سادہ غذا
حضرت سہل بن سعد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے بعثت سے لے کر وفات تک چھنے ہوئے آٹے کی سفید روٹی نہیں دیکھی۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے چھلنی بھی نہیں دیکھی۔ حضرت سلمہ نے دریافت کیا کہ کیا آپ لوگ آٹا چھانے بغیر استعمال کرتے تھے؟ حضرت سہل نے فرمایا کہ گیہوں پیسنے کے بعد اس میں پھونک مار کر بھوسی اڑا دیتے۔ اس سے جتنی بھوسی نکلنی ہوتی، نکل جاتی ؛جو بچ جاتا، اسے پانی میں بھگودیتے۔(بخاری )عرب میں چھلنی کا رواج نہیں تھا، لیکن قریب کے علاقوں شام وغیرہ میں رواج تھا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم چاہتے تو اس کا استعمال ہوسکتا تھا، لیکن آپ صلی الله علیہ وسلم نے استعمال نہیں فرمایا۔ اس سے آپ صلی الله علیہ وسلم کی سادگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ طبی نقطہٴ نظر سے بھی مفید ہے۔ چھلنی کے ذریعہ بھوسی الگ ہوجاتی ہے اور نرم و ملائم آٹا باقی رہ جاتا ہے اور اس کی روٹی کھانے میں لذیذ تو ہوتی ہے، لیکن معدہ کے لیے نقصان دہ ہے۔ بھوسی کے شامل ہونے کے بعد تجزیہ بتاتا ہے اور طب اس کی تائید کرتی ہے کہ روٹی معدہ پر گراں نہیں ہوتی، اس سے ہضم میں مدد ملتی ہے اور قبض رفع ہوتا ہے۔ بھوسی کا استعمال بعض امراض میں بھی مفید ہے۔ اس میں بعض ایسے قیمتی وٹامن پائے جاتے ہیں جو صحت کے لیے بہت ضروری ہیں۔ آج کے ترقی یافتہ ممالک میں بھوسی کی اہمیت اور افادیت کے پیش نظر آٹے میں متعین مقدار میں اسے ملانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ بے چھنے آٹے یا بھوسی کی افادیت اپنی جگہ مسلم، لیکن چھلنی کا استعمال ناجائز بھی نہیں ہے۔ امام غزالی  فرماتے ہیں: چھلنی کا مقصد غذا کو صاف کرنا ہے۔ یہ چیز جب تک تعیش اور تنعم کی حد کو نہ پہنچ جائے، مباح ہے۔ (احیاء العلوم ج2‘ص3)حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت انس کی خدمت میں موجود تھے۔ ان کا نان بائی ان کے پاس تھا۔ انہوں نے ہم سے فرمایا: ”ما أکل النبي صلى الله عليه وسلم خبزا مرققا ، ولا شاة مسموطة حتی لقي اللّٰہ“․ (بخاری )نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے بڑی بڑی پتلی روٹی کھائی اور نہ بھنی ہوئی بکری، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ گئے۔رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا معیارِ زندگی غریبوں سے قریب تر تھا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے اسی طرح بھنا ہوا گوشت استعمال نہیں فرمایا۔ اس سے ہٹ کر گوشت اہل عرب کی غذا کا ضروری جز تھا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کی غذا میں بھی شامل تھا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے گوشت کے مختلف اجزا کھائے ہیں۔ اچھا اور ملائم گوشت پسند فرمایا ہے اور بھنا ہوا گوشت بھی کھایا ہے۔ شانہ اور دست کا گوشت عمدہ اور نفیس ہوتا ہے۔ جلد تیار ہوتا اور جلد ہضم ہوتا ہے۔ حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے سامنے بھنا ہوا بازو پیش کیا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے تناول فرمایا۔ اس کے بعد نماز پڑھی، وضو نہیں فرمایا(کیوں کہ پہلے سے وضو تھا)- (ترمذی ‘نسائی )حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے ،فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا اور دست پیش کیا گیا۔ آپ صلی الله علیہ وسلمکو دست پسند تھا۔ دندان مبارک سے نوچ کر اسے کھایا۔ (ترمذی )ہڈی کا گوشت بہت عمدہ ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود  فرماتے ہیں گوشت لگی ہوئی ہڈیوں میں بکری کی ہڈی، جس پر گوشت ہو، آپ صلی الله علیہ وسلم کو بہت پسند تھی۔ (ابوداؤد)حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء الزبیدی فرماتے ہیں کہ ہم نے مسجد میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ بھنا ہوا گوشت کھایا۔ اتنے میں اقامت کہی گئی۔ ہم نے ہاتھ کنکریوں (ریت) پر رگڑ کر صاف کیے اور نماز پڑھی، وضو نہیں کیا۔ (مسند احمد )ان واقعات سے جومختلف سیاق و سباق میں آئے ہیں، ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو گوشت مرغوب تھا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے گوشت، روٹی کے ساتھ بھی کھایا اور کبھی کسی چیز کے بغیر صرف گوشت بھی تناول فرمایا ہے۔سادہ غذا صحت کے لیے ضروری ہے ‘ ماں اوربچے کی صحت کا راز سادہ اور عمدہ غذا ہے۔ تاکہ وہ مختلف بیماریوں سے بچ جائیں اور ساتھ صحت سے متعلق ممکن تدابیر اختیار کرنی چاہئیں اور ماں اور بچے کو مختلف اوقات میں حفاظتی ٹیکے لگوانا ان کے لیے بہترین صحت کی ضمانت ہے ۔اگر آج بھی متوازن اور سادہ غذا کا استعمال اپنی روزمرہ کی زندگی میں کیا جائے ،مغربی امپورٹڈ غذاؤں اور فاسٹ فوڈز سمیت کیمیکل سے بننے والی اشیا سے گریز کیا جائے تو بہت سے امراض پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح بروقت علاج ومعالجے سے بھی بڑے امراض سے خلاصی ممکن ہے۔ لیکن اسلامی تعلیمات کا بغور جائزہ لیا جائے تو پبلک ہیلتھ کی پالیسی انتہائی موثر ہے۔ یعنی مرض شروع ہونے سے پہلے ایسی احتیاطی تدابیر متوازن غذا ،صفائی ستھرائی وغیرہ کا لحاظ رکھنا جس کی وجہ سے وبا پھوٹنے یا مرض عام ہونے کا اندیشہ ہی پیدا نہ ہو ،اسی طرح ویکسین کا استعمال بھی پولیو سمیت دیگر امراض کا اثر مرض شروع ہونے سے پہلے کیا جاتا ہے۔کیوں کہ یہ دفاعی طورپر بدن میں کام کرتا ہے۔ متوازن غذا صفائی وغیرہ یہ سب وہ عناصر ہیں جس کی وجہ سے ہم سینکڑوں امراض کا خاتمہ اس کے اثر شروع کرنے سے پہلے کرسکتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق پاکستان میں ہرسال تقریباً سات لاکھ بچے نمونیہ کا شکار ہوجاتے ہیں‘ جن میں سے 27ہزار بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔5سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات میں 5.7 فیصد کی وجہ نمونیہ ہے۔بچوں کو 9خطرناک بیماریوں (بچوں کی ٹی بی‘ پولیو‘ خناق‘ کالی کھانسی‘ تشنج‘ ہیپاٹائٹس بی ‘ گردن توڑ بخار‘ نمونیہ اور خسرہ) سے بچانے کے 

لیے حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل کروانا نہایت ضروری ہے

 ماہنامہ الفاروق ربیع الثانی 1436ھ صفحہ نمبر: 14

Leave a Reply

Your email address will not be published.