الحریر۔ریشم silk

الحریر      ۔ریشم      silk

الحریر۔ریشم         silk
الحریر۔ریشم silk

39 الحریر۔ریشم silk

تحریر :حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

ریشم کا لباس ایسا ہے جس کے بارہ میں قران و حدیث میں بار بار ذکر آیا ہے۔سورة الدھر
عٰلِیَہُمۡ ثِیَابُ سُنۡدُسٍ خُضۡرٌ وَّ اِسۡتَبۡرَقٌ ۫ وَّ حُلُّوۡۤا اَسَاوِرَ مِنۡ فِضَّۃٍ ۚ وَ سَقٰہُمۡ رَبُّہُمۡ شَرَابًا طَہُوۡرًا ﴿۲۱﴾
ان کے جسموں پر سبز باریک اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنگن کا زیور پہنایا جائے گا اور انہیں ان کا رب پاک صاف شراب پلائے گا ۔احادیث مبارکہ میں مختلف احکامات مذکور ہیں۔لیکن خاص طبی اور جنگی ضروریات کے پیش نظر رشیم کے استعمال کو مباح رکھا گیا ہے
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی الله عنہما نے ایک غزوہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جوؤں کی شکایت کی، تو آپ نے انہیں ریشم کی قمیص کی اجازت دے دی، انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے ان کے بدن پر ریشم کی قمیص دیکھی۔تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری$1۱۲۷، ۱۸۰، ۲۱، ۲۵۵، ۲۷۳) (صحیح)قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3592)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1722۔جہاں کہیں رشیم کی ممانعت مذکور ہے اس جگہ مختلف وجوہ موجود ہیں،ہمارا موضوع طبی فواید لکھنا ہیں۔طبی میدان میں ریشم کے مرکبات عام ہیں اسے گرمیوں مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔،زخموں پر رشیم کے مفید اثرات ہوتے ہیں اس لئے قدیم لوگ زخموں کو سینے کے لئے ریشم کا دھاگہ استعمال کرتے تھے،مذکورہ سطور میں جنگی ضروریات کے لئے ریشمی لباس کی اجازت دی گئی ہے۔اگر حاذق معالج کسی مریضکے لئے رشمی لباس تجویز کرتا ہے تو اسے شرعی طورپر اجازت ہے۔اس کے علاوہ آج کل الرجی کا دور دورہ ہے،اگر ریشم کا لباس کا استعمال کیا جائے تو امید ہے کہ مفید نتائج سامنے آئیں گے کیونکہ الرجی التہابی مرض ہے اور ریشمی کپڑا ٹھنڈا ہوتا ہے،لازمی طورپر طبی فوائد حاصل ہونگے
شرعی احکامات کے لئے کسی متدین عالم سے رجوع کرلیاجائے۔
ابرایشم۔ایک کیڑے کا گھر ہے۔اعصابی غدی ہے۔محرک دماغ و اعصاب ۔ دافع سوزش جگر و کلیہ و امعاء۔مخرج صفراء و بول مقوی ارواح ہے۔جگر و گردوں کو صاف کرتی ہے سینہ و امعاء کی سوزش کو دور کرکے پیچس وکانسی نزلہ کی جلن دور کرتی ہے۔روح کی بے چینی دور کرکے فرحت دیتی ہے ۔ خارش والے اگر ریشم کا کپڑا پہنیں تو جوئیں اور خارش کے لئے نافع ہے ۔ جلایا ہوا ،اکتحالا خارش چشم کو دور کرتا اور زخم کو بھرتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابریشم کی خاصیت اور فوائد

( عربی ) حریر ( فارسی ) ابریشم ( سندھی ) پٹ ( انگریزی ) سِلک ایک قسم کا کیڑا ہے جو شہتوت کے درخت پر ہوتا ہے اپنے لعاب دہن سے گھر بناتا ہےاس گھر کو کویہ کہتے ھیں جس کو ابریشم خام کہتے ہیں ۔
رنگ ۔زرد اور سفیدی مائل۔
ذائقہ ۔پھیکا اور بد مزہ قدرے بو آتی ہے ۔
مزاج ۔تر گرم
فوائد۔ابریشم عرق گاوزبان میں ملا کر میٹھا کر کے تھوڑا تھوڑا پلانا کھانسی کےلئے مفید ہے اور خارش چشم میں بطور سرمہ استعمال کرنا مفید ہے.ابریشم کو قوت باہ کےلئے بھی استعمال کرایا جاتا ھے ایک حصہ ابریشم دو حصہ شہد ملا کر روزانہ قوت مردمی کے لئے نافع ہے
ضعف دماغ و اعصاب میں مفید ھےاور جوئیں پیدا نہیں ھوتیں،جلا ھوا ریشم بہتا خون روکتا ھے
دل کو تسکین پہنچاتا ھے،بطور سرمہ آنکھ کی خارش دور کرتا ہے
طب یونانی کاخمیرہ ابریشم حکیم ارشد والا بہترین مرکب ھے

مصنوعی خون کی نالیوں میں رشیم کا استعمال

رشیم قدرت کا انمول تحفہ ہے زمانہ قدیم سے انسانی استعمال میں آنے والی چیز ہے۔انسانی تاریخ میں رشیم سے بہت سے طبی فوائد حاصل کئے،قدیم لوگوں کی طرح طب جدید میں بھی ریشم کی طبی افادیت کم نہ ہوئی اورمصنوعی خون کی نالیوں کو بنانے کے لئے استعمال کیا۔ ریشم وہی پروٹین ہے جیسے انسانی کیراٹین اور کولیجن ، اور اس کی ساخت بہت مماثل ہے ، لہذا اس میں عمدہ انسانی حیاتیاتی مطابقت موجود ہے۔ شہتوت ریشمی مصنوعی خون کی نالیوں سے جسم میں الرجی یا کارسنگوجنسی نہیں ہوتی ہے۔ وہ زندہ گوشت اور خون سے بھی جڑ سکتے ہیں اور اسی بیرونی دیوار اور اندرونی جھلی میں بڑھتے ہیں جیسے حقیقی خون کی وریدوں کی طرح ہیں۔ چین نے 1957 کے اوائل میں شہتوت کے ریشمی مصنوعی خون کی نالیوں کو تیار کرنا شروع کیا ، اور طبی استعمال کے لئے اس کی کوشش کی۔ مصنوعی خون کی نالیوں کی مختلف اقسام تیار کی گئی ہیں

ریشمی کپڑے پہننے کے کیا فوائد ہیں؟

حالیہ برسوں میں سائنسی تحقیق کے ذریعے لوگوں کو پتہ چلا ہے کہ ریشمی کپڑے صحت کی اچھی دیکھ بھال اور بیماریوں کے علاج کے افعال رکھتے ہیں۔ ریشم ایک پروٹین فائبر ہے۔ ریشم ی ریشہ دار میں 18 قسم کے امینو ایسڈ ہوتے ہیں جو انسانی جسم کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں، جو جلد کو سطح کی لپڈ جھلی کے میٹابولزم کو برقرار رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں، اس لیے یہ جلد کو نم اور ہموار رکھ سکتا ہے. اس کے علاوہ جلد کی بعض بیماریوں پر بھی اس کا معاون علاج اثر ہوتا ہے۔
طبی کارکنوں نے انسانی جسم کے مختلف حصوں کی ضروریات کے مطابق ریشم سے مختلف کپڑے بنائے اور خارش والی جلد کے 30 مریضوں کو علاج کے لیے منتخب کیا۔ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ خالص ریشمی کپڑے بیرونی ادویات کی ضرورت کے بغیر بہتر نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔
ریشمی بستر
. بستر پر بستر پر ملبوس مریض کے بستر پر درد ہونے کے بعد اگر ریشم کے بستر کی چادریں اور ریشمی انڈرویئر استعمال کیا جائے اور متاثرہ جگہ کو
ریشم سے لپیٹ ا جائے تو یہ پانی جذب کر سکتا ہے اور اس کے بخارات کو فروغ دے سکتا ہے جس سے متاثرہ جگہ برقرار ہو سکتی ہے اور زخم کی شفا میں تیزی آ سکتی ہے
.
ریشمی کپڑوں کے فوائد
ریشمی کپڑے انسانی جلد کو سورج کی الفشی شعاعوں سے بھی بچا سکتے ہیں۔ ریشم کے کیڑا سے خارج ہونے والا برف سفید ریشمی تھوک بتدریج زرد ہو جائے گا جب اسے الفشی شعاعوں کا واسطہ ہو گا۔ وجہ یہ ہے کہ ریشم سورج سے الٹرابشی شعاعوں کو جذب کرتا ہے۔ طبی عام عقل لوگوں کو بتاتی ہے کہ ضرورت سے زیادہ الفشی تابکاری انسانی جلد کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ اس لیے ریشمی ریشے کی الٹرابشی شعاعوں کو جذب کرنے کی صلاحیت کا استعمال الٹرابشی شعاعوں سے بچانے کے لیے کیا جا سکتا ہے. اس کے اینٹی الوفشی اثر کے علاوہ ریشمی کپڑا شعلہ ریٹیڈرانٹ بھی ہے. آگ کی زد میں ہونے پر جلد کو سر کرنا آسان نہیں ہے۔ اس کے غیر محفوظ ریشے کے خلا نقصان دہ گیسوں کو انسانی جسم پر حملہ کرنے سے بھی روک سکتے ہیں اور آپ کی سفید اور نرم جلد کا خیال بھی کرسکتے ہیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.