البنفسج۔۔بنفشہ ۔عضلاتی اعصابی۔

 البنفسج۔۔بنفشہ ۔عضلاتی اعصابی۔

14 البنفسج۔۔بنفشہ ۔عضلاتی اعصابی۔
14 البنفسج۔۔بنفشہ ۔عضلاتی اعصابی۔

 

14 البنفسج۔۔بنفشہ ۔عضلاتی اعصابی۔

تحریر:حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺکاہنہ نو لاہور پاکستان

ہمارے بچپن میں ادویات ۔علاج و معالجہ کی سہولتیں بہت کم تھیں۔نزلہ زکام۔بخار۔سردی کی کھانسی میں بنفشہ کا قہو ہ گھروں میں تیار کیا جاتا تھا۔ہٹیوں (مقامی دکانوں)پر بنفشہ کی پتی کے نام سے پیکٹ ملا کرتے تھے۔اس وقت یہ سب سے موثر اور تیر بہدف علاج تھا۔معلوم نہ تھا کہ کسی دن بنفشہ کے بارہ میں بھی کچھ لکھنا پڑے گا۔
الحسن بن علي قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: “فضل البنفسج على سائر [ص:324] الأدهان كفضل الإسلام على سائر الأديان، وما من ورقة من ورق الهندباء إلا وعليها قطرة من ماء الجنة”.حلية الأولياء وطبقات الأصفياء (3/ 204) المعجم الكبير للطبراني (3/ 130)الطب النبوي لأبي نعيم الأصفهاني (2/ 760) الآثار المروية في الأطعمة السرية لابن بشكوال (ص: 323)

بنفشہ۔۔۔۔

لبان (کندر) تیل لگاؤ۔ یہ تمہارے لیے تمہاری عورتوں کے پاس زیادہ فائدہ والا ہے گل بنفشہ کا تیل لگاؤ وہ گرمیوں میں ٹھنڈا ہے اور سردیوں میں گرم ہے۔ الکامل لابن عدی، الدیلمی عن علی (رض) کنزالعمال:جلد سوم:حدیث نمبر 5431 (
۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بنفشہ کی فضیلت باقی تیل پر ایسی ہے جیسے میری فضلیت باقی لوگوں پر۔«المعجم الكبير للطبراني» (3/ 130) (الخطیب بروایت ابوہریر ة الخطیب بروایت انس اور فرمایا یہ حدیث منکر ہے اللآلی :2782) کنزالعمال:جلد ششم:حدیث نمبر 4958 (

مختلف نام:

بنفشہ (sweet violets)۔ ہندی بنفشہ۔سنسکرت بنپشا۔ بنگالی و مرہٹی ونپسا۔سندھی بنفشو۔انگریزی میں بنفشہ کو وایولیٹ لیوز(Violet Leaves) اورگل بنفشہ (banafsha) کو وایولیٹ فلاورز(Violet Flowers) کہتے ہیں۔

شناخت:

بنفشہ کا پودا ابتدائی طور پر ایشیاء اور یورپ کے کچھ حصوں سے تعلق رکھتا ہے۔ کشمیر نیپال اور مغربی ہمالیہ میں پانچ ہزار فٹ سے زائد بلندی پربکثرت پیدا ہوتا ہے۔لیکن اب اسے دنیا بھر میں کاشت کیا جاتا ہے۔ اس کو وسیع پیمانے پر فرانس اور نسبتاً کم پیمانے پر اٹلی اور چین میں خوشبوسازی کیلئے اگایا جاتا ہے۔
ماہ اپریل میں اسے پھول لگتے ہیں اور اسی موسم میں اس کے پھول جمع کیے جاتے ہیں۔ جہاں بنفشہ ہوتا ہے وہاں اس کے ساتھ ہی اس کے ہم شکل مشک بالا کے پودے بھی ہوتے ہیں اس لیے ان دونوں میں تمیز کرلینی چاہیے۔یہ کشمیر، نیپال اورمغربی ہمالیہ میں پانچ ہزار فٹ سے زائد بلندی پربکثرت پیدا ہوتی ہے ۔
اس کا پودا عموماَ گرمیوں میں پیدا ہوتا ہے۔ اور موسم برسات میں اس پودے کو پہچاننا مشکل ہوتا ہے۔سردیوں میں پتے کم ہو جاتے ہیں۔ پھل گر جاتے ہیں۔جبکہ ماہ اپریل میں اس کو پھول لگتے ہیں اور اس موسم میں اکٹھے کئے جاتے ہیں۔ پھولوں کو اگر چبایا جائے تو کچھ خوشبودار لعاب نکلتا ہے بنفشہ کی 200سے زائد اقسام ہیں۔ بڑی اقسام جنہیں خوشبو کیلئے کاشت کیا جاتا ہے، ان میں پارما اور وکٹوریہ سر فہرست ہیں۔
اس (sweet violets) کا پودا بالشت ڈیڑھ اونچا ہوتا ہے، اس (sweet violets) کی شاخیں پتلی نازک اور ٹیڑھی ہوتی ہیں۔ پتے صنوبری شکل کے مہندی کے پتوں کی طرح مگر حجم میں اس سے چھوٹے ہوتے ہیں۔ ہلکے اور ارغوانی رنگ کے تیز خوشبو دار ہوتے ہیں۔ جو بنفشہ (sweet violets) نیپال سے آتا ہے اس کے پھول چھوٹے اور زرد رنگ کے ہوتے ہیں لیکن بنفشہ (sweet violets) کے لاجوردی رنگ کے ہوتے ہیں۔
طبعت پہلے درجہ میں سرد اور دوسرے میں تر۔بعض پہلے میں سرد تر کہتے ہیں اور بعض کے نزدیک پہلے درجہ میں گرم و تر ہے۔ خوراک چار ماشہ سے چھ ماشہ تک جوشاندہ کی صورت میں استعمال کی جاتی ہے۔
ہری چند ملتانی لکھتے ہیں:عضلاتی غدی ہے اس کے تمام انگ دوا میں مستعمل ہیں،بلغی کھانسی آشوب چشم کے لئے بہت مفید ہے،بلغی بخاروں میں تسکین دیتا ہے،زکام میں اس کا جوشاندہ بکثرت استعمال کیا جاتا ہے ،گلے کی سوزش و خراش کو رفع کرتا ہے ،کانچ نکلنے کے لئے نافع ہے۔نزلہ زکام کھانسی بلغی سردرد کے لئے نافع ہے (تاج العقاقیر ہندستانی جڑی بوٹیاں110/1)

بنفشہ کی غذائیت حیثیت

بنفشہ میں سیپونن، ٹرپی نائیڈ، ٹے نن، امائی نوایسڈ، گلائیکوسائیڈ کے علاوہ وٹامن بی، وٹامن سی، وٹامن ڈی، وٹامن ای بھی بہت زیادہ مقدار میں پایا جاتے ہیں۔
سیپونن:بنفشہ میں موجود وہ اجزاء ہیں جن کی بدولت بنفشہ خون میں چربی کم کرتا ہے، اعضائے تنفس کے سرطان میںکمی کرتا ہے، خون کو جمنے سے روکتا ہے، خون میں شکر کی مقدار قابو کرتاہے، اور سیسے کی سمیت کو دور کرتا ہے۔
ٹرپی نائیڈ:وہ اجزاء ہیں جن کی بدولت بنفشہ دافعِ سرطان ، دافعِ درد (سینے کا درد) ، دافع ورم، خون کو زیادہ رقیق ہونے سے بچاتاہے۔
ٹے نن:یہ پودے کی ساخت مہیا کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
امائی نوایسڈ:ان کی وجہ سے بنفشہ جسم کی نشوو نما کرنے میں خاص کردار ادا کرتاہے، قوتِ مدافعت بحال رکھنا، گوشت کی مقدار میں اضافہ، جسم کی رنگت میں نکھار، جلد میں لچک پیدا کرنا، بالوں کا رنگ برقرار رکھنا جیسے اہم کردار ادا کرتا ہے۔
گلائیکوسائیڈ:یہ وہ خاص خامرات ( انزائم) ہیں جو مختلف اعضاء کے افعال کو تیز کرنے کا کام کرتے ہیں، انہی خامرات کی وجہ سے بنفشہ دمے کے مرض میں بہت مفید ہے۔
وٹامن سی:ایسے خاص حیاتین میں شامل ہے جو خون صاف کرنا، خون کی نالیوں کو کھولنا تا کہ دورانِ خون میں امداد ہو، کولا جن (جلد میں پائی جانے والی پروٹین) کی پیداوار بڑھاتا ہے۔
وٹامن ای:اس وٹامن کی بدولت جلد کی خشکی دور کرنے ، قوتِ مدافعت بڑھانے، نالیوں اور خون کو بڑھانے، ناخنوں کو توانا رکھنے میں بنفشہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔
وٹامن بی:اعصاب اور دماغ کو توانا رکھتا ہے۔«‌دهن ‌البنفسج نَافِع للصرع وَأم الصّبيان»«الحاوي في الطب» (1/ 101):
مذکورہ اجزاء کی موجودگی بنفشہ کے خواص کے ضامن ہیں، جبکہ جدید ادویہ میں صرف خاص خامرات موجود ہیںجو خاص اعضاء پر ہی کام کرتے ہیںاور بنفشہ پھیپھڑوں سمیت سارے اعضاء کو غذا اور دوا مہیا کرتا ہے۔

بنفشہ میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:

روایتی طور پر ہربل علاج میں بنفشہ کے پھول اور پتے دونوں ہی اپنے استعمال کی ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں۔ صدیوں قبل انسان نے اس کے خواص جان لیے تھے۔ اینٹی بیکٹیریل خصوصیات کی وجہ سے اسے خصوصی حیثیت حاصل رہی ہے۔
بنفشہ اینٹی سیپٹک، اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فلامیٹری خصوصیات رکھتا ہے۔ اس کا ایک اہم جزو سیلیکی لیک ایسڈ ہے جو اسپرین میں استعمال ہوتا ہے۔

صحت قائم رکھنے میں بنفشہ کا کردار

1۔ لو لگنا: بنفشہ کے قہوے میں چینی ملا کر پیا جائے تو لو کا اثر زائل ہو جاتا ہے، سر درد اور چکر بھی ختم ہو جاتے ہیں۔
2۔ گرمی دانوں کے لیے: بنفشہ کے پھول پانی میں پیسیں اور پانی دن میں تین بار پئیں، ایک ماہ میں گرمی دانے ختم ہو جائیں گے۔
3۔ دم گھٹنا: دم گھٹنے کی وجہ گرمی کے موسم میں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے ، بنفشہ کا قہوہ ہوائی نالیوں کو چوڑا کرتا ہے، جس سے ہوا میں موجود آکسیجن خوب جذب ہوتی ہے۔
4۔ نیند کی کمی:««‌دهن ‌البنفسج حِين يُرِيد النّوم فَإِنَّهُ جيد»الحاوي في الطب» (1/ 450)«القانون في الطب» (1/ 387)
اگر بنفشہ کو ددودھ میں پیس کر نوش کیا جائے تو نیند آجاتی ہے، آگے دماغی کمزوری اور خشکی پر منحصر ہے کہ جتنی زیادہ خشکی ہو گی، اس لحاض سے کچھ ایام میں نیند کی کمی کی شکایت دور ہوتی ہے۔اس کے تازہ پھولوں کو روغنِ بادام یا تلوںکے تیل میں بھگو کر روغنِ بنفشہ کشید کیا جاتا ہے جو کہ نیند لانے کے لیے سر پر لگایا جاتا ہے۔
5۔ نزلہ زکام کھانسی: بنفشہ کے پھولوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکرے کر لیے جائیں اور تھوڑی اجوائن کے ساتھ چبایا جائے تو نزلہ، زکام ، کھانسی، الرجی بہت جلد دور ہو جاتی ہیں۔
6۔ جوڑوں کے درد : جوڑوں کے درد کے لیے بنفشہ کے پھول کا سفوف بمعہ سفوف سورنجان شیریں۔
7۔ غنودگی دور کرنے کے لیے بنفشہ کا شربت نہایت موثر ہے یہ کبھی کبھی غنودگی دور کر کے نیند بھی لا دیتا ہے۔ شیخ الرئیس لکھتے ہیں«أَعْضَاء الرَّأْس: مَعَ ‌دهن ‌البنفسج يستعط بِهِ للصداع الْكَائِن من ريَاح غَلِيظَة فِي الرَّأْس وَمن الشَّقِيقَة. أَعْضَاء الْغذَاء: يقوّي الكبد والمعدة» :«القانون في الطب» (1/ 409):

8۔سر کا بھاری پن: ‌دهن ‌البنفسج ليمنع الصداع والسدد»لحاوي في الطب» (2/ 529):
سر کا بھاری پن اکثر دماغی بطون میں بلغم سے عارض ہوتا ہے، بنفشہ کی چائے بمعہ لونگ استعمال کرنے سے افاقہ مل جاتا ہے۔
9۔ یاداشت کی خرابی: گرمی کے موسم میں کچھ لوگ نڈھالی کے باعث یادداشت میں کمی ہوجاتی ہے، بنفشہ نڈھالی دور کرنے میں بہت فائدہ دیتی ہے۔
10۔۔«‌دهن ‌البنفسج فسعط بِهِ من فِي رَأسه حرارة مكتنزة نفع جدا»«الحاوي في الطب» (6/ 122)
۔بنفشہ کے تازہ پھولوں کا سونگھنا یا ہری بنفشہ مع پھول اور پتوں کا خیساندہ پینابلڈ پریشر میں مفید ہے۔
11۔ بنفشہ سے گلقند بھی بنایا جاتا ہے جو کہ گلے اور سینے کے امراض میں مفید ہے۔
12۔قبض کو دور کرنے کے لیے بنفشہ کے پھولوں کا سفوف یا گلقند بنا کردیا جاتا ہے۔

احتیاط

بنفشہ کا مزاج سرد اور تر ہے یعنی یہ جسم کو ٹھنڈک اور رطوبت فراہم کرتا ہے، لہذا بلغمی مزاج والے اشخاص اس کا استعمال کمی سے کریں اور اگر کریں تو کالی مرچ کا تھوڑا سا پاؤڈربنا کر اس میں ملا دیں۔ صرف لو لگنے کے وقت نہ ملائیں تاکہ ا س کے مزاج کی کسی قدر اصلاح ہو جائے ورنہ پیٹ پھولنے کی شکایت اکثر لوگوں کو ہوجاتی ہے

عمومی فوائد:

نزلہ،زکام، کھانسی کے لئے بہت مفید ہے۔ قبض وسردرد کے لئے گل بنفشہ (sweet violets) برابر چینی کے ہمراہ سفوف بنا کر رات کو سوتے وقت 9 ماشہ سفوف گرم پانی کے ہمراہ کھائیں۔ قبض کی معمولی شکایت اور درد سر کے لئے بنفشہ اور پھول گلاب سرکہ کے ہمراہ گوٹ کر ورم گلو پر ضماد کریں۔ مفید ہے۔ بخار کے لئے ایک ڈرام گل بنفشہ، گرم پانی ایک پائینٹ میں بھگو کر خسیاندہ کے طور پر ایک سے دو اونس کی مقدار میں پلانا بخار کو دور کرتا ہے۔

بنفشی پھول کے فوائد اور اہمیت

بنفشی پھول کے طبی استعما ل بنفشی پھول کے متعدد صحت کے فوائد ہیں جن میں شامل ہیںبنفشی پھول دوائی بنانے اور بہت سی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جیسے ہیسٹیریا، اعصابی تناؤ، ڈپریشن، چڑچڑاپن، جسمانی اور ذہنی تھکن۔ہضم کی خرابیوں کے علاج میں
وایلیٹ پھول کی مداخلت؛ جیسے پیٹ اور آنتوں کے انفیکشن، پیٹ کے درد کا علاج، پتتاشی کے امراض، اور بھوک میں کمی۔
کچھ سانس کی بیماریوں کا علاج
؛ جیسے گلے میں خراش، بھری ہوئی ناک، برونکائٹس اور کھانسی۔بنفشی پھول کے پتوں اور پھولوں میں بہت سے وٹامن ہوتے ہیں، اور یہ کھانے کے قابل حصے ہیں۔بنفشی پھول اور اس کی خوشبودار خوشبو افراد کی نفسیاتی حالت کو بہتر بناتی ہے، اور جس جگہ یہ واقع ہے وہاں مثبت اثر چھوڑتی ہے۔

[9]بنفشی پھول کے معاشی فوائد

بنفشی پھول کے کئی معاشی فوائد ہیں جن میں درج ذیل ہیں۔بنفشی پھول کھانے کا ذریعہ ہے کیونکہ یہ ایک خوردنی پھول ہے۔پولن کی منتقلی اور پولنیشن خوراک کی فصلوں کے تنوع کے لیے کلیدی عمل ہیں۔وایلیٹ پھول ایک ضروری خام مال ہیں جو زیادہ تر پرفیوم کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں۔وہ اس جگہ پر ایک جمالیاتی منظر پیش کرتے ہیں جہاں وہ لگائے جاتے ہیں، کیونکہ یہ پرکشش رنگوں والے چھوٹے پھول ہیں۔وہ بیماریاں جو بنفشی پھول کو متاثر کر سکتی ہیں۔بہت سی بیماریاں ہیں جو بنفشی پھول کو واضح خطرہ لاحق ہیں، جن میں شامل ہیں:
سیپٹوریا بیماری:
ایک بیماری جو بنفشی پھول کو متاثر کرتی ہے اور اس کے پتوں پر سیاہ دھبوں کی ظاہری شکل کا باعث بنتی ہے۔گھونگے اور سلگس: یہ وہ کیڑے ہیں جو بنفشی پھول کے پتوں پر کھاتے ہیں۔یہ کیڑے گیلے اور بارش کے موسم میں ظاہر ہوتے ہیں۔Cyclamen mite: یہ ایک قسم کی مائٹ ہے جو بنفشی کے پھول کو متاثر کر سکتی ہے، اور متاثرہ حصے کو پھیلنے سے پہلے نکالنے اور اسے باقی پودوں سے الگ کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

 

3 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published.