سفید مرغ جادو کا توڑ اورطب نبویﷺ – حکیم قاری محمد یونس شاہد

سفید مرغ جادو کا توڑ
اورطب نبویﷺ

White Rooster Magic Break
And the medicine of the Prophet

وايت روستر ماجيك بريك
وطب الرسول

…………………..

سفید مرغ جادو کا توڑ
اورطب نبویﷺ
تحریر
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

رات کے وقت کتا یا گدھا بولے تو پناہ مانگو

حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم رات میں کتوں اور گدھوں کی آواز سنو تواللہ کی پناہ مانگو کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھتے ہیں جو تم نہیں دیکھتے(ابوداؤد کتاب الادب،شرح السنہ للبغوی 11/6موارد الظمان باب ما یفعل فی اللیل41/1)
دوسری حدیث میں اس کی تشریح موجود ہے’’جب تم مرغ کی آواز سنو تو اللہ کا فضل طلب کرو ،مرغ نے فرشتہ دیکھا ہوتاہے ،اور جب تم گدھے کی آواز سنو شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرو ،اس نے شیطان کو دیکھا ہوتا ہے( صحیح مسلم باب استجاب الدعاء85/8 ،السنن الکبری لنسائی باب مایقول اذا سمع نہیق الحمیر233/6۔المسند الجامع45/44سنن ابو داؤد)
تجربات و مشاہدات گواہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں کوئی نہ کوئی صفت ایک مخلوق سے جداگانہ دوسری مخلوق میں پیدا کی گئی ہے،بہت سے انسان میںایک دوسرے سے الگ الگ خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔جنات و شیاطین اگر گدھے کو دکھائی دیتے ہیں یا مرغ فرشتوں کو دیکھتا ہے یہ تعجب نہیں ہے ان کے اندر یہ خصوصیات جبلتی اور پیدائشی ہیں۔
اس حدیث میں دو باتیں معلوم ہوئیں کہ جو مخلوق جنات یا فرشتوں کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے،ان کے اندر یہ خاصیت موجود ہے لیکن حدیث میںایک شرط کا ذکرہےکہ رات کے وقت کتے یا گدھے کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے جنات و شیاطین کے شر سے پناہ مانگو شر والے اپنے ساتھ شر ہی لیکر آئیں گے ۔اسی طرح مرغ کی آواز سن کر اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگو کیونکہ فرشتےجہاں نزول کرتے ہیں وہاں آثار قبول نمایا ںہوتے ہیںوهذا يدلنا على أن صياح الديكة علامة على خير، وأن نهيق الحمار علامة على شر۔شرح سنن أبي داود للعباد (579/ 5،7)شرح النووي على مسلم (17/ 46)

دن اور رات کے اوقات کی تاثیر الگ الگ ہے

دن کے اوقات میں ان آوازوں کی وہ کیفیت برقرار نہیں رہتی جو رات کے وقت ہوتی ہے۔دن کے وقت گدھا ،گدھی کو دیکھ کر چلانے لگتا ہے اور مرغ دوسرے مرغ کو دیکھ کر یا مرغیوں جھرمٹ میں دن کے وقت آواز بلند کرتا رہتا ۔رات کے اوقات میں یہ اسباب عمومی طور پر مفقود رہتے ہیں۔
رات کے وقت خیر و شر کی طاقتیں اپنے امور کی انجام دہی کے لئے پھیل جاتی ہیں،جہاں شیاطین آتے ہیں وہاں پر اپنے اثرات چھوڑجاتے ہیں اورجہاں فرشتے آتے ہیں وہاں پر خیر و برکت کے آثار محسوس کئے جاسکتے ہیں۔مشاہدات میںایک بات آئی ہےکہ گدھے اور کتے عمومی طور پر رات کے پہلے حد دوسرے حصے میں اآوازیں نکالتے ہیں اس دوران مرغ خاموش رہتے ہیں۔جب رات کا پچھلا پہر ہوتاہے تو کتے اور گدھے شاذ و نادر ہی اآوازیں نکالتے ہیں زیادہ اآوازیں مرغوں کی ہی سنائی دیتی ہیں۔

رات کے وقت برتنوں کا کیوں ڈھانپا جاتا ہے؟

رات کے وقت برتنوں کو ڈھانپنے کا حکم موجود ہےأن الرسول قال: (غطوا الإناء وأوكوا السقاء؛ فإن فى السنة ليلة ينزل فيها وباء لا يمر بإناء ليس فيه غطاء إلا نزل فيه من ذلك الوباء) ۔شرح صحيح البخارى لابن بطال (6/ 77)
اس حدیث مبارکہ ہے رات کے آخری پہر اللہ تعالی ٰآسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتے ہیں، اعلان فرماتے ہیں کہ ہےکوئی مانگنےوالا اسے عطا کردیا جائے۔تندست کی روزی فراخ کردی جائے آلآخر۔یہ سلسلہ آذان فجر تک چلتا ہے(ترمذی)ایک آدمی نے مرغ کو برابھلاکہا رسول اللہﷺنے منع فرمایا کہ مرغ کو برامت کہو کیوںکہ یہ نماز کے لئے بیدار کرتا ہے(الدعاء للطبراني (ص: 569)عمدة القاري شرح صحيح البخاري (15/ 192)
سائنس کہتی ہے اور تجربات بھی اس کی گواہی دیتے ہیں کہ رات کے وقت کائیناتی طورپر بہت سے بدلائو آتے ہیں۔قران کریم نے کچھ راتوں کے بارہ میں ارشاد فرمایا ہے کہ اس رات میں ہم اپنے حکموں کو نافذ کرتے ہیں(پ25)آپ نے دیکھا ہوگا کہ رات کے وقت کچھ درختوں سے ننھے منے کیڑے گرتے ہیں سارا دن وہ شاخوں سے چمٹے رہے ہیں ۔لیکن رات وقت گرجاتے ہیں ایسا کیوں ہوتا ہے؟کیونکہ رات کے وقت درخت کاربن ڈائی اکسائیڈ خارج کرتے ہیں اور دن کے وقت آکسیجن خارچ کرتے ہیں۔گویا درخت بھی سانس لیتے ہیں۔سطحی قسم وا لے، اسراری فرمان نبوی ﷺکو کیا سمجھیں؟ کیونکہ جوامع الکلم کو سمجھنے کے لئے تقوی و طہارت اور یقین کامل چاہئے۔

ایک تجربہ۔

عملیاتی زندگی میں اس قسم کے مشاہدات ہوئے کہ جہاں جنات و شیاطین کا ہجوم ہوتا ہےوہاں مرغ کاموجودہونا راحت دلاتا ہے۔اگر حالات سخت ہوں تو مر غ مرجاتا ہے۔اگر جنات کمزور ہوں تو ہوں تو وہاں سے کوچ کرجاتے ہیں۔
حدیث مبارکہ میں اس طرف اشارے پائے جاتے ہیںعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ” إِنَّ الدِّيَكَةَ تُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ، مَنِ اتَّخَذَ دِيكًا أَبْيَضَ حُفِظَ مِنْ ثَلَاثَةٍ: مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْطَانٍ وَسَاحِرٍ وَكَاهِنٍ ۔شعب الإيمان (7/ 158 ) کہ مرغ نماز کی طرف بلانے کا سبب ہے،جس آدمی نے سفید مرغ (گھر میں ) رکھا وہ تین چیزوں سے محفوظ رہے گا۔۔ہر شیاطنی شر سے۔جادو اور کاہن کے شر سے
ملائکہ کو دیکھنے والی مخلوق۔
کتب احادیث یہی عنوان ملتا ہے کہ کچھ مخلوقات فرشتوں کو دیکھنےکی صلاحیت رکھتی ہیں۔ من جملہ ان میں سے ایک مرغ بھی ہے(الجامع الصحيح للسنن والمسانيد (1/ 198) کسی چیز کا محسوس نہ ہونا یا دکھائی نہ دینا اس کے عدم وجود کی دلیل نہیں ہوتا۔ ہزاروں چیزیں ہزاروں انسان نہیںدیکھتے جو دوسروں کو دکھائی دیتی اور محسوس ہوتی ہیں۔جو نہیں دیکھتے وہ بھی ان اشیاء کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں کیونکہ اتنے سارے آنکھوں والے ایک جیسا جھوٹ نہیں بول سکتے۔اسی طرح فرشتوں کا وجودہے،اگر ہمیں یا کسی کو دکھائی نہیں دیتے اس میں فرشتوں کا تو کوئی قصور نہیں،یہ کمزوری تو دیکھنے والوں کی کوتاہ نظری ہے۔
جڑی بوٹیوںسے علاج اورافریقہ کے جادوگروں کے کمالات۔

مرغ کے خون کا استعمال

جنوبی افریقہ میں اب لوگ بھی اپنے عشق و محبت کے مسائل اور دوسری مشکلات کے حل کے لئے صحرائی’’ساحر معالجین‘‘سے مدد لیتے ہیں ان کے منتروں جنتروں میں جن کے ساتھ کھالوں کے ٹکڑے جنگلی جڑی بوٹیاں استعمال کی جاتی ہیں ۔عجیب و غریب خواص سمجھے جاتے ہیں۔بعض بوٹیوں کے شفا بخش اثرات سفید فام ڈاکٹروں کو معلوم ہوئے ہیں۔یہ ساحر لوگ کیپ ٹائون کے مہذہب محلوں میں دیکھے جاتے ہیںجہاںوہ صاحب لوگوں کے بنگلوں میں اپنے کالے جادو کے منتر جنتر اور ہزاروں سال کی پرانی رسمیں نہایت کامیابی کے ساتھ انجام دیتے ہیں مثلاََ معالج صحن کے سنگین فرش پر بے تکلف اکڑوں بیٹھ جاتاہے ایک کالے مرغ کا گلا کاٹ کر اس کا خون ایک جنگلی تیندوے کی کھوپڑی میں جمع کرتا ہے ۔ پھر اپنی انگلی اس تازہ خون میں ڈبوکر زمین پر چند عجیب و غریب آڑے ترچھے نشانات بناتا ہے ساتھ زور و شور سے کچھ منتر بھی پڑھتا رہتاہے جس سے اس کے پاس کھڑے ہوئے لوگ مبہوت ہوجاتے ہیں ۔ساحر معالجین سے چوری کے واقعات کے علاوہ عشق و محبت کے معاملات سمجھانے اور لاعلاج بیماریوں سے نجات پانے کے لئے بھی مدد لی جاتی ہے ۔ چنانچہ ساحر معالجوں کو مقامی معیار کے لحاظ سے دولت مند طبقہ میں سے ہوتے ہیں، ہزاروں یورپین کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے یہ ساحر شوہروں اوربیویوں پر وفاداری کامنتر پھونکنے کا نذرانہ منہ مانگی قیمت میں لیتے ہیںاس کے بعد اگر کوئی دوسرا شخص ایسی منتر والی عورت سے چھیڑ چھاڑ کرے تو وہ بیمار ہوجاتا ہے۔

مرغ (دیسی گھر والا ) کے بارے میں متعدد احادیث آئی ہیں، جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرغ (دیسی، گھر والے) کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔
1: عن ابي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال اذا سمعتم صياح الديكة فاسئلوا الله من فضله فانها رأت مَلَكاََ واذا سمعتم نهيق الحمار فتعوذوا بالله من الشيطان فانه رأی شیطانا (متفق عليه. أخرجه البخاري في کتاب بدء الخلق)
ترجمہ:
”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم مرغ کے (بانگ کی) آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے فضل مانگو، کیونکہ اس مرغ نے فرشتے کو دیکھا ہے اور جب تم گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہو، کیونکہ گدھے نے شیطان کو دیکھا ہے۔ (متفق علیہ)
فائدہ:
قاضی عیاض رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: ” مرغ کی بانگ کے وقت فرشتے ہوتے ہیں جو دعا کرنے والے کی دعا کے ساتھ آمین کہتے ہیں، اس کے لئے استغفار کرتے ہیں، اور اس کے اخلاص اور خشوع کی گواہی دیتے ہیں، اس لئے اس وقت کو دعا کے لئے مستحب کہا گیا ہے۔”
2: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تسبوا الدیک فانه يوقظ للصلاة” ( مسند احمد، ابوداؤد. باب ما جاء في الدیک والبهائم) قال البانی رحمة الله عليه صحيح
ترجمہ:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرغے کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ وہ نماز کے لئےبیدار کرتا ہے۔
3: عن عبيدة اليزني قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يستحب الدیک الابيض ويامر باتخاذه ويقول انه يؤذن للصلاة ويوقظ النائم ، ويطرد الجن بصياحه (اتحاف الخيرة المهرة للبوصيرى المطالب العالية لابن حجر عسقلانی رحمة الله عليه)
ترجمہ:
حضرت عبیده یزنی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفید مرغ کو پسند فرماتے تھے اور نماز کے اوقات اور بیدار ہونے کے لئے اس کو رکھتے تھے اور فرماتے تھے، یہ مرغ نماز کی اذان دیتا ہے، سوتوں کو (نماز کے لئے) جگاتا ہے اور اپنی بانگ سے جنّات کو دور کرتا ہے۔

فائده

جنات سے حفاظت

یہ آخری روایت اگر چہ ضعیف ہے، لیکن اس مفہوم کی روایتیں مختلف طرق سے مختلف الفاظ کے ساتھ آئی ہیں، جن میں یہ ذکر ہے کہ سفید مرغ گھر میں ہو تو اس گھر میں شیطان اور جادو قریب نہیں آتے، بعض محدثین نے ایسی روایات کو ضعیف اور بعض کو موضوع کہا ہے، جبکہ امام شوکانی رحمة الله عليه “الفوائد المجموعة في الأحاديث الموضوعة” میں اسی طرح کی ایک حدیث ” الدیک الأبيض الافرق حبیبی” (سفید مرغ، جس کی کلغی شاخ شاخ ہو، وہ میرا دوست ہے ) کے بارے میں فرماتے ہیں:
قال ابن الحجر لم يتبين لي الحكم بالوضع قلت وقدروى من طرق بالفاظ مختلفة واكثرها لفظ الديك الكبير الابيض فيكون الحديث ضعيفا لا موضوعا ( الفوائد المجموعة في الأحاديث الموضوعة ج: ا ص : ۱۷۲)ترجمہ:
”حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے بارے میں وضع کا حکم مجھ پر واضح نہیں ہے، میں ( امام شوکانی رحمة اللہ علیہ) نے کہا یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ متعدد طرق سے روایت کی گئی ہے، اکثر روایات میں “ بڑے سفید مرغ ” کے الفاظ آئے ہیں، لہذا حدیث ضعیف ہوئی نہ کہ موضوع۔
علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے مرغ کے فضائل کے بارے میں “الودیک فی فضل الدیک‘‘ کے نام سے کتابچہ لکھا ہے، حافظ ابونعیم رحمة اللہ علیہ نے بھی مرغ کے فضائل پر ایک کتابچہ لکھا ہے۔ (بحوالہ کشف الظنون)
نوٹ:
حدیث میں بیان کئے گئے مرغ سے کیا صرف دیسی مرغ مراد ہے یا فارمی بھی اس کا مصداق ہوگا؟ کیونکہ مرغے کو جن خصوصیات کی بناء پر پسند فرمایا گیا ہے وہ صرف دیسی مرغے میں پائی جاتی ہیں، فارمی مرغ نہ تو سحری کے وقت اذان دیتے ہیں، بلکہ دوسروں کو بیدار کرنا تو دور کی بات وہ خود ہر وقت بے ہوشی کے عالم میں ہوتے ہیں، اس فرق کو وہ حضرات اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جو دیسی اور فارمی کے بارے میں اچھی معلومات رکھتے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ ہمیں ایک انتہائی قیمتی چیز (دیسی مرغ) سے ہٹا کر فارمی مرغ پر لگادیا گیا ہے۔ فارمی مرغ کی غذا، کیمیکل بھرے انجیکشن اورمختلف دوائیاں ہیں، قدرتی نظام کے مقابلے، مصنوعی نظام کے ذریعے فارمی مرغ تیار کئے جاتے ہیں، جہاں تک ان دونوں میں لذت اور تاثیر کا تعلق ہے تو یہ فرق بھی بہت واضح ہے۔
گھر میں مرغ ہوگا اور جتنی بار بانگ دےگا، اتنی ہی بار تمام سننے والے اللہ تعالیٰ سے فضل و کرم مانگیں گے، فرشتے کے آنے کا علم ہوگا اور بہت سارے فوائد ہیں جن سے “تہذیبِ جدید” نے مسلمانوں کو محروم کر دیا ہے۔
ہم نے مرغ کی مثال آسانی سے سمجھنے کے لئے دی ہے، ورنہ رحمانی نظام کو تباہ کرنے اور مسلمانوں کا رابطہ فرشتوں سے کاٹنے کے لئے دین کے دشمنوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے ہمارے اوپر یلغار کی ہے، اس دور میں کتنی ہی چیزیں آپ ایسی دیکھیں گے جن میں مسلمانوں کو مبتلاء کر دیا گیا ہے، اگر غور کریں گے تو اس کا کوئی فائدہ ( دنیاوی بھی ) نظر نہیں آئے گا، لیکن لوگ اس کو اختیار کئے ہونگے، نہ وہ اس کی حقیقت کو جانتے ہیں اور نہ انہیں اس بات کا علم ہے کہ اس کام کے کرنے سے وہ اپنا کتنا بڑا نقصان کررہے ہیں، سب سے زیادہ محنت اور خرابی غذائی اشیاء میں کی گئی ہے، چنانچہ کھانے پینے کی چیزوں میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے

Hakeem Qari Younas

Assalam-O-Alaikum, I am Hakeem Qari Muhammad Younas Shahid Meyo I am the founder of the Tibb4all website. I have created a website to promote education in Pakistan. And to help the people in their Life.
View All Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *