حاملہ کی مناسب خوراک کے بارے میں لاعلمی۔

حاملہ کی مناسب خوراک کے بارے میں لاعلمی۔

حاملہ کی مناسب خوراک کے بارے میں لاعلمی۔1

حاملہ کی مناسب خوراک کے بارے میں لاعلمی۔
حاملہ کی مناسب خوراک کے بارے میں لاعلمی۔

حاملہ کی مناسب خوراک کے بارے میں لاعلمی۔

ناقل
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

سرد اور گرم خوراک کا تصور۔بچوں کو بر وقت حفاظتی ٹیکے نہ لگوانا۔غرض ایک طویل فہرست ہے ہم انفرادیوں کی لاپرواہیوں کی۔ ڈاکٹر رمیزہ کلیم جو کہ فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی لاہور کے شعبہ پریونٹیو پیڈزکی ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ہیں اُن کے مطابق اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے کو غذا اور غذائیت کے بارے میں مفید معلومات فراہم کی جائیں اور ان میں اپنی صحت کا خود خیال رکھنے کا شعور بیدار کیا جائے۔اس تناظر میں سب سے پہلا کام جو کرنے کا ہے وہ یہ ہے کہ ماں بچے کو دو سال تک اپنا دودھ پلائے۔ دو سال کی عمر تک ماں کا دودھ پلانے سے بچے کی نشونما بہتر ہوتی ہے اور وہ صحت مند اور مضبوط ہوتا ہے۔ ماں کا دودھ غذا، تحفظ اور صحت کی ابتدا ہے۔ اس میں وہ تمام اجزاء شامل ہیں جو بچوں کی نشوونما کے لیے ضروری ہیں۔ ماں کے دودھ کا کوئی ثانی نہیں۔
یہ اشرف المخلوقات کے لیے خد اکاخاص تحفہ ہے۔ یہ قدرت کا ہیلتھ پلان ہے جو انسان کو نہ صرف بچپن بلکہ لڑکپن، جوانی اوربڑھاپے کی بیماریوں سے بھی بچاتا ہے۔ دودھ پلانے والی ماؤں میں چھاتی کے کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
ایک ڈاکٹر صاحبہ کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ہمیں یہ شعور اور رہنمائی عام کرنے کی ضرورت ہے کہ پیدائش کے فوراً بعد سے ایک گھنٹے کے اندر اندر بچے کو ماں کا دودھ شروع کروا دیا جائے۔ پیدائش کے ابتدائی گھنٹے میں بچہ ذیادہ چست اور ہوشیار ہوتا ہے اور آسانی سے ماں کا دودھ لے سکتا ہے۔ بچے کے چوسنے کے عمل سے دودھ زیادہ بنتا ہے۔
ماں کا پہلا دودھ (کلوسٹرم) لحمیات، حیاتین اور مدافعتی اجزاء سے بھر پور ہوتا ہے۔ اسمیں وٹامن اے کی کافی مقدار موجود ہوتی ہے۔ یہ بچے کا پہلا حفاظتی ٹیکہ ہے جو بچے کو مختلف بیماریوں سے بچاتا ہے۔ اسے لازماً بچے کو دینا چاہئے۔
ماں کا دودھ شروع کروانے سے پہلے کسی قسم کی خوراک، گھٹی نہ دی جائے۔ اور چھ ماہ کی عمر تک بچوں کو صرف اور صرف ماں کا دودھ دیا جائے۔ اسکے علاوہ کوئی بھی مائع یا ٹھوس چیز قطعاً نہ دی جائے حتی کہ پانی بھی نہیں۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ پانی بچے کے لیے ضروری ہے خاص کر گرمیوں میں، مگر یہ بالکل ضروری نہیں کیونکہ ماں کے دودھ میں 87% پانی ہوتا ہے جو اسکی پانی کی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔
اکثر مائیں صرف اس تصورسے کہ ان کا دودھ بچے کے لیے کافی نہیں ہے اوپری دودھ دینا شروع کر دیتی ہیں اوپری دودھ (جانور یا ڈبے کا) بالکل نہ دیا جائے کیونکہ ماں کے دودھ کے ساتھ ساتھ اگر دوسرا دودھ شروع کروا دیا جائے تو بچہ الجھاؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔
اور اوپری دودھ کے بعد بچہ ماں کا دودھ کم پیئے گا جس سے ماں کا دودھ اور کم ہوجائے گا۔ اوپری دودھ میں پانی کی ملاوٹ سے انفیکشن ہو سکتا ہے جس سے بچے کو دست اور غذائی کمی ہو جاتی ہے۔ دودھ پلانے والی ماں کی خوراک کے حوالے سے ڈاکٹر رمیزہ کلیم کا کہنا ہے۔ کہ ایسی ماؤں کو زیادہ خوراک لینی چاہیے۔
خوراک بڑھانا دودھ پلانے کے لیے ضروری ہے اسکے علاوہ اضافی خوراک سے روز مرہ کے کام کاج میں آسانی رہتی ہے۔ اور ماں کی غذائی صورتحال درست رہتی ہے۔چھ ماہ کی عمر کے بعد بچوں کی خوراک کے بارے میں ڈاکٹرصاحبہ نے بتایاکہ جب بچہ چھ ماہ کی عمر کا ہو جائے تو اُسے ماں کے دودھ کے علاوہ اضافی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ چھ ماہ کی عمر سے اضافی خوراک شروع کروانے سے بچہ غذائی کمی سے محفوظ رہتا ہے۔
بچے کو ایسی اضافی خوراک دی جائے جو بچے کو اُس کی ضرورت کے مطابق توانائی، غذائی اجزاء مثلاً لمحیات، نشاستہ،چکنائی، معدنیات اور حیاتین وغیرہ فراہم کرے۔ اور خوراک بچے کو بھوک اور طلب کے مطابق دی جائے اور کھانا دینے کے اوقات اور کھلانے کا طریقہ بچے کی عمر کے مطابق ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.