ایک قصیدہ (بانت سعاد)جسے سن کر رسول اللہﷺ اپنی چادر عنایت فرمائی

ایک قصیدہ (بانت سعاد)جسے سن کر رسول اللہﷺ اپنی چادر عنایت فرمائی

An ode (Banat Saad) which the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) bestowed upon him

۔

ایک قصیدہ (بانت سعاد)جسے سن کر رسول اللہﷺ اپنی چادر عنایت فرمائی
ایک قصیدہ (بانت سعاد)جسے سن کر رسول اللہﷺ اپنی چادر عنایت فرمائی

ایک قصیدہ (بانت سعاد)جسے سن کر رسول اللہﷺ اپنی چادر عنایت فرمائی

کعبؓ بن زہیرکی قصیدہ گوئی کا تجزیاتی مطالعہ ’’قصیدہ بردہ کے حوالے سے
یوسف رامپوری*

پیش کردہ
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ
کاہنہ نو لاہور

دورِجاہلیت اورد ورِ اسلام کے مشہورشعرا کے درمیان کعب بن زہیر کا نام احترام وعقیدت کے ساتھ لیاجاتا ہے۔بعض محققین وناقدین نے کعب کو ان کے شاندار قصائد کی وجہ سے دورِجاہلی کے دوسرے طبقے کے ممتاز شعرامیں شمار کیا ہے۔بعض ناقدین نے کعب کا موازنہ نابغہ اور لبید سے بھی کیا ہے۔لبید متفقہ طورپر اصحاب المعلقات کے شاعر تھے ،لیکن نابغہ کے بارے میں اختلاف ہے ، بعض نے نابغہ کو بھی اصحاب المعلقات میں شامل کیا ہے اور بعض نے نہیں ،لیکن اس بات پر سبھی متفق ہیں کہ نابغہ استادشاعر تھا اوراس کا شمار طبقۂ اولی میں امرؤ القیس اور زہیر بن ابی سُلمیٰ کے ساتھ ہوتاتھا۔ عکاظ کے میلے میں اس کا خیمہ الگ لگایاجاتا تھا اور اسے خصوصی اہمیت دی جاتی تھی،ایسے معروف شعرا کے ساتھ کعب کا نام لیاجانا کعب کی شاعرانہ عظمت کی دلیل ہے ۔
کعب کواہم اورمعروف شاعر بنانے میں کچھ ان کی فطری ذہانت کو دخل تھا ، کچھ ان کی محنت وریاضت کو اور کچھ گھراورکچھ گِردوپیش کے ماحول کو۔کعبؓ کے والد زہیر بن ابی سلمیٰ اس دور کے بڑے شاعر تھے ،ان کے قصیدے کو خانہ کعبہ میں آویزاں ہونے کا شرف حاصل ہوچکاتھا۔
چوں کہ کعب کوشاعری وراثت میں ملی تھی ،اس لیے کم عمری ہی میں انھوں نے شاعری شروع کردی تھی ۔زہیر بن ابی سلمیٰ نے اپنے بیٹے کعب کے شاعرانہ رجحان کو دیکھتے ہوئے انھیں اشعار کہنے سے باز رکھنے کی کوشش کی، اس لیے کہ انھیں خوف تھا کہ اگر کعب نے غیر معیاری اشعار کہہ ڈالے تو سارے خاندان کی عزت خاک میں مل جائے گی لیکن کعب نے اپنے شوق کو جاری رکھا۔بیٹے کی ضد کے آگے زہیر مجبور ہوگئے اورکعب کی شاعرانہ تربیت کرنے لگے۔اس سے کعب کو بڑا فائدہ ہوا کہ ان کے قصائد پر باپ کی شاعری کے اثرا ت نظر آنے لگے۔
کعب بن زہیر کو زمانۂ جاہلیت سے زیادہ شہرت دورِاسلامی میں حاصل ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ حلقہ بگوش اسلام ہوکر حسانؓ بن ثابت کی طرح رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستہ ہوگئے تھے۔انھوں نے آپؐ کی شان میں ایسے قصائد کہے جنھیں نہ صرف اس زمانے میں شوق سے پڑھاگیا بلکہ آج بھی اہلِ عرب کعبؓ بن زہیر کے قصیدوں کو پڑھتے اور سنتے ہیں۔
جب کعب نے’قصید�ۂ بردہ‘ حضوراکرمؐ کی خدمت میں پیش کیا تو آپؐ نے خوشی میں اپنی چادر اتارکرکعب کو اوڑھادی تھی۔
پیغمبراسلام ؐ کی طرف سے کعب کو یہ اعزاز ایسے وقت حاصل ہوا جب کہ کعب اپنی زندگی سے مایوس ،احساسِ کمتری سے دوچاراور زمانے کی نگاہوں میں بدبخت بنے ہوئے تھے۔
آنحضرتؐ نے ان کا خون مباح کردیا تھا، یعنی ان کے قتل کا حکم صادر کردیا گیا تھا۔ہوا یوں تھا کہ جب اسلام کی چمک سے پورا عرب منور ہونے لگا اور بڑی تعداد میں لوگ دائرۂ اسلام میں داخل ہونے لگے تو کعب نے اپنے بھائی بُحیر کو داعیِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جانکاری لینے کے لیے بھیجاکہ وہ کیسے ہیں؟ اورکیا کہتے ہیں؟
بحیرحصولِ معلومات کے لیے چلے تو گئے مگر واپس نہ آئے۔کعب بڑے پریشان ہوئے ۔ جب انھیں پتہ چلا کہ بھائی اسلام میں داخل ہوگیا ہے تو آگ بگولہ ہوگئے اور آنحضرت ؐ اور آپؐ کے صحابہ کی ہجو کرنے لگے۔آنحضرتؐ نے جب کعب کا ہجویہ قصیدہ سنا تو آپؐ نے کعب کا خون بدر کردیا اور اعلان کردیا کہ جو کعب کو پائے، قتل کردے۔
یہ زمانہ ۷؍ہجری کا تھا ،اب اسلا م کا بول بالا ہوچکاتھا۔مسلمانوں کی حالت میں قدرے استحکام بھی آگیا تھا۔ آنحضرتؐ کے مذکورہ اعلان کے بعد عرب کی زمین کعب پر تنگ ہوگئی۔وہ پناہ کی تلاش میں اِدھر اُدھر بھٹکنے لگے مگر کہیں امان حاصل نہ ہوئی۔بالآخر انھیں یقین ہوگیا کہ اب جان بچانے کی اس کے علاوہ کوئی صورت نہیں ہے کہ معذرت کرلی جائے۔
اس لیے ۹ھ میں ایک رات چپکے سے مدینہ پہنچ گئے اور آپؐ کے پاس حاضر ہوکر معافی چاہی اور اپنا وہ مشہور قصیدہ پیش کیا جس میں بڑے پُرسوز انداز میں معذرت خواہی تھی اور آپؐ کی شان میں بہترین اشعار تھے۔ آپؐ کعب کی معذرت سے بہت خوش ہوئے ، ان کے قصیدے کو آپؐ نے پسند فرمایا ۔
کعب نے حضور ؐ کی تعریف کرتے ہوئے کہا ؂
ان الرسول لسیف لیستاء بہ
مہند من سیوفِ اللّٰہِ مسلول
’’آپ اللہ کی وہ تلوار ہیں جو اپنی روشنی اور نور میں ہندوستان کی آبدار اور چمکیلی تلوار کی طرح ہے۔‘‘
آنحضرت ؐ کی شان میں اس قصیدے کے مدحیہ اشعار اتنے خوبصورت ، شاندار اور عمدہ انداز میں ہیں کہ روایات میں آتا ہے کہ جب کعب وہ اشعار پڑھ رہے تھے تو آپ جھوم اٹھے ، بعض اشعار پر سامعین کی توجہ بھی مبذول کرائی اور اپنی چادر کعب کو اوڑھادی۔یہ ایک ایسا اعزاز تھا جس سے پورے عرب میں کعب کو عزت حاصل ہو گئی اور بعد کے ادوار میں بھی انھیں احترام وعقیدت کے ساتھ یا د کیاجانے لگا۔
اس چادر کو کعبؓ نے سنبھال کر رکھا۔کعبؓ کے انتقال کے بعد ان کے خاندان والوں نے بھی اس کی حفاظت کی۔بعد میں حضرت معاویہؓ نے یہ چادر چالیس ہزار درہم میں خریدلی جسے وہ جمعہ اور عیدین کے موقع پر تبرکاً پہنتے تھے۔بعد میں یہ چادر خلفائے عباسی کے پاس پہنچ گئی۔وہ بھی تہواروں کے موقع پر اسے تبرکاً پہنتے تھے۔
اس قصیدے کو ’’قصیدۂ بردہ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ قصیدے کا آغاز کعب نے زمان�ۂ جاہلیت کی روایت کے مطابق کیاہے۔یعنی تشبیب میں وہی انداز اختیارکیاگیاہے جو جاہلی شعرا کے یہاں رائج تھا۔قصیدے کا مطلع ہے ؂
بَانَتْ سُعَادُ فَقَلبِی الےَوم مَقبُولُ
مُتَیَّمٌ اِثرہا کم ےُخبِر مَکءُولُ
’’سعاد تومجھے چھوڑکر چلی گئی تو آج میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور دیوانہ وار اس کے پیچھے بھاگاجارہے، اس قیدی کی طرح جس کو فدیہ دے کر چھڑایانہیں گیا تو وہ اپنے قید کرنے والے کے پیچھے لاچار ومجبورہوکرچلنے پر مجبورہے۔‘‘
تشبیب میں کعب نے تقریباً ایک درجن اشعار کہے ہیں جن میں پرشکوہ الفاظ وتشبیہات کو خوبصورتی کے ساتھ استعمال کیا ہے۔اس کے بعد کعب جاہلی ریت کے مطابق اونٹنی کی تعریف وتوصیف کرتے ہیں۔ قصیدے کے اس حصے میں بھی کعب اپنے باپ زہیر کے رنگ میں دکھائی دیتے ہیں بلکہ ان سے بھی ایک قدم آگے بڑھ جاتے ہیں۔اس کے بعد وہ عذر خواہی کی طرف آتے ہیں اور ایسے اشعار کہتے ہیں جو عربی ادب میں نمایاں مقام حاصل کرلیتے ہیں ۔اس کے بعد انھوں نے بیان کیا کہ کس طرح عرب کی وسیع زمین ان کے لیے تنگ ہوگئی تھی،کوئی ان کو امان دینے کے لیے تیار نہ تھا۔اس حالت کے بیان کے بعد کعب کے وہ اشعار ملاحظہ کیجیے جو عذرخواہی پر مبنی ہیں ۔کہتے ہیں ؂
’’میں اللہ کے رسولؐ کی خدمت میں عذرخواہ ہوکر پہنچا اور معافی ودرگذر اللہ کے رسول ؐ کے نزدیک پسندیدہ ہے۔ میں اس مقام پر کھڑا تھا کہ اگر وہاں ہاتھی بھی کھڑا ہوتا اور ہاتھی وہ دیکھتا اور سنتا جو میں دیکھ اور سن رہا تھا تو یقیناًکانپنے لگتا۔اگر اللہ کے حکم سے رسول اللہ کی طرف سے جو دوسخا، اور بخشش وعطا نہ ہوتی ،یہاں تک کہ میں نے اپنا داہنا ہاتھ بغیر کسی مناقشے کے اس ہاتھ میں دے دیا جو کہے کی سزادے سکتا تھا اور جس کا قول قولِ فیصل تھا ۔بے شک رسول اللہ وہ سیف ہیں جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک کھینچی ہوئی تلوار ہیں۔‘‘ (نقوش ، رسول نمر، ۲۳۶، جلد نمبر ۱ ، شمار ۱۳۰، اشاعت ، ۱۹۸۴ء)

زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام کی شاعری میں فرق

اسلام کی بعثت کے بعد عرب شاعری بعض تبدیلیوں سے گزری ۔ کیوں کہ اب جاہلی ماحول ختم ہورہا تھا اور اسلام کی روشنی ہر طرف پھیل رہی تھی ۔سماج کی تغیرپذیر اس صورت حال نے شعرا کی سوچ میں بھی تبدیلی پیدا کی۔اس تبدیلی سے کعب بھی متاثر ہوئے ۔یہی وجہ ہے کہ ان کے زمانۂ اسلام کے قصیدے جاہلی دورکے قصیدو ں سے بہت حد تک بدلے ہوئے نظرآتے ہیں ۔وہ اس دور کے قصیدوں میں شراب وشباب ، حسن وجمال کے بجائے ان مسائل کو موضوعِ شاعری بناتے ہیں جو زندگی سے زیادہ مربوط ہوتے ہیں۔لیکن یہاں یہ سوال اٹھتاہے کہ جو ’قصیدہ بردہ‘ کعب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کہا ہے اس کی تشبیب میں محبوبہ کے حسن وجمال کی تعریف وسراپاکھینچا گیا اور اس تشبیب میں پوری طرح سے جاہلی رنگ نمایاں ہے تواس کی وجہ یہ تھی کہ یہ قصیدہ دورِجاہلی اور دورِاسلام دونوں زمانوں کا احاطہ کرتا ہے ۔تشبیب کے اشعار کعب نے اسلام قبول کرنے سے پہلے کہے تھے ۔گویا قصیدے کا تشبیب والاحصہ دورِجاہلی میں شروع ہوا اور دورِاسلامی میں مکمل ہوا۔کعب نے دورِاسلام میں حسانؓ بن ثابت سے کم شاعری کی ہے ،لیکن جو کچھ کہا ہے وہ بڑے وقیع انداز میں کہا ہے۔اس دورمیں وہ شاعر کم، دین کے مخلص خادم اور مبلغ زیادہ نظر آتے ہیں۔

بجاطورپر کہا جاسکتاہے کہ مخضرمی شعرامیں کعب بن زہیر صفِ اول کے شاعروں میں ہیں ۔کعب کے قصیدوں میں بعض کمزوریاں بھی پائی جاتی ہیں ۔جیساکہ وہ بعض مقامات پر تراکیب کو پیچیدہ بنادیتے ہیں اور بعض اوقات طوالت سے بھی کام لیتے ہیں، جس کی طرف احمد حسن زیات نے بھی اپنی کتاب ’’تاریخ عربی ادب ‘‘میں اشارہ کیاہے لیکن یہ کمزوریاں اور خامیاں کعب کے ’قصیدہ بردہ‘ میں نظرنہیں آتیں۔اس قصیدے کو اتنی مقبولیت حاصل ہوئی کہ دوسرے شعرا نے بھی قصید�ۂ بردہ کے نام سے متعدد قصیدے لکھے۔جیسا کہ مصر کے امام البصیری نے ’قصید�ۂ بردہ‘ لکھاجو خاصا مقبول ہوا،لیکن قصائد بردہ میں اولیت وافضلیت کعب کے قصیدۂ بردہ کوہی حاصل ہے۔کیونکہ یہ براہ راست پیغمبراسلام ؐ کی خدمت میں پیش کیا گیا تھا اور اس پر آپ ؐ نے اپنی چادر کعب کو پیش کردی تھی۔
***
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“بانت سعاد” في مدح الرسول ﷺ

بانت سعاد فقلبي اليوم متبول

هذه بعض أبيات قصيدة عصماء في مدح الرسول ﷺ ، مدح بها كعب بن زهير بن أبي سلمى رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأتى مسلمًا وتائبًا عَمَّا كان منه من هجاء للمسلمين :

بانت سعاد فقلبي اليوم متبولُ

مُتيَّمٌ إثرها لم يفد مكبولُ

وما سعاد غداةَ البين إذ رحلوا

إلا أغن غضيض الطرف مكحول

أرجو وآمل أن تدنو مودتها

وما إخال لدينا منك تنويل

نُبئت أن رسول الله أوعدني

والعفو عند رسول الله مأمول

لا تأخذني بأقوال الوشاة ولم

أذنب ولو كثرت فيّ الأقاويل

إن الرسول لنور يُستضاء به

مهند من سيوف الله مسلول

وقد عرفت قصيدة مدح الرسول ﷺ هذه في تاريخ الأدب العربي بـ”البردة” لأن الرسول –عليه الصلاة والسلام- عندما سمعها استحسنها وخلع على كعبٍ بردته لتكون وسامًا لكعب على قصيدته التي أصبحت مَعلمًا، نحاول في عجالة استعراض أهميتها وأثرها:

1 – قصيدة “بانت سعاد” تكتسب أهميتها من ملابساتها التاريخية بما يفوق قيمتها الفنية التي لا نشكك فيها بالطبع، ولكنها تندرج في إطار القوالب العامة لقصائد الشعر الجاهلي؛ حيث حملت من أغراضه الغزل والنسيب والوصف والحماسة والمدح والاعتذار والحِكَم والأمثال، ومن ملامحه فخامة الألفاظ وقوة الجرس الموسيقي، وتسودها ملامح الحياة الصحراوية فترى فيها الرياح والرمال والجمال والسيوف. وهنا ملاحظة لطيفة وهي أن مؤرخي الشعر العربي يقولون: إن الشعر العباسي كان شعرًا نباتيًّا لما فيه من وصف الورود والخمائل والرياحين والبساتين، بينما الشعر الجاهلي كان حيوانيًّا؛ لما يكثر فيه من ذكر الخيول والجمال والظباء والكلاب..إلخ. ويكفي أن تعلم أن هذه القصيدة التي يبلغ عدد أبياتها ستين بيتًا كان نصيب الإبل منها عشرين بيتًا أي الثُلث، فإذا أضفنا ما ذكر فيها من حيوانات أخرى -كالفيل والأسد والظبي وغيرها- لكانت قصيدة “بانت سعاد” مصداقًا لهذه المقولة.. كما ننوه بأن هذه القصيدة على وزنٍ من أكثر الأوزان شيوعًا عند شعراء الجاهلية وصدر الإسلام وهو بحر البسيط ووزنه (مستفعلن فاعلن مستفعلن فاعلن) وقد نظم الشهابي هذا الوزن بقوله:”إذا بسطت يدي أدعو على فئةٍ .. لاموا عليك عسى تخلوا أماكنهم .. مستفعلن فاعلن مستفعلن فعلن .. فأصبحوا لا ترى إلا مساكنهم”.

2 – قبل أن نتكلم عن تأثير القصيدة، نتكلم عن تأثرها. فإن “بانت سعاد” تمثل نمط القصيدة الجاهلية، كما أنها متأثرة أيضًا بصورة مباشرة بعدد من قصائد الشعراء السابقين والمعاصرين لكعب بن زهير فللأعشى قصيدة يقول مطلعها: بانت سعاد وأمسى حبلها رابا .. وأحدث النأي لي شوقًا وأوصابا. وللنابغة الذبياني قصيدة يقول فيها: بانت سعاد وأمسى حبلها انجذما.. واحتلت الشرع فالأجزاع من إضما. ولطفيل الغنوي لامية يصف فيها محبوبته “شماء” بصفاتٍ تتطابق مع صفات سعاد كعب حيث يقول:

هل حبل شماء قبل البين موصول

أم ليس للصرم عن شماء معدول

إذ هي أحوى من الربعي حاجبه

والعين بالإثمد الحاري مكحول

إن تمسِ قد سمعت قيل الوشاة بنا

وكل ما نطق الواشون تضليل

فما تجود بموعود فتنجزه

أم لا فيأسٌ وإعراض وتجميلُ

ولا نريد الاسترسال في هذا الميدان الذي تكثر فيه الشواهد؛ لأن التأثير المتبادل بين شعراء العصر الواحد ظاهرة محسوسة تمليها طبائع الأمور؛ حيث تتشابه البيئة وتشترك التجارب وتفرض الأوزان والقوافي صبغتها على الموضوعات.

3 – قصيدة مدح الرسول ﷺ “بانت سعاد” تتفرد بين فرائد الشعر العربي بما أحدثته من تأثير على مر العصور. وظهر هذا التأثير في حرص عشرات الشعراء، إما على معارضة القصيدة أو الاستفادة من صورها أو ألفاظها حتى تكونت مكتبة شعرية وافرة وثرية بتأثير قصيدة كعب. ومن أشهر قصائد المدائح النبوية التي عارضت “بانت سعاد” لامية الحميدي التي مطلعها:

بانت سُليمى ففكر الصب مشغول

وقلبه من لظى الهجران مشغول

ولامية عبد الرحمن بن حسن:

لي في الهوى مذهبٌ ما عنه تحويل

وما لحبي تغيير وتبديل

ولامية النابلسي:

هل في البروق عن الأحباب تعليل

لا والذي ماله في الحكم تعليلُ

أما أشهر هذه المعارضات فهي لامية البوصيري التي يقول مطلعها:

إلى متى أنت باللذات مشغول

وأنت عن كل ما قدمت مسئول

فقد أشار في قصيدته إلى أنه يعارض بها قصيدة كعب، وأنه وإن وازن بها قوله فإنها لا تعادله في حسنه ولا تناظره، إلا كما تناظر المثاقيل ما يوزن بها من الدر، وهذا معنى جميل لم يسبقه إليه أحد إذ يقول:

لم أنتحلها ولم أغصب معانيها

وغير مدحك مغصوب ومنحول

وما على قول كعبٍ أن توازنه

فربما وازن الدرَّ المثاقيلُ

وهل تعادله حسنًا ومنطقها

عن منطق العرب العرباء معدول

ثم يقول بعد هذه الأبيات: إنه لما كان غرضهما واحدًا -وهو مدح الرسول (ص)- فلا بأس من أن يغلبه كعب، فهو إنما يقفو أثره للبركة التي نالته بسببها؛ حيث استحق بها عفو الممدوح وصان بها دمه:

وحيث كنا معًا نرمي إلى غرضٍ

فحبذا ناضلٌ منا ومنضولُ

إن أقف آثاره إني الغداة بها

على طريق نجاحٍ منك مدلولُ

لما غفرت له ذنبًا وصنت دمًا

لولا ذمامك أضحى وهو مطلولُ

رجوت غفران ذنبٍ موجبٍ تلفي

له من النفس إملاءٌ وتسويل

4 – هناك أيضًا من هذه الألوان التأثير العلمي في ميدان الأدب والثقافة الإسلامية، ويتمثل في المؤلفات التي خصصت على مر العصور لشرح قصيدة مدح الرسول ﷺ “بانت سعاد” والتي بلغت عددًا كبيرًا تناثرت وتفرقت في مكتبات العالم بين المخطوط والمطبوع، ولم يبق منه سوى الذكر. على أية حال؛ فالمتوافر الآن من هذه الشروح حوالي خمسين، اختلفت في منطلقها ومنظورها إلى القصيدة؛ فمنها الشروح اللغوية مثل شرحِ السكري وشرح الخطيب التبريزي وشرح الأنباري وغيرها… والشروح النحوية كشرح البغدادي وشرح ابن هشام وغيرهما … والشروح الأدبية وأهمها شرح السيوطي المسمى “كنه المراد في بيان بانت سعاد” وشرح جمال الدين بن هشام، ثم الشروح التي جنحت إلى النهج الصوفي مثل شرح الشيخ القدسي “الإسعاد في تحقيق بانت سعاد” وكذلك شرح محمد القاري وغيرهما… ولكم أن تتخيلوا حجم ما أضافته هذه الشروح للمكتبة العربية من مسائل وشواهد وآراء.

5 – من الأثر الشعري لهذه القصيدة الشهيرة في مدح الرسول ﷺ نجد، بالإضافة للمعارضة، تشطير أبيات القصيدة وتخميسها، ومن التشطير قول الشاعر:

بانت سعاد فقلبي اليوم متبول

مدله حائرٌ والعقل معقول

معذبٌ في هواها هائمٌ دنِفٌ

متيمٌ إثرها لم يفد مكبولُ

ومن التخميس قول الشاعر:

قلبي على حب من أهواه مجبول

ونقل شوقي لدى العشاق مقبول

يا لائمي خلني فالعقل مخبول

بانت سعاد فقلبي اليوم متبول

فإذا انتقلنا إلى الطرائف الأدبية والمُلح الشعرية نجد العديد من أرباب الفنون قد وظفوا القصيدة لنظم علومهم؛ فعلى سبيل المثال نظم بعض علماء مصطلح الحديث:

يا من حديث غرامي في محبتهم

مسلسل وفؤادي منه معلولُ

حبي صحيحٌ ومقطوعٌ به ألمي

عشقي حديثٌ قديم فيك منقول

ونظم بعض علماء النحو:

إن ميزوني بعطفٍ فهو بغيتهم

وإن هم خفضوا دمعي فمحمول

هم عرفوني وكان الحال نكرني

فكيف أصرف وجدي وهو معدولُ

وهناك من استعرض سور القرآن الكريم من خلال لامية معارضةٍ لكعب فكان مما قال:

تجمعوا زمرًا في كل واقعةٍ

إلى القتال وجيش الكفر مخذولُ

وبالحديد فكم أبدوا مجادلةً

للكافرين وسيف البغي مفلول

تبارك الله سبحان الإله لقد

وافاه بالنصر عند الصف جبريلُ

والحقيقة أن التوسع في ذكر الأمثلة يحتاج إلى مجلدات، ولكن لا يفوتني هنا -من باب الدعابة – أن أنقل للمشاهد مثالاً لقصيدة لامية شطر فيها “الخفاجي” “بانت سعاد” وحشد في تشطيره ألفاظًا معجميةً غريبة فكان مما قال :

ولن يبلغها إلا عذافرةٌ

صلخدمٌ عسلٌ سجحاء عيهول

قصية شيظمٌ علطوس ساهمةٌ

لها على الأين إرقالٌ وتبغيلُ

غلباء وجناء علكوم مذكرةٌ

عرفاس عرمس ما في اللحم ترهيل

6 – هناك شبهة مثارة حول العاطفة الدينية والروح الإسلامية لكعب بن زهير ومصدر إثارتها سببان: الأول المقارنة بينه وبين سائر شعراء الرسول -صلى الله عليه وسلم- كحسان بن ثابت وعبد الله بن رواحة رضي الله عنهما وهذه مقارنة غير منصفة لكعب، فهؤلاء من أصحاب السبق والصحبة أسلموا مبكرًا واقتربوا من رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وصاحبوه طويلا وشهدوا مواقع الإسلام الكبرى وعاصروا نزول القرآن وأنشدوا الكثير من الأشعار التي تؤرخ لعصر النبوة، كانت العقيدة روحها، أما كعب فقد تأخر إسلامه إلى ما بعد الفتح، فلم ينل مثل ما نالوه من الشرف والرفعة، ولم يُتح له أن يسهم مثلما أسهموا بشعرهم في الدفاع عن الإسلام وبيان مبادئه.

أما السبب الثاني لهذه الشبهة فهو أن هؤلاء النقاد يحكمون على كعب فقط من خلال لاميته “بانت سعاد” بينما الرجل له أشعار أخرى تؤكد عاطفته الدينية؛ فهو القائل:

فأقسمت بالرحمن لا شيء غيره

يمين امرئٍ برٍ ولا أتحللُ

لأستشعرن أعلى دريسي مسلمًا

لوجه الذي يحيي الأنام ويقتل

ويقول: أعلم أني متى ما يأتني قدري

فليس يحبسه شحٌ ولا شفقُ

وقوله: لعمرك – لولا رحمة الله- إنني

لأمطو بجدٍ ما يريد ليرفعا

كما أن البردة نفسها لا تخلو من تعبيراتٍ ومضامين إسلامية في مواطن عدة على رأسها تكرار وصفه ومناداته للنبي -صلى الله عليه وسلم- وكان مقام الاعتذار والاسترحام يقتضي -ما لم يكن مؤمنًا صادقًا- أن يقول يا سيد العرب أو يا سيد قريش .. ثم انظر إلى حديثه عن القدر في قوله:

كل ابن أنثى وإن طالت سلامته

يومًا على آلة حدباء محمول

وقوله: “فكل ما قدر الرحمن مفعول”

وحديثه عن جهاد الصحابة في عدة مواطن منها:

إن الرسول لسيف يُستضاء به

مُهند من سيوف الله مسلول

وتعرجه على ذكر الهجرة النبوية المباركة بقوله:

في عصبةٍ من قريشٍ قال قائلهم

ببطن مكة لما أسلموا زولوا

هذه فقط بعض الأدلة على بطلان الشبهة التي تقدح في حسن إسلام كعب بن زهيرٍ رضي الله عنه­.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Hakeem Qari Younas

Assalam-O-Alaikum, I am Hakeem Qari Muhammad Younas Shahid Meyo I am the founder of the Tibb4all website. I have created a website to promote education in Pakistan. And to help the people in their Life.
View All Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *