طب ترقی و نمو پزیر شعبہ ہے۔

طب ترقی و نمو پزیر شعبہ ہے۔

طب ترقی و نمو پزیر شعبہ ہے۔

طب ترقی و نمو پزیر شعبہ ہے۔
طب ترقی و نمو پزیر شعبہ ہے۔

طب ترقی و نمو پزیر شعبہ ہے۔

تحریر:حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی: سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کاہنہ نو لاہور پاکستان

اسلام کا یہ اعجاز ہے کہ اس نے کوئی بات خلاف عقل نہیں کہی جن باتوں کو خلاف عقل کہا گیاہے بنیادی طورپر ان کی تفہیم و تعلیم میں غلطی کی گئی یا پھر ان باتوں کے من چاہے معنی کئے گئے جو لوگ زیادہ عقل مند بننے کی کوشش کرتے ہیں انکی سمجھ کے مطابق جو کچھ انہوں نے سمجھا ہے وہی حق ہے لیکن جو انہوں نے سمجھا ہے حق اسی میں مقید ہوکر رہ گیا ہے اس کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔
اسلام کوسمجھنے اور سمجھانے میں ایک غلط روش یہ بھی اختیار کی گئی کہ جن علوم و فنون کا کسی دور میں طوطی بولتا تھا اس سے مرعوب ہوکر اہل علم نے اسلام کو کھینچ تان کر اسی نظریہ کے مطابق تشریح شروع کردی اس کے بعد کی تحقیقات نے جب اس غبارے سے ہوا نکالی تو اس کا رعب و داب ختم ہوکر وہ کتابوں تک محدود ہوکر رہ گیا ،مشکل ان لوگوں کو پیش آئی جنہوں نے اس نظریہ کو اسلام ثابت کرنے پر ایڈی چوٹی کا زور لگا دیا تھا۔یا جن پڑھنے والوں نے ان خود ساختہ نظریات کو اسلام سمجھ کر مطالعہ کیا تھا،اس لئے اس کا روش کا اختیارکرنا کہ ہر بات کو اسلام ثابت کیا جائے بہت خطرناک ہے۔
فن طب کی ابتداء کیسے ہوئی اور کونسا انسان سب سے پہلے کس مرض میں مبتلاہوا اور اس کا کس نے کس طریقے سے علاج کیا اس مرض کے تدارک و اسباب مرض کی کیا تدابیر اختیار کیں ان سے کے بارہ میں تاریخی اعتبار سے یقینی طورپر کچھ کہا نہیںجاسکتا لیکن علم طب اور علاج کے معالجہ کے بارہ میں یہ بات متفقہ ہے کہ علاج و معالجہ انسان کی کئی برسوں کی کاوش و محنت کا نتیجہ ہے۔
طب کے بارہ میں بھی کہیں کہیں یہی روش نظر آتی ہے کہ اس موضوع پر کچھ تحریریں ایسی بھی سامنے آتی ہیں جہاں ایمان و اسلام کے لبادے میں محدود و خود ساختہ سوچ کواسلام بتایا جارہا ہوتا ہےمثلاََ ایک وقت تک جب ارسطو و افلاطون جالینوس وغیرہ کی باتیں سب سے اعلی اور طبی میدان میں سائنس کا درجہ رکھتی تھیں اس سے بہتر کوئی نظریہ سامنے موجود نہ تھا کچھ لوگوں نے ان نظریات کو لیکر اسلام کو تنقید کا نشانہ بنانے کی سعی لاحاصل کی بعد کی تحقیقات نے ان نظریات کا بودا پن ثابت کردیا تو دونوں طرف کے علم برداروں کو خفت کا سامنا کرنا پڑا،ان نظریات کو حتمی سمجھنے والوں کو بھی اور ان نظریات کو عین اسلام ثابت کرنے والوں کو بھی۔ہربات میں اعتدال کا دامن پکڑے رہنا بہترین روش ہوتی ہے۔
حکیم انقلاب جناب صابر ملتانے لکھتے ہیں’’ جہاں تک عربی طب کا تعلق ہےوہ آریورویدک اور طب یونانی کی ترقی یافتہ صورت ہی اور یہ ارتقائی منزلیںاس نے صدیوں میں طے کی ہیںابتداء میں جو قاعدے اور اصول قائم کئے گئے تھی وہ عربی طب میں تقریبا قوانین کی صورت اختیار کر گئے اورپھر ان قوانین میںایک نظم و ضبط پایا جاتا ہے جو اس طب کی جان ہے ‘‘(فرنگی طب غیر علمی اورغلط ہے صفحہ65)
طب کا شعبہ ایک ترقی اور نمو پزیر شعبہ ہے جہاں ہر طلوع ہونے والادن اپنے ساتھ نت نئی تحقیقات لیکر آتا ہے ہزاروں لاکھوں لوگ اس سے وابسطہ ہوتے ہیں کچھ باتیں تحقیقات کے نتیجہ میں سامنے آتی ہیں تو کچھ اتفاق سے ہاتھ لگتی ہیں اس شعبہ میں ہر آن و ہر لمحہ نظریات بنتے بگڑتے ہیں ،عمومی طورپر وہی چیزیں اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیان رہتی ہیں جنہیں فائدہ مند سمجھا جاتا ہے فضول و لایعنی باتیں ماضی کے دھند لکوں میں گم ہوجاتی ہیں۔
شعبہ طب کو لوگ اپنی ضروتوں کے مطابق کام میں لاتے ہیں اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں مریض اپنی بیماری اور دکھ سے چھٹکارے کے لئے طب سے استفادہ کرتا ہے اور معالج اپنی کمائی و پیشہ کی ترقی کے لئے طب کو اختیار کرتا ہے۔زندگی میں بے شمار ایسے واقعات سامنے آتے ہیں کہ بے خبری ناسمجھی میں جو دوا و خوراک مریض کو استعما ل کرا ئی جاتی ہیںان سے فائدہ بھی ہوتاہے لیکن اس وقت معالج کا منہ حیرت سے کھلا رہ جاتاہے جب طبی قوانین کی کسوٹی پر اس علاج کو پرکھتا ہے،کبھی ایسا ہوتا ہے تمام طبی قوانین بروئے کار لائے جاتے ہیں لیکن مریض و معالج دونوں ہی فوائد سے محروم رہتے ہیں اس وقت سمجھ میں آتا ہے کہ کوئی بیماری ایسی نہیں جس کی دوا نہ اتاری ہو جب مرض اور دوا میں تطابق ہوجاتا ہے توشفاء مل جاتی ہے۔

طب نبوی ایک معیار ہے۔

شعبہ طب ہر وقت نمو پزیر و تغیر ات سے بھرپور شعبہ ہے اس میں بے شمار لوگوں کے محنت و کاوش شامل ہے یہ ایک مشترکہ میدان عمل ہے ہر کوئی اپنی مہارت کا ثبوت پیش کرسکتا ہے اور میدان میں جوہر دکھانے کے لئے کسی مذہب یا عقیدہ کو دخل نہیں ہے جس چیز کو طب نبو ی کہا جاتا ہے یہ انسانی صحت کو برقرار رکھنے کا ایک تسلسل ہے۔ طب نبوی اس وجہ سے انفرادیت رکھتی ہے اس میں صحت کے جو اصول قواعد و ضواطب بتائے گئے ہیں وہ اس قدر جامع اور مکمل ہیں ان کے بغیر کوئی معاشرہ صحت مند نہیں رہ سکتا۔ایسے اسرار و رموز بیان فرمائے جنہیں آج بھی کم لوگ سمجھ سے ہیں مثلاََ ایک بخار ہی کو لے لیں کوئی بھی طریق علاج ہو فوراََ بخار توڑنے کی تدبیریں کی جاتی ہیںیہ سمجھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی جاتی کہ بخار ہونے کا سبب کیا ہے؟ معالجین کی کوشش ہوتی ہے کہ بخار کو فوراََ ختم کردیا جائے ایسے ہزاروں واقعات ہیں جب ناسمجھی کی وجہ سے بخار کو توڑ دیا گیا تو جسم کا کوئی حصہ بھی ساتھ میں ناکارہ ہوگیا ۔ایک حدیث کا حوالہ موقع محل کے مطابق ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہﷺام سائب کے پاس تشریف لے گئے انہیں بخار تھا ان کی حالت دیکھ کر پوچھا تم کپکپا کیوں رہی ہو؟انہوں نے جواب دیا بخار(کی وجہ سے)اس میں اللہ برکت نہ دے۔رسول اللہﷺنے یہ سن کر فرمایا بخار کو برا نہ کہو کیونکہ یہ اولاد آدم کے گناہ اسی طرح دور کردیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے میل کو دور کرتی ہے(مسلم باب ثواب المومن فیما یصیبہ ) صحت کا کتنا بڑا اصول سمجھا دیا کہ بخار انسانی جسم سے امراض کو دور کرنے کا سبب ہے کیونکہ بخار ہوتا ہی اس وقت ہے جب زہریلے مواد انسانی وجود میں جمع ہوکر بیماری کا سبب بننے لگتے ہیں بخار کی گرمی بدن کو بچانے کے لئے بخار پیدا کرتی ہے یہ بخار کسی نعمت سے کم نہیں ہے بخار والے لوگ فالج جیسے خطرناک امراض سے محفوظ رہتے ہیں۔ ڈاکٹر نجیب گیلانی لکھتے ہیں’’الحق ان الطب النبوی جانب من جوانب الاعجاز‘‘(فی الرحاب الطب النبوی)ایسی طرح،کھانے پینے قضائے حا جت ،سونے جاگنے اوقات کی تقسیم ،ایسی ہے کہ جس کا ہر گوشہ طبی اصلوں میں جکڑا ہوا ہے دیگر طرق علاج میں جن چیزوں کو معالج بتاتا ہے طب نبوی میں انہیں صحت کی حالت میں کرنے والے کو ثواب ملنے کی نوید سنائی جاتی ہے۔جن اصولوں کو لوگ مجبوری اور غیر معمولی حالات میں اپناتے ہیں یہ طبی اصول مسلمانوں کے روزہ مرہ کے معمولات میں شامل ہوتے ہیں .

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.