہیں۔اسی طرح جگروغددکامزاج گرم خشک ہے اس کی تحریک سے جسم میں گرمی خشکی اورصفرابڑھ جاتاہے۔یہی صورت قلبی (عضلات) ہے اورمفرداعضاء کے برعکس اگرجسم میں کسی کیفیت یامزاج اوراخلاط کی زیادتی ہو جائے توان کے متعلق مفرداعضاء پراثراندازہوکران میں تیزی کی علامات پیداہوجائیں گی۔

اس طرح دونوں صورتیں نہ صرف سامنے آجاتی ہیں بلکہ علاج میں بھی آسانیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ ایک خاص بات یہ ذہن نشین کرلیں کہ مفرد اعضاء کی جوترتیب اوپربیان کی گئی ہے ان میں جو تحریکات پیداہوتی رہتی ہیں وہ ایک دوسرے مفرداعضاء میں تبدیل ہوتی رہتی ہیں اورکی جاسکتی ہیں۔اسی طرح سے امراض پیداہوتے ہیں اوراسی طرح ہی ان تحریکات کوبدل کران کوشفاء اورصحت کی طرف لایاجاسکتاہے۔

عملی تشریح:جاننا چاہیے کہ انسان تین چیزوں سے مرکب ہے (1)جسم۔ Body(2) نفس۔Vital Force (3)روح۔Soul ۔نفس اور روح کاذکربعدمیں ہوگا۔اول جسم کوبیان کرناضروری ہے۔

انسانی جسم تین چیزوں سے مرکب ہے(1)بنیادی اعضاء۔(2) Basic Organs حیاتی اعضاء۔Life Organs (3)خون۔Blood ان کی مختصر سی تشریح درج ذیل ہے۔

(1)۔بنیادی اعضاء۔Basic Organs
ایسے اعضاء ہیں جن سے انسانی جسم کاڈھانچہ تیارہوتاہے جن میں مندرجہ ذیل تین اعضاء شریک ہوتے ہیں۔

(1) ہڈیاں۔Bones (2) رباط۔Ligaments (3) اوتار۔ Tendons

(2)۔ حیاتی اعضاء۔Life Organs
ایسے اعضاء ہیں جن سے انسانی زندگی اوربقاقائم ہے۔یہ تین قسم کے ہیں۔(1) اعصاب ۔ Nerves ان کامرکزدماغ(Brain)ہے۔ (2)غدد۔Glands جن کامرکزجگر (Liver) ہے۔عضلات(Muscles)جن کامرکزقلب(Heart) ہے۔ گویادل،دماغ اورجگر جو اعضائے رئیسہ ہیں وہی انسان کے حیاتی اعضاء ہیں۔

(3) ۔خون۔Blood
سرخ رنگ کا ایک ایسا مرکب ہے جس میں لطیف بخارات(Gases)،حرارت (Heat)اوررطوبت (Liquid) پائے جاتے ہیں۔یاہو ا ، حرارت اورپانی سے تیارہوتا ہے۔ دوسرے معنوں میں سودا،صفرااوربلغم کاحامل ہوتاہے۔ ان کی تفصیل آئندہ بیان کی جائے گی۔اس مختصرسی تشریح کے بعد جانناچاہیے کہ قدرت نے ضرورت کے مطابق جسم میں اس کی ترتیب ایسی رکھی ہے کہ اعصاب باہر کی جانب اورہرقسم کے احساسات ان کے ذمہ ہیں ۔ اعصاب کے اندرکی طرف غددہیں اورہرقسم کی غذا جسم کومہیاکرتے ہیں۔ غددسے اندرکی جانب عضلات ہیں اورہرقسم کی حرکات ان کے متعلق ہیں۔ یہی تینوں ہر قسم کے احساسات ،اغذیہ اورحرکات کے طبعی افعال انجام دیتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.