جنگ اور امن

جنگ اور امن

جنگ اور امن

جنگ اور امن
جنگ اور امن

جنگ اور امن۔

جنگ اور امن (انگریزی: War and Peace) روسی مصنف لیو ٹالسٹائی کا ایک ناول ہے۔ یہ عالمی ادب کا ایک مرکزی کام اور ٹالسٹائی کی بہترین ادبی کاوشوں میں سے ایک ہے۔[1][2][3] ٹالسٹائی نے اسے 1862ء میں لکھنا شروع کیا تھا جو سات برس میں مکمل ہوا۔ اس ناول میں 300 سے زائد کردار ہیں۔ اپنے وسعت اور پھیلاؤ کے اعتبار سے یہ ایک لافانی تخلیق ہے۔ ناول کا دور 19ویں صدی کے آغاز کے 25 برس ہیں جس میں انتہائی بے باک انداز میں روسی معاشرے کی اخلاقی گراوٹ اور اس کے کھوکھلے پن کو اجاگر کیا گیا ہے، ناول میں نپولین بوناپارٹ کی روس پر جنگ کشی، امن کا وقفہ اور دوبارہ حملہ آور ہونے کے دور کو دلکشی سے پیش کیا گیا ہے۔ اس ناول کا دنیا کی تقریباً ہر اس زبان میں ترجمہ ہوا جس کی اشاعت ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں جہاں جہاں عالمی ادب پڑھایا جاتا ہے، وہاں ٹالسٹائی کا یہ ناول نصاب کا حصہ ہے۔

ایک صاحب لکھتے

کتابوں کی بارگاہ میں

جی سی یونیورسٹی لاہور میں دوران لیکچر ہمارے اردو کے پروفیسر نے کہا کہ اگر آپ نے ٹالسٹائی کا ناول وار اینڈ پیس نہیں پڑھا تو پھر دیگر کتابیں پڑھنا چھوڑ دیں- اس دور میں میرا عالمی ادب بلکہ کسی بھی کلاسیکل فکشن سے آشنائی نہ تھی سو اس بات کو نظر انداز کر دیا لیکن پروفیسر صاحب کی بات ذہن کے کسی گوشے میں رچ بس گئی- ایک ادھ دفعہ خریدنے کا خیال آیا تو کتب خانوں پر اردو ترجمہ دستیاب نہیں تھا لہذا اسے پڑھنے کا ارادہ ترک کر دیا- چند روز قبل معلوم ہوا کہ جنگ اور امن کے نام سے شاہد حمید صاحب کا ترجمہ بیس پچیس سال بعد شائع ہوا ہے اور ایک ہی جلد میں ہے، ذہن کے کسی گوشے میں چھپی پروفیسر صاحب کی بات نے دوبارہ اس خواہش کو جگا دیا اور یوں یہ شاندار ناول آج موصول ہو گیا-
بقول عامر خاکوانی وار اینڈ پیس یا جنگ اور امن ایک طرح سے سمندر ہے۔ اس میں پیراکی کرنا بھی سمندرمیں تیرنے کے برابر ہے۔ اسے پڑھنا ایک شاندار تجربہ ہے۔ فکشن کے درجنوں ناول پڑھنے سے بہتر ہے کہ آدمی دل لگا کر ، پورے انہماک کے ساتھ وار اینڈ پیس (جنگ اور امن)کو پڑھ ڈالے۔ یہ البتہ یاد رہے کہ اس ناول کو پڑھنے کے لئے قاری کے پاس سٹیمنا اور ارتکاز کے ساتھ کچھ وقت بھی ہونا چاہیے۔وار اینڈ پیس دراصل نیپولین کے روس پر حملہ کی روداد ہے۔ نیپولین کو اس حملے میںبہت بری ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس نے ماسکو فتح کر لیا تھا، مگر روسی افواج پیچھے ہٹ گئیں ۔ نیپولین کی فرانسیسی فوج اندر گھستی گئی اور پھرروس کے انتہائی سرد موسم نے انہیں تباہ کر ڈالا۔ نیپولین نے مجبوراًواپسی کی راہ لی، مگر ناسازگار موسم اور راستے میں قازق جنگجوؤں کے چھاپہ مار حملوں نے برا حال کر دیا۔ فرانسیسی فوج کے ساٹھ ستر فیصد حصے کا صفایا ہوگیا۔ شاہد حمید صاحب نے ناول کی ابتدا میں ایک پورا باب اس تاریخی پس منظر پر دیا ہے جسے سمجھ لیا جائے تو ناول کا تمام تر تناظر واضح ہوجاتا ہے۔ روسی شہری تہذیب، زوال زدہ روسی جاگیردار معاشرے کی اندرونی صورتحال، فری میسن سوسائٹیوں کی چکربازیاں، محبت، دشمنی، غیر ضروری انا میں لڑے گئے ڈوئیل ، سرد موسم میں کئے شکار، جنگ کی تباہ کاری ، موت کی سیاہ رت اور پھر زمانہ امن میں بچے کھچے کرداروں کی زندگی پر مبنی یہ ناول دنیا کی عظیم ترین کتب میں شامل ہے-
2022 کے مطالعہ کی فہرست میں یہ پہلا ناول ہے جسے پڑھنا بھی ایک محاذ پر جانے کے مترادف ہے- دوران مطالعہ اس پر مزید بات جاری رہے گی- یاد رہے یہ ایک ضخیم ناول ہے جو ایک ہی نشت میں پڑھنا ممکن نہیں ہے اسے چسکی چسکی پڑھنے سے اس کی اصل روح آپ پر آشکار ہوتی ہے-
عبداللہ

 

کتاب یہاں سے حاصل کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.