رسول اللہﷺ کے گھر میں محبت۔اعتماداور خوداری کی فضا

رسول اللہﷺ کے گھر میں محبت۔اعتماداور خوداری کی فضا

رسول اللہﷺ کے گھر میں
محبت۔اعتماداور خوداری کی فضا

رسول اللہﷺ کے گھر میں محبت۔اعتماداور خوداری کی فضا
رسول اللہﷺ کے گھر میں
محبت۔اعتماداور خوداری کی فضا

رسول اللہﷺ کے گھر میں
محبت۔اعتماداور خوداری کی فضا

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی @ﷺکاہنہ نولاہور پاکستان

ہاں کسی کو یہ گمان ہرگز نہیں ہونا چاہئے کہ نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے اہل بیت نے دنیا کی جگہ آخرت ثروت وامارت کی جگہ فقرو فاقہ خدمت نفس کی جگہ خدمت انسانیت کے اس نصب العین کو اپنے لئے پسند فرمالیا تھا تو اس کے یہ معنی بھی ہرگز نہیں کہ اس گھرانے میں کوئی لذت و کیفیت کوئی چہل پہل سرگرمی اور اتار چڑھائو کی کوئی نرمی و گرمی باقی نہ رہ گئی تھی ۔

ایک ہموار زند گی تھی ہر قسم کے نشیب و فراز خالی اور پرسکون ماحول تھا ہر طرح کے جذبات سے پاک محفوظ ایک بہتا ہوا دریا تھا ہر قسم کے تلاطم اور تموج سے یکسر نا آشنا نبی ﷺ کی گھریلو زندگی کے متعلق جن لوگوں کا یہ تصور ہے انکا یہ تصور نہایت بے ہودہ اور غلط حقیقت سے بعید ہے آپکی باہر کی زندگی کی طرح گھریلو زندگی بھی ان تمام کیفیات سے معمور اور پر رونق تھی

جس طرح ایک انسانی زندگی کو معمور و پر رونق ہونا چاہئے البتہ اس میں افراط و تفریط کی بے اعتدالیاں یا عیش دنیا کی فراموشیاں نہیں تھیں آپ ﷺ سوتے بھی تھے جاگتے بھی تھے اورسیری کے ساتھ ساتھ فقرو فاقہ بھی کاٹتے تھے آپ خوش[HAPPY] و ناخوش[ANGRY بھی ہوتے تھے۔

ایک حدیث مبارکہ میں نبی ﷺ نے ایسے لوگو ں کی سرزنش فرمائی کہ جنہوں نے دوامی طور پر روزہ رکھنے اور شادی نہ کرنے کا دوامی طور پر اجتناب کا عہد کرلیا تھا البتہ اعتدال کے ساتھ یہ سب باتیں دین کا حصہ ہیں [متفق علیہ۔ترجمان سنہ ص۴۰۹ج۳]

آپ ﷺ پیار بھی فرماتے سرزنش بھی غرض زند گی کے جتنے بھی پہلو ہوسکتے ہیں وہ سب آپ کے گھر میں اتم درجہ موجود تھے ہاں دوسروں کی زندگی سے فرق تھا تو صرف اسقدر کہ آپ ﷺکا گھرانہ ایک مثالی گھرانہ تھا جس کے ہر دریچے سے اسوہ کامل کی کرنیں پھوٹتی تھیں

کیونکہ اس میں کوئی چیز اپنے فطری حسن کی حدود سے متجاوز نہ تھی افراط و تفریط کی حفاظت خود عالم الغیب سے ہوتی تھی [وما ینطق عن الہوا ان ہو الاوحی یوحیٰ النجم]اگر کوئی چیز اپنی جگہ سے سرمو منحرف ہوتی تو[ علمہ شدید القوی] سے درستگی آجاتی تھی

امام بغوی[ شرح السنہ میں] لکھتے ہیں کہ آپ ﷺ مجلس فحش گوئی اور بد کلامی سے پاک ہوا کرتی تھی …پھر آگے جاکر لکھتے ہیں آپ ﷺ کی مجلس میں کسی کی غلطی یالغزشوں کی تشہیر یا اشاعت نہیں ہوتی تھی[شرح السنہ] زند گی کے یہ سارے نشیب و فراز جو آپ ﷺ کی زندگی میں موجود تھے ایک ایسی زندگی کا نقشہ پیش کرتے ہیں جسکو انسانی زندگی کا بہترین نمونہ کہا جاسکتا ہے ا ٓئے قران دیکھتے ہیں جو نبیﷺ کی زندگی کے مخفی گوشوں سے پردہ سرکاتا ہے اگر آپ اسکی تیہ میں اتر کر غور کریں گے وہ ساری جھلکیا ں آپ خود دیکھ لیں گے جو سطور بالا میں مسطور ہوئیں

یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّہُ لَکَ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ أَزْوَاجِکَ وَاللَّہُ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ (1) قَدْ فَرَضَ اللَّہُ لَکُمْ تَحِلَّۃَ أَیْْمَانِکُمْ وَاللَّہُ مَوْلَاکُمْ وَہُوَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ (2) وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِیُّ إِلَی بَعْضِ أَزْوَاجِہِ حَدِیْثاً فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِہِ وَأَظْہَرَہُ اللَّہُ عَلَیْْہِ عَرَّفَ بَعْضَہُ وَأَعْرَضَ عَن بَعْضٍ فَلَمَّا نَبَّأَہَا بِہِ قَالَتْ مَنْ أَنبَأَکَ ہَذَا قَالَ نَبَّأَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ (3) إِن تَتُوبَا إِلَی اللَّہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکُمَا وَإِن تَظَاہَرَا عَلَیْْہِ فَإِنَّ اللَّہَ ہُوَ مَوْلَاہُ وَجِبْرِیْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمَلَائِکَۃُ بَعْدَ ذَلِکَ ظَہِیْرٌ (4) التحریم]اے نبی ﷺ !جو چیز اللہ نے آپ ﷺ کے لئے حلال ٹہرائی ہے اسے اپنی بیویوں کی دلداری کے لئے اپنے پے کیوں حرام ٹہراتے ہو؟ اللہ تو بخشن والا مہر بان ہے اللہ آپ ﷺ کے لئے خلاف شرع قسموں کا توڑنا فرض ٹہرایا ہے اللہ ہی تمہارا آقاومولا ہے جو علیم و حکیم ہے اور جب آپ ﷺ کسی گھر والی سے راز کی بات کی تو اس نے وہ کسی دوسری کو بتادی تو اللہ نے اس امر سے نبیﷺ کو مطلع کردیاکچھ تو جتادی اور کچھ بات پردہ میں رکھی

جب ظاہر کیاتو وہ بولیںکہ آپ ﷺ کو کس نے بتایا ہے؟ فرمایا مجھے خدائے علیم خبیر نے اطلاع دی ہے اگر تم دونوں اللہ کی طرف رجوع کرو تو یہی تمہارے لائق ہے کیونکہ تم دلی طور پر اللہ کی طرف مائل ہواگر نبیﷺ کے خلاف ایکا کرو گی تو اللہ جبرئیل اور سب ایمان والے اور ملائکہ اس کے ساتھ ہیں [بخاری۱ ۳ ۵ ۴ ۔مسلم۲۶۹۴۔ ترمزری ۱۷۵۴۔نسائی۳۳۶۷۔ابن ماجہ۳۳۱۴۔ دارمی۱۹۸۶ ۔احمد۲۴۶۶۸ ]

یہاں جو بات اللہ نے ظاہر نہ کی اس کے درپے ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہدایت و نجات کی تمام راہیں ہمارے سامنے کھول دی گئیں میں مزید کسی تجسس کی قطعی ضرورت نہیں ہے[ وماھو علی الغیب بظنین]ان آیات سے جو باتیں عیاں ہوکر سامنے آئی ہیں ان پر تدبر لازم ہے کہ یہ جس زندگی نقشہ ہے وہ کم از کم کوئی سپاٹ زند گی نہیں ہے بلکہ انسان فطرت کی دھوپ چھائوں یہاں بھی موجود ہے اس بحث سے یہ باتیں سامنے آتی ہیں کہ حدود کے اند رہتے ہوئے اپنی ازواج کی دلداری فرمایا کرتے تھے انکے مذاق کا لحاظ فرماتے بے ضرر قسم کاشوق بھی پورے فرماتے تھے [

Leave a Reply

Your email address will not be published.