بچے کا جھٹکے سے بیہوش ہو جانا

بچے کا جھٹکے سے بیہوش ہو جانا

بچے کا جھٹکے سے بیہوش ہو جانا

بچے کا جھٹکے سے بیہوش ہو جانا
بچے کا جھٹکے سے بیہوش ہو جانا

بچے کا جھٹکے سے بیہوش ہو جانا

 

ناقل تحریر:۔حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

تکلیف اور بیماری تو کسی عمر میں بھی چین نہیں لینے دیتی ،بڑے تو اپنے جذابات کا اظہار اور تکلیف پر رد عمل ظاہر کردیتے ہیں ۔لیکن بچے اس طرح کا کوئی رد عمل نہیں دے سکتے۔بچوں کے امراض کے علاج میں بہت مہارت اورحاذقیت کی ضرور ت ہوتی ہے۔دورے پڑنا یا جھٹکے لگنا ننھی سے جان کو بے کل کردیتے ہیں۔بہت سے معالجین نے اپنے اپنے تجربات کی بنیاد پر علاج کئے اور انہیں افادہ عام کی خاطر اپنی کتب میں لکھا ۔قانون مفرد اعضاء والوں نے بھی اپنے تجربات لکھے اور شائع کئے ان ہی میں سے ایک علاج یہ بھی تھا۔
جمس آباد ضلع میر پور خاص (سندھ) میں طبی کیمپ کے دوران ایک مریض بچہ لایا گیا جسے ہر دوسرے تیسرے روز با زدوں اور سر میں جھٹکے لگنے کے بعد دورہ پڑ جاتا تھا۔ بچے کے والد نے بتایا کہ اس کی نشونما بھی نامکمل رہ گئی ہے یہ سات سال کا بچہ ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ جیسے چارسال کا ہو۔ جب سے جھکے شروع ہو گئے ہیں اس کی جسمانی نشوونما بھی رک گئی ہے اور یہ روز بروز کمزور ہوتا جارہا ہے۔ یہاں آپ کے آنے کی اطلاع ملی تھی کہ دنیاپور سے حکیم محمد عارف صاحب آرہے ہیں انہیں چیک کرائیں وہ ایسے لا علاج مریضوں کا علاج ایک نئے طریقے (قانون مفرداعضاء) سے کرتے ہیں ۔ برائے مہربانی اسے غور سے دیکھیں اور غذادوا تجویز فرمائیں

تشخیص مرض

, میںنےا نہیںتسلی دی کہ اسکے جھکے اور دور سے بہت جلد ختم ہوجائیں گے بچہ کااصل مرض یہ ہے کہ اسے پیشاب کم آتا ہے کیونکہ چھ سات سال کا بچہ تقریبا ہر دو تین گھنٹے بعد پیشاب کرتا ہے۔ آپ اس سے پوچھیں کہ یہ کتنی بار پورے دن میں پیشاب کرتا ہے؟ بچے نے بتایا کہ سارے دن میں دو یا تین بار ، مقدار میں کم پیشاب آتا ہے۔

علاج میں قانون مفرد اعضاء کا سنہری اصول۔

قانون مفرداعضاء قدرت کا ایک ایک ایسا انمول اصول ہے جس میں ہر چھوٹی۔ بڑی مرض و علامت کا علاج مزاج کے مطابق کیا جا تا ہی اورکبھی نا کامی نہیں ہوتی۔ قانون مفرداعضاء کی تحقیقات کے مطابق بچوں کا مزاج اعصابی مقرر کیا گیاہے۔ جوان مردوں کا مزاج عضلاتی اور عورتوں کا مزان غدی مقرر کیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر پچہ کا مزاج اعضای اعتدال پر رہے گا تو وہ اپنے تمام افعال طبعی طریقے سے انجام دیتا رہے گا، اور تندرست رہے گا، اگر کسی وجہ سے اعصابی مزاج مزید بڑھ گیا تو ہیضہ جیسی علامت میں مبتلا ہو جائے گا اور اگر خدانخواستہ اعصابی مزاج سے ہٹ گیا یعنی غدی یا عضلاتی تحریک میں مبتلا ہو گیا تو لازمی طور پر غیر طبعی علامات (دورے یاجھٹکے ) کی صورت میں ظاہر ہوں گی۔
استادمحتر م صابر ملتان کا فرمان
ایسی اصول کے تحت استاد صابرملتانی نے فرمایا کہ عورت کا مزاج غدی ہے کبھی عضلانی نہیں ہوتا اگر آپ کسی عورت کا مزاج عضلاتی دیکھیں گے تو وہ جمل سے ہوگا ، آپ نے مزید فرمایا کہ عورت کی نبض عضلاتی دکھ کر حمل کا حکم لگایا جا سکتا ہے جوان شااللہ کبھی غلط نہیں ہوگا۔
اسی قانون کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے بچے کو دیکھتے ہی اندازہ لگا لیا کہ یہ بچہ اس قدر تکلیف دہ علامت میں مبتلا ہے تو لازمی طور پر اس کی تحریک اعصابی تو ہونہیں سکتی۔غدی یا عضلاتی ہوگئی ہوگی۔ جس کے سبب جسم سے پیشاب کا کم خارج ہونا لازمی امر ہے جس کی تصدیق بچے نے خود کر دی۔
تشخیص مرض بالمفرداعضاء
میں نے بچے کی نبض دیکھی جوشدید غدی عضلاتی ہو چکی تھی باقی علامات بھی غدی تحریک کی پیدا ہو چکی تھیں جن میں پیشاب کی کمی، چہرے کا رنگ زردی مائل اور خون کی کمی واضح ہوچکی تھیں۔
تجویزخوراک وعلاج۔
علاج کے لئے اعصابی غدی تریاق اور اعصابی عضلاتی ملین دونوں ملا کر کھانے کو دی گئیں ہمراہ جوارش شاہی بھی دی گئی، پینے کے پانی کی جگہ عرق بزوری پینے کی ہدایت کی ۔ بیرونی علاج میں سر کے پچھلے حصے پرگل کیس اور افتیمون دونوں ایک ایک چھٹانک چار کلو پانی میں ابال کر ٹھنڈا کر کے ڈالنے کو کہا انہیں ہدایت کی کہ اس کا اصل علاج گل کیسو والا پانی ہے۔ کم ازکم تین ہفتےلگا تار روز انہ ایک گھنٹہ تک اس
کے سر پر ڈالتے رہیں اور پانی بالکل ٹھنڈا ڈالنا ہے ،اگر گرم پانی ڈالا گیا تو بجائے فائدہ کے نقصان ہو جائے گا۔ انشاء اللہ ضرور الله تعالی کی رحمت ہوگی اور یہ بچہ بہت جلد ٹھیک ہو جائے گا۔
مرض ٹھیک ہونے کی نشانی
میں نے انہیں بتایا کہ اگر ہمارے علاج سے اس کا پیشاب بڑھ گیا تو اس کےجھٹکے بند نہ بھی ہوں تو ہم سمجھیں گے کہ علاج درست ہے۔ مزید جاری رھیں گے ۔اللهکے فضل سے انہوں نے چار دن بعد ہی مجھے فون پر بتایا کہ بچے کا پیشاب زیادہ ہو گیا۔ میں نے کہا کہ علاج جاری رکھیں ضرور فائدہ ہوگا اللہ کے فضل سے ایک ہفتے میں تی جھٹکے بند ہو گئے اور دور بھی ختم ہو گیا۔ انیس دن بعد انہوں نے بتایا کہ آج انیس دن ہو گئے ہیں ابھی تک نہ جھٹکالگا ہے اور نہ ہی دورہ ہوا ہے۔ میں نے انہیں یہی علاج تین ماہ کرنے کی ہدایت کی تاکہ مکمل مرض ختم ہو جائے۔
حکیم یسین صاحب کے تجربات
والدمحترم جناب حکیم یسین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہم سے جو لا علاج مریض زیادہ ٹھیک ہوئے ہیں۔ ان میں اثر بے ہوش اورجھٹکے لگنے والے بچے ہی تھے۔ اسی لئے انہوں نے 1999 کے ماہناموں میں کئی بار اعلان کیا کہ بے ہوش افرار کے وارث رابطہ قائم کریں یہ علان پڑھ کر بے شمار مریض آئے اور اللہ کے فضل سے شفایاب ہوئے

Leave a Reply

Your email address will not be published.