حرام (زہریلی)اشیاء سے علاج ممنوع قرار دیا گیا ہے

حرام (زہریلی)اشیاء سے علاج ممنوع قرار دیا گیا ہے

حرام (زہریلی)اشیاء سے علاج ممنوع قرار دیا گیا ہے

حرام (زہریلی)اشیاء سے علاج ممنوع قرار دیا گیا ہے
حرام (زہریلی)اشیاء سے علاج ممنوع قرار دیا گیا ہے

حرام (زہریلی)اشیاء سے علاج ممنوع قرار دیا گیا ہے

تحریر:۔حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

*اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ علاج میں حرام چیزوںسے اِجْتِناب کیا جائے جیسا کہ حدیث پاک میںہے: إِنَّ اللهَ خَلَقَ الدَّاءَ وَالدَّوَاءَ فَتَدَاوَوْاوَلَا تَتَدَاوَوْابِحَرَامٍ۔(معجم الکبیر،ج24، ص254،حدیث :649)بے شک اللہ تعالٰی نے بیماری اور دوا کو پیدا فرمایا ہے پس علاج کرو مگر حرام سے علاج نہ کرو۔
علاج و معالجہ میں استعمال ہونے والی ادویات کے اجزاء مختلف نوعیت کے ہوتےہیں،نباتات،جمادات۔حجریات،حیوانات،اور آج کل مصنوعی طورپر تیارشدہ کیمیکل وغیر ہ پر مشتمل ہوتے ہیں،کچھ اشیاء مزاج کے لحاظ سے متضاد اورباہم مختلف ہوتی ہیں۔ماہرین نے ان کی درجہ بندی کی ہے۔دوا سازی بہت مہارت اورذہانت کا کام ہے۔دواسا زی چند چیزوں کو ملاکر پیس کر پڑیاں باندھنے کا نام نہیں ہے،بہت سی باریک بینیاں درکار ہوتی ہیں۔بہت کم لوگ ادویات پر مکمل عبور رکھنے والےاور ان کےباہمی تعامل سےپیدا ہونے والے اثرات پر عبور رکھتے ہیںزیادہ تر لوگ رائج الوقت مشہور نسخہ جات کے اجزائی ترکیبی کو جاننا کافی سمجھتے ہیں۔
طب نبوی ﷺمیں کچھ ادویاتی اصول بتائے گئے ہیں جیسا کہ مینڈک کی حرمت کے بارہ میں لکھی گئی سطور میں بھی بتایاجاچکاہے۔کہ طبیب کسی بہانے دوسرے کی جان کے درپے نہیں ہوسکتا۔حتی کہ مینڈک جیسے عام پائے جانے والے جانور کو مارنے سے بھی روک دیا گیا۔اسی طرح فرمایا کہ دواء الخبیث یعنی زہر یلی ادویات سے علاج کرنے کی اجازت نہیں۔
کوئی بھی علم وہنرہوجب انسان اسے اختیارکرلیتا ہے توبہت سے اسرار و رموز کھلناشروع ہوجاتےہیں،تجربات کی بنیادپر بہت سی نئی باتیںاور نئی معلومات ملتی ہیں،اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز بےکارولایعنی پیدا نہیں کی حتی کہ زہربھی اپنےاندر کسی درجہ میںجاکے شفائی اثرات رکھتاہے،بہت سے زہریلے جانورں کاڈسنا کئی امراض میں شفاء کا سبب بنتا ہے۔بہت پہلے ایک کتاب میںپڑھا تھا کہ جوڑوں کے پتھراجانے کی صورت میں شہد کی مکھی یا بھڑکے ڈنگ مروائے جائیں(حسب برداشت ایک سےسات ڈنگ کافی ہوتے ہیں ) اوپر سے حسب برداشت گرم پانی ڈالا جائے یعنی نیم گرم پانی سے ٹکور کی جائے تو انسان کے پتھرائے ہوئےجوڑ پھرسے حرکت کرنے لگ جاتے ہیں
اسی طرح حکمائے کرام معجون عقرب یعنی بچھو کے جزوالا نسخہ پتھری والے کے لئے کامیابی سے استعمال کرتے ہیں۔جس کے استعمال سے گردہ و مثانہ کی پتھری ریزہ ریزہ ہوکے خارج ہوجاتی ہے۔وغیرہ طب میں اس قسم کے بہت سے نسخہ جات پائے جاتے ہیں۔
طب نبویﷺ میں جن اشیاء کو مضر صحت قرار دیا گیا ہے وہ بظاہر نفع بخش بھی ہوںانہیں لوگ بطور علاج کام میں لاتے بھی ہوں لیکن ان کے گہرے اثرات انسانی صحت پر ضرور منفی اثرات ظاہر ہوتےہیںجیسے شراب وغیرہ کے بارہ وضاحت موجود ہے۔
یہی بات دواء الخبیث یعنی زہریلی اشیاء کے بارہ میں بھی کہی جاسکتی ہے،زہر کے مختلف درجات ہوتے ہیں،مضرت کے لحاظ سے کم زیادہ بھی ہوتے ہیں زہروں کے مزاجی درجات ہیں کوئی گرم ہے تو کوئی سرد،کوئی کادی،کوئی کاشر ہے تو کوئی ممسک،اور انسانی طبائع بھی مختلف ہوتی ہیں،کسی کا مزاج بلغمی ہے تو کسی کا صفراوی کسی سوداوی امزاج کا حامل ہے۔زہر کی قسم اگر مزاج کے مخالف ہے تو کسی حد تک طبیعت برداشت کرنے کی صلاحیت رکھے گی لیکن حدسے زیادہ مقدار مضر اثرات کے ظہور کاسبب بنے گی۔اگر کسی نےایسا زہر کھایا جس کا مزاج وہی تھاجس کا طبیعت انسانی میںغلبہ تھاتواسے ری ایکشن ہوگا یعنی مضر اثرات نمودار ہونگے۔
یہ بحث بہت طویل ہے طب نبویﷺ میں زہریلی اشیاء کو بور دوا کے کام میںلانے کی ممانعت اس بنیاد پر قرار دی جاسکتی ہے کہ اناڑی طبیب جسے ادویات کے فعل وانفعال کےبارہ میں گہری معلومات نہ ہوںزہریلی اشیاء کے استعمال سے بچا رہے اور انسان کی قیمتی جان محفوظ رہے۔

زہروں کا استعمال

طبیب و معالج موقع محل کے مطابق کوئی بھی دوا یا اجزائے ادویہ تجویز کرسکتا ہے طبیب خواص اشیاء کو جانتا ہے نسخوں میں استعمال ہونے والے اجزاء کی شناخت اسے کوئی بھی فیصلہ کرنے کی اجازت دیتی ہے۔علم السمیات طب کی اہل ترین شاخ ہے جو منافع و مضرت کی وسیع دنیا اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔طب میں جہاں تریاق استعمال کئے جاتے ہیں وہیں پر ایک ماہر طبیب زہروں کو بھی موقع محل کی مناسبت سے استعمال کرسکتا ہے۔حاذق زہروں کو تریاق بنا کر مریضوں کے لئے سہولت پیدا کرسکتا ہے فوائد کا حصول اور نقصان سے بچاؤ ایک اہم معاملہ ہوتا ہے ۔زہر کی حقیقت یہ ہے کہ اتنی سرعت پزیر ادویہ ہوتی ہیں جن کی معمولی سا بڑھا ہوا استعمال انسان کے لئے غیر طبعی حالات پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔عام ادویات کے مقابلہ میں یہ بہت تیز اثرات کی حامل ادویہ کو زہر کہا جاسکتا ہے۔اگر موقع مناسبت سے استعمال کیا جائے تو زہر وں میں شمار ادویہ و اجزاء سے اعلی نتائج اخذ کئے جاسکتے ہیں۔زہروں کے گہرے اثرات انسانی جسم میں غیر طبعی علامات کے اظہار کا سبب بنتے ہیں۔یہ اتنے دوررس ہوتے کہ ان کا اثر برسوں بعد تک دیکھنے کو ملتا رہتا ہے۔ایک حدیث مبارکہ ہے نبیﷺ فرمایا کرتے تھے مجھے خیر میں جو زہر دیا گیا تھاوہ مجھے ہر سال تنگ کرتا ہے(صحيح البخاري (جلد6/صفحه 9)64 – كِتَابُ المَغَازِي)

Leave a Reply

Your email address will not be published.