زہریلی ادویات /کیمیاوی تجربات اور ان کے اثرات

زہریلی ادویات /کیمیاوی تجربات اور ان کے اثرات

"<yoastmark

تحریر
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

 

یورینیم کے تجربات

یہ کہانی ماضی سے جڑی ہوئی ہے جنگ عظیم دوم کے آپس پاس کچھ خاص قسم کے تجربات کئے گئے ممالک کو خوف فروخت کرنا تھا کچھ ممالک کو اس کی ضرورت تھی اور کچھ لوگ اس کے گاہگ تھے۔اسی زمانے میں یورینیم ایٹمی تابکاری دنیا میں مخصوص انداز میں متعارف کرائی گئی جس سے ماحول کا درجہ حرارت بڑھ گیا اور دنیا میں اس گرمی کی وجہ سے گلینڈ سسٹم میں سوزش ہونے لگی۔

سوزشی ورم ۔پھوڑے صفرراوی امراض صفراوی کینسر(کارسی نوما کینسر)کے ٹیومر زہریلی گلٹیاں انسانی جسم کا خون چوسنے لگیں اور اپنا زہریلا مواد خون میں چھوڑنے لگیں۔انسانی خون یں جب یہ زہریلے اجزاء شامل ہوکر ضعف قلب یعنی ہارٹ اٹیک۔دائیں طرف کے فالج۔ ضعف باہ ۔کمزوری/ورم جگر گردوں کی سوزش جیسے امراض و علامات ہر طرف سے انسانی دنیا کو خوف ذدہ کرنے لگے۔
کتاب الفتن/اشراط الساعہ کے عنوان سے محدثین کرام نے احادیث کو الگ سے جمع کیا ہے،ان کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرب قیامت اس قسم کے واقعات اس قدر زیادہ ہونگے کہ ان کی اہمیت ختم ہوکر رہ جائے گی۔مثلاََ ان میں ایک نشانی یہ بھی بتائی گئی کہ فالج کی کثرت ہوجائے گی۔

فالج کی کثرت قیامت کی نشانیوں میں سے ہے

رسول اللہ ﷺنےارشاد فرمایا قرب قیامت فالج کثرت سے ہونے لگے گا حادثاتی موتیں واقع ہونگی۔حضرت انس بن املک سے مروی ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا فالج طاعون کی طرح پھیلے گا لوگ اسے طاعون کی وباہی خیال کریں گے۔مصنف عبد الرزاق (3/ 597)
ہپاٹائٹس ایک عالمی مرض کے طورپر متعارف کرایا گیا۔جگر کا پھوڑا اتنا خوف ناک ثابت ہوا کہ اس کے لئے نئی انڈسٹری نے جنم لیا۔یورینیم کی تابکاری سے ہاتھ پائوں کے تلوے جلنا،خون کی کمی،جلق۔بلڈ کینسر۔قوت ارادی کا فقدان۔پاگلوں جیسی حرکات۔حافظہ کا کمزور ہونا۔فوری الفاظ زبان پر نہ آنے کی شکایات کا پیدا ہونا۔بلڈ پلازمہ یعنی خون کے سیرم کا زہریلا ہونا اور جگر کی تحریکوں کا وبائی صورت اختیار کرنا وغیرہ وغیرہ۔
(2)پلاٹینیم۔کو ریایکٹر میں کشتہ کیا جانا یعنی پلاٹینیم کے ایٹم پھاڑے جائیں توایک خاص قسم کی تابکاری جنم لیتی ہے اس سے کائنات میں مہلک اثرات جنم لیں گے ۔ انسانی جسم کے مسکولر ٹشوز متاثر ہوتے ہیں خشکی اور سوراکی اثرات کی بھرمار ہوجاتی ہے ۔ریڈ سیلز اور مسکولر ٹشوز خراب ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔بواسیر، دق جیسے عوارضات انسانی زندگیوں کو اجیرن بنا دیتے ہیں۔لواطت اغلام بازی۔

احتلام،دل کی دھڑکنوں کی تیزی کی شکایات عام ہوجاتی ہیں۔انسانی اعصابی عوارت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔جسم پرچنبل۔دھدر رنگ ورم۔ہاتھوں اور پائوں پر فالج جیسے امراض کی بارش ہونے لگتی ہے۔یہ خشکی کی زیادتی اور خلط صفرا کی کمی کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔یہ سب باتیں عضلاتی تحریک کا مظہر ہوتی ہیں۔

(3)ہائیڈروجن۔

اگر ایٹمی ریایکٹر میں ہائیڈروجن کے ایٹم پھارے جائیں۔تو اس سے اعصابی امراج و علامات کے حملے ہوتے ہیں اعصابی وبائیں جنم لیتی ہیں۔جیسے قے دست دمہ کالی کھانسی وغیرہ انسانی خون میں آتشکی زہر ۔جزامی زہر یعنی سفلس پوائزن پیدا ہونے کا سبب بنتے ہیں ۔عمومی طورپر بائیں ہاتھ پر فالج،مردوں میں جریان۔عورتوں میں لیکوریا۔دائمی نزلہ ۔ اسہال نامردی جیسی علامات دیکھنے کو ملتی ہیں۔

دکھی انسانیت کی خدمت کا سوانگ۔

یہ بات راز نہیں کہ تجارتی ذہن پہلے مشکلات پیدا کرتا ہے اس پر کثیر سرمایہ کاری کرتا ہے۔جب وہ مشکل و پریشانی لوگوں کو گھیر لیتی ہے تو ہمدرد و مسیحا بن کرمیدان میں اترتا ہے میرے پاس مشکل کا حل اور اس بیماری کی دوا موجود ہے۔پھر یکے بعد دیگرے مارکیٹ ایسی دوائوں سے بھر جاتی ہے جو تجرباتی مراحل سے گزر رہی ہوتی ہیں،اس کے بعد دیکھا جا تا ہے کہ پیش کی گئی دوا کتنی فائدہ مند تھی اور اس کے مضر اثرات کتنے فیصد تھے،جب دیکھتے ہیں کہ ایک دوا غیر موثر ہوگئی یا اس کے مضرات کی ریشو زیادہ ہے تو اسے بند کردیا جاتا ہے،

اس کی جگہ نئی دوا لے لیتی ہے۔کیا دیکھتے نہیں کہ ہر طلوع ہونے والا دن اپنے ساتھ نت نئی ادویات کی بڑے کھیپ لیکر آتا ہے۔اتنی ہی مقدار میں پہلے سے موجود ادویات مارکیٹ سے اٹھالی جاتی ہیں۔جب پہلی والی دوائیں طلب کی جاتی ہیں تو معلوم ہوتا ہے وہ دوا کمپنی نے بنا نی بند کردی اس کی جگہ اس سے بہتر نئی دوا مارکیٹ میں آئی ہے ،یہ دوا لے لو۔
مذکورہ بالا تجربات کی بنیاد پر پیدا ہونے والی علامات کا علاج کم ہوتا ہے اورنشہ زیادہ ہوتا ہے،ایک قبض ہی لےلیں اس کے علاج کے بہت سے مارکیٹ میں موجود ہیں،لیکن مریض پھر تکلیف سے بے چین ہیں۔

طریقہ واردات۔

سانس کی نالیوں میں سوزش،دمہ کا بہت بڑا سبب ہے،اگر دمہ نہ بھی ہوتو سانس کی نالیوں کی سوزش نمونیہ کہلاتی ہے،اگر اس میں شدت ہوتو ڈبل نمونیہ بتادیا جاتاہے،سانس یا کھانسی کا مریض نیم بسمل حالت میں جب معالج کے پاس پہنچتاہے تو مریض کی سانس بھال کرنے اور رکی ہوئی بلغم نکالنے کے لئے مکسچر اور شدت کو کم کرنے کے لئے برانڈی دی جاتی تھی،

چھاتی کے درد کے لئے ایک بدبودار تیل ملایا جاتا تھا،یا پھر گرم کپڑے پر مرھم لگاکر گرم گرم لپیٹ دیا جاتا تھا۔چھاتی کی جلد سے لیکر پھیپھڑوں کی نالیوں تک کی بافتوں کی کم از کم بارہ تہیں اور درمیان میں جوف سینہ کا خلا ہے،مالش کا اور مرہم ان بارہ تیہوں اور خلاء سے گزرکر نالیوں تک پہنچ جاتے تھے

موت کے وقت وہسکی سے علاج۔

برانڈی یا وہسکی سانس کی تکلیف کو کو وقتی طورپر آرام دیتے ہیں لیکن جسم کے دفاعی نظام کو کو مفلوج کرکے بیماری کو جسم پر غلبہ پانے کا موقع فراہم کرتے ہیں،بالفاظ دیگر مریض کی ہلاکت کا سبب بنتے ہیں،گزشتہ ادوار مین لوگ اس بارہ میں اچھی طرح نہ جانتے تھے کچھ عذر موجود تھا،لیکن آج کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہر دوا کی پیکنگ پر اجزاء پرنٹ ہوتے ہیں،فارمولا لکھا ہوتا ہے۔
ان سے گلہ کرنا کیسا لیکن مسلمان اطباء اس واردات پر کیوں خاموش رہے؟اس مجرمانہ غلفت پر ان سے ضرور سوال کیا جانا چاہئے،کیونکہ لاکھوں بچے نمونیہ میں برانڈی پی کر مر تے رہے اور ہم اپنی ذمہ داریوں سے غافل رہے۔ایک چیز کو اللہ اور اس کا رسول بیماری اور وجہ مرض قرار دے رہے ہیں دوسری طرف ان سے شفاء کی امید لگائے ہوئے ہیں۔

دوسری طرف قران کریم نے شہد کو شفا قرار دیا ہے،نمونیہ میں شہد اعلی ترین علاج ہے،بیماری بھی دور ہوتی ہے اور مضرات سے بھی پاک ہے،جن لوگوں کا علاج شہد سے کیا گیا وہ نونیہ سے بھی شفاء یاب ہوئے اور دل بھی منفی اثرات سے محفوظ رہا۔

حرام اشیاء سے بنی ادویات

:
ادویات کی تیاری میں شراب(الکحل)کا استعمال نہیں ہونا چاہئے،بہت سے متبادل طریقےموجود ہیں جن پر عمل پیرا ہوکر ان سے کہیں بہتر اور موثر ادویات تیار کرسکتے ہیں،یہ طریقہ مذہب کے قریب تر ہوگا اس طریقے سے ان ادویات کا غلط استعمال بھی رک جائے گا مثلاََ ٹنکچروں کی ساخت میں شراب کا استعمال عام ہے اور یہ باآسانی دستیاب ہیں،اس موقع سے فائدہ اٹھا کر تخریبی سوچ کے حامل افراد اپنی شراب کی علت پوری کرنے کے لئے نقصان کی حد تک زیادہ مقدار پی جاتے ہیں،بسا اوقات یہ عمل جان لیوا بھی چابت ہوتا ہے۔ہاضمے کی بہت سی ادویات ہیں جن میں اس قسم کی بے اعتدالیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔(ارشادات نبوی اور جدید سائنس)

Hakeem Qari Younas

Assalam-O-Alaikum, I am Hakeem Qari Muhammad Younas Shahid Meyo I am the founder of the Tibb4all website. I have created a website to promote education in Pakistan. And to help the people in their Life.
View All Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *