امراض دندان و مسوڑھے

امراض دندان و مسوڑھے

امراض دندان و مسوڑھے

امراض دندان و مسوڑھے
امراض دندان و مسوڑھے

امراض دندان و مسوڑھے

تحریر:۔حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

دانتوں پر میل جمنا
اردونام :دانتوںکی میل طبی نا م:خضر ڈاخٹری نام: ٹارٹارد.
تعارف:دانتوں پر میںتعارف کا محتاج نہیں ہے کیونکہ ہر شخص
دانتوں کےحسن سے واقف ہے سفید دانت توموتیوں کی طرح چمکتے ہیں۔ لیکن اگر ان پر کسی قسم کی میل جمنا شروع ہوجائے تو ان کا حسن جاتارہتاہے
منہ سے بدبوآنے لگتی ہے دانتوں کی یہی میل بڑھتے بڑھتےمسوڑھوں کو ان کی جڑوں سےہٹانا شروع کردیتی ہے جس سے دانتوںجڑیں کمزور ہوجاتی ہیں او ردانٹ بلنے لگتے ہیںآہستہ آہستہ ایک ایک ہوکر گرنے لگتے ہیںبعض دفعہ مسوڑھوں میں پیپ پڑ جاتی ہے جس کی زہرمعدہ میںا ترکر خون میںجذبہوجاتی ہے جوکئی قسم کی تکالیف کا سبب بنتی ہے
اسباب- :
۔ دانتوںپر میل اسی وقت جم جایاکرتی ہے جب انہیں باقاعدہ صاف نہیں کیا جاتاخون میں تیزابی مادہ پڑھنے سے بھی دانتوں پرمیل جم جا تی ہے۔
علاج:مسواک یا برش کریں۔منجن سے دانت صاف رکھیںاگرمسوڑوں کے اوپرپتھر کی طرح میل جم چکی ہوتو کسی دندان ساز سے صاف کرائیں.. اگر مسوڑوں کو زخمی کر دیا جائے عضلاتی ملین دانتوں اور مسوڑھوں پر لگائیں۔
میل جمنے کے اسباب:
چونکہ تیزابی مادہ بڑھ کرداندتوںپر میل جمنے کا سبب ہوتا ہے ۔دانتوں کی صفائی کے لئے ایسا نسخہ بنائیں جن میں نمکیات ہوں۔یا کم از کم کھانے کا نمک ضرور شامل کرلیاجائے۔تاکہ تیزابیت کا تدارک کیا جاسکے۔ ایک نسخہ حاضر خدمت ہے۔
ہوالشافی ،اجوائن دیسی ، نمک طعام ، دنداسہ ۔ برابروزن. سب کو باریک پیس کر محفوظ کرلیں ایک ماشہ دوالیکر مسوڑھوں، دانتوں پر لگادیا کریں کچھ دیر بعد کلی کرکے منہ صاف کرلیا کریں ان شا اللہ منہ سے بدبو ،پایوریا،دانت درد مسوڑھوں کا پھولنا وغیرہ کے لئے نہایت مفید ہے. ۔
مسوڑھوں کی سوجن:
تعارف:۔ دانتوں اور مسوڑھوں کی جڑوں کے اردگرد مسوڑھے سوج جاتے ہیں ان میں شدید درد ہوتا ہے کھاناکھانے اور دادغیرہ کھانے کیلئے منہ کھولنا دشوار ہوجاتاہے
بچوںمیں موسوڑھوں کی سوزش سے قے آنے لگتے ہیں بعض دفعہ اتنا ورم ہوجاتا ہےکہ دماغ میں ورم ہوکر سرسامی علامات پیدا ہوجاتی ہیں۔
اسباب:
دانتوں کی جڑوں میں پتھرکی طرح میل جمنا م،سوڑھوں کو زخمی کردیتا ہے مرض سکروی موسوڑھوں میں بھی مسوڑھوں سے خون آتا ہے۔پارے کے مرکبات سے بھی یہ علامات ظاہر ہوجاتی ہیں۔بچوں کے دانت نکلتے وقت بھی خون آنے لگتا ہے

خاص بات:
مسوڑھے عضلات کا مجموعہ ہوتے ہیں جب ان میں سوزش یا ورم ہوتا ہے تو اس وقت عضلاتی تحریک زوروں پر ہوتی ہے۔شدید قبض،خون میں ترشی و تیزابیت کی کثرت بھی مسوڑھوں میں ورم کا سبب بن سکتی ہے،
علاج:کوئی دانت کراب ہوتو اس کی اصلاح کریں،اگر ٹھیک نہ ہوسکے تو اسے نکلوادیں،قبض کا ازالہ کریں۔بچوں کے دانت نکل رہے ہوں تو سہاگہ اور خالص شہد ملاکر ذرا ذراسا مسوڑھوں پر ملیں۔اگر سوجنکی وجہ سے دانت نہ نکل رہے ہوں تو متورم مسوڑھوں کو شگاف دے خون نکادیں۔

اصول علاج:

قانون مفرد اعضا کااصول علاج یہ ہے کہ عضلاتی تحریک زوروں پر ہوتی ہے لہذا متورم مقام پر خصوصا مسوڑوں پر غدی عضلاتی ملین لگانے اورکھانے کو دیں اگر قبض ہوتو غدی عضلاتی مسہل کھانے کودیںاگر شدید ورم ہوتو مسوڑھوں پر جونکیں لگوائیں یہ شربت بھی مفید ہے اس کے نادرونی استعمال سے خون کا دبائو کم ہوکر ختم ہوجاتا ہے
ہوالشافی ..عناب، شاہترہ . فلفل سیاہ، چینی بطریق معروف شربت بنائیں۔ دو سے تین تولہ دن میں پانی میں منلاکر دیں اللہ شفا دے گا۔

مسوڑھوں سے پیپ آنا:
اردو نام: مسوڑھوں کے زخم۔۔۔۔طبی نام۔۔۔قروح لثہ۔۔۔ڈاکڑی نام۔۔۔پائیوریا۔

تعارف:مسوڑھوں کی ایسی تکلف ہے جس میں مسوڑھے سوج جاتے ہیں،دانتوں کی جڑوں میں پیپ پڑجاتی ہے،چھوٹے چھوٹے سوراخوں سے نکلتی ہے جسے ناسور کہتے ہیں۔ یہ تکلیف میں اکثر لوگوں کو ہوجاتی ہے۔ اگر شدید نہ ہوتو پروا نہیں کی جای۔جب کہ یہ مرض خطرناک صورت اختیار کرسکتی ہے۔یہ سب کچھ بے احتیاطی دانتوں کی آصفائی سے غفلت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔اگر مسلسل دانتوں پر توجہ نہ دی جائے تو خون رسنا شروع ہوجاتا ہے۔۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.