رسول اللہ ﷺ کادامادوں سے برتائو

رسول اللہ ﷺ کادامادوں سے برتائو

رسول اللہ ﷺ کا اپنےدامادوں سے برتائو

 رسول اللہ ﷺ کادامادوں سے برتائو
رسول اللہ ﷺ کادامادوں سے برتائو

رسول اللہ ﷺ کادامادوں سے برتائو
تحریر:۔حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

انسان کے تین باپ ہوے ہیں ایک وہ جو دنیا میں آنے کا سبب بنا دوسرا وہ جس نے تعلیم دی تیسرا
و ہ جس نے اپنی بیٹی تمہارے نکاح میں دی نبیﷺ کی تمام صاحبزادیا ں اپنے گھر وں میں گئی اور امت کے اس امر میں یہ پہلو بھی تھا کہ اگر بیٹی کے اتنے فضائل ہیں تو دامادوں کے کیا حقوق اور فرائض ہیں اور ان کے ساتھ کیسے نباہ کیا جاتا چاہئے۔
آپﷺ کی چار حبزادیا ں تھیں اور تین داماد کیونکہ دو بیٹیاں حضرت عثمان غنی کے نکاح میں یکے بعد دیگرے آئیں انہوں نے اپنی گھروالیوں کے ساتھ جو حسن سلوک فرمایا نبیﷺ نے ان کی ہمیشہ توصیف فرمائی۔ نبی ﷺ کا اسوہ حسنہ پوری زندگی کے لئے بہترین نمونہ ہے بیویوں کے ساتھ اور اپنی بہوئوں کے ساتھ تو ہر کوئی بھلائی کرتا ہے لیکن بیٹی اور دامادوں کے ساتھ بہترین نمونہ آپ ﷺ کی بیٹیوںکی گھریلو زندگی ہے آپ ﷺ نے اپنی بیٹیوں کو زندگی کے بارہ میں جو ہدایا ت فرمائیں آج ہر بیٹی اور ان کی گھریلو زندگی کے بارہ میں احسن راستہ ہیںاسی کے ساتھ آپ ﷺ کے دامادوں نے جو طرز حیات اختیار فرمایا وہ ہر داماد اور ہر بیٹی کے لئے مشعل راہ ہے ۔ اقوام عالم میں بیٹیوں اور صنف نازک کے بارہ میں جو افراط و تفریطی عمل جاری ہے اسے عین فطری انداز میں پیش فرمایا گیا کسی کا داماد بننا آسان ہے لیکن اس کے ساتھ ساری زندگی اچھائی اور حسن سلوک کرنا مشکل کام ہے
سب سے بڑے داماد حضرت ابو العاص ؓ تھے انہوں نے حضرت زینب ؓ کے ساتھ اس طرح زندگی کے لمحات بتائے کہ نبیﷺ نے ان کے تو صیف فرمائی تفصیل تو ہم نے ’’سیر طیبات وبنات مطہرات ‘‘میں لکھی ہیں ۔لیکن موضوع کے لحاظ سے کچھ مرویات اس جگہ تحریر خدمت ہیں ایک بار زعماء قریش ابو العاص کے باس گئے اور انہیں مجبور کیا کہ وہ رسول اللہﷺ کی صاحبزادی حضرت زینب کو طلا ق دیدیں اور قریش کی جس عورت سے چاہیں نکاح کرلیں انہیں پیش کردی جائیگی لیکن ابی العاص میں شرافت ونجابت بھری ہوئی تھی انہوں نیز زعماء قریش کی پیش کش کے جواب میں کہا ’’میں زینب کو طلاق دے کر اپنے سے الگ نہیں کرسکتا اور نہ ہی قریش کی کوئی عورت زینب سے بہتر ہے ‘‘[ذخائر العقبی ص ۷ ۵ ۱۔ البدائی والنہایہ۳/۳۱۱]
ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں لکھا ہے جب کفار مکہ نے حضرت زینب کو الگ کرنے کا پروگرام پیش کیا تو انہوں نے جواب دیا ’’لا واللہ اذن لا افارق صاحبتی‘‘یعنی اللہ کی قسم میںاپنی بیوی (حضرت زینب سے)ہرگز جدا نہیں ہوسکتا [البدایہ والنہایہ۳/۳۱۲]ا یک موقعہ پر نبی ﷺ ابو العاص ؓکی توصیف شکر گزاری کے ساتھ تھی فرمائی [صحیح بخاری ]سنن ابی دائود میں اس واقعہ کو حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت کیا کہ کہ جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کے فدیئے بھیجے تو (آپ ﷺ کی صاحبزادی) حضرت زینب ؓ نے اپنے شوہر ابی العاص کے فدیہ میں مال بھیجا جس میں وہ ہار بھی تھا ،جو اُن کو ان کی والدہ کی حضرت خدیجہ ؓ کی طرف سے ملا تھا۔عائشہ ؓ فرماتی ہیں جب نبیﷺ نے یہ ہار دیکھا تو آپﷺ پر رقت طاری ہوگئی اور آپ ﷺ نے صحابہ کرام سے فرمایااگر مناسب سمجھو تو زینب کی دلداری کی خاطراس کے قیدی کو چھوڑ دو اورجو مال اس کا ہے اسے لوٹادو صحابہ کرام ؓ نے اتفا ق اور آپ ﷺ نے ابو العاص کو چھوڑتے وقت عہد لیا کہ وہ زینب کو آپﷺ کے پاس آنے سے نہ روکیں گے [ابی دائود حدیث2671الجہاد] حضرت اسامہ کہتے ہیں ایک بار مجھے حضرت عثمان کے گھر ایک خوان لیکر بھیجا جس میں گوشت بھی تھا جب میں حضرت عثمان کے گھر داخل ہوا تو میں نے عثمان اور رقیہ کو دیکھا میں نے ان سے زیادہ حسین جواڑا کبھی نہیں دیکھا تھا میں کبھی رقیہ کو دیکھتا اور کبھی عثمان کی طرف کہ کونسازیادہ حسین ہے یہ بات میں نے رسو ل اللہ ﷺ سے جا کر کہی … یہ واقعہ نزول حجاب سے پہلے کا ہے [ معجم الکبیر لطبرانی۱/۷۶]

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.