بھوک جاندار کو بھوک لگنا ایک فطری عمل ہے .

بھوک جاندار کو بھوک لگنا ایک فطری عمل ہے .

بھوک
جاندار کو بھوک لگنا ایک فطری عمل ہے .

بھوک  جاندار کو بھوک لگنا ایک فطری عمل ہے .
بھوک
جاندار کو بھوک لگنا ایک فطری عمل ہے .

بسم اللہ الرحمن الرحیم
بھوک
جاندار کو بھوک لگنا ایک فطری عمل ہے .
تحریر:حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی: سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کاہنہ نو لاہور پاکستان
کھانا جب ہضم ہوجاتا ہے تو جسم کو نئی خوراک کی طلب ہوتی ہے
اس حالت کا نام بھوک ہے۔بھوک کی یہ کیفیت ہر تندرست جاندار میں مختلف عوامل سے پیدا ہوئے۔بھوک پیدا کرنے والی رطوبات پشتو بات سے لے کر ذہنی نفسیاتی عوامل تک بھوک کا باعث بنتے ہیں۔کھانے کی خوشبو بھی باعث بھوک ہے۔کھانا دیکھ کر بھوک لگ جانا بھی ایک سبب ہے ۔کھانے میں ڈالے گئے مسالہ جات بھی بھوک بڑھاتے ہیں

نقصان ،بتلا ن بھوک
بھوک نہ لگنا ایک ایسی علامت تھے جس حالت میں غذا کھانے کو جی نہیں چاہتاسات سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے یہ حالت اگر متواتر ہے تو اسے مرض گردانا جاتا ہےکہہ دیا جاتا ہے کہ بھوک اڑ گئی ہے۔لوگ جاتی رہی۔یا بھوک ختم ہو گئی اسے طبی اصطلاح میں نقصان بطلان بھوک کہا جاتا ہے۔یہی حالت دیر تک قائم رہے تو مریض نڈھال ہو جاتا ہے۔
بھوک کم ہونے یا مر جانے کی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ معدہ کے اندرونی حصے میں تعفن پیدا ہو جاتا ہے ۔کھٹے ڈکار آنے لگتے ہیں بھوک نہیں لگتی طبیعت مدبرہ کا بدن متعفن مادوں کو رفع کرنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہےعامیانہ نظام کی اصطلاح میں مصروف ہوتی ہے جس سے طبیعت ہے غذا کی طلب سے اعراض کر لیتی ہے
دل جگر گردوں اور غدودوں کی اکثر بیماریوں میں بھوک نہیں لگتی ۔
معدہ کے اعصاب میں سوزش بھی بھوک کو کم کر دیتی ہے۔ہر قسم کے بخاروں خاص طور پرملیریا۔انفلونزا۔زکام ۔نمونیہ۔حالات حزن کا سردار بھی بھوک ختم ہونے کا باعث بنتے ہیں ۔روغنی اشیا کھانے تیر ہضم غذا جیسے مٹھائیوں۔ تلی ہوئی اور چٹ پٹی اغذیہ۔پیسٹری،کریم کے بنے ہوئے
کریم رول۔بسکٹ ۔نمکو ۔چپس ۔فاسٹ فوڈ ۔ہوٹلوں بازاروں کے کھانوں سے بھی بھوک رک جاتی ہے ، وقت مقررہ پر نہ کھانے سے بھی بھوک جاتی رہتی ہے ۔
بسیار خوری اور بار بار کھانے سے بھی بھوک میں کمی واقع ہوتی ہے ۔کثرت جماع سے بھی بھوک اڑ جاتی ہے ۔بعض کتب میں لکھا ہے کہ ورم معدہ ۔زخم معدہ ۔متغیرہ کی وجہ سے بھی بھڑک جاتی رہتی ہے ۔لیکن ان امور کو بھوک کے علاوہ دیگر امراض ہی میں رکھیں تو بہتر ہے
نفسیاتی اسباب میں بے زاری ۔اہل خانہ سے نفرت ،پریشانی ،ڈر ،دہشت اور خوف میں بھی بھوک نہیں لگتی ،مادی طور پر گرم اغذیہ کے متواتر استعمال سے خون بدن خلط صفراوی بڑھ جاتی ہے۔اور کیفیاتی طور پر خون میں گرمی کا غلبہ ہوتا ہے جس سے بھوک مر جاتی ہے ۔مادی طور پر دوسری وجہ بلغمی اشیاء کاسماجی طور پر دوسری وجہ بلغمی اشیاء کا کثرت سے استعمال ہے ۔خون میں بلغم بڑھ جاتی ہے اور کیفیات کے طور پر تری کا غلبہ ہوتا ہے ،ترشی قائم نہیں رہتی ۔جس سے بھوک ختم ہو جاتی ہے
قانون مفرد اعضاء کے مطابق عام طور پر خود دیا جلاتی تحریک اور اعصابی تحریک میں بھوک جاتی رہتی ہے
غدی عضلاتی تحریک ۔
تحریک میں معدہ کے عضلات میں تحلیل شدت اختیار کر جاتی ہے ۔کی شدت چونکہ عضو کے ضعف کا باعث بنتی ہے ۔ایسی حالت میں معدہ پھیل بھی سکتا ہے
اور اس میں ڈھیلا پنجے نمودار ہو سکتا ہے جس سے معدہ کی فطری حرکات جو کہ خوراک کو ہضم کرنے کے لیے بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔کم ہو جاتی ہیں ،میدہ کی سکڑنے کی طاقت میں بھی کمی آجاتی ہے۔یا پھر کرنے سے بالکل ہی آ جاتا ہے ۔جس سے معدہ میں غذاکے ہضم اور جزب کرنے کی صلاحیت نہیں رہتی ۔یا ہاضمہ کی خرابی پیدا ہو جاتی ہے ۔جس سے بھوک کم ہوتے ہوتے ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔
اس حال میں یقینی طور پر صفرا کی مقدار خون میں بڑھی ہوئی ہوتی ہے ۔
میدہ میں صفرا کی زیادتی سے معدہ کی ترکی میں بھی نقص واقع ہوجاتا ہے اور ترشی محرک بھوک ہے ۔بعض اوقات بھوک ختم ہونے کے ساتھ ساتھ متلی اور قے کی علامت بھی ہوتی ہے ۔
بھوک لگ بھی جائے تو کھانے کے چند لقموں کے بعد کھانے کو جی نہیں چاہتا ۔گرم موسم اور جولائی اگست کی برسات میں عموماً ایسی علامات ظاہر ہو تی ہیں
بعض اوقات قبض بھی ہوتی ہے ۔یا پاخانہ رک رک کر آتا ہے۔ایسی حالت شدت اختیار کرجائے تو خونی پیچس کی شکایت بھی ہو سکتی ہے ۔تخت پیاس لگتی ہے ۔بدن لاغر ہو جاتاہے۔زبان خشک رہتی ہے ۔اس حال میں اعصاب میں تسکین ہونے کی وجہ سے بعض اوقات مادہ کے اس اب بے حس ہو جاتے ہیں ۔انہیں بھوک کا احساس ہی نہیں ہوتا ۔
علاج :
شوکیا غدی عضلاتی تحریک کا عارضہ ہے ۔اس کی غدی اعصابی ملین دو گولیاں دن میں تین بار دیں ۔اگر متلی اور قے کی شکایت بھی ہو تو غدی اعصابی ملین ایک گولی دن میں تین بار اور ایک سہرے ورم ایک گولی دن میں تین بار ۔اگر متلی کی حالت نہ ہو جائے تو سفوف مفرح جدید نصف چمچ صبح و شام اضافہ کردیں۔یہ مرکب بھی دے سکتے ہیں ۔
ھوالشافی ،سجی کھار 40 گرام ،سہاگہ چالیس گرام ،الائچی کلاں 80 گرام ،باری کیس لیں۔اثرات :اعصابی غدی ہاضم ہے ۔
خوراک :ایک رتی تا ایک گرام ہمراہ پانی صبح و شام دیں
سفوف معدہ ۔
کالی مرچ 50 گرام ۔سندھ پچاس گرام ۔سونف سو گرام ۔سنا مکی سو گرام ۔بڑی حیرت ہر سو گرام ۔زیرہ سفید سو گرام ۔اجوئن دیسی سوگرا م۔کالا نمک 500گرام ،شطرنج ہندی سو گرام ۔سب کو باریک پیس لے ۔دورتی کھانے کے بعد پانی کے ساتھ کھائیں ۔
نوٹ۔ غدی اعصابی ہاضم ہے۔تیزابیت کی دشمن ہے ۔یا اور گیسوں کو کو خارج کرتی ہے ۔عزیز اکسیر ہے ۔سالن میں ڈال کر کھانے سے اسے مزیدار بنا دے ہے۔
اعصابی غدی تحریک ۔
بھوک ختم یا کم ہو جانے کی دوسری بڑی وجہ اعصابی غدی تحریک ہے۔
اس سے معدے کے عضلات میں تسکین پیدا ہو جاتی ہے ۔میں ان کے غدی حصے میں ضعف پیدا ہوجاتا ہے۔ جسم میں بلغم میں رطوبات بڑھ جاتی ہیں عضلات میں تسکین ہونے کی وجہ سے بلغمی رطوبات معدے میں رک جاتی ہیں ۔یہ رطوبات معدے کے اضلاع کی حصے میں اسطر خا پیدا کر دیتی ہیں ۔جس سے معدہ کی حرارت بجھ جاتی ہے ۔میاں دا پھول جاتا ہے ۔تور شی جو کہ مرنے کے بھوک ہے کم ہو جاتی ہے ۔الکلائن جو سیز بڑھ جاتے ہیں اس حالت میں تحلیل وہ ہضم میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے ۔حرارت بجانے کی وجہ سے طبیعت غذا کو پکانے اور جزو بدن بنانے سے عاجز آجاتی ہے ۔غدود جاذبہ اور طحال کال بلغمی جوسز کی زیادتی سے پھول جاتے ہیں ۔جس کی وجہ سے الکلائن جوسز کو جذب کرکے ترشی پیدا کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں ۔تر ش رطو بات ہی معدے پر گرنے سے بھوک پیدا ہوتی ہے ۔اس حال میں طحال سے یہ عمل جاری نہیں رہتا ۔معدہ کے غدی حصہ میں تحلیل کی وجہ سے ضعف پیدا ہو جاتا ہے ۔جس سے ان کی غذائی مانگ کم ہو جاتی ہے یا۔ کم ہو کر رہ جاتی ہے ۔
کیونکہ جگر معدہ و امعاء سے کیلوس کو جذب نہیں کر سکتا ۔اس سے نظام انہضام جواب دے دیتا ہے ۔اور اس کی شدت ہے ہیضہ کا روپ دھار سکتی ہے ۔نظامی جب لیسدار بلغم میں مواد کی کثرت ہوجاتی ہے تو قوت مدبرہ بدن شیر معدہ سے اخراج نے کی جدوجہد میں ہوتی ہے ۔جس کی وجہ سے طبیعت مدبرہ بدن وقتی طور پر بھوک کو روک دیتی ہے ۔اس کا علاج فاقہ ہی ہوتا ہے تاکہ قوت مدبرا بدن۔ بدن کی اصلاح کا کار خیر انجام پانے میں کامیاب ہوجائے ۔
نوٹ ۔کیونکہ جو ع البقر بھی اسی تحریک میں ہوتی ہے اس لئے ان دونوں کا علاج اکھٹا لکھ دیا گیا ہے
جوع البقر۔بولیموس۔
جوع کے معنی بھوک اور بکر کے معنی بیل اس لئے جوع البقرکا مطلب ہوا بیل کی بھوک بولی موس کے معنی بھی بڑی بھوک کے بھی ہیں بیل کا جسم بڑا ہوتا ہے اس لئے اسے بولی موس کا نام دیا جاتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس مرض میں تمام اعضاء بھوکے ہوتے ہیں بھوک مطلوب ہوتی ہے مگر معدہ سیر محسوس ہوتا ہے مریض کو غذا سے کراہت اور نفرت ہوتی ہے گویا بھوک مر جاتی ہے ۔ایسا عمومااعصابی تحریک میں ہوتا ہے ۔الکلائن اور بلغمی رطوبات بڑھ جاتی ہیں یہ بلغمی معدے بھوک کی حس کو ختم کر دیتے ہیں میں ادا کی ترشی جو کی بھوک کی محرک ہے کم یا ختم ہو جاتی ہے ۔
تشخیص ۔
پہلے اس مرض کی ماہیت کو اچھی طرح بیان کر دیا گیا ہے ۔تشخیص کے لیے مریض کینوس پر ہاتھ رکھیں۔جو کہ عریض ہوگی ۔لین ہوگی قصیر ہوگی اور بطی یعنی سست ہوگی۔ایسی نبض اعصابی غدی ہوگی ۔ایسی حالت میں قارورہ کا رنگ سفید یا ہلکے زرد ہوگا ۔مقدار میں زیادہ ہوگا۔
بعض اوقات باربار قارورہ کی حاجت ہو گی ۔علامات کے طور پر جسم میں سستی ہوگئی
جسم پر پلپلا ہوگا بلڈ پریشر کم ہوگا طبیعت بوجھل رہے گی سر بھاری ہوگا ۔چکر آنے کی شکایت بھی ہو سکتی ہے ۔اور کبھی کبھار یار نزلہ زکام بھی ہو جایا کرتا ہے /۔
علاج ۔
عضلاتی اعصابی ملین دو گولیاں دن میں تین بار
سفوف اسگند مرکب نصف چمچی صبح اور شام پانی کے ہمراہ
نسخہ سفوف اسپند مرکب
کلونجی 50 گرام، حرمل 50گرام ۔اجوئن سو گرام ۔تینوں کو اچھی طرح باریک پیس کر محفوظ کر لیں ۔نسخہ تیار ہے
ذیل کا نسخہ بھی دے سکتے ہیں

ھوالشافی/۔انار دانہ 60گرام ۔رائی 60گرام ۔تخم پیاز 40 گرام
نصف گرام سے دو گرام تک صبح شام شام نیم گرم پانی سے دے سکتے ہیں
بخار کی وجہ سے بھوک اڑ جانا
جب عصبی و بلغمی بخار کی وجہ سے بھوک مٹ جائے تو مندرجہ ذیل مرکب سے بھوک لگنا شروع ہو جاتی ہے
ھوالشافی۔ کلونجی 30 گرام پوست ہلیلہ کابلی 30 گرام سونڈ 60گرام اجوئن دیسی 60گرام ۔۔تمام ادویات کو باریک پیس کر شہد میں معجون بنا لے نہار منہ 5 گرام میرا گاؤں زبان کے عرق سے کھائیں
جوع الکلب۔شہوۃ کلیہ۔کتے کی بھوک/
بار بار بھوک کے لگنے کو جوع الکلب یا شہوت الکلیہ کا نام دیا جاتا ہے ۔اس حالت میں کھانے کی حرص لگی رہتی ہے کھانے کے بعد بھی مریض کو سیری محسوس نہیں ہوتی کیونکہ کتوں کی یاد تھی کہ ان کے پیٹ اگرچہ بھرے ہوئے ہو پھر بھی انکی حرص زائل نہیں ہوتی ۔کہیں بھی غذا نظر آئے اس پر خود پڑھتے ہیں اس لئے اس مرض کا نام کتے والی بھوک رکھا گیا ہے ۔
کتے کی بھوک کی وجہ معدہ میں ترشی و تیزابیت کا غلبہ ہوتا ہے ۔بعض اوقات گرمی کی شدت سے بھی بھوک بار بار لگتی ہے مگر ایسی حالت میں کھایا نہیں جاتا چند لوگوں سے طبیعت سیر ہو جاتی ہے
بعض اوقات پیٹ میں کیڑے اور بڑے بڑےکینچوے ہوتے ہیں ۔فن جو غذا کو چٹ کر جاتے ہیں ۔بھوک بار بار لگتی ہے طبی اصطلاح میں اسے دیدان شکم کہتے ہیں
دراصل ایسا عضلاتی اعصابی تحریک میں ہوتا ہے تحریک میں بھوک بڑھانے والی ترسی کی مقدار معدے میں بڑھ جاتی ہے مزید بڑھ جائے یا بگڑ جائے تو تیزابیت کا روپ دھار لیتی ہے اس کا بہترین علاج غدی عضلاتی تحریک پیدا کرنا ہے جس سے تیزابیت کا زور ٹوٹ جاتا ہے اور بھوک نارمل ہوجاتی ہے
علاج
تریاق معدہ وامعاء۔۔آدھی چمچی دن میں 3 بار
اکسیر بادیان دو گولی دن میں تین بار۔
نوٹ:غدی عضلاتی ملین آدھی چمچ صبح دوپہر شام دینا بھی تیزابیت کا بہترین علاج ہے
اگر پیٹ میں ملپ اور کیڑے ہوں تو عضلاتی غدی مسہل دیں۔انشاءاللہ فائدہ ہوگا
عضلاتی غدی تریاق بھی دے سکتے ہیں

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.