سیرت سیدنا عثمان و حسین رضوان اللہ عنھما کا ایک متروکہ پہلو

سیرت سیدنا عثمان و حسین رضوان اللہ عنھما کا ایک متروکہ پہلو

سیرت سیدنا عثمان و حسین رضوان اللہ عنھما کا ایک متروکہ پہلو

نوٹ جب تک پوری تھریر نہ پڑھ لیں فتوی بازی کی توپ کا رخ میری طرف نہ کریں۔
تحریر:حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

داماد رسولﷺ ،جن کے نکاح میںیکے بعد دیگرے نبی ﷺکی دو صاحبزادیاںعقد عثمان؄ میں آئیں۔ان کی سخاو ت و شرافت کی گواہی سے کتب احادیث بھری ہوئی ہیں۔جن کی دولت نے اسلام کی کمر کو سہارا دیا۔جن کے تدبر و فراست کو اللہ اور اس کے رسولﷺ نے تسلیم کیا۔جنہیں سفارت نبوی کی سعادت نصیب ہوئی۔جن کے ایک ہاتھ کو نبیﷺ نے اپنا ہاتھ قرار دیکر ید اللہ فوق ایدیھم کہا۔جن کے بدلہ لینے کو اللہ اور اس کے رسول نے لازمی قرار دیا ۔باعتماد عثمان ؄نے اکیلے طواف کعبہ کرنے سے انکار کیا۔ان کی مظلومانہ شہادت نے تاریخ کا رخ پھیر دیا۔ان ساری باتوں میں کسی کوتردد نہیں۔اپنے بیگانے سب متفقہ مانتے ہیں۔
تاریخ اسلام مرتب کرنے والوں نے خاص ذہنت کے ساتھ۔اوراس کو ترتیب دیا۔آنے والی نسلوں کے لئے رونے دھونے اور کا سامان مہیا کردیا۔یہ ظلم صرف شیعہ مصنفین نے نہیں بلکہ اہل سنت والوں نے بھی کیا۔فرق صرف کرداروں اور تاریخ و ایام کا ہے۔

12 سال خلافت فرما کر18 ذوالحجتہ الحرام سن 35 ہجری میں بروزجمعہ روزے کی حالت میں تقریبا 82 سال کی عمرمیں شہید کیے گئے۔ حضرت زبیر بن مطعم ؄ نے آپ؄ کی نماز پڑھائی اور کتاب اللہ کے سب سے بڑے خادم، سنت رسول اللہ ﷺ کے سب سے بڑے عاشق اور محسنِ اسلام کو جنت البقیع کے گوشے میں ہمیشہ کے لیے سلا دیا گیا۔

اسی طرح اہل تشیع کو شہادت امام حسین؄ کی صورت میں ایسا مواد مہیا کیا گیا کہ آج تک اسی پر رونا دھونا لگاہوا ہے۔

ہمیں سیدنا عثمان؄ کی مظلومیت کا انکار ہے نہ سیدنا حسین؄ کی عظیم جدو جہد و شہادت کو بے معنی سمجھتے ہیں۔یہ دونوں عظیم مقاصد و ایثار و قربانی اور جہد بلند کا اعلی اسباق ہیں

18 ذی الحجہ کو تمام اہل سنت مطلومیت عثمان ؄کا پرچار کرتے ہیں۔اور محرم الحرام کے عشرہ اول میں شہادت حسین؄ پر بہت کچھ کرتے ہیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ سیرت عثمان؄ اور سیرت حسین ؄میں صرف رونا دوھونا ہمارے ہاتھ آیاہے؟یا انکی زندگی کا کوئی اور بھی مقصد تھا۔ہمیں ان دونوں فریقوں سے کوئی گلہ نہیں ہے انہیں تو جو مال مسالہ تاریخ کے رطب ویابس اوراق سے مواد ملا اسی کی پیروی کرتے ہیں۔اہل سنت 18 ذی الحجہ کے بعد عثمان غنی؄ کو بھلا دیتے ہیں۔اسی طرھ شیعہ حضرات عشرہ اول محرم الحرام کے بعد شہادت حسین ؄کو فراموش کردیتے ہیں۔
بات تو سخت ہے اس پر لوگ لعن طعن بھی کریں گے۔لیکن میرا تجسس یہ ہے کہ مجھے کوئی صاحب علم اتنا بتادے کہ سیرت عثمان؄، و حسین ؄میں سوائے رونے دھونے کےکوئی اور کوئی راستہ بھی؟ ۔زندگی کے لئے کوئی لائحہ عمل بھی ہے کہ صرف رونا دھونا ہے؟۔۔سنیوں میں کون ایسا مطیع و فرمابردار ہے جو عثمان؄ کی طرح بغیر نبی کی جازت کے عمرہ ادا کرنے سے انکار کرے۔یا عثمان ؄کی طرح غرباء و مفلسین کے لئےخزانے کا منہ کھول دے۔پیاسوں کے پانی کا بندو بست کردے۔باوجود اختیار کے مدینۃ الرسول میں ایک قطرہ خون بہانے سے بہتر اپنی قربانی دینا سمجھے۔

یا حسین؄ کو ماننے والوں میں خون ایسا ہے جو ان کی طرح سخاوت کا نمونہ پیش کرے۔حق کے لئے سر کٹادے۔آخری لمحہ تک قران و سجدہ کو نہ بھولے۔باوجود سرادران جنت کی بشارت کے عام لوگوں کے کام اپنے ہاتھوں سے کرناغنیمت جانے۔ حکومت۔مفادات۔گھر بار۔اہل عیال کو حق کی خاطر راہ خدا میں قربان کردے۔اپنے ماں باپ اور بڑے بھائی کے فیصلوں کے سامنے سر تسلیم خم کردے۔

کیا ان کی دونوں کی سیرت میں سوانح میں رونے دھونے، مظلومیت کا پرچار کرنے،اور انہیں ہر طرح سے مظلوم ثابت کرنے کے سوا ،آنے والی نسلوں کے لئے پیغام نہیں ہے ،جس کی روشنی میں آنے والی نسلیں زندگی کا لائحہ عمل طے کرسکیں۔عثما ن؄ کو ماننے والے سیرت عثمان؄ کو کس قدر اپنائے ہوئے ہیں؟یا سیدنا حسین ؄کے پروانے ان کی سیرت کو کس قدر سینے سے لگائے ہوئے ہیں؟

مجھے یہ لکھنے میں باک نہیں ان لوگوں نے عظیم مقاصد کے لئےاپنی زندگی کو قربان کیا۔جس مقصد و کاز کے لئے انہوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اس پر سنی چلنے کے لئے تیار ہیں نہ شیعہ لوگ اس پر توجہ کرنے پر آمادگی کا اظہار کرتے ہیں۔نام عثمان؄ وحسین؄ کا استعمال کرتے ہیں، مفادات اپنے سمیٹے ہیں۔ کوئی صاحب بتانا گوارا کرے گا کہ سیدنا عثمان؄ جیسے عظیم خلیفہ جس نے اپنے وقت کی طویل ترین اور کرہ ارض کی وسیع ترین سلطنت کو 12 سال احسن انداز میں چلایا۔کیاان کی زندگی سے ہمیں صرف شہادت ہی ملی ہے؟بارہ سالہ نظام مملکت پر کیوں نہیں بولا و لکھا جاتا۔اسی طرح سیدنا حسین ؄کی ساٹھ سالہ زندگی کے صرف وہی دن قابل ذکر سمجھے جاتے ہیں جو محرم الحرام میں انہوں نے کربلا میں گزارے؟۔۔عثمان؄ وحسین؄ کتنے مظلوم ہیں جن کے ماننے والوں ہی ان کی عظیم زندگیوں کو ملیا میٹ کرکے صرف رونا دھونا پسند کیا۔

اہل سنت و اہل تشیع کی کتب بھری پڑی ہیں جن میں عثمان ؄کے گھر بنی کی دو بیٹیوں کا جانا صحیح طریقے سے منقول ہے۔لیکن کسی نے یہ زحمت گوارا کی ہے کہ عثمان؄ کی ان دو لخت جگروں کو عثمان؄ نے کیسے رکھا ان کی معاشرت اور نجی زندگی کیسی تھی؟اس میں امت کی بیٹیوں کے لئے کیا پیغام ہے؟ہمیں بھی عثمان؄ کی معاشرت اپنے گھروں میں قائم کرنے چاہئے۔علی؄ و فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سے شادی کو رواج دینا چاہئے۔
ان کی خلافت کے کونسے اصول و ضوابط تھے جن کی بنیاد پر بارہ سالہ امن کا دور اورفتوحات کا چلن رہا۔

حسین ؄نے خود اپنا بچپن کیسے گزارا؟ جوانی میںکیسے تھے۔مناکحت،تولد و تناسل کی کیا ترتیب تھی؟۔کونسے حالات تھے جو انہوں نے اپنے بڑے بھائی حسن؄ کی پالیسیوں کا تسلسل باقی نہ رکھا۔سیاست میں ان کا کیا نکتہ نظر تھا،ان کے سامنے کونسے مقاصد تھے جو انہوں نے مدینۃ الرسولﷺ کو خیر با د کہہ کرکے دریار بعد کا سفر کرنا مناسب جانا ۔کونسا پیغام تھا جو امت کو دینا چاہتے تھے اس کی قیمت خاندان اور اپنی گردن کٹانے کو مناسب سمجھا۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ مظلومیت کے چکر میں ہم سے عثمان؄ وحسین؄ کی حقیقی زندگیوں پر پردہ ڈال دیا گیا ہو۔؟کیونکہ ان دونوں واقعات سے لوگ سوائے تفرقہ و بغض و عناد کے اور نفرت انگیزی کے اور اپنی دکان داری چمکانے کے کوئی دوسرا مقصد نہ رکھتے ہوں۔اپنی دکانداری کے چکر میں بطور ڈھال عثمان؄ و حسین؄ کو پیش کرنا ہماری مجبوریوں میں سے مجبوری ہو۔ورنہ ان دونوں کی زندگیاں صلح کل روا داری۔بھائی چارگی۔سخاوت۔عدالت و خودداری۔ایما و تقوی کی تمثیل تھیں۔جنہیں مظلومیت کی آر لیکر مفادات سمیٹنے کا حربہ بنا لیا گیا ہے۔

اہل سنت سے گزارش ہے کہ عثمان؄ کے چالیس دن پیاس کے عظیم قربانی کے نکال دو اس کے علاوہ سیرت عثمان؄ میں کوئی ایسی کشش باقی رہ جاتی ہے جو تم لوگوں کے سامنے پیش کرکے عظمت عثمان؄ بیان کرسکتے ہو؟
یا عشرہ محرم نکال کر حسین؄ کی زندگی کے کچھ روشن پہلو ایسے بھی ہیں کہ جنہیں اہل سنت و اہل تشیع فخر سے بیان کرسکیں۔
شہادت کے بعد یہ لوگ کامیاب و کامران ہوکر عند اللہ سرکرو ہوگئے۔یہ دونوں مظلومین جنت کے اندر خاتم النبینﷺ کے دائیں بائیں مسکرارہے ہیں۔لیکن عثمانی زندگی کے 82 سال اورحسین کی زندگی کے ساٹھ سال ہمیں اتنا کچھ بھی نہ دے سکے کہ اپنے بچوں کو بتاسکین کہ عثمان ؄وحسین؄ کا بچپن ایسا اور جوانی ایسی۔گھریلو زندگی کی فلاں خوبیاں تھیں،ان کی زندگی کانصب العین یہ تھا۔انہوں نے جن مقاصد کے لئے اپنی گردن تہہ تیغ کرائے وہ یہ تھے؟

کچھ بھی تو نہیں اس کا مطلب ہے دونوں فریق اپنے مقاصد اور اپنے مسالک کی ترویج چاہتے ہیں اپنے مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں انہیں عثمان؄ و حسین؄ کی زندگیوں کے مقاصد اور اعلی اقدار کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔جب تک یہ روش باقی ہے مسلمانوں کے لئے بیرونی دشمن کی ضرورت باقی نہیں ہے۔مذہب و مسلک کے نام پر جو کچھ ہورہا ہے وہ عثمانی زندگی کا نمونہ ہے نہ حسینی سیرت کا عکاس۔اگر اللہ کوئی ایسا سبب بنا دے کہ یہ دونوں عظیم ہستیاں اس وقت ہمیں دیکھ لیں۔نہ عثمان دست شفت سر پے رکھیں گے نہ حسین اپنی چادر میں پناہ دیں گے۔یہ دونوں حیرانگی کی حالت میںشاید انکار ہی کردیں کہ ہماراان لوگوں سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ جو طرز زندگی یہ اپنائے ہوئے ہیں ہم تو اس سے آشنا نہیں۔ ٹانگ کھنچائی۔مخالفت۔باہمی تکفیر۔ہمارا شیوہ تو یہ نہ تھا۔اس سے زیادہ لکھنا مناسب ہیں کہیں مجھے اپنا ایمان ثابت کرنا مشکل ہی نہ ہوجائے۔اس تھریر کے بعد کچھ لوگ میرے ایمان مین شک کریں گے لیکن گواہ رہنا عثمان و حسین کی جوتیوں کی کاک کا کوئی ذرہ نصیب ہوجائے تو میری نجات کے لئے کافی ہے۔رضی اللہ عنھم و رضوعنہ۔

۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *