جسم میں موجود فاضل مادو ں سے نجات۔۔Salvation from the body in the body.۔الخلاص من الجسم في الجسم.

جسم میں موجود فاضل مادوں سے نجات

جسم میں موجود
فاضل مادوں سے نجات۔

Salvation from the body in the body.

 الخلاص من الجسم في الجسم.

 جسم میں موجود
فاضل مادو ں سے نجات۔


از حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلیٰ:سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ
کاہنہ نو لاہور


یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے خشکی اجزا کو متفرق کردیتی ہے، رطوت اجزا کو جمع رکھتی ہے (فردوس الحکمت 108)ہمارے جسم میں مختلف قسم کے نظام کام کررہے ہیں۔جن کا مقصد ہماری صحت کی بقا اور تندرستی کا قیام ہے اس کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک تعمیری دوسرا تخریبی ۔ تعمیری سے صحت قائم رہتی ہے جب کہ تخریبی سے بیماری پیداہوتی ہے۔اعتدال اسی صورت میں قائم رہ سکتا ہے جب تعمیری مواد جمع رہے اور تخریبی (فاضل) مواد اخراج پاتا رہے۔اخراجی راستوں میں پاخانہ ، پیشاب،پسینہ سانس وغیرہ شامل ہیں۔بعض اوقات ماحولیاتی طور پر بھی ہماری صحت متأثر ہوتی ہے جیسے اے سی (A.C)کا استعمال یا حد سے بڑھی ہوئی گرمی وغیر ہ۔


جسم میں تین قسم کے مادے پائے جاتے ہیں۔

 

بلغم۔سودا۔صفرا۔یہ اخلاط پیدائش کے ساتھ ساتھ اخراج بھی پاتے ہیں۔جس سے صحت قائم رہتی ہے۔اس تقسیم سے ہم فاضل مواد کو آسانی کے ساتھ خارج کرسکتے ہیں۔مثلاََ اعصابی عضلاتی تحریک سے ہم بڑھی ہوئی بلغمی رطوبات کو خارج کرکے صحت مند بن سکتے ہیں۔ عضلاتی غدی تحریک سے سوداوی فضلات کو خارج از جسم کیا جاسکتا ہے۔ صفراوی خلط کو غدی اعصابی تحریک سے خارج کیا جاسکتا ہے مثلاََ جب غدد جازبہ کا نظام تیز ہوکر صفرا کو بڑھا دے جس سے جسم میں تھکن ۔ سستی۔وزن کا بڑھنا ۔خصوصاََ ہاتھ پاؤں اور چہرے پر ہلکے ورم کا ہونا۔چہرے سے ترو تازگی کا جاتے رہنا بدہضمی ۔بھوک میں کمی،سانس لینے میں دشواری جیسی علامات پیدا ہوجائیں خون میں فاضل و غیر ضروری مواد جمع ہونا شروع ہوجائے جس سے آکسیجن کم جذب ہو سانس پھو لے (دم کشی)وغیرہ کا علاج ہم فاضل مادوں کے اخراج سے بسہولت کرسکتے ہیں۔جب فاضل رطوبات خون و اعصا سے خارج ہوتی ہیں تو فطری طور پر اگلے عضو میں کیمیاوی تحریک شروع ہوجاتی ہے۔جب بھی کسی مفرد عضو میں کیمیاوی تحریک شروع ہوتی ہے اس وقت پہلے محرک عضو کی پیداکردہ رطوبت نئے عضو کی خلط میں تبدیل ہوجاتی ہے مثلاََ جگر کی مشینی تحریک کے بعد دماغ کی کیمیاوی تحریک صفراوی رطوبت کو بلغم میں تبدیل کیا کرتی ہے۔اسی طرح دماغ کی مشینی تحریک اعصابی عضلاتی کے بعد قلب کی کیمیاوی تحریک عضلاتی اعصابی ہے جو بلغم و رطوبت کو جذب کرکے سودا میں تبدیل کرتی ہے ۔ باقی کو اسی پر قیاس کرلو۔


کثرت محنت اوراخراجی کیفیت

:
بعض لوگوں میںکثرت محنت کی وجہ سے زیادہ قوت خرچ ہوتی ہے اس لئے ان میں تحلیل بھی زیادہ واقع ہوتی ہے۔ان میں سے جولوگ دماغی محنت زیادہ کرتے ہیں ان کے اعصاب زیادہ کمزور ہوتے ہیں جن کا تعلق دماغ سے ہے۔کچھ لوگ محنت کے تو عادی نہیں ہوتے لیکن بسار خور ہوتے ہیں،ایسے لوگوں کے غدود،گردے کمزور ہوجاتے ہیںجن کا تعلق جگر سے ہوتا ہے اسلئے کہ خوراک کو ہضم کرنے کے لئے جگر و گردوں کو بہت زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے ۔قاعدہ ہے انسانی جسم کو جس قسم کی محنت زیادہ کرنی پڑے اسی قسم کی کمزوری بھی واقع ہوتی ہے اس کمزوری کو رفع نہ کیا جائے تو صحت خراب ہونا شروع ہوجاتی ہے آخر کار انسا ن عاجز آکر مریض بن جاتا ہے۔

 

 انسانی جسم میں غدد کا کردار۔

اطبائے کرام کاکہنا ہے کہ غدد ناقلہ کا مرکز جگر اور غدد جاذبہ کا مرکز طحال ہے۔ان ہر دو غدد کی بناوٹ اور ان کے افزازات ایک دوسرے سے مختلف ہیں ،جسم میں جس قدر بھی غدد جاذبہ و ناقلہ کاجال پھیلا ہوا ہے سب اپنی اپنی جگہ پر مختلف قسم کے افزازات پیدا کررہے ہیں ۔

غدد ناقلہ کا کردار


منہ کے غدد کی رطوبات بلغمی(الکلائن)معدہ کے غدد رطوبات سوداوی(ایسڈک) آنتوں میں غدد کی رطوبات صفراوی(بائل) اسی طرح عورت کی چھاتیوں کی رطوبت (دودھ ) گردوں کے غدد کی رطوبات پیشاب،جنسی غدد کی رطوبات منی،لبلبہ کی انسولین غرض کہ رطوبات کی ایک فوج ظفر موج ہے جو ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔غدد کے کثیر النوع افعال ناقلہ و جاذبہ کی پیچیدہ باتیں اس قدر باریک ہیں کہ انسانی ذہن جتنا سلجھانے کی کوشش کرے گا یہ معاملہ اتناہی الجھتا جائے گا۔قدرت نے جسم کے غذائی جوہر ہارمونز پیدا کر نے والی یہ فیکٹریاں نہایت ہی پیچیدہ بنائی ہیں یہی وجہ ہے کہ ان میں پیدا ہونے والے جواہر اور ہارمونز مصنوعی طریقے سے انہی خصوصیات کے ساتھ بنانے میں انسان بے بس و مجبوراور ناکام نظر آتا ہے۔کون ہے جو اس کی اصل وجہ بتاسکے کہ سبز گھاس کھانے والی بھینس سفید دودھ جو انسانی غذا کا اہم سیال ہے کیونکر پیدا کرتی ہے۔کبھی سوچا ہے گاجر مولی گوشت سلجم وغیرہ کھاکر ہر انسان میں مختلف انداز میں تبدیلیاں کیوں پیدا ہوتی ہیں، کسی میں ایک گروپ کا خون پیدا ہوتاہے تو دوسرے کھانے والا الگ مزاج کی وجہ سے الگ گروپ خون کابناتا ہے، اگر وہی گاجر شلجم کوئی جانور کھائے تو دودھ کیوں بنتاہے؟جب ہم گوشت ،کریلے چنے کھا لیں تو ہمارے یہی غدد بڑی تیزی کے ساتھ صفراوی رطوبات گرانا شروع کردیتے ہیں تاکہ یہ غذائی جسم کا حصہ بن سکیں ۔اسی طرح جب انڈہ،ساگ،خوبانی وغیرہ کھالیتے ہیں تو یہی غدد تیزی کے ساتھ بلغمی رطوبات گرانا شروع کردیتے ہیں،اس کارخانہ قدرت و فطرت پر مکمل عبور حاصل کرنا ابھی تک ممکن نہیں ہوسکا۔


غدد جاذبہ کا کردار

:
اب بے نالی دار غدد یعنی غدد جاذبہ پر غورکریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف جسم کے داخلی نظام ہی کو منظم نہیں کرتے بلکہ نظام اعصاب کو بھی منظم و باقاعدہ رکھنے میں بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔خونی غذائی مترشح رطوبات جوکہ استعمال کے بعد فاضل رہ جاتی ہیں غدد جاذبہ میں جذب ہوکر کیمیاوی تبدیلی کے ذریعہ ترشی میں تبدیل ہوکر دل و عضلات کو تیز کردیتی ہیں۔جگر بھی غدد جاذبہ کی معاونت کے بغیر جسم اوروجود کے لئے غذائی عناصر و جواہر پوری طرح تیار نہیں کرسکتا۔ان تینوں نکات سے ثابت ہوتا ہے کہ غدد جاذبہ ہر سہ اعضائے رئیسہ کی معاونت کرتے دکھائی دیتے ہیں اس لئے اطبائے کرام نے اس کا نام عضوئے رئیسہ رکھاہے ۔غدد جاذبہ کے افعال ٹھیک رہیں یعنی طحال ٹھیک انداز میں کام کرتی رہے تو سہ اعضائے رئیسہ اپنے اپنے افعال بھی ٹھیک طرح کام کرتے ہیں ۔اگر طحال میں خرابی آجائے تو ان کے افعال بھی درست نہیں رہ سکتے ۔طحال کا جسم میں خاص کردار ہے اگر سہ اعضاء میں سے کسی ایک میں بھی بے اعتدالی پیدا ہوجائے توطحال بھی متأثرہوئے بغیر نہیں رہتی،طحال انسانی وجود میں اہم کردار کی حامل ہوتی ہے۔


انسانی جسم میں طحال کا کردار

:
طحال کاکام بالواسطہ ،بلاواسطہ ان سہ اعضائے رئیسہ کی معاونت ہے۔کھاری رطوبات کو جذب کرکے ان میں ترشی کے اثرات پیدا کرتے وقت یہ اعصاب کی معاونت کرتی ہے خون کے سرخ و سفید ذرات کی پیدائش اور جسم کے کیمیاوی عوامل میں معاونت کرتی ہے جسم کے خلیات سے بچنے والی خونی رطوبات کو اپنی کیمیاوی عمل سے دل کی طرف بھیج کر تحریک قلب کا سبب بنتی ہے ۔معدہ پر رطوبات گراکر بھوک کی پیدائش کا سبب بنتی ہے ،گویا جسم کے اندر پیدا ہونے والی تبدیلیوں میں طحال کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔غدد ناقلہ جن رطوبات کو گراتے ہیں غدد جاذبہ ان کو جذب کرکے پھر سے خون میں شامل کردیتی ہیں ،گویا غدد جاذبہ و ناقلہ کا باہمی مضبوط تعلق ہے اگر ان میں سے ایک بھی اعتدال سے ہٹ جائے تو انسانی صحت کا بگاڑ یقینی ہے، طحال غدد جاذبہ سے جذب شدہ رطوبت کو خمیر کے ذریعہ پختہ کرتی ہے ،طحال پرانے اور ناکارہ سرخ دانہ ہائے خون کو ضائع کرنے کا فرض سرانجام دیتی ہے طحال نئے دانہ ہائے سرخ بناتی ہے۔طحال نئے دانہ ہائے سفید بھی بناتی ہے،طحال ایسا مواد تیار کرتی ہے جو خون میں غلظت و ترشی پیدا کرتا ہے۔طحال خون میں فولاد و چونا پیدا کرتی ہے،خون کو طاقت دیتی ہے جو خون کے دباؤ کے سلسلہ میں مدد کرتی ہے۔دیگر غدد جاذبہ جیسے لبلبہ وغیرہ کے افعال میں مدد دیتی ہے۔طحال فاضل رطوبات مترشحہ بدن کو صاف کرکے خمیر و تعفن کا خاتمہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔


ہاضمہ کا اصول:

ہضم ہونا، محض کیمیکل یا فزیکل عمل نہیں بلکہ فزیالوجیکل بھی ہے جب غذا جسم کے اندر داخل ہوتی ہے تو جزو بدن بننے سے پہلے متعدد تبدیلیوں سے گزرتی ہے لیکن جسمانی نظام اس وقت تک اسے جذب اور مختلف اعضاء کے زیر استعمال نہیں لاسکتا جب تک یہ ایلیمنٹری کینال میں جاکر ہضم نہ ہوجائے اور فاضل مادہ جو جسم کا حصہ بننے کے قابل نہیں ہوتا خارج نہ ہوجائے۔
ہاضمے کے کیمیاوی حصے کو مختلف رطوبتوں اور خمیروں کا ایک سلسلہ پائے تکمیل تک پہنچاتا ہے یہ رطوبتیں خود کو باری باری القلیوں اور تیزابوں میں تبدیل کرتی رہتی ہیں، ان کے کردار کا تعین ان کے اندر موجود انزائمز کی ضروریات کرتی ہیں ،یہ انزائمز اپنے موافق تیزابی اور الاکلائن میڈیم میں سرگرم عمل رہتے ہیںلیکن غیر موافق میڈیم میں تباہ ہوجاتے ہیں۔مثلاََ منہ کا لعابی انزائم صرف الکلائن میڈیم میں فعال کردار ادا کرسکتاہے، تیزابی میڈیم میں خواہ کتناہی ہلکا تیزاب کیوں نہ ہو تباہ ہوجاتا ہے۔معدے کا انزائم جو پروٹین کو ہضم کرنے کے عمل کا آغاز کرتا ہے،صرف ایسڈ میڈیم میں فعال رہتا ہے اور الکلیاں اسے تباہ و برباد کردیتی ہیں ۔

فاضل مواد کے اخراج کی تحریکیں۔

تینوں قسم کے فاضل مادوں کے اخراج کے لئے نسخہ جات تحریر کئے جارہے ہیں تاکہ ضرورت مند انہیں کام میں لاکر دعائیں دیں۔
(1)سوداوی فضلات کے اخراج کے لئے۔ہوالشافی۔مصبر۔تمے کا گودا۔حرمل، برابر وزن لیکر گولیاں بنا لیں(عضلاتی غدی ہے)قبض کشا۔ملین و مسہل تاثیر رکھتا ہے انتڑ یوں کی متعفن رطوبات کے خارج اورختم کرنے کا مفید نسخہ ہے۔محرک قلب ہونے کی وجہ سے دل کی گھبراہٹ دور کرتاہے۔پیٹ کے کیڑوں بالخصوص کیچوؤں کو مار کر خارج کرتا ہے۔
(2)صفراوی فضلات کو خارج کرنے کا نسخہ۔ہوالشافی،سنڈھ ایک تولہ۔نوشادر ایک تولہ مرچ سیاہ ایک تولہ۔سنا مکی3تولے۔عصارہ ریوند2تولے۔چنے برابر گولیاں تیار کر لیں دن میں تین بار پانی کے ساتھ دیں(غدی اعصابی مسہل ہے)جگر کو مشینی تحریک دیتا ہے فاضل صفرا کو خارج کرتا ہے، اگر مزید تیزی چاہیں تو عصارہ کو4تولے کردیں۔
(3)بلغمی فضلات کو خارج کرنے کے لئے(عرق بزوری)ہوالشافی۔ سونف 100g ، جڑ سونف200g،کاسنی100gجڑکاسنی200gمکو100g چہار مغز100g،بارہ کلو پانی میں ڈال کر چھ بوتل عرق نکالیں،جب پیاس لگے تو اکیلا عرق یا سادہ پانی میں ملاکر پلائیں ایک بوتل دودن میں ختم کردیں،خون سے صفرا خارج ہوکر جلن قارورہ ختم کرتا ہے سلسل بول جیسی مرضوں کو ختم اور استسقا کے لئے نافع ہے،اعصابی عضلاتی ہے۔شربت بزوری کا بدل،اس میں میٹھا نہیں ہے اس لئے شوگر کے مریض بھی کام میں لاسکتے ہیں۔

تمام تحریکوں کے مؤثر ترین نسخہ جات۔
(1)

عضلاتی اعصابی نسخہ۔ہوالشافی:ہلیلہ سیاہ12حصے۔برگ کیکر12حصے ۔ افیون ایک حصہ۔کابلی چنا کے مطابق گولیاں بنا لیں ایک گولی دن میں تین بار ہمراہ قہوہ ۔ تمام اعصا بی عضلاتی علامات کے لئے مؤثر ترین ہے
(2)عضلاتی غدی نسخہ: ۔ہوالشافی: حرمل 2حصے حنظل2حصے۔مرچ سرخ2 حصے ۔ کشتہ کچلہ 1حصہ ۔منقی2حصے ۔ حبوب بقدر نخود بنا لیں ہمراہ قہوہ۔ایک ایک گولی دن میں چار بار عضلاتی غدی مقوی ہے عضلاتی اعصابی علامات کے لئے لاجواب ہے
(3)غدی عضلاتی۔ ہوالشافی:مرچ سرخ ۔گندھک آملہ سار ، اجوائن دیسی،تارا میرا ہر ایک ہموزن۔حبوب نخودی تیار کرلیں ایک ایک گولی دن چار بار گرم پانی کے ساتھ (4)غدی اعصابی۔ہوالشافی:ریوند خطائی ۔نوشادر۔ریوند عصار ہ ہموزن لیکر حبوب نخودی تیار کرلیں۔پانی کے ساتھ دن میں چار بار ایک ایک گولی
(5)اعصابی غدی۔ہوالشافی:قلمی شورہ۔ہلدی۔پوست ریٹھہ۔حبوب بقدر نخود بنالیں ۔ ایک ایک گولی دن میں چار بار
(6)اعصابی عضلاتی۔ہوالشافی۔قلمی شورہ۔کشنیز خشک جوکھار۔الائچی خورد سفوف کرکے محفوظ کرلیں دو دو ماشہ دن میں چار بار کچی لسی سے۔

بدن سے فضلات خارج کرنے والے مفرد اعضا۔۔

بدن سے فضلات کو خارج کرنے والے اعضا،جگر گردے، مثانہ، پستان ،رحم مقعد، مسامات ہوتے ہیں،جگر فاضل صفرا کو پتہ کے ذریعہ خارج کرتار ہتا ہے ،گردے پیشاب بنا کر براہ مثانہ فضلات کو خارج کرتے ہیں۔پستان دودھ بنا کر خارج کرتے ہیں تورحم حیض (ماہورای)کے ذریعہ اخراج کرتا ہے۔مقعد پاخانہ اور مسامات پسینہ کے ذریعہ فضلا ت کو خارج کرتے ہیں۔اگر یہ سب نظامات اپنی اپنی جگہ درست انداز میں کام کرتے رہیں تو صحت قابل رشک رہتی ہے جسم پرسکون رہتا ہے۔اگر بدقسمتی سے غدد جاذبہ یا غدد ناقلہ میں گڑ بڑ پیدا ہوجائے تو افعال بھی غیر طبعی ہوجائیں گے۔جنہیں ہم امراض و علامات کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

 

One thought on “جسم میں موجود فاضل مادوں سے نجات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *