تحقیقات امراض

تحقیقات امراض
تحقیقات امراض

تحقیقات امراض
از:مجدد الطب

پیش کردہ:حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

تحقیقات امراض:

امراض کی تحقیقات کوذہن نشین کرنے کیلئے اس رازکوسمجھ لیں کہ دوران خون دل (عضلات) سے شروع ہوکرجگر(غدد)اور دماغ(اعصاب) اور طحال (غددجاذبہ)میں گزرتے ہوئے دل(عضلات)کی طرف واپس لوٹتاہواجسم کے کسی حصہ کے مجری مفرداعضاء (Tissues)میں افراط وتفریط اورتحلیل پیداکردیتاہے۔بس وہی مرض پیداہوتاہے اور اس کی علامات انہی مفرد اعضاءانسجہ(Tissues)کی وساطت سے تمام جسم میں ظاہر ہوتی ہیں اور خون میں بھی کیمیائی طورپروہی تغیر ہوتے ہیں ۔انہی مشینی اور کیمیائی علامات کودیکھ کرتشخیص مرض کیا جاتا ہے اور پھرجس مفردعضو، نسیجTissue) ) میں سکون ہوتاہے اس کوتیزکردینے سے فوراًصحت ہوناشروع ہوجاتی ہے۔

جسم انسانی کی بالمفرداعضاء تقسیم:

امرا ض تقسیم کیلئے نبض وقارورہ اور براز دیکھنے کافی ہیں۔ایک قابل معالج ان کی مددسے مریض کے جسم میں جو کیفیاتی ،خلطی اور کیمیائی تبدیلیاں ہوتی ہیں مفرداعضاء،انسجہ۔Tissues))کے افعال کی خرابی کوسمجھ سکتاہے اور ان کے علاوہ دیگررطوبات جسم جن کاذکرنزلہ کے بیان میں کیاگیاہے کے افعال کوسمجھ کر امراض کا تعین کرسکتاہے مگرہم نیززیادہ سہولت اور آسانی کی خاطرجسم انسانی کوچھ حصوں میں تقسیم کردیاہے تاکہ مریض اپنے حصہ پرہاتھ رکھے معالج فوراًمتعلقہ مفرداعضاء کی خرابیوں کوجان جائے اور اپناعلاج یقین کے ساتھ کرے تاکہ قدرت کی قوتوں کے تحت فطری طورپرشرطیہ آرام ہوجائے۔

یادرکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی فطرت نہیں بدلتی۔انسان کافرض ہے کہ وہ فطرت اللہ کا صحیح علم رکھے تاکہ نتیجہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق نکلے۔اللہ تعالیٰ کی اسی فطرت کے مطابق علاج کانام شرطیہ طریقِ علاج ہے۔قرآن حکیم نے کئی بارتاکیدکی ہے۔

لن تجدلسنت اللہ تبدیلا۔
بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے نظامِ فطرت میں ہرگزہرگزتبدیلی نہیں آتی۔جیسے آگ اپنی فطرت حرارت سے جدانہیں اور پانی اپنی برودت سے الگ نہیں ۔

جانناچاہیے کہ ہم نے انسان کوسرسے پاؤں تک دوحصوں میں تقسیم کردیاہے۔پھرہرحصے کو تین تین مقاموںمیں تقیسم کردیاہے۔اس طرح چھ مقام بن جاتے ہیں۔اس طرح ان میں سے جس مقام پرکوئی تکلیف ہوگی اور ایک ہی قسم کے مفرداعضاء انسجہ (Tissues)کے تحت ہوگی اور ان کا علاج بھی ایک ہی قسم کی مشینی اور کیمیائی تبدیلی سے کیاجاسکتاہے۔یہ فطرت کا ایک عظیم راز ہے۔

جسم انسان کے دو حصوں کی تقسیم اس طرح کی گئی ہے کہ سر کے درمیان میں جہاں پرمانگ نکلتی ہے وہاں سے ایک سیدھی فرضی لکیر لے کربالکل ناک کے اوپرسے سیدھی منہ وتھوڑی اور سینہ وپیٹ سے گزرتی ہوئی مقعدکی لکیرتک پہنچ جاتی ہے۔اسی طرح پشت کی طرف سے ریڑھ کی ہڈی پرسے گزرتی ہوئی پہلی لکیر سے مل جاتی ہے۔اس طرح انسان کے دوحصے ہوجاتے ہیں۔

یہ تقسیم اس لئے کی گئی ہے کہ سالہاسال کے تجربات نے بتایاہے کہ قدرت نے جسم انسان کواس طرح بنایا ہے کہ وہ بیک وقت تمام جسم کوکسی مرض کے نقصان پہنچنے سے روکتی ہے بلکہ کسی ایک حصہ جسم میں تحریک سے تکلیف ہورہی ہوتی ہے۔کسی دوسرے حصہ میں تقویت (ابتدائی تحلیل اور کسی تیسرے حصہ میں تسکین )رطوبت غذائیت پہنچا رہی ہوتی ہیں اوریہ کوشش اسی لئے جاری رہتی ہے کہ انسان کوتکلیف اور مرض سے اسی طاقت کے مطابق بچایاجائے اوریہ کوشش اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک کوئی جسم بالکل بے کاراور ناکارہ ہوکردوسروں سے تعلق نہ توڑ دے اورموت واقع ہوجائے مثلاً اگرجگراور غددکے فعل میں تیزی اور تحریک ہوتودورانِ خون دل وعضلات کی طرف جاکراس کی پوری حفاظت کرتاہے اور دماغ و اعصاب کی طرف رطوبت اورسکون پیداکردیتاہے تاکہ تمام جسم صرف جگروغددکی بے چینی سے محفوظ رہے اور قوتیں اس کامقابلہ کرسکیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص ربوبیت اور رحمت ہے۔

مرض کی ابتداہمیشہ ایک طرف ہوتی ہے:

اسی طرح جسم انسان کے دائیں یابائیں حصے میں کوئی تکلیف یامرض ہوتو طبیعت مدبرہ بدن دوسرے حصے کومحفوظ رکھتی ہے۔اور یہ اوپروالے طب مفرداعضاء کے تحت ہوتاہے مثلاً دردسر کبھی دائیں طرف ہوتاہے اورکبھی بائیں طرف ہوتاہے۔ کبھی سرکی پچھلی جانب ہوتاہے اورکبھی پھیل کرسارے سر میں ہوتاہے۔اسی طرح کبھی دائیں آنکھ میں کوئی تکلیف ہوتی ہے اورکبھی بائیں آنکھ میں۔ پھردونوں میں پھیل جاتی ہے لیکن کمی بیشی ضرورقائم رہتی ہے۔اسی طرح ناک میں کبھی دائیں طرف مرض ہوتاہے اور کبھی بائیں طرف مرض ظاہرہوتا ہے۔اور بہت کم دونوں میں ایک سی حالت ہوتی ہے۔یہی صورت کانوں،دانتوں اورمنہ کے باقی حصوں کی ہوتی ہے۔اسی صورت کواگرپھیلاتے جائیں توصاف پتہ چلتاہے کہ گردن کے دونوں طرف دونوں شانوں ،دونوں بازوؤں،سینہ اورمعدہ وامعاء کے ساتھ ساتھ جگروطحال اوردونوں گردے یہاں تک کہ مثانہ وخصیے اور دونوں ٹانگیں اپنی اپنی تکالیف میں جداجداصورتیں رکھتی ہیں۔یہ تقریباً ناممکن ہے کہ دونوں طرف بیک وقت تکلیف شروع ہو۔البتہ رفتہ رفتہ دوسری طرف کے وہی مفرداعضاءانسجہ ۔Tissues))متاثرہوکرکم وبیش اثرقبول کرلیتے ہیں۔یہ وہ رازجواللہ تعالیٰ نے طب مفرداعضاء کے تحت دنیائے طب پرظاہرکیاہے۔اس سے قبل دنیائے طب میں اس کا کسی کوعلم نہیں تھا۔

مفرداعضاء کی ظاہری تقسیم کی تشریح:

انسانی جسم کوہم نے چھ(Six) مقامات میں اس طرح تقسیم کیاہے۔

پہلامقام(اعصابی عضلاتی ): اس مقام میں سرکادایاں حصہ،دایاں کان،دائیں آنکھ، دائیں ناک،دایاں چہرہ مع دائیں طرف کے دانت و مسوڑھے اورزبان،دائیں طرف کی گردن شامل ہے۔ گویاسرکے دائیں طرف سے دائیں شانہ تک جس میں شانہ شریک نہیں ہے۔جب کبھی بھی ان مقامات پرکہیں تیزی ہوگی اعصابی عضلاتی تحریک ہوگی۔

دوسرامقام(عضلاتی اعصابی): اس مقام میں دایاں شانہ،دایاں بازو،دایاں سینہ،دایاں پھیپھڑہ اوردایاں معدہ شریک ہے۔گویادائیں شانہ سے لے کرجگرتک لیکن اس میں جگرشامل نہیں ہے۔جب کبھی ان مقامات میں سے کسی میں تیزی ہوتوعضلاتی اعصابی تحریک ہوگی۔

تیسرامقام(عضلاتی غدی): اس مقام میں جگر،دائیں طرف کی آنتیں،دائیں طرف کامثانہ،دایاں خصیہ،دائیں طرف کامقعد اور دائیں ساری ٹانگ کولہے سے لے کرپائوں کی انگلیوں تک سب شامل ہیں۔جب کبھی ان مقامات پرکسی میں تیزی ہوگی توعضلاتی غدی تحریک ہوگی۔

چوتھامقام(غدی عضلاتی): اس میں سرکابایاں حصہ،بایاں کان،بائیں آنکھ وناک،بایاں چہرہ مع بائیں طرف کے دانت و مسوڑھے اورزبان اور گردن شامل ہیں۔گویا بائیں جانب سرسے لے کربائیں مثانہ تک جس میں شانہ شریک نہیں ہے۔جب کبھی ان مقامات پر تیزی ہوگی توغدی عضلاتی تحریک ہوگی۔

پانچواں مقام(غدی اعصابی): اس مقام میں بایاں شانہ،بایاں بازو،بایاں سینہ،بایاں پھیپھڑہ اور بایاں معدہ شریک ہیں گویا بایاں شانہ سے لے کر طحال تک جس میں طحال شریک نہیں ہے۔جب کبھی ان مقامات میں سے کسی میں تیزی ہوگی توغدی اعصابی تحریک ہوگی۔

چھٹا مقام(اعصابی غدی): اس مقام میں طحال ولبلبہ،بائیں طرف کی آنتیں،بائیں طرف کامقعد،بائیں طرف کا مثانہ ، بایاں خصیہ،بائیں ساری ٹانگ کولہے سے لے کرپائوں کی انگلیوں تک شریک ہیں۔

تاکید:

یہ تقسیم دورانِ خون کی گردش کے مطابق ہے جودل(عضلات) سے شروع ہوکر جگر(غدد)سے گزرتے ہوئے دماغ(اعصاب) اورطحال (غددجاذبہ) سے گزر کر پھر دل (عضلات) میں شامل ہوتاہے۔اس کابیان عضلاتی غدی سے شروع ہوکرترتیب وارچھ مقام بیان کئے گئے ہیں جو عضلاتی اعصا بی پرختم ہوتے ہیں۔لیکن ہم نے ایک سرے کومدنظررکھتے ہوئے دائیں طرف سرے سے شروع کرکے بائیں طرف کی ٹانگ پرختم کردیاہے تاکہ سمجھنے میں آسانی رہے۔

یادداشت:

یہ چھ مقام صرف تحریک کے ہیں لیکن اس امرکونہ بھولیں کہ یہ مقام دراصل تین مفرداعضاء کے تعلقات اور تشخیص کوسمجھانے کیلئے ہیں کہ جسم اور خون کی تحریک کس طرف چل رہی ہے۔اس لئے اس امرکویاد رکھیں کہ جس ایک مفردعضو میں تحریک ہوباقی دومیں تحلیل وتسکین ترتیب کے ساتھ ہوں گی اور ان کا دیگر مفرد اعضاء پروہی اثرہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.