اطباء کی خصوصیات۔ ابن ربن طبری کی اطباء کے لئے سنہری ہدایات

اطباء کی خصوصیات۔ ابن ربن طبری کی اطباء کے لئے سنہری ہدایات

اطباء کی خصوصیات۔

ابن ربن طبری کی اطباء کے لئے سنہری ہدایات

اطباء کی خصوصیات۔ ابن ربن طبری کی اطباء کے لئے سنہری ہدایات
اطباء کی خصوصیات۔
ابن ربن طبری کی اطباء کے لئے سنہری ہدایات

اطباء کی خصوصیات۔
ابن ربن طبری کی اطباء کے لئے سنہری ہدایات

ابو الحسن علی بن ربَّن طبری (838ء–870ء یا 810ء–855ء یا 808ء–864ء یا 783ء–858ء) فارسی النسل۔ مسلم عالم، طبیب اور ماہر نفسیات تھے۔ انہوں نے طب کے اولین دائرۃ المعارف میں سے ایک فردوس الحکمہ تخلیق کر کے اہم کارنامہ سر انجام دیا

تحریر
حکیم قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی:سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کاہنہ نو لاہور

علی بن ربن طبری جو آسمانِ علم پر ستارہ بن کر چمکا
تعارف۔۔۔۔
سب سے پہلے ابن ربن طبری مرحوم کا تعارف حاضر خدمت ہے۔
بحیرہ کیسپین کے ساتھ جنوب میں ایران کا علاقہ طبرستان کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔ یہ ایک مردم خیز خطہ اور عالم اسلام کی متعدد ایسی شخصیتوں کا مرزبوم رہا جو آسمانِ علم پر ستارہ بن کر چمکی ہیں اور جو آج بھی دنیائے علم کو اپنے نور سے منور کر رہی ہیں۔ انہی شخصیتوں میں سے ایک کا نام علی بن ربن ہے۔ وہ پہلے یہودی مذہب رکھتے تھے لیکن بعد میں اس نے اسلام قبول کر لیا۔ اس لیے اس کا شمار مسلم دانشوروں میں ہوتا ہے۔ اس کے والد کا نام سہل اور لقب ربن تھا۔ سہل ربن کے نام ور فرزند علی بن ربن کا پورا نام ابوالحسن علی بن سہل ربن طبری تھا۔ اس کی ولادت 775ء کے لگ بھگ ہوئی۔ یہ وہ عرصہ تھا جس میں خلیفہ منصور نے وفات پائی اور مہدی تخت خلافت پر بیٹھا۔
علی بن ربن کی زندگی کا ابتدائی زمانہ مرو ہی میں گزرا جہاں اس نے اپنے فاضل باپ سے طب اور فنِ کتابت کی تعلیم پائی اور ان دونوں میں یدطولیٰ حاصل کیا۔ علاوہ ازیں اس نے سریانی اور یونانی زبانوں میں بھی مہارت حاصل کی۔ اس کا ثبوت ہمیں اس کی تصانیف سے ملتا ہے جن میں اس نے بعض مقامات پر یونانی اور سریانی کتابوں کی اصل عبارتیں نقل کر کے ان پر بحث کی ہے۔ علی بن ربن کے زمانے میں اس کے وطن طبرستان کی حیثیت سلطنت کے اندر ایک باج گزار ریاست کی تھی جس کا والی ایک ایرانی شہزادہ مازیار بن قارن تھا۔
مازیار اگرچہ مشرف بہ اسلام ہو چکا تھا لیکن اس کے دل میں قدیم ایرانی سلطنت کے سقوط کا غم تھا اور وہ دل سے چاہتا تھا کہ طبرستان پر سلطنتِ عباسی کی بالا دستی قائم نہ رہے اور وہ ایک آزاد ایرانی ریاست بن جائے جو قدیم ساسانی سلطنت کی قائم مقام ہو۔ اس نے اس خواہش کی تکمیل کی دو مرتبہ کوشش کی۔ پہلی دفعہ اس نے مامون الرشید کے زمانے میں بغداد کی مرکزی حکومت کو خراج دینا بند کر دیا اور اپنی ریاست کی آزادی کا اعلان کر کے خلافت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ علی بن ربن نے اس موقع پر مازیار کو سمجھایا کہ اسے اس بغاوت میں کامیابی نہیں ہو سکتی۔ علی بن ربن کا خیال درست نکلا۔ چنانچہ اس نے علی بن ربن کو بلا کر، جس کی اصابت رائے اب مسلم ہو چکی تھی، اس بات پر مامور کیا کہ وہ مامون الرشید کے دربار میں جائے اور مازیار کی خطاؤں کو معاف کروائے۔
علی بن ربن نے اس مشکل کام کو اتنی خوش اسلوبی سے سرانجام دیا کہ مامون الرشید نے نہ صرف مازیار کے جرم کو معاف کر دیا بلکہ اسے دوبارہ طبرستان کا والی مقرر کر دیا۔ اس کامیابی پر مازیارنے علی بن ربن کو اپنا وزیر سلطنت بنا لیا۔ جب مامون الرشید کی وفات کے بعد اس کا بھائی معتصم تختِ خلافت پر بیٹھا تو مازیار نے دوبارہ علمِ بغاوت بلند کر کے اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا، مگر معتصم کی افواج سے شکست کھائی۔ اسے گرفتار کر کے معتصم کے حوالے کر دیا گیاجس نے اس کو قتل کروا دیا۔ چنانچہ علی بن ربن نے رے میں سکونت اختیار کر کے وہاں مطب شروع کر دیا۔ یہاں اس کی ملاقات زکریا رازی سے ہوئی جو رے کا رہنے والا تھا۔
زکریا رازی نے طب کی تعلیم ابتدا میں علی بن ربن سے حاصل کی، مگر بعد میں اپنے تجربے اور مشاہدے سے اس فن میں اتنا کمال پیدا کیا کہ اس کے زمانے میں اطبا میں کوئی اس کا ہم سر نہ تھا، لیکن علی بن ربن کا طرۂ امتیاز صرف یہی امر نہیں کہ وہ اسلامی دور کے طبیب اعظم زکریا رازی کا استاد تھا بلکہ اس کی حقیقی شہرت اور عظمت کا باعث یہ ہے کہ وہ عربی زبان کے پہلے طبی انسائیکلوپیڈیا کا مصنف تھا۔ اس کی یہ نادر تصنیف جس کا نام اس نے فردوس الحکمت رکھا تھا، طب کی تمام شاخوں پر حاوی تھی اور یہ کتاب اس کے عمر بھر کے تجربے اور مطالعے کا نچوڑ تھی۔ فردوس الحکمت اگرچہ اس نے عربی زبان میں لکھی تھی لیکن وہ ساتھ ساتھ اس کا ترجمہ سریانی زبان میں بھی کرتا جاتا تھا جس سے اس کتاب کا ایک سریانی ایڈیشن بھی مرتب ہو گیا تھا۔
فردوس الحکمت کے علاوہ علی بن ربن کے قلم سے متعدد اور کتابیں بھی نکلیں جن میں دو کتابیں دین و دولت اور حفظ صحت دست برد زمانہ سے محفوظ رہیں۔ ان کتابوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ علی بن ربن کو نہ صرف متداول علوم مثلاً طب، فلسفہ، ریاضی، ہیئت پر عبور تھا بلکہ تحقیق اور نقد و نظر میں بھی اس کا پایہ بلند تھا۔ علاوہ ازیں اسے یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے مذہبی لٹریچر سے واقفیت حاصل تھی۔ وہ علمی اور فنی مسائل پر گہری نظر رکھتا تھا اور انہیں ایسے پیرائے میں بیان کرتا جس سے ان کی پیچیدگیاں دور ہو جاتیں اور قاری کے لیے انہیں سمجھنا آسان ہو جاتا۔ علی بن ربن کی کتاب فردوس الحکمت ایک ضخیم کتاب ہے۔
اس کا بیش تر حصہ اگرچہ طب ہی سے متعلق ہے مگر اس میں ضمناً موسمیات، حیوانات، علم تولید، نفسیات اور فلکیات پر بھی مقامات شامل ہیں۔ طب میں فاضل مصنف نے اپنے زمانے تک کے تمام یونانی اور عربی لٹریچر سے، جو اس موضوع پر اسے مل سکا، اخذ و انتخاب کا کام لیا ہے اور اس کے ساتھ اپنی ذاتی تحقیقات کو بھی شامل کیا ہے۔ فردوس الحکمت کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا آخری حصہ طب ہندی یعنی آیورویدک پر مشتمل ہے جس کے اہم مقالات علی بن ربن کی بدولت پہلی بار عربی زبان میں منتقل ہوئے ہیں۔ علی بن ربن کا انتقال 870ء کے لگ بھگ ہوا۔
حمید عسکری

 

اطباء کی خصوصیات۔
ابن ربن طبری کی اطباء کے لئے سنہری ہدایات۔
اطباء میں پانچ خصوصیات ہونی چاہیئں۔
(1)مریض کو زیادی سے زیادی راحت دے۔آرام و سہولت فراہم کرے۔
(۳) حکیم کو پوشیدہ امراض کی تشخیص پر مکمل عبور حاصل ہو۔
(۳)علماء اورطبیبوں کے وجود کو بادشاہ او ررعایاتاجر وملازم ضروری سمجھتے ہیں۔
(۴)تمام اقوام عالم نے یہ متفقہ طور پرتسلیم کیاہے طبابت ایک معظم و معزز پیشہ ہے۔
(۵) لفظ طبیب اللہ تعالی کے اسمائے مشتقہ سے ہے
لہذاحکمت کی عظمت و بلندی اور فائدہ عوام کے لحاظ سے طبیبوں کے حوصلے بلند ہونے چاہیئں۔ کوئی کم علم طب میں اس وقت تک کمال حاصل نہیں کر سکتا جب تک اس حکیم میں چار خصلتیں نہ پائی جائیں۔
(1)حسن اخلاق، (2)قناعت (3) رحم دلی (4) پاک دامنی، کردار کی پاکیزگی۔ اس کے سوا حکیم انتہائی مشفق ومہربان ہونا چاہئے۔ اپنی انتہائی محنت کو بھی کم سے کم تر خیال کرے۔ اس کے حوصلے کی بلندی اخلاق کی بہتات عمل سے ثابت ہو
طبابت کاپیشہ شہرت اور اکتساب زر کے لئے نہ کرے بلکہ نیک شہرت کامتمنی ہو ادویات خالص معتدل کم قیمت ہوں۔ طبیب باتو نی یاوہ گو اور قدامت پسند نہ ہو چھچورا کند ذۃن اور گندے جسم ولباس پرہیز کرے۔
خوشبو کم استعمال کرے۔ فخرو غرور و تکبر نہ کرے۔ اپنی قابلیت سے کسی کو مرعوب نہ کرے۔ اپنے ہم پیشہ اطباء کی عیب جوئی نہ کرے بلکہ پردہ پوشی کرے۔ ایسا حکیم اچھی شہرت حاصل کرے گا۔
حکیم بقراط کا قول ہے جہاں تک ممکن ہو مرض کا علاج خوراک اور پرہیز کیا جائےدوائیں
جسم انسانی میں منہ کی طرف سے یانیچے مقصد کی طرف سے داخل کی جاتی ہیں۔ مریض کو دوائیں اس وقت کھلائی پلائی جائیں جب مرض معدہ کے قرب و جوار میں ہو۔ اگر مرض آنتوں وغیرہ میں ہوتوبذریعہ حقنہ کرناچاہئے۔ مشروب اودیات کے مقابلے پر حقنہ شدہ ادویات بہت زیادہ زوداثر ہوتی ہیں۔
اگر جسم انسانی میں کوئی مرض نہیں ہے تو اس کو دوائی نہیں پلانی چاہئے اور نہ ہی حقنہ کرنا چاہئے۔ بغیر ضرورت دوائی جسم کے لئے مضرت رساں ہوگی، بدن کی طبعی رطوبات یعنی طبعی کیوموسات میں خلل و خرابی پیدا ہو جائے گی۔
اطباء متبحرین کی رائےہے کہ طبیب کو دوا پلانے پر زور نہیںدینا چاہئے بلکہ مرض کی تشخیص کرنی ضروری ہے، اورطبیب کو فیصلہ کرنے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہئے۔ نہ اپنے تجربہ پر فخر و غرور کرنا چاہئے۔
حکیم بقراط کہتا ہے کہ زندگی مختصرہے میدان طب بہت وسیع ہے ،زمانہ تیز رفتاری سے گزر رہا ہے، توفیصلہ کرنا مشکل ہے۔ ہم نے تجربہ کیا کہ ایک دواء سے ایک مریض کو شفاء ہوتی ہے تو دوسرے مریض کا مرض بڑھ جاتاہے اس کی وجہ مرض کا اختلاف اور دواء کی خوابی و خرابی ہوتی ہے۔ بلیلہ کا بلی،شا ہترہ بہترہوتا ہے۔ کمون (زیرہ) کرمان کا۔ افتیمون افریقہ کی بہتر ہوتی ہے۔ صبرسقوطری کا اورصعتر ایران کا اور خوشبودار دوائیں ہندوستان کی بہترین ہوتی ہیں۔
دواء اس لئے بھی نقصان دہ بھی ہو جاتی ہے کہ حکیم دواء کے اجزاء اور وزن اور امتزاج میں غلطی کرجاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یادوراء کے مزاج وقوت اور شناخت میں غلطی کردے یا مرض کے وقت اور موسمی حالات کونہ سمجھ سکے۔
طبیب کو زہریلی دوائیں استعمال نہیں کرنی چاہئیں یہ فن طب کے خلاف ہے۔ اگر کی پیشہ کو آدمی اختیار کرے تو اس کی ضد سے پرہیز لازم ہے، ورنہ اس کو برکت حاصل نہیں ہوگی۔ اگر کوئی مرقومہ ہدایات پر عمل کرے گا تو اللہ تعالی اس کے عمل میں خیر و برکت پیدا کر دے گا اور اس کے ہاتھ میں شفاء پیدا کر دے گا۔ دنیا و آخرت میں کامیابی عطاء کرے گا۔
بقراط کے نزدیک حکیم کے اوصاف:
(1) اپنے نفس کا محاسبہ کرنے والا۔ (2) تخلیق میں مکمل بےغیب ہو۔ (3) خوبصورت ہو۔ (4) صاف ستھرا جسم رکھے۔ (5)اس کے جسم و لباس سے خوشبو آتی ہو۔ (6) رحم دل ہو۔ (7) باوقار ہو۔ (8) فنون لطیفہ کا واقف کار ہو۔
ارسطو کہتا ہے کسی چیز کا علم حاصل کرنے کے لئے ان باتوں کا علم ضروری ہے۔ وہ جس چیز کا علم حاصل کرنا چاہتا ہے اس کا وجود ہے یا نہیں ہے؟۔
اگر وہ چیز موجود ہے تو کونسی ہے؟ اس کے نام و خواص کیا ہیں؟۔
علم طب ایک حقیقت ہے اس کا انکار پاگل ہی کر سکتا ہے۔
سوال علم طب کی تعریف کیا ہے؟
جو اب: علم طب میں صحت حفاظت اور مرض کو دور کرنا ہے۔
سوال: طب کی تکمیل کن سے ہوتی ہے؟
جواب: دو چیزوں سے۔ (1)اس کا علم حاصل کرنا (2)اس کو عمل میں لا۔ علم استاد اور کتابوں سے حاصل گا۔ عمل تجربہ و علاج سے حاصل کرنا۔
علم طب کا مقصد کیا ہے؟ اس کے حاصل کرنے سے کیا فائدہ ہوتا ہے؟۔طب کو حاصل کرنے والا انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، وہ مختلف طباع کے حرکات و سکنات کا مشاہدہ کرتا ہے۔ میں نے ان کا ذکر کتاب ہذا کے آخر میں مفصل کیا ہے۔ ارسطو کہتا ہے فکر کی ابتداء عمل کی انتہا ہے اور عمل کی انتہافکرکی ابتداء ہے۔اس کو یوں سمجھو۔ ایک آدمی نے مکان تعمیر کرنے کا خیال کیا تو اس کے ذہن میں مکان کی ویواریں چھت وغیرہ آجائیں گے ۔یہ فکر ہے وہ اینٹ سیمنٹ، سریہ وغیرہ کا تصور کرے گا اور بنیاد کھودنے کو سوچےگا مگر جب عمل شروع کرے گاتو سب سے پہلے بنیاد کھودے گا اور سب سے آخر میں چھت ڈالے گا، تو جو فکر میں سب سے پہلے آئیں وہ عمل میں سب سے آخر میں واقع ہوئیں۔
ایک مفکر علم طب میں جب غوروفکر کرتا ہے۔ تو سب سے پہلے اس کے ذہن میں صحت کا تحفظ آتا ہے یہ بعد میں آتا ہے کہ صحت کیسے اور کس چیزسےحاصل ہوگی۔جسم انسانی اربعہ عناصر کی ترتیب سے مرکب ہے۔ مزاج عناصرکی ترکیب سے پیدا ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.