گاجر

گاجر

الجزر۔  ۔گاجر۔۔   گذر۔Carrot

۔اعصابی غدی

 گاجر
گاجر

30 الجزر۔۔گاجر۔۔گذر۔Carrot۔اعصابی غدی

تحریر:
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی کاہنہ نولاہور پاکستان

مجھے آج بھی اپنا بچپن کے وہ دن یاد ہیں جب کماد کی فصل عام ہوتی تھی ،چینی کی وبا نہیں پھیلی تھی۔ہر گھر میں گڑ، شکر کا استعمال عام تھا۔ہمارے بڑے(باپ دادا) بیلنے پر گنے کا رس نکال کر گڑ شکر بنایا کرتے تھے۔جب گڑ کا پور تیار ہونے کو آتا تو کھیتوں سے تازہ گاجریں نکال کر ،صاف کرکے انہیں دیتے،وہ انہیں پکتے ہوئے گنے کے رس کے کڑھا میں ڈال دیتے،چند منٹوں میں گاجر بہترین مربہ میں تبدیل ہوجاتی تھی،کھانے میں لاجواب رس بھری گرما گرم کھانے کے لئے نعمت میسر ہوتی۔اب وہ دن خوا ب ہوئے قصہ پارینہ بنے۔
گاجر قدرت کا انمول تحفہ ہے،جس روزہ مرہ کے امراض اور جوانوں میں پیدا ہونےوالے التہابی معاملات،سرعت انزال۔تنگی حیض۔ پیشاب کی جلن۔قبض یرقان،وغیرہ امراض میں فائدہ اٹھا سکتے ہیں،(یونس شاہد)
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “من بات وفي بطنه جزرة أو جزرتان أمن من القولنج و البرسام.الآثار المروية في الأطعمة السرية لابن بشكوال (ص: 89)
رادی کہتا ہے پھر ہم واپس لوٹے تو وہی عورت(جس کے بچے کا علاج کیا تھا) اپنے اس بچے کو لے کر خدمت ہوئی اور عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی اس ذات کی قسم جس نے آپ کو مبعوث فرمایا اب میرا وہ بچہ قبلیہ کے بچوں میں مل کر رہتا ہے اور آپ کی خدمت میں گھی اور دودھ اور گاجر پیش کئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھی اور گاجر انہیں واپس لوٹادیا اور اپنے صحابہ کرام رضی عنہم کو دودھ پینے کا حکم دیا ۔ (ابن عساکر) کنزالعمال:جلد ششم:حدیث نمبر 5020 )جامع الأحاديث – (ج 37 / ص 446)
یوں تو گاجریں ہمارے ہمارے کھیتوں کی فصل ہے،زمیندار لوگ سردیوں کیآمد کے ساتھ ہیں اپنی فصل کے کناروں پر بیج دیتے ہیں۔خود بھی کھاتے اور اپنے گائے بھینسوں کو بھی کھلاتے ہیں۔اس کا جوس بناتے ہیں اسے کچا کھاتے ہیں،اس کا سالن بناتے ہیں،اس کا جوس بناکر پیتے ہیں۔اس کا مربہ بناتے کر محفوظ کرتے ہیں ،امراض جگر کے مریضوں کو کھلاتے ہیں۔
ہسپانوی اخبار elespanol کی طرف سے شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں مصنف البا مورالیڈا نے کہا کہ صحت مند وزن میں کمی کی کلیدوں میں سے ایک سبزیوں کے استعمال میں اضافے کے علاوہ کاربوہائیڈریٹ کی کھپت کو کم کرنا ہے۔
گاجر کا جوس روزانہ پینے سے کیا ہوتا ہے؟
اس کو حاصل کرنے کے لیے، آپ ہر کھانے میں کھائی جانے والی روٹی کی کھپت کو کم کرکے شروع کر سکتے ہیں، جو کہ اسپین میں عام طور پر بہت زیادہ ہوتی ہے۔اس تناظر میں، گاجر روٹی کا ایک اچھا متبادل ہے، ایک ایسی غذا جس میں غذائیت سے متعلق دلچسپ فوائد ہیں، اس کے علاوہ یہ چربی کے نقصان کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ اس لیے روزانہ ایک گاجر کھانے سے وزن کم کرنے میں مدد ملے گی۔
مصنف نے اشارہ کیا کہ گاجریں فی 100 گرام تقریباً 40 کیلوریز کی شرح سے کم فیصد کیلوریز فراہم کرتی ہیں۔ اس کی وجہ ہے، جیسا کہ زیادہ تر سبزیوں اور پھلوں کے ساتھ ہوتا ہے، اس حقیقت کی وجہ سے کہ اس میں پانی کی مقدار زیادہ ہے، جس کا تخمینہ 89٪ ہے۔
فائبر
اس کے علاوہ، گاجر میں فائبر کی اچھی مقدار ہوتی ہے، تقریباً 2.9 گرام فی 100 گرام۔ جیسا کہ دیگر غذائی اجزاء کا تعلق ہے، ان سبزیوں میں کاربوہائیڈریٹ کی ایک اہم مقدار ہوتی ہے۔
اس کے برعکس، سفید روٹی 50 گرام کاربوہائیڈریٹس فی 100 گرام روٹی فراہم کرتی ہے، اس کے ساتھ 266 کیلوریز کے علاوہ زیادہ چکنائی اور نمک بھی ہوتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ روٹی ایک خراب خوراک ہے اور اسے ہمیشہ کے لیے ترک کر دینا چاہیے۔ دوسری طرف، اس کی کھپت کو کم کرنے کی سفارش کی جاتی ہے. اور اگر آپ اسے کھانے کا انتخاب کرتے ہیں، تو یہ بہترین کوالٹی کا ہونا چاہیے اور پورے اناج کے ساتھ بنایا جانا چاہیے۔
مصنف نے بتایا کہ گاجروں میں وٹامن اے اور کیروٹینائڈز کی خصوصیات ہوتی ہیں، جو بینائی کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں معاون ہوتے ہیں، اور جلد اور چپچپا جھلیوں کی صحت کو برقرار رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔ مزید برآں، گاجر میں اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات ہوتی ہیں، یعنی یہ خلیات کو فری ریڈیکلز کے نقصان دہ اثرات سے بچاتے ہیں جو سیلولر آکسیڈیشن کا باعث بنتے ہیں اور بڑھاپے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ہسپانوی نیوٹریشن فاؤنڈیشن کے مطابق، ایک درمیانے سائز کی گاجر 20 سے 39 سال کی عمر کے مردوں کے لیے وٹامن اے کی تجویز کردہ روزانہ کی مقدار کا 89٪ اور اسی عمر کی خواتین کے لیے 112٪ کا احاطہ کرتی ہے۔

موٹاپا میں کمی

ماہر غذائیت پالوما کوئنٹانا کے مطابق، گاجر چربی کو کم کرنے میں مدد کرتی ہے کیونکہ وہ کھانے کی اشیاء کو کم غذائیت جیسے روٹی سے بدل دیتی ہے۔ اس طرح، کم کیلوریز (جیسے سبزیاں) اور انتہائی غذائیت سے بھرپور غذاؤں کے استعمال کو تحریک دے کر، آپ پٹھوں کے بڑے پیمانے کو نقصان پہنچائے بغیر جسم کی چربی کو کھونے کے لیے ضروری کیلوریز کو کم کرنے کے قابل ہو جائیں گے، جو وزن کم کرنے کا سب سے صحت بخش فارمولا ہے۔ .
اس کے علاوہ، اعلیٰ قسم کے پروٹین، جیسے انڈے، مچھلی، پھلیاں یا سفید گوشت، آپ کی پلیٹ سے غائب نہیں ہونا چاہیے۔
مصنف نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ گاجر کو کثرت سے کھانا بہت صحت بخش ہے، لیکن یہ سفارش کی جاتی ہے کہ وہ تمام غذائی اجزاء حاصل کریں جن کی جسم کو ضرورت ہے۔
ماہر غذائیت اور غذائیت کی ماہر اینا ایمنگول کے مطابق، خوراک مکمل (تمام غذائی اجزاء اور فائبر کی مناسب مقدار پر مشتمل)، متنوع (تاکہ کوئی اس سے بور نہ ہو) اور ہر شخص کے مطابق ہونا چاہیے۔
ماخذ: ہسپانوی پریس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گاجر کے کثیر طبی فوائد

عربی جزر فارسی زروک و گزر سندھی گجر انگریزی Carrot گاجر ایک ایسی سبزی ہے جو پھلوں میں بھی شمار ہوتی ہے۔ گاجر پکانے، کچی کھانے اور اچار بنانے میں عام استعمال ہوتی ہے۔ آج کل اس کا جوس نکال کر پیا جاتا ہے۔ کالے رنگ کی گاجروں کانجی بھی بنائی جاتی ہے۔ یہ سہولت صرف موسم میں دستیاب ہوتی ہے،جب یہ کالی گاری﷽ بند ہوجاتی ہیں تو کانجی فروخت کرنے والے کوئی دوسرا کاروبار تلاش کرتے ہیں۔ اس کی تین اقسام ہیں۔ سفید، سرک اور شربتی(کالا)۔ گاجر کاحلوا بھی بنایا جاتا ہے۔ اس کے اجزاءمیں نشاستہ ،فولاد، پروٹین، گلو کوز اور وٹامن اے، پی، ایچ اور ای شامل ہیں۔ اس کا مزاج گرم تر ہوتا ہے۔ کچھ اطباءنے اسے معتدل قرار دیا ہے لیکن گرم تر مزاج صحیح ہے۔
اس کے حسب ذیل خصوصیات اور فوائد ہیں۔
(1) مفرح اور مقوی اعضائے رئیسہ ہے۔
(2) گاجر جگر کے سدے کھولتی ہے اور جسم کو طاقت دینے میں لاثانی سبزی ہے۔
(3) مادہ تولید کو گاڑھا کرتی ہے اور اس سے پیشاب کھل کر آتا ہے۔
(4) مثانہ و گردہ کی پتھری گاجر کے جوس سے ٹوٹ کر خارج ہو جاتی ہے۔ کیونکہ گاکر میں موجود نمکیات،گردوں مثانہ،اور حالبین کی انفیکشن کو ختم کرتے ہیں۔
(5) گاجر کا حلوا جسم کو طاقت دیتا ہے۔ خفقان اور دل کے امراض میں مفید ہے۔ روزانہ گاجر کے جوس کا ایک گلاس پینے سے دل کا عارضہ نہیں ہوتا۔
(6) عمومی طور پرگاجر میں عام سبزیوں سے زیادہ غذائیت ہوتی ہے۔
(7) گاجر کھانے سے بینائی میں اضافہ ہوتا ہے ۔
(8) گاجر کا حلوہ کھانے سے قوت باہ میں اضافہ ہوتا ہے۔
(9) گاجر کے بیج بھی بے حد مقوی اعصاب ہوتے ہیں اور مدر بول و حیض کے لئے اس کی خوراک ایک ماشہ سفوف ہمراہ پانی یا دودھ صبح نہار منہ لینی ہوتی ہے۔
(10) گاجر کا مربہ سونے یا چاندی کے ورق کے ہمراہ کھانا، بے حد فرحت بخش اور مقوی ہوتا ہے۔
(11) گاجر کے جوس کا ایک گلاس ہمراہ چند گری بادام ہر صبح پیا جائے تو بے حد طاقت دیتا ہے۔ اگر سردی زیادہ ہو تو تھوڑا گرم کر کے پیا جائے۔
(12) گاجر کی کانجی بنائی جاتی ہے جو نمکین اور مزے دار مشروب ہے۔ کانجی بھوک بڑھاتی ہے اور گرمی کی شدت کو دور کرتی ہے اور کھانا ہضم کرتی ہے۔ یوں سمجھئے کہ گرمیوں کا بہترین تحفہ ہے۔
(13) گاجر کا حلوہ عام طور پر زرد گلابی گاجروں سے بنایا جاتا ہے۔ یہ حلوہ ایک سے ڈیڑھ چھٹانک سے زیادہ نہیں کھانا چائیے۔ کیونکہ پھر وہ دوا نہیں رہتا اور غذا بن جاتا ہے۔
(14) گاجر کا حلوہ دماغی، جسمانی اور مردانہ طاقت کے لئے بے حد مفید ہوتا ہے۔
(15)گاجر کا اچار بھی مرچ، نمک اور رائی ملا کر بنایا جاتا ہے۔ معدہ کو طاقت دیتا ہے اور جگر و تلی کے امراض دور کرنے میں بہترین ہوتا ہے۔ کھانا کھاتے وقت اس کا تھوڑا استعمال بہت مفید ہوتا ہے۔
(16) گاجر کا مربہ دل، دماغ، اور قوت مردی کو طاقت دینے میں بے مثال ہے۔ جسمانی کمزوری کو دور کرتا ہے۔
(17) اگر گاجر کے بیج ایک تولہ اور گڑ آدھ تولہ آدھ سیر پانی میں جوش دے کربطور جوشاندہ حیض نہ آنے والی عورت کو پلائے جائیں تو عرصہ سے رکا ہوا حیض کھل جاتا ہے۔ دوران حیض درد کی صورت میں بھی یہ جوشاندہ بے حد مفید ہوتا ہے۔
(18) جس عورت کو بچے کی پیدائش کے وقت تکلیف ہو رہی ہو اور بچہ پیدا نہ ہو رہا ہو۔ تو گاجر کے بیج کی دھونی اس طرح دیں کہ دھواں رحم کے اندر چلا جائے۔آسانی سے بچہ پیدا ہو جائے گا۔
(19) یرقان والوں کے لئے ،گاجر کا جوس مصری ملا کر آدھا گلاس ایک ہفتہ تک پلانا یقینا فائدہ دیتا ہے۔
(20) گاجر جسم میں خون بڑھاتی ہے اور جسم میں طاقت پیدا کرتی ہے۔
(21) گاجر چہرے کا رنگ نکھارتی ہے اورحسن پیدا کرتی ہیں۔
(22) اس کے کھانے سے پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں۔(پیٹ کے کیڑوں کی کئی اقسام ہوتی ہیں اس سے چنونے مرتے ہیں،کدو دانوں یا ملہپ نہیں مرتے)
(23) پیشاب کی جلن اور سوزاک جیسے موذی مرض سے شفا ہوتی ہے۔(اگر دیسی شکر ملا کر پیا جائے تو ادرار بول زیادہ ہوتا ہے)
(24) دودھ دینے والے مویشی گاجریں کھانے سے دودھ زیادہ دیتے ہیں۔
(25) گاجریں جسم کے سدے کھولتی ہیں اور لاغری ختم کرتی ہیں۔(جن کے جسم میں پانی کی کمی ہوتو وہ گاجروں سے مستفید ہوسکتے ہیں)
(26) کھانسی اور سینے کے درد میں گاجر بہترین چیز ہے۔(خشک کھانسی اور آلودگی کے سبب ہونے والی الرجی میں فائدہ ملتا ہے)
(27) گاجریں وہم کو دور کرتی ہیں۔ دماغی پریشانی ختم کرتی ہیں اور روح کو تازگی بخشتی ہیں۔
(28) دل کے امراض اور خفقان کے لئے گاجر کو بھوبھل میں دبا کر نرم کیا جائے۔ اور پھر اسے چیر کر رات کو شبنم میں رکھ دیں اور صبح کو روح کیوڑہ اور چینی ملا کر کھائی جائے۔ بے حد مفید ہے۔ احتیاط گاجر دیر ہضم ہے۔ پیٹ میں درد پیدا کرتی ہے۔ اسے ہمیشہ چینی نمک اور گرم مصالحہ لگا کر کھانا چائیے۔ اسے مناسب مقدار میں ہی کھانا چائیے۔ گاجر اور مولی وہ سبزیاں ہیں جسے کھانے سے پہلے دھو لینا چائیے اور خشک کر کے کھانی چائیے ورنہ یہ کھانسی پیدا کر سکتی ہیں۔ مقدار سے زیادہ کھانے سے یہ پیٹ میں ہوا پیدا کرتی ہے۔بالخصوص بلغمی مزاج والوں کو گاجروں کا استعمال اپنے معالج کے مشورےیا صحت کو پیش نظر رکھ کر کرنا چاپئے۔
جن لوگوں کو سینے کی جلن،پیشاب میں جلن ہو انہیں گاجر کالا نمک کے ساتھ استعمال کرنی چاہئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.