ریٹھہ

ریٹھا

ریٹھ

ریٹھہ
ریٹھہ

ریٹھا ’’بندق‘‘

تحریر:
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

(Soap Nutt)
لاطینی میں ۔
Sapindus Trifoloiatus
خاندان
مختلف نام:
مشہور نام ریٹھا۔ عربی بندق۔ ہندی ریٹھا، ریٹھرا ۔ سنسکرت ارشک یگلہ ، رکت بیج ، پین بھین۔ بنگالی رٹے گاچھ۔ مراٹھی ریٹھا۔ گجراتی ریٹھا اور لاطینی میں سینڈس ، ٹر نو لیٹس اور انگیریزی میں (soapnut) کہتے ہیں
شناخت:
امریکہ ، ہندوستان و پاکستان میں بکثرت پیدا ہوتا ہے۔ اسوج اور مگھر میں پھول آ کر ماگھ سے چیت تک پھل پختہ ہوتا ہے۔ ہندوستان میں بنگال ، آسام اور دکن میں کاشت کیا جاتا ہے۔ اس کا پھل جب پختہ ہو جاتا ہے تو بیج کالے اور سخت ہو جاتے ہیں جن کے اندر سے سفید مغز نکلتا ہے۔ چھلکے کا ذائقہ بد مزہ اور تلخ ہوتا ہے۔
فوائد: (soapnut benefits)
یہ سخت قے لاتا ہے اس لئے اسے 3 گرام سے زیادہ استعمال نہیں کرنا چا ہئے ۔ انڈین میٹر یکا میڈ یکا میں اسے مولد بلغم ، قے آور ، کرم کش ، دمہ و امراض شکم میں مفید بتایا گیا ہے۔ نگھنٹو میں اسے حمل گرانے والا (گربھ پاتک)اور کمزور کر دینے والا بتایا ہے۔
ریٹھا کے مجربات درج ذیل ہیں:
خناق:
دس گرام ریٹھا کو کو ٹ کر جوش دے کر غر غرہ کرانا خندق کے لئے مفید (soapnut benefits) ہے۔
درد شقیقہ:
چھلکا ریٹھا، مرچ سیاہ ہم وزن نسوار بنائیں، اس کی نسوار سے لقوہ ، فالج، مرگی اور درد شقیقہ کو فائدہ ہوتا ہے۔
برص سفید داغ:
چھلکا (soapnut) ریٹھا پیس کر ہمراہ پانی سفید داغوں پر لیپ کریں اور آ دھا گھنٹہ دھوپ میں بیٹھ کر غسل کریں۔ تین چار دن میں فائدہ ہو گا۔
زہریلے زخم:
چھلکا ریٹھا دھوپ میں خشک کر کے چھان کر پانی کے ہمراہ دانہ مسور کے برابر گولیاں بنائیں ۔ ہر صبح ایک گولی 250 گرام دہی کے ہمراہ نگلنا پندرہ روز میں زہریلے زخموں (soapnut benefits) کو دور کرتا ہے۔
بھڑ، بچھو ، مکھی کا کاٹنا:
چھلکا (soapnut) ریٹھا کو سرکہ میں خوب باریک پیس کر مقام ڈنک پر لیپ کریں۔ خشک ہونے پر دوبارہ، سہ بارہ لگائیں۔ زہر اتر جائے گا۔
زہر مویشی:
10 گرام سفوف ریٹھا کو پانی میں گھول لیں اور نال کے ذریعے مویشی کو پلائیں ۔ دو تین خوراک سے زہر اتر جائے گا۔ اگر مویشی کو سانپ کاٹے تو یہ علاج اس کے لئے مفید (soapnut benefits) اور آزمودہ ہے۔
ریٹھا سے سانپ کاٹے کا 98 فیصد ی مجرب علاج:
مار گزیدہ کے تالو اور پیشانی کے درمیان سر کے اوپر لگا کر دیکھیں ۔ اگر خون نہ نکلے تو جان لیں کہ مر چکا ہے ۔ بعض آدمیوں کو ششما ہی یا سالانہ ایک خاص موسم میں سانپن ضرور کاٹتی ہے۔ اس کو قبل آغاز موسم میں دو ہفتہ پہلے ایک ایک ماشہ سفوف ریٹھا استعمال کرائیں جس سے وہ بوئے مست زائل ہو جائے گی جس کے سبب سے سانپن کاٹا کرتی ہے۔
اگر کسی گھر میں سانپ ہو یا آمدو رفت ہو تو 15 گرام سفوف ریٹھا پانی میں گھول کر گھر میں جابجا سانپ کے آنے کی جگہ پر چھڑک دیں۔
مار گزیدہ مویشیوں کو100 گرام سفوف ریٹھا پانی میں گھول کر بذریعہ نال پلائیں تو وہ فوراً ہوش میں آ جاتے ہیں اور چند خوراک سے زہر اتر جاتا ہے، مجرب اور آزمودہ ہے۔
بقدر چھ گرام چھلکا ریٹھا (soapnut) سفوف بنا کر 100 گرام پانی میں حل کر کے مار گزیدہ آ دمی کو پلائیں ۔ اس طرح دو دو گھنٹے کے بعد دیتی رہیں۔ اس سے بعض مریضوں کو دست آ کر آرام ہو جاتا ہے ۔
ایک شخص کو زہریلے سانپ نے کا ٹا کہ بدن بالکل پھٹ گیا۔ اس کو زہر کا اثر دور ہو جانے کے بعد اٹھارہ روز تک سفوف ریٹھا بقدر ایک گرام صبح و شام دیا گیا ۔ سب زخم خود بخود بھر کر مریض اچھا ہو گیا۔
اگر آپ سفر میں ہوں تو سفوف ریٹھا ضرور پاس رکھیں جو سانپ کا آسان و آزمودہ علاج (soapnut benefits) ہے۔
ریٹھا کا صنعتی استعمال
کپڑے دھونے کا پاؤڈر:
بڑھیا دیسی صابن کا چورا چھ پونڈ، ریٹھے کا چھلکا باریک دو پونڈ، سجی (کھار)بڑھیا چھ پونڈ ، سوڈا واشنگ چھ پو نڈ۔
ترکیب تیاری:
سب کو الگ الگ باریک کر کے ملا کر چھلنی سے چھان لیں ۔ بوقت ضرورت تھوڑا سا پاؤڈر گرم پانی میں ڈال کر ابالیں اور اس پانی میں کپڑے آدھا گھنٹہ بھگو کر صاف پانی سے دھو لیں ۔ کپڑے بہت صاف اور دودھ جیسے نکل آئیں گے۔ اس پاؤڈر کو چھوٹے چھوٹے خوبصورت ڈبوں میں لیبل لگا کر فروخت کریں تو ایک بےروزگار کے لئے روزگار کی سبیل پیدا ہو سکتی ہے۔
دیگر:
بڑھیا انگریزی صابن کا چورا ایک پونڈ، ریٹھے کا چھلکا دو اونس ، سوڈا واشنگ ڈیڑھ پونڈ۔
مندرجہ بالا ترکیب سے تیار کریں۔
اس کے بعض فوائد ایسے ہیں جن میں کوئی دوا اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔یہ ہمارے ملک میں عام، سستا اور نہایت آسانی سے دستیاب ہو جانے والا پھل ہے۔ اس کی تاثیر گرم و خشک ہے۔ ریٹھا مقوی ہونے کے ساتھ ساتھ بیشتر زہروں کے تریاق کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
ریٹھا بظاہر معمولی سی چیز ہے لیکن اپنے اندر ہزارہا کرشماتی فوائد و اثرات رکھتا ہے۔ بیشتر دیسی ادویات میں اسے بکثرت استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا چھلکا شکن دار (جھری دار) اور سیاہی مائل پیلا ہوتا ہے۔ ریٹھے ثابت چھالیہ کے برابر یا کسی قدر چھوٹے ہوتے ہیں۔ اسے توڑنے سے کالے رنگ کی گٹھلی نکلتی ہے اور اس کے اندر سے زردی مائل سفید دانہ نکلتا ہے۔
ریٹھا کا کسی دوا سے کوئی مقابلہ نہیں
(فوائد)ریٹھا نہایت مفید پھل ہے کوئی شخص اگر اس کی صحیح تاثیر اور اس کے فوائد سے واقف ہو جائے تو بہت سی بیماریوں کا اس سے علاج کیا جاسکتا ہے۔ اس کے بعض فوائد ایسے ہیں جن میں کوئی دوا اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔یہ ہمارے ملک میں عام، سستا اور نہایت آسانی سے دستیاب ہو جانے والا پھل ہے۔ اس کی تاثیر گرم و خشک ہے۔ ریٹھا مقوی ہونے کے ساتھ ساتھ بیشتر زہروں کے تریاق کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اس کے چھلکوں کا سفوف چھ گرام پانی میں گھول کر پلانے سے قے اور دستوں کے ذریعے سانپ کے زہر کا اثر جاتا رہتا ہے۔ اگر سفوف تیار نہ ہوتو پیس کر چٹائیں اس سے بھی فائدہ ہوگا۔ بعض لوگ صرف 2رتی سفوف پانی میں گھول کر پلانے کو کافی سمجھتے ہیں بچھو اور کن کھجورے کا زہر بھی اس کو پلانے اور کاٹی ہوئی جگہ پر لگانے سے دور ہو جاتا ہے۔ اس سے درد اور سوزش کو بھی آرام ملتا ہے۔ بے ہوشی اور غشی کی حالت میں ایک رتی باریک سفوف کاغذ کی نلکی بناکر ناک میں پھونکنے سے مریض ہوش میں آجاتا ہے۔
داغ دھبے اور چھائیاں ختم!چہرہ نکھر جائے
اس کا ایک رتی باریک سفوف کسی شربت میں ملا کر پلانے سے درد قولنج دور ہو جاتا ہے۔ چہرے کے داغ دھبے، مہاسے اور چھائیاں اس کے چھلکے کو پانی میں پیس کر لگانے سے دور ہو جاتی ہیں اور چہرہ نکھر آتا ہے۔ ہر قسم کی خارش کو دور کرنے کے لیے ریٹھا بہترین چیز ہے۔ اس کو پیس کر گولیاں بناکر ایک ایک گولی صبح شام کھائیں اس کے چھلکے کے بھی تقریباً وہی فائدے ہیںجو اس کی چھال کے ہیں۔ دمے کی حالت میں چھال کا سفوف کھلانے سے پھیپھڑوں کا بلغم خارج ہو جاتا ہے۔چھال کو جوش دے کر استعمال کرنے سے خون کی کمی دور ہو جاتی ہے۔ چھال کو پیس کر آنکھوں میں لگانے سے دکھتی ہوئی آنکھ کو فائدہ ہوتا ہے۔ دو رتی سفوف کو پانی کے ایک دو گھونٹ سے نگل لیں۔ آنتوں کے کیڑے ہلاک ہوکر خارج ہو جائیں گے۔
مختلف امراض اور ریٹھا کے آزمودہ نسخے
بواسیر سے نجات:سفید کتھا ایک تولہ اور پوست ریٹھا سوختہ ایک تولہ (ریٹھے کے بیجوں کو جلا کر کوئلہ کرلیں۔ جل کر راکھ نہ بننے دیں) کو باہم پیس کر شیشی میں محفوظ رکھیں‘ بوقت ضرورت بقدر ایک رتی سے دو رتی لے کر مکھن یا بالائی میں ملا کر نگل لیں اور اسی طرح ایک ہفتہ کھاتے رہیں۔ ہر چھ ماہ بعد ایک ہفتہ استعمال کرلیا کریں اور مضر اشیاء سے پرہیز جاری رکھیں۔اس کے علاوہ ’’ضماد‘‘ کے ذریعے بھی اس مرض کو افاقہ پہنچایا جاسکتا ہے۔ ضماد بنانے کے لیے پوست ریٹھا باریک پیس کر پانی کے ذریعہ لیپ سا بنالیں اور مسوّں پر دونوں وقت لگاتے رہیں۔ مسّے چند روز میں آہستہ آہستہ ختم ہو جائیں گے۔
روغن ریٹھا نزلہ و زکام کے لیے مفید
پوسٹ ریٹھا (ریٹھے کے بیج) دو تولہ، نمک دو تولہ، آدھ کلو پانی میں بھگو رکھیں اور صبح جوش دیں جب آدھا پائو پانی رہ جائے تو آدھ پائو روغن سرسوں ملاکر پھر جوش دیں۔ جب صرف تیل باقی رہ جائے اور پانی بالکل جل جائے تو اتارلیں اور دو تین قطرے سونگھتے رہیں‘ بہت جلد اثر دکھائے گا اور اس کے علاوہ لونگ، پوست ریٹھا ہم وزن لے کر باریک پیس لیں اور نسوار لیں۔ یہ بھی بہت مفید نسخہ ہے۔
فالج، لقوہ شقیقہ وغیرہ
پوست ریٹھا، مرچ سیاہ ہم وزن لے کر باریک پیس لیں اور مریض کو روزانہ تھوڑی سی سنگھایا کریں۔ علاوہ ازیں جس شخص کی قوت شامہ زائل ہوچکی ہو یعنی اس کو کوئی بو نہ آتی ہو تو اس کو بھی فائدہ ہوگا۔ نیز ایسے افراد جن کو ہر وقت نیند سی آتی رہتی ہو اور آنکھیں خمار آلود رہیں ان کے لیے بھی موثر ثابت ہوگا۔
مرگی کے لیے بطور نسوار سنگھائیں
ریٹھا کو روغن کدو یا روغن بادام میں پیس کر مرگی کے مریض کو بطور نسوار سنگھائیں بہت فائدہ ہوگا۔
شب کوری(رات کو نظر نہ آنا)
بعض افراد کی نظر دن میں بالکل ٹھیک ہوتی ہے۔ لیکن رات ہوتے ہی ان کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جاتا ہے اور انہیں کچھ نظر نہیں آتا۔ یہ صورتحال انتہائی پریشان کن ہوتی ہے۔ اس کے لیے بہترین نسخہ یہ ہے کہ پوست ریٹھا کو پانی میں تر رکھیں اور صبح جوش دے کر خوب مل چھان کر کسی کاک والی بوتل میں محفوظ رکھیں اور سوتے وقت ایک ایک سلائی آنکھ میں ڈال لیں چند دنوں میں شب کوری کا مرض جاتا رہے گا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ریٹھے کے چھلکوں کو سونف کے تازہ پانی یا آب پیاز میں کھرل کریں اور آنکھوں میں بطور سرمہ لگائیں۔
دانت کا درد‘بہترین نسخہ
اکثر لوگ ہر وقت دانت کے درد کی شکایت کرتے رہتے ہیں، ٹھنڈا پانی پینے سے نہایت تکلیف ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے عرض ہے کہ وہ سالم ریٹھے کا بذریعہ تپال جنتر روغن نکالیں اور روئی سے دانتوں پر لگائیں بہت جلد تکلیف سے نجات مل جائے گی۔
ریٹھا کے غرارے خناق ختم
پوست ریٹھا ایک تولہ گھوٹ کر یا جوش دے کر مریض کو غراغرے کرائیں اگر مریض حلق کے تنگ پڑنے (جو خناق کی علامت ہے) سے بیہوش ہوگیا ہے تو ریٹھا سے بنا ہوا پانی مریض کے منہ میں ڈالیں اور سر کو ہلائیں تین چار منٹ بعد مریض اٹھ جائے گا یہ طریقہ خناق کی کسی بھی علامت میں بہت مفید ہے
ہماری دوسری کتاب “خواص المفردات سے ایک اقتباس۔
۔۔ریٹھہ
۔بندق۔Soap nut۔ایک پہاڑی درخت کا پھل ہے۔اعصابی غدی ہے۔مولد ومخرج رطوبات ہے۔مخرج صفراو حرارت ہے،جالی،لاذع۔مخرش غشا ئے مخاطی۔تریاق مار و عقرب گزیدہ۔معطس،تریاق خناق ہے۔اسے پانی میں گھس کر ناک میں ٹپکانے سے چھینکیں لاتا ہے جس سے رکاہوا تمام مواد خارج ہوکر دماغ صاف ہوجا تا ہے ۔شدید الکلی کھار ہے۔شدید خونی پیچس۔خونی آؤں تقطیر البول میں قلمی شورہ کے ساتھ دینے سے نفع دیتا ہے ۔عسر طمث بالکل ٹھیک ہوجاتا ہے،خناق والے کو اسے جوشیدہ پانی سے غرارے کرانے سے فوراََ فائدہ ہوتا ہے،ایک نسخہ پیش خدمت ہے:ہوالشافی قلمی شورہ6تولے۔گندھک آملہ سار6تولے ریٹھا کا سفوف1تولہ سب کو ملاکر سفوف کر لیں ۔ اعصابی غدی ہے۔سوزاک،تقطیر البول،چھپاکی کے لئے فوری الاثر ہے دو ماشہ کی مقدار میں کافی ہے دودھ یا پانی سے دیں۔یہ نسخہ پیلے یرقان کے لئے بھی لاجواب ہے۔ پہلی خوراک ہی اثر دکھانے والی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *