جن لوگوں کو بڑا سمجھا جاتا ہے یہ ان کی جہد مسلسل کا نتیجہ ہے۔ہم عصر لوگ تو ہزاروں خامیاں تلاش کرلیتے ہیں۔آج بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے شغل میں مگن ہیں انہیں مجنون کہا جاتا ہے لیکن مرنے کے بعد ان کے لئے لمبے چوڑے قصیدے اور ضخیم سوانح عمرایں لکھی جائیں گی۔
کہیں ایسا تو نہیں من الحیث القوم ،ہم مردہ پرست بن چکے ہیں زندوں کو جینے کی سزا اور مرنے والوں کو احترامی خول میں ملفوف کرنے مشغول ہیں۔
عیسائیوں اور مسلمانوں میں بزرگی کے لئے مرنا ضروری ہوتا ہے زندوں کو یہ تسلیم نہیں کرتے۔اگر مرنے والے کو 25 سال کا عرصہ ہوجائے اس کی بزرگی پکی ہوجاتی ہے کیونکہ اس کے ہم عصر اور دار فانیسے کوچ کرچکے ہوتے ہیں،مدمقابل کوئی نہیں ہوتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.