حرکت سکون جسمانی اور ہضم غذا

حرکت سکون جسمانی اور ہضم غذا

حرکت سکون جسمانی اور ہضم غذا

حرکت سکون جسمانی اور ہضم غذا
حرکت سکون جسمانی اور ہضم غذا

حرکت سکون جسمانی اور ہضم غذا

از مجدد الطب:صابر ملتانیؒ

پیش کردہ:حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

ہضم غذا:

زندگی کے لازمی اسباب جن کواسباب ستہ ضروریہ کہاجاتاہے ان کی عملی حیثیت تین ہے جیسا کہ لکھاگیاہے اس کی اول صورت جسم کیلئے غذاحاصل کرنا ہے جیسے ہوا، روشنی اور ماکولات ومشروبات وغیرہ۔ان کی دوسری عملی صورت جسم میں غذاکوہضم کرکے جزو بدن بنانے کے لوازم زندگی ہیں۔یہ اسباب ضروری ہضم غذامیں اس لئے لازمی ہیں کہ اگر حرکت وسکون جسمانی،حرکت سکون نفسانی اور نیندو بیداری اعتدال پرنہ رہیں تونہ صرف ہضم غذامیں فرق پڑجاتاہے بلکہ صحت میں بھی خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔

حرکت سکون جسمانی اور ہضم غذا:

حرکت ایک ایسی صفت کانام ہے جس سے کوئی جسم یاشے کسی خاص وضع(قیام وسکون)سے فعل میں آئے۔در حقیقت اس دنیا میں سکون مطلق کاوجود نہیں ہے البتہ جب اس کاذکرکیاجاتاہے تواس سے مراد حرکت سکون نسبتی ہوتاہے یعنی جب کوئی جسم بلحاظ دوسرے جسم کے کسی خاص وضع یاحالت میں فعل میں آتاہے تو اس کوحرکت کہتے ہیں۔بہرحال یہ نسبتی حرکت وسکون اپنے خواص واثرات رکھتے ہیں جب کوئی جسم حرکت میں آتاہے تو اس کے ساتھ ہی جسم کاخون حرکت میں آتاہے اور جسم کے جس حصے کی طرف سے حرکت کی ابتداہوتی ہے اس طرف روانہ ہوجاتاہے۔پھر طبیعت اس کو سارے جسم میں پھیلادیتی ہے۔اس طرح خون کی تیزی اور شدت بدن کوگرم کردیتی ہے ۔اس لئے کہاجاتا ہے کہ حرکت جسم میں گرمی پیداکرتی ہے اور اس کی زیادتی جسم کوتحلیل کردیتی ہے۔اس کے مقابلے میں سکون جسم میں سردی پیداکرتاہے۔اس سے خون کی حرکت سستی اور رطوبت میں زیادتی ہوجاتی ہے گویا نسبتاً ہرحرکت ہرسکون کے مقابلہ میں گرمی وخشکی اور تیزی کاباعث ہواکرتی ہے۔اس کے ساتھ ہی خون جسم کے جس حصہ میں پہنچتاہے ۔وہاں پر اپنی حرارت سے وہاں کے اعضاء میں تیزی اور گرمی پیداکرکے وہاں کی غذاکو ہضم کرتاہے اور مواد کوتحلیل کرکے خارج کرتاہے اور اپنی تیزی سے وہاں کی رطوبات خشک کرتاہے۔

حرکت کاتعلق عضلات سے ہے:

اس امرکوذہن نشین کرلیں کہ جسم انسان میں ہرقسم کی احساسات اعصاب کے ذمہ ہیں جن کامرکز دماغ ہے اور ہرقسم کی حرکات جوجسم میں پیداہوتی ہیں ان کاتعلق عضلات سے ہے جن کا مرکز قلب ہے۔اسی طرح جسم کوجوغذاملتی ہے اس کاتعلق غدد سے ہے جن کامرکز جگر ہے اوریہی اعضائے رئیسہ ہیں۔ جب جسم میں یا اس کے کسی عضومیں حرکت ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ہی قلب کے فعل میں تیزی آجاتی ہے۔اس کے فعل میں تیزی کے ساتھ ہی وہ جسم کے خون کوجسم میں تیزی کے ساتھ روانہ کرناشروع کردیتاہے جس کے ساتھ ہی جسم میں حرارت بڑھنی شروع ہوجاتی ہے۔جس کے نتیجہ میں ریاح کااخراج ہوناشروع ہوجاتاہے اور جہاں جہاں پر غیر ضروری رطوبات اور مواد جمع ہوتے ہیں طبیعت ان کو تحلیل کرناشروع کردیتی ہے۔اس کے ساتھ ہی دوران خون کی تیزی کے ساتھ اس کادباؤغدد کی طرف بڑھ جاتاہے اور وہ جسم کوزیادہ سے زیادہ غذا حرارت کی صورت میں دینا شروع کردیتے ہیںجواس میں شریک ہوتی ہے،ساتھ ہی بھوک بڑھ جاتی ہے اور غذازیادہ سے زیادہ ہضم ہوتی ہے جس کا لازمی نتیجہ خون کی زیادتی وصفائی اور طاقت میں ظاہر ہوتاہے۔ ان حقائق سے ثابت ہواکہ حرکت جسم میں حرارت وخون اور قوت وصفائی پیداکرتی ہے اور اس کے برعکس سکون سے جسم میں سردی اور کمی خون اور کمی قوت اور زیادتی مواد کاپیداہونا لازمی امرہے۔بس یہی دونوں صورتوں کابین فرق ہے۔

حرکت اور حرارت غریزی:

جاننا چاہیے کہ بدن انسان کایہ کام ہے کہ جوچیز بدن انسان میں از قسم اغذیہ واشربہ وغیرہ خارج سے اور رطوبت و مواد اوراخلاط وغیرہ داخل بدن سے کسی بے محل جگہ یاغیر طبعی حالت سے کسی عضوبدن میں وارد ہوں اس میں حرارت غریزی اپنا فعل کرتی رہتی ہے۔ چونکہ اس دوام فعل اور محنت سے حرارت غریزی میں ضعف پیداہوجانایقینی امرہے اور ضعف وکسل وغیرہ افعال کے لاحق ہونے سے اس کے فضلات کی تحلیل سے عاجز ومجبورہوتی ہے۔اس وجہ سے تھوڑاتھوڑامواداور فضلہ جمع ہوکر کافی مقدارمیں حرارت غریزی کومغلوب کردیتاہے ۔اس لئے حرکات کی طلب ضروری ہوجاتی ہے تاکہ اس سے ایک دوسری گرمی پیداہواور اس کی مدد سے طبیعت مواد اور فضلات کو تحلیل کردے۔اگرچہ مواد اور فضلات قے واسہال اور پسینہ کے ذریعہ سے خارج ہوسکتے ہیں مگر ان طریقوں سے ان کا اخراج ضعف جسم کاباعث ہوتاہے۔دوسری طرف متعلقہ اعضاء میں قوت اخراج کوفطری طورپرکمزورکردیتاہے اور یہ مسلسل عمل ہمیشہ کیلئے انسا ن کوہلاکت کے قریب کردیتاہے۔اس لئے اس کاعلاج حرکات جسم کو متوازن کرنالازمی امرہے ۔یہی حرکات کااحتیاج ہے گویاحرکت جسم حرارت غریزی کیلئے بہترین مددگار ہے اورمحافظ صحت وقوت ہے۔

تحریک قدرت کافطری قانون ہے:

خداوندحکیم کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ بھی ہے کہ ضرورت بدن انسان کیلئے ایک تحریک پیداکی گئی ہے مثلاًغذاکیلئے بھوک،پانی کیلئے پیاس اور نیند کیلئے اونگھ وغیرہ۔چونکہ انسانی طبیعت کااعتدال پر قائم رہنامشکل ہے اس لئے ان تحریکات میں اکثر کمی ہوتی رہتی ہے اس سے ماکولات ومشروبات اور آرام میں بے اعتدالی پیداہوجاتی ہے۔بس انہی ضروریات کوقائم رکھنے کیلئے یہ تحریکات پیداکی گئی ہیں۔پس محرکات فطری طورپرقدرت کی طرف سے پیدانہ کئے جاتے تولازمی امر تھا کہ انسان اپنی مطلوبہ ضروریات مذکورہ سے غافل ہوجاتا جس کانتیجہ لازمی طورپریہ ہوتاکہ بدن انسان میں خلل واقع ہوجاتا۔اس سے ہلاکت تک کی نوبت پہنچ سکتی تھی۔اس لئے جب انسان کی ان تحریکات میں خلل واقع ہوجائے تواس کوصحت کی خرابی سمجھناچاہیے اور ان تحریکات کواعتدال پرلانے کی کوشش کرنی چاہیے جس سے نہ صرف صحت قائم رہتی ہے بلکہ طاقت بھی پیداہوتی ہے۔

حرکات کی فطری صورت:

ضروریات زندگی خصوصاً ماکولات ومشروبات کیلئے انسان میں جو احتیاج پیداکی گئی ہے اس کیلئے انسان کولازمی طورپر بھاگ دوڑاور جدوجہد کرناپڑتی ہے۔بس یہی کوشش اس میں فطری طورپراس کی تحریکات کوبیداررکھتی ہے لیکن افراد کواپنی ضروریات زندگی کیلئے یہ جدوجہدکرنی پڑتی ہے ۔بس یہی کوشش اس میں فطری طورپراس کی تحریکات کو بیداررکھتی ہے لیکن افراد کواپنی ضروریات زندگی کیلئے یہ جدوجہد اور کوشش نہیں کرناپڑی ۔بہرحال ان تحریکات کوتیزکرنے کیلئے حرکات کاکرنالازمی امرہے۔اس مقصد کوحاصل کرنے کیلئے حکماء نے ریاضت اور ورزش کی مختلف صورتیں پیداکی ہیں تاکہ انسان اپنی تحریکات اور صحت کو قائم رکھ سکیں جوزندگی کیلئے لازم ہیں۔

ریاضت کی حقیقت:

ریاضت انسان کیلئے ایک اختیاری حرکت کانام ہے جیسے ورزش ودوڑ،کھیل کود،سیروگھوڑسواری، کُشتی لڑنا اور کَشتی چلانا۔ اسی طرح ہاتھ پاؤں کی مختلف پے درپے حرکات سے ریاضت کی صورتیں پیداکی جاتی ہیں اگرچہ عوام وخواص بلکہ ورزش ماسٹر بھی اس علم سے واقف نہیں ہیں کہ مختلف اقسام کی ورزشیں اور ریاضت سے کس قسم کے اعضاء متاثرہوتے ہیں۔کس عضو کی تقویت کیلئے کس قسم ورزش اور ریاضت ضروری ہے کیونکہ لوگ افعال الاعضاء اور تشریح انسانی سے واقف نہیں ہوتے۔بہرحال عمومی طورپر ریاضت اور ورزش بے حد مفیدعمل ہے۔اگرورزش یا ریاضت کے متعلق یہ پتاچل جائے کہ کس قسم کے کھیل ہمار ے جسم پرخاص طورپراعصاب و دماغ،عضلات وقلب اور جگر وگردوں پراثرانداز ہوسکتے ہیں توایسی ریاضت اور ورزش بہت مفیدہوتی ہے۔

حرکت وسکون نفسانی:

نفس کی ایسی حرکت جوضرورت کے وقت کبھی جسم کے اندراور کبھی جسم کے باہرظاہرہوجس کے ساتھ حرارت جسم بھی کبھی اندر کی طرف چلی جاتی ہے اور کبھی باہر کی طرف ظاہرہوتی ہے۔اس کو حرکت و سکون نفسانی کہتے ہیں۔نفس سے مراد نفس انسانی ہے جس کونفس ناطقہ کہتے ہیں جس کا تعلق اور ربط انسان کے قلب سے ہے جو اپنے معانی جزئیہ اورمفہومات کو بذریعہ مختلف قوتوں کے ادراک کرتاہے۔پھر اس کی تین صورتیں ہیں نفس امارہ(غیرشعور)،نفس لوامہ(نیم شعور)اور نفس مطمعنہ(شعور)۔

حرکت وسکون نفسانی کی ضرورت:

یہ محال ہے کہ کوئی نفس انسانی اس عالم میں فکر زندگی اور آخرت یا ضرورت معاش و معاشرت یا محبت اولاد یا عمل حبیب یا لطف ولذت سے رغبت یا موذی مرض کاخوف یا دشمن سے خطرہ ونفرت وغیرہ کیفیات و عوارض کے ردعمل اور انفعلات سے متاثرنہ ہوچنانچہ یہی تقاضے نفس انسانی کے ضروریات کے حصول ودفع کی غرض سے باعث حرکت بدن ہوتے ہیں ۔یہ حقیقت ہے کہ اگر عوارض مذکورہ کا عارض ہونا ضروری ہے تو ا ن کے ردعمل سے متاثر ہونا بھی یقینی امرہے ۔اس سے روح قلب کو تحریک دے گی اورقلب کی تحریک کے ساتھ خون میں گردش شروع ہوجائے گی جس سے وہ خون شعوری یا غیر شعور ی طورپر اپنا شوق اور دفع پوراکرے گا۔پس جو عوارض و کیفیات اس کیلئے نافع اور بہتر ہوں گے ان کاوہ طالب ہوگااور ان کا وہ شوق کرے گااور وہ جو اس کیلئے مضر اور تکلیف کا باعث ہوں اس سے وہ بھاگے گااور ان کو دفع کرتارہے گا۔ بس انسان کی ان طلب وفرار اور شوق ودفع حرکات ہی سے ہوسکتی ہے بس انہی کیفیات و عوارض کے ردعمل کا نام حرکت وسکون نفسانی ہے ۔

نفس بذات خود متحرک نہیں ہے:

کہا تو یہ جاتاہے کہ ’’حرکت و سکون نفسانی‘‘لیکن حقیقت یہ ہے کہ نفس بذاتِ خود متحرک نہیں ہے بلکہ حرکت قویٰ کو ہی لاحق ہوتی ہے جو بذریعہ ارواح محرکہ ظہورمیں آتے ہیں۔اس لئے قویٰ متحرک ہیں اورارواح محرک ہیں۔ ان کے اعمال سے جن جذبات کا اظہار ہوتاہے انہی کوہی حرکت وسکون نفسانی کہتے ہیں۔مگر یہ امربھی یہاں ذہن نشین کرلیں کہ ارواح (یہاں روح سے مراد روح طبی ہے جس کا حامل خون ہے) کوحرکت بھی بذاتِ خود نہیں ہوتی بلکہ حسبِ ضرورت اور ارادہ نفس ناطقہ سے ہوتی ہے جس طرح کوئی مشین خودبخود متحرک نہیں ہوتی جب تک کہ اس کوحرکت دینے والاکوئی نہ ہواس لئے یہاں حرکت وسکونِ کالفظ مجازاً ہی استعمال کیاجاتاہے۔

نفس میں حرکت وسکون کی صورتیں

: نفس ضرورت کے وقت کبھی جسم کے اندرکبھی جسم کے باہر حرکت کرتاہے جس کے ساتھ خون اور اس کی حرارت بھی کبھی اندرکی طرف چلی جاتی ہے اور کبھی باہر کی طرف نمایاں طورپرظاہر ہوتی ہے۔پھراس کی تین صورتیں ہیں۔(۱)حرکت کادفعتاًاور یک لخت اندریا باہر کی طرف جانا۔(۲)نفس کابیک وقت کبھی اندراور کبھی باہرحرکت کرنا۔(۳)آہستہ آہستہ اندریاباہر کی طرف جانا۔یہ بات یادرکھیں کہ نفس جس طرف حرکت کرتاہے وہاں پر دورانِ خون تیزہوکرحرارت پیداکرتاہے جہاں سے حرکت کرکے جاتاہے وہاں پردورانِ خون کی کمی ہوکرسردی پیدا ہو جاتی ہے۔

یہ امرذہن نشین کرلیں کہ حرکت وسکون نفسانی دراصل نفس کی حرکت وسکون نہیں ہے کیونکہ نفس اپنامفاد نہیں بدلتاایسا صرف مجازاً کہاجاتاہے۔در حقیقت نفس کے تاثرات اور انفعالات (رد عمل )روح طبعی اور خون میں حرکت پیداکردیتے ہیں۔باالفاظِ دیگر یہ تاثرات اور انفعالات صالح اور فطرت کے مطابق ہوں تو حامل قوت و صحت اور باعثِ نشووارتقائے جسم ہوتے ہیں۔انہی کواسلام لفظ دین سے تعبیرکرتاہے۔

یہ حرکت سکون نفسانی بدن کیلئے ویسی ہی ضروری ہے جیسی حرکت سکون بدن کیونکہ بدنی حرکات کادارومدار ہواو ہوس اور خواہشات وجذبات نفسانیہ پر ہے۔جیسے شوق کے وقت طلب کی حرکت ، نفرت کے وقت بیزاری کی صورت غصے کے وقت چہرے کا سرخ ہوجانا۔ یہ سب کچھ روح اورخون کے زیر اثررہتے ہیں اور اس کے برعکس نفسانی سکون کی ضرورت اس لئے ہے کہ روح اور خون کو نسبتاً آرام حاصل ہوکہ ان میں کمی واقع نہ ہواور جسم کو تحلیل ہونے سے بچایاجائے۔

جانناچاہیے کہ نفس جب کسی مناسب یامخالف شے کاادراک حاصل کرتاہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ مناسب کو حاصل کرنا اورمخالف سے بچنا چاہتا ہے ۔اس وقت وہ اپنی نفسانی قوتوں کوحرکت میں لاتاہے اگراس حرکت وسکون میں تسلسل قائم رہے تو باعث مرض وضعف اور رفتہ رفتہ باعث موت ہے اور بعض اوقات ان کی یک بارگی شدت دفعتاً زندگی ختم کردیتی ہے۔جیسے شادی مرگ اورغم مرگ کی صورتیں ظاہر ہوتی ہیں۔انسان کے انہی تاثرات اور انفعالات اور خواہشات وجذبات کامطالعہ اور نتائج سے جو صورتیں پیداہوتی ہیں اس کو علم نفسیات کہتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.