انسانی صحت اور فٹنس کےمتعلق غلط تصورات

انسانی صحت اور فٹنس کےمتعلق غلط تصورات

انسانی صحت اور
فٹنس کےمتعلق غلط تصورات

انسانی صحت اور فٹنس کےمتعلق غلط تصورات
انسانی صحت اور
فٹنس کےمتعلق غلط تصورات

انسانی صحت اور
فٹنس کےمتعلق غلط تصورات۔
تحریر حکیم قاریئ قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کاہنہ نو لاہور

سب سے پہلے ایسے غلط تصورات سے چھٹکارا حاصل کریں جو خوامخواہ لوگوں کے ذہنوں پر چھائے ہوئے ہیں ۔ اگر اپنے جسم کو سڈول اور متناسب بنانا چاہتے ہیں تو آپ کوصحیح اورسائینسی بنیادوںپر رہنمائی کی ضرورت ہے نہ کہ بڑی بوڑھیوں اور من گھڑت تخیلات کے حوالے سے پھیلی ہوئی بے سروپا کہانیوں کی جنہیں لوگ صدیوں سے اپنے ورزشی کےطورطریقوں پر مسلط کئے ہوئے ہیں۔ جب آپ کو پتہ چلے گا کہ نام نہاد رہنما اصول کس قدر بودے اور فضول ہیں تو اندازہ ہو جائیگا کہ دراصل ورزش تنی آسان اور پر لطف ہے ۔ آنے والی سطور میں ایسے ہی واہموں کی اصلیت کھول کر بیان کی جائے گی۔

ورزش کے دوران کوئی چیز پینی نہیں چاہیے

اس سے غلط شاید اور کوئی بات نہ ہو۔ جبکہ پانی پینے کے لیے تو پیاس کا بھی انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ اگر آپ محسوس ہو کہ جسم میں پانی کی کمی ہوتی جارہی ہے تو فورا اسُے پورا کریں۔ علی الصبح جو پہلا کام آپ کریں وہ ورزش ہو تو پانی کا ایک گلاس پینا نہ بھولیں۔
جسم کےخلیے توانائی کے حصول اور فاسد مادوں کے اخراج کے لیے دوران خون پر انحصار کرتے ہیں ،جب آپ کے جسم میں پانی کم ہو جائے تو وہ مائع جوخلیوں کو تر و تاتر رکھتاہے کم ہو جاتا ہے نتیجتا جب تک یہ مائع پھرسے بحال نہیں ہو جاتا، خلیے اپنا کام کرہی نہیں سکتے لہذاآپ کے پٹھے بھی مطلو ب کارکردگی سے محروم ہوجاتے ہیں اور دل پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ جس مائع کے ضیاع کا اوپر ذکر ہوا ہے وہ خون کے مائع کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ تو اس کامطلب یہ ہوا کہ اب دل کووہ کمی پوری کرنے کے لیے اتناہی زیادہ کام کرنا پڑیگا تا کہ دوران خوان رواں رہ سکے۔ ظاہر ہے یہ تمام کسی صورت بھی مفید نہیں ۔ اور اس سے بچنا چاہیے۔

ورزش سے قبل شکر کا استعمال توانائی بڑھاتا ہے

کسی مقا بلے با ورزش سے پہلےشکر کا استعمال فائدے کی بجائے الٹا نقصان پہنچا سکتا ہے حتی کہ شہد اور آب لیموں جیسی فائدہ منداشیاء بھی ایسی ہی ثابت ہوتی ہیں۔ تجربات شاہدہیں کہ میٹھی چیزوں سے انسولین پرایسا ردعمل وجود میں آتا ہے کہ جس سے کہ پٹھوں کو ملنے کی بجائےجگر میں جا کر جمع ہو جاتی ہے۔ جس سے پٹھےکارکردگی کھانے کے قابل ہی نہیں رہتے جس کی ان سے توقع ہوتی ہے۔ ہاں البتہ هایک صورت ایسی
ضرور ہے جبکہ آپ کو شکر کی اتنی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس میںکمی ہوچکی ہوتی ہے اور وہ ہے گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے کی مسلسل ورزش جیسے کہ میراتھن روز (26 کلومیٹر) کالف اور ٹینس میچ۔ور نہ زائد کبھی بھی زائد توانائی کا باعث نہیں بنتی ۔

ورزش سے قبل چند اشیاء سے پرہیز کریں،

انسانی جسم کی ک کارکردگی جانچنے والی لیبارٹریوں میں بے شمار تجربوں سے ظاہر ہوا ہے کہ
اسی قسم کی خوراک سے آپ کی کارکردگی یا بہتری کے احساس میں بال برابر فرق بھی نہیں پڑتا۔ ہم نے اس موضوع پر دستیاب تمام لڑیچرکھنگال ڈالا ہے اورنام نہاد ممنوعہ خوراک مثلا ثقیل گیس پیدا کرنے والی چٹ پٹے مصالحوں والی غرض ہرقسم کی خوراک
ایتھلٹیووں کو کھلا ئی لیکن نہ تو لیبارٹری اور نہ ہی کھیل کے میدان میں ان کی کارکردگی پر کوئی خاطر خوا ہ اثرہوا،اور نہ ہی ان ممنو عہ ا شیاء کے استعمال سے کوئی بیمار پڑا۔

تیراکی سے قبل کچھ نہ کھائیں۔

ہمیں آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ بات کیسے پھیلی ہے کیونکہ نہ ہی سائنس اور نہ ہی روایتوں میں کہیں اس کا سراغ ملتا ہے ۔ اس سلسلے میں دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اگر تیرنےسے پہلے کوئی چیز کھائی جائے توتشنج یااکٹرائو کا دورہ پڑنے سے ڈوبنے کا اندیشہ ہوتا ہے جب کہ حقیقت میں ان ایساشاید دل کا دورہ پڑنے سے ہوتا ہو۔
مذکورہ بالا و ا ہمے کی سائنسی توضیح یوں گھڑی گئی ہے کہ تیرنے سے پہلے کچھ کھالیا جائے تو سارا خون آنتوں کی جانب جانا شروع ہو جا تا ہے اور پٹھوں کو خون کی قلت ہو جاتی ہے اور ردعمل کے طور پردل زیردبائو ہو جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی ورزش شروع کی جائے خون کا رخ آنتوں کی جانب بند ہو کر پٹھوں کو با افراط مہیا ہونے لگتا ہے لہذا کسی بھی قسم کے تشنج کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ بلکہ میں ایک ایسے عالمی شہرت یافتہ ایتھیلیٹ کو جانتا ہوں جس نے اولمپک مقابلے سے قبل ایک برگر چار کینڈی کئی بار کھائیں اور ساتھ ہی ایک کوک پیا معاََ بعد اس نے دوڑ میں ا پنا اولمپک ر یکارڈ توڑ دیا۔
لیکن اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ تیرنے سے پہلے آپ کو ڈٹ کر کھانا چاہے کیونکہ کھانے کے بعد کوئی بھی وقت طلب ورزش کرنے سے آپ کومتلی تو ہوسکتی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ ہاں البتہ آپ کسی بھی تیراکی کے گرم تالاب میں خوب جی بھر کر چہل قدمی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں ۔ جب تیراکی سے قبل کچھ ہلکا پھلکاکھا لینے میں کوئی حرج نہیں۔

تھکاوٹ سے دینے کے لیے نمک کی گولی استعمال کریں

ہرگز ہرگز نہیں نمک کی گولی کھانا، نہ کھانے سے نہیں نا مناسب ہے۔ یہ درست ہے کہ ز بر دست پسینہ آنے سے پٹھوں میں اکڑائو کی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے۔ جس کو رفع کرنے میں تمک مفید ہے ۔ لیکن نمک کی گولی ایک ٹھوس چیز ہے جو معدے کی اندرونی جھلی پر اثر کرکےمتلی اور قے کا باعث بن سکتی ہے۔
اگر آپ کو یہ اندیشہ ہوکہ کسی ورزش مقابلے کے دوران بہت پسینہ آئے گا تواس سے پیشتر آپ کھانے کے ساتھ ذ رازیادہ نمک استعمال کر سکتے ہیں۔ مقابلے کے دوران آپ پانی میں نمک ملا کر پی سکتے ہیں یا کوئی پھل نمک پاشی کر کے کھا سکتے ہیں۔ بلکہ کسی بھی جسمانی کام کے بعد ایک حد تک نمک کا استعمال مفیدثابت ہوتا ہے لیکن اسکی زیادتی سے بچیں ۔ بس اتناہی نمک جسم کو دیں جنتا پسینہ آنے سے خارج ہو گیا ہو جسم نمک کی کاذ خیرہ نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔
لہذا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی زیادتی تشنج یا اکڑائےو اور پٹھوں کی کمزوری پیدا کرسکتی ہے۔جس سے بچنے کےلئے آپ نمک کا استعمال کررہےہیں۔۔۔۔۔دراصل نمک کی فالتو مقدار خون کو پتلا کرکےجسم سے خارج کرنے کے لئے خلیوں سے پانی نکل نکل کر نضام ہضم کے ذریعہ خون میں شامل ہونا شروع ہوجاتا ہے۔اورخود خلیوں میں مائعات کی کمی واقع ہوجاتی ہے،اور وہ کشک ہوکر تشنج کی کیفیت پیدا کردیتے ہیں۔یہ بات تو آپ کے مشاہدے میں بھی آئی ہوگی کہ گوشت کو سکھانے کےلئے نمک کے محلول میں ڈبوتے ہیں۔جس سے وہ جلد خشک ہوجاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.