ایلوپیتھی اورہومیوپیتھی علاماتی علاج ہیں

ایلوپیتھی اورہومیوپیتھی علاماتی علاج ہیں

ایلوپیتھی اورہومیوپیتھی علاماتی علاج ہیں

ایلوپیتھی اورہومیوپیتھی علاماتی علاج ہیں
ایلوپیتھی اورہومیوپیتھی علاماتی علاج ہیں

ایلوپیتھی اورہومیوپیتھی علاماتی علاج ہیں
از:مجدد الطب

پیش کردہ:حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

اس میں کوئی انکارنہیں ہےکہ فرنگی طب(ایلوپیتھی)میں ماہیت مرض اورحقیقت ِاسباب پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ مگرعلاج کی صورت میں عملی طورپرکوشش صرف یہ کی جاتی ہےکہ مریض کوصرف علامات تکلیف دے رہی ہیں ان کو رفع کردیا جائے۔مثلاً کہیں جسم میں سوزش وبخاریا کوئی بھی علامت ظاہرہوتواس کودورکرنے کی کوشش کی جاتی ہے چاہےاس کے رفع کرنے سے مریض کوکتنی ہی تکلیف ہویامرجائےیاہمیشہ کےلئے ناکارہ ہوجائےمگران کی کوشش یہی ہوتی ہےکہ وہ علامات دورہوجائیں اوراس پرفخرکیاجاتاہے۔ اوریہ سب کام مسکنات ومخدرات اور منشیات سے کیاجاتاہے۔تقریباً تمام ادویات نشہ آورہیں۔ اورہومیوپیتھی میں نہ امراض کانام ہے اورنہ ان کےاسباب کاذکرہے اور نہ ہی علم الغزاکی حقیقت پربحث ہے۔ صرف علامات ہی علامات ہیں اورانہیں ہی رفع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔یہ صرف خواص الادویہ کاایک خاص طریقہ علاج ہےاس لئے اس سے مکمل اورکامیاب علاج نہیں ہو سکتا۔

علم الامراض اور علامات

علم الامراض دراصل علم وفن طب کی جان ہے۔جب تک علم الامراض پرپورا پورا عبورحاصل نہ ہواس وقت تک کوئی انسان پورے طور پرمعالج کہلانے کامستحق نہیں ہوسکتا اورنہ ہی صحت کی پوری حفاظت کرسکتاہے۔اس لئے یہ امرذہن نشین کرلیں کہ اس علم کے بغیرہم کسی مرض کاپوری طرح علاج نہیں کرسکتے ۔مثلاً ایک مریض کسی معمولی مرض کی شکایت کرتاہے جیسے بدہضمی۔ظاہرمیں یہ معمولی تکلیف ہے لیکن اہل فن جانتے ہیں کہ اس تکلیف کاتعلق پورے نظام اغذیہ سے ہے جومنہ سے لے کرمقعدتک پھیلاہواہے۔اس میں منہ ودانت،معدہ وامعاء، جگر و طحال اور لبلبہ شریک ہیں اور ان کے علاوہ دیگر نظام ہائے جسم کابھی ان پراثرہےجیسے نظام ہوائیہ،نظام دمویہ،نظام بولیہ۔یہ تمام مرکب نظام ہیں جو جسم کے مفرداعضاء کے نظام کے تحت کام کرتے ہیں ۔1)۔نظام عصبی(2)۔نظام عضلاتی ۔ (3)۔نظام غدی۔ان مفرداعضاءکی تدوین بے شمارمختلف حیوانی ذرات، خلیات(Tissues)سے عمل میں آئی ہے۔جب تک نظام ہضم کی صحیح خرابی کامقام وسبب اوردیگراعضاء کا تعلق سامنے نہ آجائے اس وقت تک اس معمولی بدہضمی کاصحیح معنوں میں علاج نہیں ہوسکتاصرف ہاضم ومقوی معدہ اور ملین ومسہل ادویات کا استعمال کردینا علاج نہیں کہلاسکتا اور ایساکرناعطیانہ علاج ہوگاچاہے پیٹنٹ Patent))ادویات اورانجکشنوں سے کیوں نہ کھیلاجائے یہ مریضوں پرظلم ِعظیم اور فن علاج کی بدنامی ہے۔

علم الامراض کی حقیقت کوذہن نشین کرنے سے قبل انسان کوعلم تشریح الابدان،علم افعال الاعضاءاور علم افعال نظام ہائےجسم کاپوری طرح علم ہونا چاہئے ۔یعنی صحت کی حالت میں اعضاء کی صورت اورمقام اوران کے صحیح افعال اور نظام ہائےجسم کے حقیقی اعمال کی مکمل کیفیت کیسی ہوتی ہے اس کےبعدجسم انسان کے جس حصہ میں کسی قسم کی کوئی خرابی واقع ہوجائے گی توفوراًاس کے بارے مرض کی پوری حقیقت ذہن نشین ہوجائے گی۔

علم الامراض کی تعریف

یہ ایک ایساعلم ہےجس سے ہرمرض کی ماہیت اورحقیقت اس طرح ذہن نشین ہوجاتی ہے کہ مرض کی ابتدااس کی شکل وصورت ،جسم کی تبدیلیاں، خون میں تغیرات،خراب مادوں کی پیدائش اور ان کے نظام کاپورانقشہ سامنے آجاتاہے۔اس کوانگلش میں پتھالوجیPathology))کہتے ہیں۔

حقیقت ِ مرض

مرض بدن کی اس حالت کانام ہے جب اعضائے بدن اورمجاری(راستے)اپنے افعال صحیح طورپرانجام نہ دے رہے ہوں۔یہ صورت جسم کے تمام اعضاء اور مجاری یاکسی ایک عضواور مجرامیں واقع ہوجائےمرض کہلاتاہے۔ گوہر حالت میں مرض کی دو صورتیں سامنے آئیں گی۔اول عضو کے فعل میں خرابی ہونااوردوسرے خون میں تغیرپیدا ہوجانا۔اول صورت کانام مشینی(Mechanically)خرابی اور دوسری صورت کانام کیمیائی(Chemically) نقص ہو گا ۔

مشینی افعال

مشینی افعال کی تشخیص کےلئےاول نظام ہائے جسم پرمرکب اعضاء اورآخر میں مفرداعضاء پرغورکرنے کے بعد ان کے افعال کی کمی بیشی کومدنظر رکھنا چاہئے

کیمیائی افعال

کیمیائی اثرات کےلئے کیفیات واخلاط کے ساتھ ساتھ ان کےاجزاءئے حرارت وہوااور رطوبت کی کمی بیشی اور تغیرات کاجاننا ضروری ہے تاکہ مشینی افعال کے ساتھ کیمیائی اثرات کے توازن کااندازہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.