جادو اور جنات کاطبی علاج

 

امام ذہبی لکھتے ہیں:طب علمی و علمی دو طورپر دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہے۔علمی طب میں چار باتوں کا جاننا ضروری ہوتاہے۔(1) امور طبعیہ کے بارہ میں آگاہی (2) بدن کے بارہ میں پوری معلومات کہ انسانی بدن کس حال میں ہونا چاہئے۔(3)اسباب امراض کے بارہ میں معلومات حاصل کرنا(4) اگر مرض لگ جائے تو اس کی علامات کیا ہوتی ہیں؟(الطب النبوی للذہبی 1/21)جادو اور جنات کے بارہ میں بہت کچھ لکھا گیا ۔راقم الحروف کی بھی کئی کتب اس موضوع پر موجود ہیں۔ علاج و معالجہ کے میدان خار زار میں راقم الحروف کو تین دہائیوں کی آبلہ پائی کا تجربہ ہے۔عملی زندگی میں بے شمار مریضوں سے واسطہ پڑا ۔کامیابیاں و ناکامیاں ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کامیابیوں سے زیادہ مجھے ناکامیوں نے تجربہ دیا،کامیابی تو وقتی خوشی دیکر رخصت ہوجاتی ہے جس سے میری صلاحیتوں کو کوئی خاص فائد ہ نہیں پہنچتا لیکن ناکامی یا پھر مطلوبہ نتائج کے نہ ملنے کی وجہ سے مجھے جس کدو کاوش کا سامان کرنا پڑا اس تلخی کےبعد جو لذت ملی اس کی شیرنی ہر وقت من میں مٹھاس گھولتی ہے۔

آج مجھے اعتراف ہے جن چیزوں کو لوگوں نے ناکامی کہا وہی میری کامیابی کا زینہ ثابت ہوئیں۔جہاں مجھے کسی نے راحت و آشائش مہیا کی اس کی وقتی لذت نے مجھے ناکارہ بنایا۔جہاں مجھے مشق اور کاوش کی لاٹھی چلانا پڑی وہ میدان میرے کے لئے آسان بن گیا۔جہاں لوگوں کے ہاتھ پائوں پھول جاتے ہیں علاج و معالجہ میں میرے لئے وہ معمولی بات اور روزہ مرہ کی مشق ٹہرے۔جادو و جنات وغیرہ کو عاملین اور سطحی قسم کے لوگوں نے اس قدر خوفناک انداز میں پیش کیا ہے کہ معاشرہ کا ہر فرد ان کے نام سے سہما ہوا ہے۔جو بھی اپنے امور کی انجام دہی میں رکاوٹ محسوس کرتا ہے ۔یا اپنی ناتجربہ کاری اور کاہلی کی وجہ سے ہونے والے نقصان کو جادو جنات کا کیا دھرا قرار دیتا ہے۔ہر گھر میں اور کاروبارہی ادارہ میں اگر 10افراد ہیں تو محتاط اندازے کے مطابق 8 لوگ وہم میں مبتلاء ہیں۔عملیات ایک ایسا شعبہ ہے یا منافع بخش کاروبار ہے جس میں خرچ کچھ نہیں آمدن کا حساب نہیں۔اس میدان میں ہر طبقہ و مسلک و مذہب کے لوگ اپنی فنکاری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ان میں دنیا دار بھی ہیں جن کا مطمح نظر ہی روپیہ پیسہ اور پیٹ کے آتش سوزاں کو بجھا نا ہوتا ہے ۔

دوسرا طبقہ وہ ہے جو مذہبی قبا میں مسطور ہے۔جن سے لوگ صرف اس بنیاد پر رجوع کرتے ہیں کہ یہ ہمارے مسلک یا مذہب کا بندہ ہے،کم از کم ہمیں سیدھی راہ ضرور دکھائے گا۔ہم سے جھوٹ نہیں بولے گا؟ لیکن تجربہ کرنے پر ان کی غلط فہمی دور ہو جا تی ہے کہ ان میں اور دنیادار عاملین میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔اس تلخ تجربے کے بعد ان کی مسلکی عقیدت بھی ہرن ہوجاتی ہے وہ اس قدر بدظن ہوجا تے ہیں کہ نماز روزے میں بھی دلچسپی ختم کر بیٹھتے ہیں۔

قران کریم انسانی فہم کے مطابق مخاطب کرتا ہے۔۔انسان جب ہر طرف سے لاچار و مجبور ہوجاتا ہے تو دم جھاڑے کا سہارا لیتا ہے اور عملیات سے اس قدر پر امید ہے کہ بس چلے تو موت کو بھی پیچھے دھکیل دے ۔ سورہ قیامہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔كَلَّآ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ    26؀ۙوَقِيْلَ مَنْ ۫رَاقٍ   27؀ۙ خوب سمجھ لو کہ جب ہنسلی تک جان پہنچے گی ۔ اور کہا جائے گا ہے کوئی، جھاڑ پھونک کرنے والا۔ان آیات کا بغور مطالعہ کریں تو ہمیں عملیات پر انسانی نفسیات کی گہرائی کا اندازہ ہوجائے گا۔حدیث مبارکہ میں جو دعائیں بیماروں کے بارہ میں کتب احادیث میں وارد ہوئی ہیں ان میں بھی تعلیم دی گئی ہے کہ تم بیمار کے پاس جاکریہ کہو ۔۔یہ دعا کرو وغیرہ ۔آخر میں بتادیا کہ اس سے موت تو نہیں ٹل سکتی البتہ مریض کے لئے حوصلہ افزا الفاظ راحت کا سبب بن سکتے ہیں۔

ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب تم مریض کے پاس جاؤ، تو اسے لمبی عمر کی امید دلاؤ، اس لیے کہ ایسا کہنے سے تقدیر نہیں پلٹتی، لیکن بیمار کا دل خوش ہوتا ہے “۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطب ٣٥ (٠٨٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٢٩٢)

راقم الحروف نے معالجاتی زندگی میں بہت سے ماہرین عاملین کاملین کے در کی چوکھٹ تھامی۔بہت سے خوشبو میں بھبکتے ہوئے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔عربی فارسی ،اردو پنجابی زبان میں لکھی گئی فن عملیات کی کتابوں کا مطالعہ کیا۔اس دوران ایک تجربہ یہ بھی ہوا کہ جو کتاب مستعار مانگ کر لے گیا اس نے کبھی واپس نہ کی حکمت و عملیات کے موضوع پر جس قدر کتابیں چوری ہوئیں ان کا شمار اس وقت ذہن میں نہیں آسکتا،مجھے ایک ساتھی نے حضرت علامہ محمد یوسف نبوری ؒ سے منسوب قول سنایا،کہ بیوقوف ہے وہ جو اپنی کتاب کسی کو مستعار دے،اور اس سے بڑا بیوقوف وہ ہے جو اسے واپس کرے۔ ہمارے شیخ محترم امام اہل سنت حضرت مولاناشیخ الحدیث محمد سرفراز خان صفدررحمہ اللہ نے بخاری شریف کے سبق کے دوران از راہ تفنن فرمایاتھا” عمومی طورپرمولوی پیسوں کی نہیں کتاب کی چوری کرتا ہے ۔

ایک ایک عمل کے لئے دور دراز طویل اسفار کئے ۔ ایک ایک عمل کی بھاری قیمت ادا کی۔جس نے جو بھی بتایا تسبیح لیکر بیٹھ گئے۔بھوک پیاس کی پروا کی نہ بھوک پیاس کا خیال آیا ۔وظیفہ پڑھنے کی جت گئے،جس طرح یہ یاد نہیں کہ تیس سالہ عملیاتی زندگی کتنے مریضوں سے واسطہ پڑا؟ اسی طرح یہ بھی یاد نہیں کہ کتنے چلے وظائف کئے۔یہ سطور میرے تیس سالہ تجربہ پر مبنی ہے۔یادداشتیں ہیں تلخ تجربات ہیں۔خود ساختہ نسخہ جات ہیں۔ضروری نہیں کہ آپ بھی میرے محسوسات سے اتفاق کریں۔ میں نے جو محسوس کیا لکھ دیا۔تبصرہ کرنے والاخود مختار ہے جو چاہے رائے قائم کرے۔اپنے جذبات کے اظہار سے کوئی چیز مانع نہیں ہے

اس تحریر میں کئی باتیں ایسی بھی آگئی ہیں جو میں اپنی دوسری کتب میں ضمناََتحریر کرچکاہوں۔موقع مناسبت سے ذاتی مشاہدات بھی ملیں گے۔اس تحریر سے وحشت نہ کھائیں کچھ باتیں عملیاتی دنیا میں مسلمہ اصولوں کے خلاف بھی ملیں گی۔اس میں عملیاتی کتب میں لکھے ہوئے نظریات۔قواعد۔اصولوں سے انحراف بھی ملے گا ۔کیونکہ مشاہدات نے ان مسلمات کو غلط ثابت کردیا ہے،جولوگ عملیاتی کتب کو صحائف آسمانی تصور کرتے ہیں ان کے لکھے ہوئے اعمال کو تحریر کے مطابق دیکھنے کے خواہش مند ہیں ان کی آزرو کم از کم اس زندگی میں تو ممکن نہیں۔عملیات کی دنیا حقائق کے بجائے حکایت سے زیادہ تعلق رکھتی ہے۔اس دنیا میں سب سے موثر ترین عمل عقیدت ہے۔جس سے بھی قائم ہوئی اس کے اعمال تیر بہدف ۔جس سے اختلاف ہوا اس کے مجربات بھی ردی کی ٹوکری میں ۔ کوشش کرونگا کہ اس تحریر کو کم سے کم صفحات میں سمیٹ دوں کیونکہ مصروفیت کے دور میں مطالعہ سے زیادہ ہم ریڈی میٹ کے عاد ی ہوچکے ہیں۔معاشرہ کا عام چلن ہے کہ پیسے دو مطلب کی چیز خرید لو۔اسی طرح لوگ آج کے دور میں چلے/وظیفوں سے زیادہ اس بات کے متمنی دکھائی دیتے ہیں کہ کسی مجرب عمل کی اجازت مل جائے۔اس کے بعد کچھ کرنا بھی نہ پڑے، ہمارے سارے کام بیٹھے بٹھائے ہوتے رہیں۔شب و روز ایسے سائلین سے واسطہ پڑتا ہے جو ایک تسبیح دورود شریف یا استغفار کی نہیں کرسکتے، ہاں معاوضہ منہ مانگا دینے پر ہمہ وقت آمادہ رہتے ہیں۔عمومی طورپر عاملین سے رجوع کرنے والے لوگ جو توقعات رکھتے ہیں یا جو تعویذات و عملیات عاملین سائلین کے لئے تجویز کرتے ہیں عاملین کا خود ان پر یقین نہیں ہو تا۔ کتب عملیات کی عبارات کو حتمی اور غیر متزلزل سمجھا جاتا ہے، اختلاف کرنے والے کو معطون کیا جاتا ہے۔اس موضوع پر بات چیت میں ایسی محیر العقول باتیں سننے کو ملتی ہیں جن کا مادی دنیا میں امکان نہیں ہو تا

امام ذہبی اپنی کتاب الطب النبوی میںلکھتےہیں:حیوانات کا مزاج اعتدال انسان کے مطابق ہونا چاہئے۔اور عام انسان کا مزاج مومن کے مزاج سے میل کھانا چاہئے۔مومنین کا مزاج انبیاء سے میل رکھتا ہے۔اور انبیاء کامزاج رسولوں کے مناسب ہوتاہے۔رسولوں کا مزاج مزاج اول ہے جس پر اولالعزم پیدا ہوئے اور اولعزم انبیاء کا مزاج سیدنامحمد رسول اللہﷺ کے مزاج کے مطابق ہوتا ہے(الطب النبوی للذہبی1/21)

ا

Leave a Reply

Your email address will not be published.