سانپ اور اس کا زہر

سانپ اور اس کا زہر

سانپ اور اس کا زہر

سانپ اور اس کا زہر
سانپ اور اس کا زہر

سانپ اور اس کا زہر

حکیم ا لمیوات۔قاری محمد یونس شاہد میو

راقم الحروف کو طب کی قدیم کتب کا والہانہ شوق ہے۔کچھ کتب کو عربی سے اردو مین ترجمہ بھی کیا ہے۔اس لئ علاوہ تجسس پر مبنی مضامین خصوصی دل چسپی کا محور ہیں۔جب میں نے امام رازی کی کتاب الفاخر من الطب لرازی جلد اول کو از سر نو ترتیب دیا،اس کی کمپوزنگ کے دوران حکیم صاحب نے کئی امراض کے لئے سانپ کھانا تجویز کیا،بہت حیرت ہوئی کیونکہ اس وقت رایج دیسی طب میں یہ چیز ناپید ہے،اس کے بعد طب نبوی پر کام کرتے ہوئے کئی تحقیقی مضامین سپرد قلم کئے۔پرانی کتب میں حکیم صابر ملتانیؒ کا مجلہ بھی نظروں سے گزرا اس مین یہ مضمون موجود تھا سوچا پرانی شراب کو نیا لیبل لگاکر پیش کردوں۔اس مضمون میں آج سے پون صدی پہلے کی معلومات ہیں آج سانپوں کے بارہ میں تحقیقات بہت آگے جاچکی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سانپ اور اس کا زہر
ریاست علی چوہدری
۔۔
عہد قدیم کی تاریخ کےاوراق ان شواہد سے بھرے پڑے ہیں کہ لوگ سانپ کو دیوتا سمجھ کر اس کی پرستش کیا کرتے تھے ۔ماہرین آثار قدیمہ کو مصر سے کچھ ایسے اشیاء ملی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ آج سے ہزاروں سال بیشتر فراعنہ مصر کے تیجان(سر کے تاجوں) پر نشان اس کی حیثیت کا حامل تھا ،مصر کی مشہور حسینہ ملکہ قلوپطرہ کا تاج بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے ۔دربار فراعینہ سے جب کسی کو سزائے موت کا حکم سنایا جاتا تو اس کو سانپ نے ڈسا کر موت کی نیند سلا دیا جاتا۔
مصر کی ملکہ قلوپطرہ نے 30 ق م میں خود کو سانپ سے ڈسا کر خودکشی کی تھی ۔روایت ہے کہ وہ سانپ خاص مصری نسل سے تعلق رکھتا تھا۔تاریخ میں ایک ایسا دور بھی آیا جب اس کو علم و دولت کا نشان تصور کیا گیا اور سانپ کی عقلمندی ایک محاورہ بن گئی۔
یونانیوں نے اس کو ادویات کا دیوتا مانا جاتااور اس دیوتا کا نام انہوں نے AWQULEPIUSرکھا۔عہد وسطیٰ میں یہ کالا جادو اور ارواح خبیثہ کا ماخذ سمجھا گیا ،
آج کے ترقی یافتہ زمانے میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہیں جو سانپ کے پراسرار اور دہشت ناک خواص قائل ہیں ،اور اس کے بھیانک فیصلوں سے خوف کھاتے ہیں برصغیر پاک و ہند میں سانپوں کے بارے میں بے شمار کہانیاں مشہور ہیں مثلا ایک روایت ہے کہ ایک خاص قسم کا سانپ دولت پر بیٹھا رہتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے ،اسی روایت کی نسبت سے یہ روایت المثل بن گئی ہے کہ فلاںشخص دولت پر سانپ بن کر بیٹھا ہے۔

سبھی سانپ مہلک نہیں ہوتے۔

سانپ تقریباً دنیا کےہر خطے میں پایا جاتا ہے لیکن یہ بات آپ کے لئے یقینا حیران کن ہوگی کہ نیوزی لینڈ آئرلینڈ اور چند نئے دریافت شدہ جزائرمثلا پولی نیزیا اور ازورس میں سانپ نہیں ہوتے ۔خط سرطان پر واقع ممالک میں سانپ کثرت سے پائے جاتے ہیں
مثلاََ ہندوستان اور پاکستان اور برما میں آج تک سانپوں کی تقریبا ڈھائی ہزار قسمیں دریافت کی جا چکی ہیں، جن میں بہت کم قسم انسانوں کے لیے مہلک ثابت ہوئی ہیں،
سانپوں کی اکثر قسمیں زمین پر رہتی ہیں لیکن کچھ پانی میں اور کچھ درختوں پر بھی رہتے ہیں۔ زمین پر رہنے والے سانپوں میں صرف تین قسم کے سانپ زہریلے ہوتے ہیں وائی پر۔کوبرا۔اور سمندری اور سمندری سانپ سب کے سب بے ضرر ہوتے ہیں۔ ۔اب سانپوں کی چند اور دلچسپ قسموں کے بارے میں سنیئے۔ چوہے کھانے والا سانپ یہ پرانی عمارتوں اور گھروں کی چھتوں و یر ان اور استعمال نہ ہونے والے کمروں میں پرورش پاتا ہے، اس کی خوراک میں چوہے کیڑے مکوڑے اور چھپکلیاں وغیرہ شامل ہیں ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان سانپوں میں زہر نہیں ہوتا۔عموما ان کی لمبائی 7 فٹ سے زیادہ تک چلی جاتی ہے۔ریٹیل سینک امریکا کا نہایت زہریلا سانپ ہے اسے چکی سانپ بھی کہتے ہیں۔اس کی پھنکار دوسرےسانپوں سے مختلف ہوتی ہے۔
پچھلے دنوں آسٹریلیا کے ر ائیل برتھ ہسپتال کے شعبہ حیوانات میں چیتا سانپ کے سنپولئے ساینسی تحقیقات کے لیے نکلوائے گئے یہ سانپ ہندوپاکستان کے ناگ سے دس گناہ اور امریکہ کے رئیل سینک سے چالیس گناہ زیادہ زہریلا ہوتا ہے ،انڈے سے نکلتے ہی اس کی تھیلیاں مہلک زہر سے بھری ہوتی ہیں، مگر پیدائش کے بعد ڈیڑھ ماہ تک اس کے دانت اتنے کمزور ہوتے ہیں کہ کسی شخص کو کاٹ نہیں سکتا ڈیڑھ ماہ بعد یہ نہایت ہی خطرناک بے خوف اور تندخو سانپ بن جاتا ہے بجلی کی طرح لپک کر حملہ کرتا ہے اور آن واحد میں آدمی لقمہ اجل بن جاتا ہے یاد رہے کہ اس کا زہر شیش ناک سے دس گناہ زیادہ ہوتا ہے ۔

اژدہا، جو گھوڑے کو نگل جاتا ہے

اژدہا قدیم ممالک ایشیا افریقہ آسٹریلیا میں پایا جاتا ہے خصوصا سندربن کے گھنے جنگلوں میں ۔دوسری قسم کی نسبت اژدہا کے دانت مضبوط اور بڑے ہوتے ہیں ۔
مغربی افریقہ کا اژدھے کا سر بہت بڑا ہوتا ہے اپنے مضبوط دانتوں سے اپنے شکار کو اچھی طرح پکڑتا ہے، یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس کے سر میں زہد کی تھیلیاں نہیں ہوتیں، اس کی لمبائی 32فٹ تک دیکھی گئی ہے ،یہ شکار کو اپنے جسم میں لپیٹ لیتا ہے، اس کی گرفت اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ شکار دم گھٹ کر مر جاتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ اژدھا بیل اور گھوڑے جیسے جسیم جانور کو ثابت نگل جاتا ہے انسانوں پر شاذہی حملہ کرتا ہے اس کا مسکن عموما خشکی ہے ۔لیکن پانی کے قریب گیلی مٹی میں رہنا اس کو زیادہ پسند ہے۔اژدھے کے انڈے بیضوی اور چمڑے کی مانند سخت ہوتے ہیں اس کی مادہ ایک وقت میں ایک سو اور بعض اوقات اس سے بھی زیادہ انڈے دیتی ہے، اس کی کھال سے جوتے اور زیبائش کی متعدد اشیاء تیار کی جاتی ہیں۔

سانپ کے کان نہیں ہوتے

سانپ کی قوت بصارت تو بہت تیز ہوتی ہے لیکن اس کی قوت سامعہ دوسرے جانوروں سے مختلف ہوتی ہے، اس لئے اس کے کان نہیں ہوتے، جب کسی آواز کی لہریں زمین سے ٹکراتی ہیں طبیعت حساس کے ذریعے جھرجھراہٹ محسوس کرتا ہے، جسم کے دیگر اعضاء کی نسبت زبان سے زیادہ حساس رکھتا ہے، آنکھوں کے پپوٹے نہیں ہوتے یہی وجہ ہے کہ ساری زندگی پلک نہیں جھپکتا ،ہر سال اپنی پرانی کھال اتار دیتا ہے، پھرنئی چمکیلی جلد میں نمودار ہوتا ہے ۔شاید اسی لیے پرانے وقتوں کے لوگوں کا خیال تھا کہ سانپ کو کبھی موت نہیں آتی ،اگر اس کو دو ٹکڑوں میں کاٹ دیا جائے تو بھی ایک دن مل کر دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے جس طرح بلیوں کے بارے میں مشہور ہے کہ بلیوں کی 9 عمریں ہوتی ہیں۔اسی طرح سانپ کے متعلق مشہور تھا کہ ان کے دانت صاف سوئی کی مانند تیز جیسے ٹیک لگانے والی سوئ کی طرح دانتوں میں بھی ایک بار یک سوئی ہوتی ہے، جو سر کے دونوں طرف زہر کی تھیلیوں سے منسلک ہوتی ہے ،جوں ہی یہ کسی کو کاٹتا ہے اس کے دانت گوشت میں پیوست ہو جاتے ہیں اور زہر دانتوں کی نالیوں سے جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔

سانپ کے زہر کا تریاق

سانپ کا خوف انسانوں پر اس قدر چھایا رہا ہے کہ مدتوں اس پر ریسرچ کرنے کی جسارت کسی نے بھی نہیں ہوئی۔
متحدہ عرب جمہوریہ کے ڈاکٹر احمد کامل اور ڈاکٹر عمر زکی نے سانپوں کے کاٹنے کا بہترین تریاق دریافت کر کے عرب سائنسدانوں کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے اور اب انواع و اقسام کے زہریلے سانپوں اور اژدھوں پر نئے تجربات کر رہے ہیں اس کے لیے مشرق وسطیٰ میں پہلا ایئرکنڈیشن سانپ گھر تیار کیا گیا ہے ،جس پر سالانہ 30 ہزار مصری پاؤنڈ خرچ ہوتے ہیں، متحدہ عرب جمہوریہ کے قابل فخر مسلمان سائنسدان سانپ کا تریاق حاصل کرنے کے لیے گھوڑے کے جسم میں سانپ کا زہر مخصوص مقدار میں ٹیکوں کے ذریعے داخل کر کے چھ ماہ تک چھوڑ دیتے ہیں، اس کے بعد گھوڑے کے جسم سے زہر کش مادہ نکال کر محفوظ بوتلوں میں محفوظ کر لیتے ہیں ایک گھوڑے سے تریاق تقریبا 500 ایم ایل حاصل ہوتا ہے
انیس سو چھتیس(1936ء) میں نیویارک کے ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے کوبرا سانپ کے زہر سے ایک سپرم تیار کیا جو، ناسور کا درد کم کرنے اور زخم سے خون کو بہنے کو بند کرنے کے کام آتا ہے، ایک سانپ کا زہر ڈاکٹر موصوف کی رائے میں پندرہ سو مریضوں کے لئے کافی ہے ۔
برما میں بھی ایک دوا ساز کمپنی سانپ کے کاٹے کی دوا تیار کرتی ہے اس دوا میں سانپ کا سہرا ایک اہم جز ہے آپ کو معلوم ہوگا کہ برما میں سانپ کے کاٹنے سے سالانہ ہزاروں افراد مر جاتے ہیں، یہ کمپنی تریاق ہے بنانے کے لئے لوگوں سے سانپ خریدتی ہے ۔اوسط ایک سانپ تین روپے میں اور سانپ کا بچہ ڈیڑھ دو روپے میں فروخت ہوتا ہے ،سانپ پکڑنے والے گروہ ان کو پکڑنے کے طریقے کو عام نہیں کرتے بلکہ انہیں تجارتی راز بنائے ہوئے ہیں ۔

سانپ کا زہر ۔
یہ صحیح طور پر نہیں کہا جا سکتا ہے ہر سال سانپوں کے کاٹنے سے کتنے لوگ مرتے ہیں لیکن ایک جائزے کے مطابق ہر سال چالیس ہزار جانیں سانپ کے ڈسنے سے ضائع ہو جاتی ہیں۔ یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ آپ جہاں ہنستے کھیلتے خاندانوں کا چراغ گل کر دیتا ہے ،وہاں بنی نو انسان کے لئے اس کا مہلک زہرآب حیات کی تاثیر بھی رکھتا ہے ،جیسا کہ اوپر بیان کر آیا ہوں دور جدید کے ذی فہم لوگ آئے دن نئے علوم کے سربستہ راز منصہ شہود پر لا رہے ہیں، اب یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ سانپ کا زہر اکثر بیماریوں کے علاج کے طور پر استعمال ہونے لگے گا ۔۔
کنٹرا ٹاکسین بھی سانپ کے زہر سے تیار کی جاتی ہے سل کے مریضوں پر اس کے کامیاب تجربات ہوئے ہیں ۔
حال ہی میں جنوبی افریقہ کے مشہور شہر پورٹ الزبتھ میں سانپوں کو پرورش کرنے کی غرض سے ایک پارک بنایا گیا ہے اس پارک کے ڈائریکٹر نے مختلف اقسام کے سانپوں کو ملا کر ایک مرکب تیار کیا ہے چنانچہ یہ مرکب جنوبی افریقہ میں مرگی کے علاج میں استعمال کیا جا رہا ہے اس کا نام۔وینینی۔ہے
حوصلہ رکھے اور زندگی سے مایوس نہ ہوں یہ کیونکہ لوگوں کی اکثریت سانپ کے زہر سے ہی نہیں بلکہ دہشت سے مر جاتی ہے ۔سانپ کے کاٹے کے زخم سے دل کی جانب مضبوطی سے رسی یا کوئی کپڑا باندھ دیجئے تاکہ زہر آلود خون دل کی جانب جانا رک جائے ایک تیز دھار چاقو سے آدھا انچ سے گہرا اور آدھا انچ لمبا زخم کو کاٹ دیجئے منہ سے زخم کو بیس تیس منٹ تک سوتے رہیے اس بات کا خیال رہے زہر چوستے وقت اندر نہ نکل جائے بعض ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ زخم کو کاٹنے کے بعد لال دوائی پنکی بھردینے سے زہر کی ہلاکت خیزی خون سے ختم ہوجاتی ہے (رجسٹریشن فرنٹ،فروری 1967)

Leave a Reply

Your email address will not be published.