تعوذ اور دعا میں فرق۔

تعوذ اور دعا میں فرق۔

تعوذ اور دعا میں فرق

تحریر

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

دعا و تعوذ دونوں مین ہی بارگاہ ایزدی مین التجاء کی جاتی ہے۔گڑ گڑایا جاتا ہے۔عومی طور پر انسانی ذہن میں دعا کا معنی کوئی بھی حاجت مانگنا ہوتا ہے اس کی بے شمار اقسام و دعائیں موجود ہیں۔ قران کریم نے انسانی نفسیات کچھ اس انداز میں بیان کی ہے۔
{ وَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَنْ لَمْ يَدْعُنَا إِلَى ضُرٍّ مَسَّهُ كَذَلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (12) } [يونس]
اس کے برعکس تعوذ عمومی طورپر خوف اور کس خطرہ کے پیش نظر کیا جاتاہے۔وہ خوف کسی صورت کسی وقت اور کسی قسم کا بھی ہوسکتا ہے۔تعوذات انسان کے لئے سامان راحت فراہم کرتے ہیں۔امید دلاتے ہیں۔تحفط کا احساس دلاتے ہیں۔احادیث مبارکہ میں کئی قسم کے تعوذات موجود ہیں مختلف مواقع اور حاجات کے متعلق تعوذات موجود ہیں۔خوش قسمتی سے یہ تمام تعوذات ہم تک معتبر ذرائع اور محفوظ ہاتھوں کے توسط سے پہنچے ہیں۔

 

دم جھاڑا

عاملین اور دم جھاڑا سے متعلق لوگوں بے شمار قسم کے حصارات لکھے ہیں صوفیاء کرام کی کتب اس قسم کی باتوں سے بھری ہوئی ہیں۔لیکن ان کی حیثیت ذاتی مسموعات و مشاہدات ہیں،ضروری نہیں کہ ہر دیکھنے والے کی وہی کیفیت ہو جو لکھنے والے یا نقل کرنے والے کی تھی۔عملیات میں زیادہ تراعمال عقیدت کی بنیاد پر کئے جاتے ہیں ، جہاں اعمال سے زیادہ عقیدت کام کرتی ہے۔ان دیکھی چیزوں کے اثرات کی کوئی سند تو موجود نہیں ہوتی صرف بتانے والی عقیدت ہوتی ہے یا اس کے محسوسات ہوتے ہیں،یااس کا وہم ہوتا ہے۔جب کہ مسنون دعائیں اور تعوذات ان نقصائص سے مبرا و پاک ہوتے ہیں۔اگر بتائے ہوئے اثرات رونما نہیں ہوئے تو اپنے ایمان و ادائوں پر غور کرنا چاہئے۔جب انسان سراپا اطاعت بن جاتا ہے تو دعائیں تو رہیں ایک طرف ان کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ بھی تیر بہدف بن جاتے ہیں۔حدیث مبارکہ میں اس کی شان ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔
فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لأَبَرَّهُ۔(صحيح البخاري (3/ 186)اللؤلؤ والمرجان فيما اتفق عليه الشيخان (2/ 181)

نیک بندے

اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہوتے ہیں اگر کسی بات پر اللہ کی قسم اٹھالیں تو اللہ ان کی قسم پوری کردیتا ہے۔۔یہ ایمان کا بہت اونچا درجہ ہے۔عمومی طورپر قانون قدرت ہے کہ مانگنے والے کسی بھی مذہب و نسل و ملک سے تعلق رکھتے ہوں ان کی کوئی بھی زبان ہو۔یا بولنے سے بھی معذور ہوں۔جب وہ سراپا تصویر عجز بن جائیں گے تو ان کی داد رسی کرنا۔یا اس کے اسباب پیدا کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں ہم نے بہت دعائیں مانگیں ۔بہت چلے وطائف کئے،لیکن حاجت برآوری کی کوئی سبیل پیدا نہ ہوسکی۔دراصل مانگنے والے مانگنے میں وہ انہماک پیدا نہ کرسکے جو قبولیت کے درکار تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.