تصورات کی مشق کا اصول۔

تصورات کی مشق کا اصول۔

تصورات کی مشق کا اصول۔
تصورات کی مشق کا اصول۔

 

تصورات کی مشق کا اصول۔

 

حکیم المیوات۔قاری محمد یونس شاہد میو

تصورات کی مشق کا اصول یہ بھی ہے کہ ہمارا ذہن تصویروں میں سوچتا ہے۔ جب ہم تصورات کی مدد سے خود کو منزل پر بیٹھا دیکھتے ہیں تو ہمارا قدیم انسانی دماغ اسے دیکھ لیتا ہے اور پھر لاشعور کی مدد سے اسے پالیتا ہے۔ ہمارا ذ ہین عجیب طریقے کرتا ہے، جس چیز کو دیا ہم سمجھتاہے اسی چیز کی کارکردگی زیادہ بہتر ہو جاتی ہے اور نتیجے بھی جلد ملتے ہیں. آپ اس مشق میں اپنے دائرہ عمل (اپنے کام، بیشتر با شوق) سے تعلق زیادہ توجہ دیں۔ تصور کی مشق کے ذریعے سے اپنے شغل میں سے اپنے ڈرو جھک کو دور کریں، پھر آپ کی رفتار اس میں بہت تیز ہو جائے گی. پہلے زیادہ اہم چیزوں سے متعلق یہ مشقیں کر یں اپنی دعا وغیرہ کے قبول نہ ہونے سے متعلق بھی اپنے ڈرو جھک کو اسی طرح دور کریں۔ اگر آپ اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چل رہے ہیں تو اللہ آپ کی کیوں نہیں سنے گا۔؟ اس میں اگر آپ کو شک ہے کہ آپ گناہ گار ہیں اس لیے آپ کی دعا قبول نہیں ہوتی ، تو یاد رکھیں گناہ یا غلطیاں ہر انسان سے ہوتی رہتی ہیں، ان کی معافی مانگیں اور توبہ کریں. ایک بار پھر دھراتا چلوں کہ کوئی بھی تصورات کی مشق اسی صورت میں فائدے دے گی اگر آپ خود کو اس مطلوبہ چیز کے پانے کے قابل سمجھتے ہیں اگر آپ خود کو اس قابل نہیں مجھے تو بہتر ہے کی مشقیں ابھی ملتوی کر دیں۔یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ سب مشقیں کرتے وقت آنکھیں بند کر کے یہ تصور کیا جاتا ہے انہیں سکون کے ساتھ اور بغیر کسی ڈر کے کرنا ہے۔
نوٹ : انسان تصورات کی مشق کے بغیر بھی کامیابی حاصل کر سکتا ہے مگر اس مشق کی وجہ سے انسانی ذہن یکسو Focus بھی ہو جاتا ہے اور کامیابی بھی آسانی کے ساتھ مل جاتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.