کم قیمت "جو "کے بیش قیمت طبی فوائد

کم قیمت "جو "کے بیش قیمت طبی فوائد
کم قیمت “جو “کے بیش قیمت طبی فوائد

 

صحت کا خزانہ۔
کم قیمت “جو “کے بیش قیمت طبی فوائد

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

جو کے پانی کے چند حیران کن فوائد

تاریخ کے ماہرین کے مطابق “جو” پہلا اناج ہے جو انسان نے تقریباً دس ہزار سال پہلے کاشت کرنا شروع کیااور آج “جو” دنیا کی پانچویں بڑی فصل ہے جسے ساری دنیا میں ہی کاشت کیا جاتا ہے اور اتنے بڑے پیمانے پر اس کی کاشت کی وجہ اس اناج کی بے پناہ افادیت ہے حدیث کا علم رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ستو (جو کا پاوڈر) کی افادیت کے متعلق 21 سے زائد احادیث موجود ہیں
جو کا استعمال بطور خوراک کئی طریقوں سے کیا جاتا ہے مگر آب جو یعنی جَو کے پانی کے بہترین فوائد کا ذکر درج ذیل ہیں جسے پڑھ کر آپ جان پائیں گے کہ یہ ہماری صحت پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے
جو کے پانی کے فوائد:
جو کا پانی مشروبات کا بادشاہ ہےاور اس میں صحت کے لیے بےشمار فائدے ہیں کیونکہ یہ نیوٹریشنز سے بھرپور ڈرنک ہے خاص طور پر اس میں سلوبل اور نان سلوبل فائبر کی ایک بڑی مقدار کے علاوہ بیشمار منرلز (کیلشیم ، آئرن، مگنیشیم، میگنیز، زنک، کاپر) وغیرہ شامل ہوتے ہیں اور بہت سے وٹامنز کیساتھ ساتھ اینٹی آکسیڈینٹس اور پائتھو کیمیکلز شامل ہوتے ہیں جو دل کی بیماریوں اور شوگر کی بیماری میں انتہائی مفید ہوتے ہیں
آئیے جانتے ہیں کہ ہمیں اسے اپنی روزانہ کی خوراک کا حصہ کیوں بنانا چاہیے
جسم سے فالتو مادوں کا اخراج:
جو کے پانی کا روزانہ استعمال ہمارے جسم سے فاضل مادوں کو خارج کرنے میں مدد کرتا ہے یہ ہماری آنتوں کی صفائی کرتا ہےجو کے پانی میں ایک خاص قسم کی شوگر (بیٹا گلوکین) شامل ہوتی ہے جوہمارے جسم کے اندرونی نظام کے فاضل مادوں کی صفائی کر دیتی ہے

پیشاب کی نالی کی انفیکشن ختم کرتا ہے:
جو کا پانی ایک قدرتی دوائی ہے جو پیشاب کی نالی کی انفیکشن ختم کرنے کے لیے صدیوں سے استعمال ہو رہی ہے طبیب حضرات مریض کو روزانہ جو کے پانی کے کچھ گلاس پلاتے ہیں جب تک انفیکشن ختم نہ ہوجائے اس کے علاوہ طب یونان اور طب ایوردیک کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گُردوں کی پتھری کو توڑ کر پیشاب کے راستے خارج کر دیتا ہے
نظام ہضم درست کرتاہے:
جو کے پانی میں شامل سلوبل اور نان سلوبل فائبر خوراک کو ہضم کرنے اور فُضلے کی مقدار بڑھا کر اُسے خارج کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور ڈائریا اور قبض کے مریضوں کے لیے انتہائی مُفید ثابت ہوتی ہے اور الیکٹرولیٹس کا بیلنس ٹھیک کر کے نظام میں موجود انفیکشن کو ختم کرتا ہے
وزن کم کرتا ہے:
بڑھے ہوئے وزن کو کم کرنے لیے آب جو اکسیر کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ اس میں دو قسم کی فائبر موجود ہوتی ہے اور یہ فائبر ہمارے معدے کو بھرا رکھتی ہے جس سے ہم بار بار بھوک لگنے کی شکایت سے بچے رہتے ہیں یہ ہمارے جسم کی چربی کو پگھلاتی ہے اور خوراک کو جلد ہضم کرتی ہے۔
کولیسٹرول اور بلڈ شوگر کنٹرول کرتا ہے:
آب جو میں شامل فائبر اور بیٹا گلوکین بڑھے ہوئے کولیسٹرول کو کم کرنے کے علاوہ خوراک سے شوگر کو خون میں تیزی سے شامل ہونے سے روکتی ہے اور ٹائپ 2 کے ذیابطیس کے مریضوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ہےآب جو میں ایسے کیمیا شامل ہیں جو ہمارے جسم کے درجہ حرارت کونارمل کرتے ہیں اور ہمارے دل کو مضبوط اور توانا کرتے ہیں
ڈپریشن ختم کرتا ہے:
جسم میں غم اور اداسی پیدا کرنے والے ہارمونز کی مقدار بڑھنے کی صورت میں ہم ذہنی تناؤ اور پریشانی جیسی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں آب جو ان بڑھے ہُوئے ہارمونز کو کنٹرول کرتا ہے اور ہماری طبیعت کو خوشگوار بناتا ہے
جسم میں بیماریوں سے لڑنے کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتا ہے:
اگر ہم جَو کے پانی کو اپنی روزانہ کی خوراک کا حصہ بنائیں تو آب جو میں شامل قدرتی اینٹی آکسیڈینٹس اور نیوٹریشنز ہمارے جسم کی قوت مدافعت کو مضبوط کرتے ہیں اور اسے بیماریوں سے لڑنے کی قوت عطا کرتے ہیں اور جراثیموں کو انفیکشن پیدا نہیں کرنے دیتے
ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بناتا ہے:
جو کے پانی میں شامل وٹامنز اورمنرلز خاص طور پر مگینشیم ، فاسفورس، کیلشیم اور کاپر وغیرہ ہماری ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بناتے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ جو کے جوس میں دودھ سے 11 گنا زیادہ کیلشیم ہوتی ہے جو ہماری ہڈیوں کے لیے انتہائی مُفید ہے
حاملہ خواتین کے انتہائی مفید :
جو کے پانی کے طاقتور اجزا حاملہ خواتین کی صحت پر انتہائی اچھے اثرات پیدا کرتے ہیں یہ جہاں خوراک کو جلد ہضم کر دیتا ہے وہاں حاملہ خواتین میں نہار منہ طبیعت کی خرابی پیدا نہیں ہونے دیتا اور ان کا موڈ خوشگوار رکھتا ہے جو کہ ماں اور پیدا ہونے والے بچے دونوں کے لیے ہی انتہائی ضروری ہے
انیمیا میں انتہائی مفید:
جسم میں خون کی کمی یعنی انیمیا ایک عام بیماری ہے جو خواتین اور مردوں اور بچوں سب کو متاثر کرتی ہےاور اس بیماری کے پیدا ہونے کی بڑی وجہ جسم میں آئرن اور وٹامن بی کی کمی ہےجو کے پانی میں آئرن اور وٹامن بی 12 کی بڑی مقدار شامل ہوتی ہے اور یہ جہاں خون کی صفائی کرتا ہے وہاں خون کی پیداوار بڑھانے کا باعث بنتا ہے
جلد کے لیے انتہائی مفید :
جو کے پانی میں شامل زنک ہماری جلد کے زخموں کو جلد بھرنے میں انتہائی کارآمد منرل ہے اور اس میں شامل سلینیم ہماری جلد کی لچک بہتر بناتا ہے اور جلد کو صحت مند اور جوان رکھتا ہے اور چونکہ آب جَو میں اینٹی اینفلامیٹری خوبیاں ہوتی ہیں لہذا اگر اس کے پانی کو چہرے پر لگایا جائے تو یہ جہاں چہرے کے داغ دھبے اور کیل مہاسے ختم کرنے میں مدد کرتا ہے وہاں رنگت کو صاف بناتا ہے اور گورا کرتا ہے
بالوں کو صحت مند اور لمبا کرتا ہے:
جو کے پانی میں شامل آئرن اور کاپر جہاں انیمیا کو ٹھیک کرتے ہیں وہاں یہ خون کے سرخ ذرات میں اضافہ کرتے ہیں جس سے بالوں کا گرنا بند ہو جاتا ہے یہ ہمارے جسم میں ایک کیمیا میلانین پیدا کرتا ہے جو بالوں کی اڑی ہوئی رنگت کو ٹھیک کر کے بالوں کا قدرتی رنگ واپس لیکر آتا ہے

آب جو بنانے کا طریقہ:
ابن القیوم کے مُطابق جو کی مقدار سے پانچ گنا زیادہ مقدار پانی کی لیکر اس پانی میں جو بگھو دیں اور پھر اسے پکائیں حتی کہ پانی کی مقدار تین گنا رہ جائے اور پھر استعمال کریں فردوس الحکمت میں لکھا ہے کہ جو کی مقدار سے 15 گنا زیادہ پانی ڈالیں اور پھر اس کو پکائیں حتی کے پانی کی مقدار 66.7 فیصد رہ جائے پھر استعمال کریں

برصغیر پاک و ہند میں استعمال ہونے والا صدیوں پرانا طریقہ:
جو ¼ کپ لیکر اس میں چار کپ پانی ڈالیں اور اسے جوش آنے تک پکائیں پھر اس میں ایک چٹکی نمک شامل کریں اور دھیمی آنچ پر آدھا گھنٹا پکنے دیں اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد چمچ سے پانی کو ہلائیں اور جو کو دبائیں تاکہ اُس کے تمام اجزا پانی میں شامل ہوجائیں پھر اسے آنچ سے اتار کر چھان کراس میں تھوڑا سا شہد اور لیموں شامل کریں اور ٹھنڈا کر کے پی لیں جو کے پانی میں حسب پسند دارچینی، ادرک، اور زیرہ وغیرہ بھی شامل کرکے اس کی افادیت اور ذائقے میں اضافہ کر سکتے ہیں جو کے پانی کے فائدے حاصل کرنے کے لیے اسے روزانہ استعمال کریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مفید اقتباس۔۔
جو ایک اناج کا اناج ہے جسے لوگ روٹی، مشروبات، سٹو اور دیگر پکوانوں میں استعمال کر سکتے ہیں۔ مکمل اناج کے طور پر، جو فائبر، وٹامنز اور معدنیات فراہم کرتا ہے۔ یہ مختلف صحت کے فوائد پیش کرتے ہیں۔
پورے اناج سے بھرپور غذا کا استعمال موٹاپے، ذیابیطس، دل کی بیماری، کینسر کی بعض اقسام اور دیگر دائمی صحت کے خدشات کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
یہ مضمون جو کے غذائی مواد اور فوائد کو دیکھتا ہے، اور اس میں کچھ وجوہات کی فہرست دی گئی ہے جن کی وجہ سے کچھ لوگوں کو اس کے استعمال سے بچنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ یہ اس کے استعمال اور تیاری کے بارے میں کچھ نکات کے ساتھ ساتھ کچھ ترکیبیں بھی فراہم کرتا ہے۔
غذائیت
جو میں موجود وٹامنز اور معدنیات قلبی افعال کو سہارا دینے میں مدد کر سکتے ہیں۔
اسٹورز عام طور پر جو کی دو شکلوں میں فروخت کرتے ہیں: چھلکے اور موتی والے۔
ہلی ہوئی جَو کو صرف غیر خوردنی بیرونی خول کو ہٹانے کے لیے کم سے کم پروسیسنگ سے گزرنا پڑتا ہے، جس سے چوکر اور جراثیم برقرار رہتے ہیں۔
موتی والے جَو میں نہ تو چھلکا ہوتا ہے نہ چوکر۔
نیچے دی گئی جدول بغیر پکے ہوئے اور موتی جو کے فی 100 گرام (g) غذائی اجزاء کو دکھاتی ہے۔
یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ جب پکایا جائے تو جو عام طور پر اس کے حجم سے ساڑھے تین گنا تک بڑھ جائے گا۔ عام طور پر، ایک شخص تقریباً 78.5 گرام وزنی پکے ہوئے جو کا آدھا کپ کھائے گا۔

امریکیوں کے لیے 2015-2020 کے غذائی رہنما خطوط کے مطابق، جدول 19 سال اور اس سے زیادہ عمر کے بالغوں کے لیے روزانہ تجویز کردہ غذائی اجزاء کو بھی دکھاتا ہے۔ انفرادی سفارشات عمر، جنس، سرگرمی کی سطح، صحت کی مجموعی حیثیت، اور دیگر عوامل کے مطابق مختلف ہوں گی۔
ٹرسٹڈ ماخذ پرل جَو کا ٹرسٹڈ ماخذ بالغوں کی خوراک کی سفارش کی جاتی ہے
توانائی (کیلوریز) 354 352 1,600–3,000
پروٹین (جی) 12.5 9.9 46–56
چربی (g) 2.3 1.2 20–35
کاربوہائیڈریٹ (g) 73.5 77.7 45–65
فائبر (جی) 17.3 15.6 22.4–33.6
کیلشیم (ملی گرام [ملی گرام])

33 29 1,000–1,200
آئرن (ملی گرام) 3.6 2.5 8–18
میگنیشیم (ملی گرام) 133 79 320–420
فاسفورس (ملی گرام) 264 221 700
پوٹاشیم (ملی گرام) 452 280 4,700
سوڈیم (ملی گرام) 12 9 2,300
مینگنیج (ملی گرام) 1.9 1.32 1.8–2.3
سیلینیم (مائکروگرامس [ایم سی جی]) 37.7 37.7 55
فولیٹ (ایم سی جی) 19 23 400
جو بھی وٹامن بی کا ایک بھرپور ذریعہ ہے، بشمول نیاسین، تھامین، اور پائریڈوکسین (وٹامن B-6)۔ اس میں بیٹا گلوکینز بھی شامل ہیں، فائبر کی ایک قسم جسے سائنسدانوں نے صحت کے مختلف فوائد سے جوڑا ہے۔
غذائی ماہرین زیادہ سارا اناج کھانے کا مشورہ کیوں دیتے ہیں؟ یہاں معلوم کریں۔
ذیل کے حصے جو کے مختلف صحت کے فوائد پر مزید تفصیل سے گفتگو کرتے ہیں۔
دل کی صحت اور بلڈ پریشر
جو میں موجود مختلف غذائی اجزاء قلبی نظام کو سہارا دیتے ہیں۔ یہ شامل ہیں:
وٹامنز اور معدنیات
جو میں موجود پوٹاشیم، فولیٹ، آئرن، اور وٹامن B-6 کے ساتھ ساتھ اس میں کولیسٹرول کی کمی تمام قلبی افعال کو سہارا دیتی ہے۔
مثال کے طور پر، تحقیق ٹرسٹڈ سورس نے تجویز کیا ہے کہ وٹامن B-6 اور فولیٹ سے بھرپور غذا کھانے سے ہومو سسٹین نامی مرکب کی سطح کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ہومو سسٹین کی اعلی سطح کا ہونا دل کی بیماری کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔
دیگر مطالعات ٹرسٹڈ ماخذ نے اشارہ کیا ہے کہ ان غذائی اجزاء سے بھرپور غذا کھانے سے دل کی بیماری کے خطرے کے عوامل جیسے ہائی بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
فولیٹ اور آئرن خون کے سرخ خلیات بنانے اور خون کو آکسیجن فراہم کرنے کے لیے خاص طور پر اہم ہیں، جو کہ دل کی مجموعی صحت کے لیے اہم ہے۔
نیاسین، رائبوفلاوین، تھامین، فولیٹ، آئرن، میگنیشیم، اور سیلینیم سبھی خلیوں کی تشکیل کے عمل کو بڑھاتے ہیں، جیسے خون کے ذریعے آکسیجن لے جانا، اور مدافعتی نظام کے کام کو۔ جو ان تمام غذائی اجزاء کا ایک اچھا ذریعہ ہے۔
سوڈیم اور پوٹاشیم
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن ٹرسٹڈ سورس (اے ایچ اے) ان کھانوں سے پرہیز کرنے کی تجویز کرتی ہے جن میں سوڈیم کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جیسے فاسٹ فوڈز۔ اس کے بجائے، سبزیاں، پھل، اناج اور دیگر پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں کھانے سے بلڈ پریشر کو صحت مند رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
فائبر
فائبر بلڈ پریشر کو منظم کرنے اور کولیسٹرول کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد کرکے دل کی صحت کو فروغ دیتا ہے۔
مزید خاص طور پر، جو میں موجود بیٹا گلوکن فائبر کم کثافت والے لیپو پروٹین، یا “خراب” کولیسٹرول کو بائل ایسڈ سے منسلک کرکے اور اخراج کے ذریعے جسم سے نکال کر کم کرتا ہے۔ درحقیقت، 2008 کے ٹرسٹڈ سورس کے ایک مطالعے کے مطابق، جو کی مخصوص مصنوعات سے روزانہ 3 جی بیٹا گلوکینز کا استعمال کل کولیسٹرول کو 5-8 فیصد تک کم کر سکتا ہے۔
2008 میں، محققین نے پایا کہ بہت زیادہ بیٹا گلوکن موتی والے جو کھانے سے جاپانی مردوں میں ہائی سیرم کولیسٹرول کی سطح میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے اور عصبی چربی کم ہوتی ہے۔ یہ دونوں امراض قلب کے خطرے والے عوامل ہیں۔
ہڈیوں کی صحت
جو میں موجود فاسفورس، کیلشیم، تانبا، میگنیشیم اور زنک ہڈیوں کی ساخت اور مضبوطی کو بہتر بنانے میں معاون ہیں۔
مثال کے طور پر، زنک ہڈیوں کی معدنیات اور نشوونما میں ایک قابل اعتماد ذریعہ کا کردار ادا کرتا ہے۔ کیلشیم، کاپر، میگنیشیم، اور فاسفورس، دریں اثنا، ہڈیوں کی صحت میں حصہ ڈالتے ہیں اور مضبوط کنکال کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔
کینسر
جو میں سیلینیم ہوتا ہے۔ 2012 کے ٹرسٹڈ ماخذ کے مطالعے کے مطابق، خوراک سے سیلینیم حاصل کرنے سے سوزش کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.